Tag: بندرگاہ

  • سمندر کی لہریں، عزم کے مینار: کراچی کی بندرگاہ، اسماعیلی خوجہ برادری اور تعمیرِ شہر کی داستان

    سمندر کی لہریں، عزم کے مینار: کراچی کی بندرگاہ، اسماعیلی خوجہ برادری اور تعمیرِ شہر کی داستان

    سندھ کے ساحل پر واقع کراچی شہر کی تاریخ محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ سمندر کی لہروں کے ساتھ آنے والے ہنرمند، دور اندیش اور جفاکش طبقات کی داستانِ عزیمت ہے۔

    جب اٹھارویں صدی کے آخری سالوں اور انیسویں صدی کے وسط میں کراچی کے اولڈ ٹاؤن اور بندرگاہی بستی کو بین الاقوامی تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی تھی، تو اس وقت جن برادریوں نے اپنے سرمائے، عزم اور سماجی بصیرت سے اس نوخیز شہر کی بنیادوں کو استوار کیا، ان میں ‘اسماعیلی خوجہ’ برادری کا کردار سب سے نمایاں، منظم اور تاریخی افق پر ثبت ہے۔

    انیسویں صدی سے لے کر موجودہ دور تک کراچی کی معیشت، صنعت، تعلیم، بلدیاتی نظم اور صحتِ عامہ کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو، جہاں اس برادری کے فلاحی اور تجارتی اقدامات کے ان مٹ نقوش موجود نہ ہوں۔ یہ ایک ایسے مخلص اور جفاکش طبقے کی کہانی ہے، جس نے شہر سے صرف منافع نہیں کمایا بلکہ اسی منافع کو اسکولوں، ہسپتالوں اور سماجی اداروں کی صورت میں شہر کو واپس لوٹا کر اسے ایک جدید شہری مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جغرافیائی ہجرت کا پس منظر: کَچھ اور گجرات سے کراچی آمد

    کراچی میں اسماعیلی خوجہ برادری کی آمد کا سلسلہ برطانوی فتح سے بھی قبل، اٹھارویں صدی کے آخری برسوں اور انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں شروع ہو چکا تھا۔ اس ہجرت کے پیچھے بنیادی طور پر دو بڑے عوامل کارفرما تھے۔

    شدید قحط اور متبادل کی تلاش: سنہ 1799 میں گجرات، کاٹھیاواڑ اور کَچھ کے سرحدی علاقوں میں ایک ہولناک قحط پڑا، جس نے وہاں کی زراعت اور مقامی معیشت کو تباہ کر دیا۔ اس بحران کے نتیجے میں وہاں کی روایتی تاجر برادریوں نے متبادل اور محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا۔

    کراچی بندرگاہ کا فطری عروج: تالپور دور کے آخری برسوں میں کراچی کی بندرگاہ غلے، چمڑے اور سمندری تجارت کے لیے ایک پرامن اور ابھرتا ہوا مرکز بن رہی تھی۔ برطانوی راج کے آغاز کے بعد جب کراچی کی بندرگاہ کو ایک جدید تجارتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا تھا، تو اس برادری کے تاجر بڑے پیمانے پر یہاں منتقل ہوئے۔

    کَچھ، بھج، پنیلی اور گجرات کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے یہ خاندان سب سے پہلے کراچی کے قدیم ترین حصوں، یعنی کھارادر اور میٹھادر کے اولڈ سٹی ایریا میں آباد ہوئے۔ ان کی ابتدائی رہائش گاہیں تنگ گلیوں میں تھیں، لیکن ان کے حوصلے اور تجارتی روابط بحرِ ہند کی وسعتوں جتنے پھیلے ہوئے تھے۔

    اسی تاریخی ہجرت اور کَچھ سے کراچی منتقلی کی اسی لہر میں قائداعظم محمد علی جناح کے والد جناح بھائی پونجا بھی انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں گجرات سے کراچی منتقل ہوئے اور کھارادر کے وزیر مینشن کو اپنا مسکن بنایا، جہاں انہوں نے کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے درآمدات اور برآمدات کے کاروبار میں نام کمایا اور برادری کے مقتدر حلقوں میں اپنی پہچان بنائی۔

