دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں واقع سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کا تاریخی شہر کیٹی بندر ایک بار پھر بڑے بحری اور تجارتی منصوبے کے مرکز میں آگیا ہے۔ تاریخی طور پر یہاں ایک اہم بندرگاہ موجود تھی، جبکہ اب سندھ حکومت نے کیٹی بندر کو جدید گہرے سمندر کی بندرگاہ اور بڑے تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
حالیہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق کیٹی بندر کو جدید گہرے سمندر کی بندرگاہ میں تبدیل کرے گی۔
سندھ حکومت کے مطابق مجوزہ کیٹی بندر انٹیگریٹڈ کوریڈور کو صرف ایک بندرگاہ تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے بحری تجارت، لاجسٹکس، صنعت، توانائی، ماہی گیری اور سیاحت کے ایک مربوط مرکز کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔
حکومت کے مطابق یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ کیٹی بندر میری ٹائم، فشریز اینڈ پیٹرولیم اکنامک کوریڈور میں ایک ارب سے ڈھائی ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود ہے۔
مجوزہ منصوبے میں گہرے سمندر کی بندرگاہ کے ساتھ لاجسٹکس اور گوداموں کی سہولیات، صنعتی زونز، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جدید ماہی گیری بندرگاہ، سمندری خوراک کی پراسیسنگ اور برآمدی سہولیات شامل ہوں گی۔
کیٹی بندر کو مستقبل کے توانائی کے گیٹ وے کے طور پر بھی ترقی دینے کی تجویز ہے، جہاں ایل این جی، آر ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمدی سہولیات سمیت توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق مجوزہ ترقی کے لیے تقریباً چار ہزار ایکڑ اراضی کی نشاندہی بھی کی جاچکی ہے۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں کیٹی بندر اور شاہ بندر میں جدید سہولیات سے آراستہ چھوٹی ماہی گیری کی بندرگاہیں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ ان بندرگاہوں میں جدید نیلامی ہال، کولڈ اسٹوریج، کشتیوں کے لنگر انداز ہونے کی سہولیات اور ماہی گیری سے متعلق دیگر خدمات فراہم کی جائیں گی۔
دوسرے مرحلے میں مکمل تجارتی گہرے سمندر کی بندرگاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
سندھ حکومت کے مطابق منصوبے میں دلچسپی رکھنے والی چینی فرم چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی نے کیٹی بندر پورٹ کا ماسٹر پلان بھی پیش کیا ہے۔ منصوبے میں نئی گہرے پانی کی بحری گزرگاہ، متعدد ٹرمینلز اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
ماسٹر پلان کے پہلے مرحلے میں پانچ سو میٹر طویل بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے اور سامان یا مسافروں کو اتارنے کے لیے مضبوط ساحلی پلیٹ فارم تعمیر کرنے کے ساتھ ملٹی پرپز ٹرمینل کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ابتدائی انجینئرنگ لاگت تقریباً پانچ کروڑ 22 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔
سندھ حکومت کے اس منصوبے سے کیٹی بندر سندھ کے ساحلی علاقے میں ایک نئے بحری اور تجارتی مرکز کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔ منصوبے کا مقصد بندرگاہی سرگرمیوں، برآمدات، ماہی گیری، توانائی، صنعت اور روزگار کو ایک ہی اقتصادی کوریڈور سے جوڑنا ہے۔
سندھ حکومت کے مطابق کیٹی بندر کی ترقی سے کراچی کی بندرگاہ پر دباؤ کم کرنے، پاکستان کے بحری اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو وسعت دینے اور سندھ کے ساحلی علاقوں کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