    لیاری سے مکران بلوچستان تک خشک مچھلی کی بین الاقوامی صنعت

    اسماعیلی خوجہ تاجروں نے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ مکران کے ساحل، اورماڑہ، پسنی اور گوادر تک ایک انتہائی مربوط اور وسیع تجارتی نیٹ ورک قائم کیا۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں جب گوادر عمان کی سلطنت کا حصہ بنا، تو کَچھ اور حیدرآباد سندھ سے بڑی تعداد میں خوجہ تاجر گوادر منتقل ہوئے اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔

    مچھلی کو نمک لگا کر سکھانے کا عمل: انیسویں صدی کے اس دور میں، جب دنیا ٹھنڈا ذخیرہ کرنے کی جدید سہولتوں سے ناواقف تھی، اسماعیلی تاجروں نے مچھلی کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے اور بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ملکوں تک پہنچانے کے لیے نمک لگا کر سکھانے کی صنعت کو فروغ دیا۔

    گوادر، پسنی اور اورماڑہ کے ساحلوں پر یہ تاجر مقامی ماہی گیروں کو کشتیاں اور جدید جال فراہم کرتے تھے اور بدلے میں ان سے مچھلی خریدتے تھے۔ مچھلی پکڑنے کے بعد اسے صاف کیا جاتا، پھر سمندری نمک کی تہوں میں دبا دیا جاتا تاکہ اس کا پانی نکل جائے، جس کے بعد اسے کھلے میدانوں میں تیز دھوپ میں سکھایا جاتا تھا۔ اس طریقے سے مچھلی کئی مہینوں تک خراب نہیں ہوتی تھی۔

    لیاری کے گودام اور برآمدی منڈی: بلوچستان کے ساحلوں پر تیار ہونے والی یہ خشک مچھلی روایتی لکڑی کے بحری جہازوں کے ذریعے کراچی لائی جاتی تھی۔ کراچی کی بندرگاہ کے فروغ کے بعد لیاری مچھلی کی پراسیسنگ اور بین الاقوامی تجارت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ لیاری کا علاقہ، موجودہ میمن سوسائٹی کھڈہ سے کلری نالے تک، خشک مچھلی کے بڑے بڑے گوداموں، جنہیں مقامی زبان میں ‘ستھر’ کہا جاتا تھا، سے بھر گیا۔

    یہ گودام اونچی چار دیواریوں پر مشتمل ہوتے تھے، جہاں ماری پور اور ہاکس بے کے نمک کے کارخانوں سے لایا گیا کچا نمک استعمال ہوتا تھا۔ اس صنعت نے لیاری کے ہزاروں مقامی بلوچ مردوں اور خواتین کو روزگار فراہم کیا۔

    اسماعیلی خوجہ تاجروں کے بین الاقوامی روابط اتنے مضبوط تھے کہ وہ اس زمانے میں بھی یہ مصنوعات عالمی منڈیوں تک برآمد کرتے تھے۔ اس خشک مچھلی کی سب سے بڑی منڈی سلون، موجودہ سری لنکا، تھی، جہاں کولمبو میں اس کی بہت زیادہ طلب تھی۔

    اس کے علاوہ برما، موجودہ میانمار، ملایا، موجودہ ملائیشیا، اور چین تک شارک مچھلی کے پر اور مخصوص خشک مچھلیاں برآمد کی جاتی تھیں، جنہیں چینی روایتی ادویات اور سوپ میں استعمال کیا جاتا تھا۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کارپوریٹ سیکٹر میں خدمات

    کراچی کی بندرگاہ کو ایک چھوٹے تجارتی مرکز سے برصغیر اور بعد ازاں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنانے میں اسماعیلی خوجہ تاجروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بندرگاہ کی نقل و حمل، بحری تجارت اور درآمد و برآمد کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا سرمایہ وقف کیا۔

    بندرگاہ پر آنے والے درآمدی سامان، جیسے چائے، مصالحے اور کپڑا، کو سنبھالنے اور ملکی پیداوار، جیسے کپاس، اون، چمڑا اور غلہ، کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے انہوں نے جوڑیا بازار اور کھارادر کو تھوک تجارت کا مرکز بنایا، جس سے بندرگاہ کی آمدنی اور محصولات میں تاریخی اضافہ ہوا۔

    پہلی جنگِ عظیم کے دوران، جب کراچی کی بندرگاہ کو برطانوی فوج کی رسد اور نقل و حمل کے لیے ایک اہم فوجی مرکز بنایا گیا، تو اسماعیلی رہنماؤں نے بندرگاہ کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے برطانوی ہند کی حکومت کو بھاری فنڈز اور جنگی قرضے فراہم کیے۔

    تاریخ ساز خاندان اور ان کا کاروباری اثر و رسوخ

    کراچی اور گوادر کی معاشی تاریخ اسماعیلی برادری کے چند مقتدر اور نامور کاروباری خاندانوں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ان خاندانوں کو آغا خان کی طرف سے ‘اسٹیٹ ایجنٹ’، ‘مُکھی’ اور ‘وارث’ جیسے معزز خطابات سے نوازا گیا، اور انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ شہر کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا۔

    فدو، بساریہ خاندان:  کَچھ، بھج، سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان کراچی کے اولین بااثر اسماعیلی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ‘وارث بساریہ فدو’ کو آغا خان اول نے 1881 میں کراچی، لسبیلہ اور سندھ کا ‘اسٹیٹ ایجنٹ’ مقرر کیا تھا۔

    انہوں نے سر آغا خان سوم کی پیدائش کے مقام کی دیکھ بھال کی اور کھارادر میں تاریخی مسافر خانہ تعمیر کروایا۔ ان کے بیٹے ‘وزیر رحیم بساریہ’ بیسویں صدی کے اوائل میں کراچی کونسل کے صفِ اول کے رہنما رہے اور برطانوی ہند کی کونسل میں برادری کی نمائندگی کی۔

    علی دینا، شالوانی خاندان: اس خاندان کی جڑیں بلوچستان اور کراچی کے پرانے تجارتی راستوں سے ملتی ہیں۔ ‘مکھی علی محمد علی دینا’ اس خاندان کے سب سے مشہور فرد تھے، جنہوں نے ملیر کے علاقے میں وسیع زرعی زمینیں خریدیں اور کھارادر میں اپنا تجارتی دفتر قائم کر کے کپڑے اور غلے کی تجارت کو فروغ دیا۔

    انہوں نے ہی کھارادر کے تاریخی اسکول کی بنیاد رکھی۔ اسی خاندان کے مکھی ہود بھائی شالوانی بھی کراچی کونسل کے سرگرم رکن رہے۔

    قاسم ولی، کولمبو والا خاندان: یہ خاندان چمڑے کی بین الاقوامی تجارت میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ ‘سیٹھ بندے علی قاسم’ اس خاندان کے سربراہ تھے، جن کا تجارتی نیٹ ورک یورپ کی سوئس کمپنیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے لیاری میں چمڑا رنگنے کی فیکٹریاں قائم کیں اور سنہ 1917 میں 50 لاکھ روپے کے سرمائے سے ‘خوجہ اسماعیلیہ ٹریڈنگ کمپنی’ قائم کی۔

    سری لنکا کے شہر کولمبو کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط کی وجہ سے ان کا خاندان ‘کولمبو والا’ کے نام سے مشہور ہوا اور انہوں نے جان بائی میٹرنٹی ہوم کے لیے بھاری فنڈز فراہم کیے۔

    گابا خاندان: مچھلی کی برآمد، پراسیسنگ اور بحری تجارت میں گابا خاندان کا نام کراچی اور گوادر دونوں جگہوں پر ایک صدی سے نمایاں رہا ہے۔ ان کی قائم کردہ سمندری خوراک اور پراسیسنگ کی فیکٹریاں آج بھی کام کر رہی ہیں اور خاندانی کاروبار کی پائیداری کی بہترین مثال ہیں۔

    کریم امپیکس اور پادامسی خاندان: جوڑیا بازار اور کھارادر میں کپڑے اور غلے کی تھوک تجارت میں اس خاندان کا نام انتہائی معتبر مانا جاتا ہے۔ بعد میں انہوں نے گارڈن اور فیڈرل بی ایریا میں اسماعیلی رہائشی سوسائٹیوں، کمیونٹی فلیٹس اور رہائشی بلاکس، کی تعمیر میں کلیدی مالی خدمات انجام دیں۔

    تاریخی عمارات اور سماجی مراکز

    کراچی کے اولڈ سٹی ایریا کی گلیاں اسماعیلی خوجہ برادری کے تعمیراتی ذوق اور سماجی تنظیم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے قائم کردہ مراکز میں درج ذیل عمارات تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔

    کھارادر جماعت خانہ، کراچی کا پہلا مرکز: یہ صرف ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ کراچی میں اسماعیلی تاریخ کا سنگِ میل بھی ہے۔ کراچی کا پہلا جماعت خانہ 1820 کی دہائی میں کاغذی بازار، کھارادر، کے قریب مٹی سے بنے ایک سادہ ڈھانچے کی صورت میں قائم کیا گیا تھا۔ بعد میں مکھی رمضان اسماعیل کی قیادت میں برادری نے موجودہ آغا خان روڈ پر، بندرگاہ کے فٹ بال اسٹیڈیم کے متصل، 3000 مربع گز کا ایک بڑا پلاٹ حاصل کیا۔

    اس عظیم الشان پکی عمارت کا پہلا مرحلہ نومبر 1882 میں مکمل ہوا۔ اس عمارت پر خوبصورت پیاز نما گنبد بنائے گئے تھے، جو روایتی اسلامی اور گجراتی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے تھے۔ روایات کے مطابق، اپنے وقت میں اسے ایشیا کا سب سے بڑا چھت والا مسلم ہال سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں اسی مقام پر دو فروری 1970 میں ایک اور جدید عمارت کا افتتاح کیا گیا، جسے پاکستان کے ‘درک خانہ’، یعنی مرکزی جماعت خانہ، کا درجہ حاصل ہے۔

    گارڈن جماعت خانہ: بیسویں صدی کے اوائل میں جب برادری معاشی طور پر مستحکم ہوئی، تو اولڈ سٹی کی بھیڑ سے نکل کر انہوں نے گارڈن ایسٹ کا رخ کیا، جہاں امراء نے خوبصورت نوآبادیاتی طرز کے بنگلے تعمیر کروائے۔ برٹو روڈ پر واقع گارڈن جماعت خانہ اپنی شاندار، وسیع اور گنبد دار طرزِ تعمیر کے لیے مشہور ہے اور کراچی کی سرکاری تاریخی عمارات میں شمار ہوتا ہے۔

    ہنی مون لاج: یہ تاریخی عمارت کراچی کے علاقے قاسم آباد، کورنگی روڈ، کے قریب ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ یہ وہ یادگار مقام ہے جہاں اسماعیلیوں کے اڑتالیسویں امام، ‘سر سلطان محمد شاہ، آغا خان سوم’، کی دو نومبر 1877 کو ولادت ہوئی تھی۔ اس مقام کی دیکھ بھال وارث بساریہ فدو کے خاندان نے کی۔

    سر آغا خان سوم نے بعد ازاں برصغیر کی مسلم سیاست میں تاریخی کردار ادا کیا، آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے مستقل صدر منتخب ہوئے اور لندن کی گول میز کانفرنسوں میں قائداعظم محمد علی جناح کے ہمراہ مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کیا۔

    آغا خان جمنازیم: گارڈن کے علاقے میں واقع یہ عمارت بیسویں صدی کے وسط میں برادری کے نوجوانوں کی کھیلوں، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے تعمیر کی گئی تھی، جو اس دور کے جدید طرزِ تعمیر کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔

    تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک اور سو سالہ سنگِ میل

    اسماعیلی برادری نے اس دور میں جدید تعلیم، خصوصاً خواتین کی تعلیم، پر اس وقت توجہ دی جب برصغیر کا مسلم معاشرہ اس سے نسبتاً دور تھا۔ آغا خان ایجوکیشن سروسز، پاکستان، کے تحت کراچی میں اسکولوں کا ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔

    آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول، کھارادر، سو سالہ تاریخ: یہ اس خطے میں جدید تعلیم کی تاریخ کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس کی بنیاد اسماعیلی برادری کے مایہ ناز مخیر ‘مکھی علی محمد علی دینا’ نے سر آغا خان سوم کی ہدایت اور سرپرستی میں رکھی تھی۔

    اس کا سنگِ بنیاد 1920 میں رکھا گیا، عمارت کی تعمیر میں چھ سال لگے اور باقاعدہ کلاسوں کا آغاز 1926 میں ‘علی محمد مکھی علی دینا خوجہ اسماعیلی گرلز اسکول’ کے نام سے ہوا، تاکہ پرانے کراچی کی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے۔ جون 2026 میں اس اسکول نے اپنی شاندار خدمات کے ایک سو سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔ یہ اسکول آج بھی کھارادر میں تین مختلف تاریخی بلاکس پر مشتمل ہے۔

    الیکزینڈریا بلاک: جسے چرچ آف انگلینڈ نے 1914 میں تعمیر کیا تھا اور بعد میں یہ اسکول کا حصہ بنا۔

    علی دینا بلاک: یہ وہ مرکزی تاریخی حصہ ہے جو مکھی علی محمد نے خود تعمیر کروایا تھا۔

    اے کے ایس بلاک: یہ جدید دور کی ضروریات کے مطابق تعمیر کی گئی نئی عمارت ہے۔ اس اسکول نے ایک صدی میں بارہ ہزار سے زائد گریجویٹس تیار کیے ہیں۔

    سلطان محمد شاہ آغا خان اسکول، کریم آباد: کریم آباد میں واقع یہ اسکول پچاس سال سے زائد عرصے سے قائم ہے اور اس کا شمار کراچی کے بہترین اسکولوں میں ہوتا ہے، جہاں تین ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

    زچہ و بچہ کی صحت اور طبی مراکز کا جال

    صحتِ عامہ، بالخصوص زچہ و بچہ کی صحت، کے شعبے میں اسماعیلی خوجہ برادری کی خدمات کراچی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔

    جان بائی میٹرنٹی ہوم، کھارادر، سو سالہ تاریخ: یہ کراچی میں ماں اور بچے کی صحت کا سب سے قدیم اور تاریخی ادارہ ہے۔ اس کا اصل نام ‘جان بائی قاسم ولی خوجہ اسماعیلیہ میٹرنٹی ہوم’ ہے۔ اس کی بنیاد معروف مخیر وزیر بندے علی قاسم نے اپنی والدہ ‘جان بائی’ کی یاد میں رکھی تھی۔

    اس کا سنگِ بنیاد سر آغا خان سوم نے 1920 میں رکھا۔ یہ شاندار عمارت 1924 میں مکمل ہوئی اور اس وقت کے کمشنر سندھ جے ایل ریو نے پندرہ اپریل 1924 کو اس کا افتتاح کیا۔ اس دور میں، جب دائیوں اور روایتی طریقوں سے زچگیاں ہوتی تھیں، یہ کراچی کا جدید ترین زچہ و بچہ مرکز تھا، جہاں صرف ایک روپیہ روزانہ کے عوض غریب مچھیروں اور بندرگاہ کے مزدوروں کو علاج اور ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔

    آج اس کا نام ‘آغا خان ہسپتال برائے خواتین و اطفال، کھارادر’ ہے، جو اب آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا حصہ بن کر ایک مکمل ثانوی نگہداشت کا ہسپتال بن چکا ہے اور یہاں اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد بچوں کی ولادت ہو چکی ہے۔

    آشا بائی اور کریم آباد میٹرنٹی ہومز: آغا خان ہیلتھ سروسز نے کراچی کے پرانے علاقے آگرہ تاج کالونی اور لیاری کے سنگم پر ‘آشا بائی میٹرنٹی ہوم’ قائم کیا، جس نے دہائیوں تک مقامی بلوچ برادری کی زچہ و بچہ کی ضروریات پوری کیں۔ جب اسماعیلی برادری نے فیڈرل بی ایریا کا رخ کیا تو وہاں ‘کریم آباد میٹرنٹی ہوم’ قائم کیا گیا، جو اب ایک جدید ہسپتال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی اور جدید طبی نظام

    بیسویں صدی کے آخر میں اسماعیلی برادری کے فلاحی نیٹ ورک نے کراچی کو دنیا کے طبی اور تعلیمی نقشے پر نمایاں مقام دلایا۔

    آغا خان یونیورسٹی: یہ پاکستان کی پہلی نجی یونیورسٹی ہے، جو 1983 میں قائم کی گئی۔ یہ طب، نرسنگ اور اساتذہ کی تعلیم کے شعبوں میں عالمی سطح پر ایک معتبر ادارہ ہے۔ اسی کے تحت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ قائم کیا گیا، جو پاکستان کا پہلا نجی تعلیمی بورڈ ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی ہسپتال: اسٹیڈیم روڈ پر واقع یہ عظیم الشان ہسپتال گیارہ نومبر 1985 کو قائم ہوا۔ یہ پاکستان کا پہلا بین الاقوامی معیار کا طبی مرکز ہے۔ اس کی منفرد گلابی سنگِ مرمر سے مزین عمارت اسلامی اور جدید طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔

    یہ ادارہ معاشی اور سماجی حیثیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کے اصول پر کام کرتا ہے، جہاں زکوٰۃ اور فلاحی فنڈز کے ذریعے ہر سال اربوں روپے کی لاگت سے لاکھوں مستحق مریضوں کا مفت یا رعایتی علاج کیا جاتا ہے۔

    شہر کا تاریخی ورثہ

    کراچی کا اولڈ سٹی ایریا، کھارادر کی گلیاں، گارڈن کے نوآبادیاتی بنگلے، لیاری کے پرانے کھڈے اور کیماڑی کی لہریں اسماعیلی خوجہ برادری کی دو صدیوں پر محیط محنت، دیانت اور فلاحی وژن کی گواہ ہیں۔ مٹی کے پہلے جماعت خانے سے لے کر آغا خان یونیورسٹی کے عظیم الشان ایوانوں تک، اور مکران سے لے کر کولمبو تک پھیلی خشک مچھلی کی صنعت سے جدید کارپوریٹ شعبے تک، اس برادری نے کراچی کو اپنا تن، من اور دھن پیش کیا۔ کراچی کی معاشی اور سماجی تاریخ کا یہ دستاویزی کالم اس سچی اور بے غرض فلاحی و تجارتی روایت کا اعتراف ہے، جس کے بغیر عروس البلاد کراچی کی تاریخ کا کوئی بھی تذکرہ ہمیشہ ادھورا، بے رنگ اور نامکمل رہے گا۔

  • سمندر پار روابط، فلاحی مینار: کراچی کی بندرگاہ، خوجہ اثنا عشریہ برادری، کراچی کے درخشاں دور کا ایک باب

    سمندر پار روابط، فلاحی مینار: کراچی کی بندرگاہ، خوجہ اثنا عشریہ برادری، کراچی کے درخشاں دور کا ایک باب

    کراچی کی دو سو سالہ تاریخ سمندر کے راستے آنے والے عزم و ہمت کے ان قافلوں کی داستان ہے، جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے اس شہر کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو سینچا۔

    گزشتہ مقالے میں ہم نے کراچی بندرگاہ کی ترقی اور تعمیرِ شہر میں اسماعیلی خوجہ برادری کے کردار کا احاطہ کیا تھا۔ لیکن کراچی کی کہانی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک ہم اسی برادری کے اس دھڑے کا ذکر نہ کریں جو انیسویں صدی کے وسط میں ایک بڑے نظریاتی اور تنظیمی موڑ کے بعد ‘خوجہ شیعہ اثنا عشریہ’ کے طور پر ابھرا۔

    یہ داستان ان لوہانہ تاجروں کے پس منظر سے شروع ہوتی ہے جنہیں سنہ 1400 میں پیر صدر الدین نے سندھ اور گجرات کے علاقوں میں اسلام کی روشنی سے منور کیا تھا اور فارسی لفظ ‘خواجہ’ سے ان کی پہچان ‘خوجہ تاجروں’ کے طور پر قائم ہوئی۔

    لیکن سنہ 1845 میں جب آغا خان نے سندھ کا دورہ کیا اور بعد ازاں بمبئی کو اپنا مرکز بنایا، تو برادری کے تجارتی اور مذہبی فنڈز، جو 20 فیصد تک جمع کیے جاتے تھے، اور نئے فرمودات پر برادری کے اندر ایک فکری و قانونی کشمکش کا آغاز ہوا۔

    اس تنازع اور طویل قانونی چارہ جوئی کے نتیجے میں دنیا بھر میں ‘خوجہ شیعہ اثنا عشریہ جماعتوں’ کا قیام عمل میں آیا۔ دنیا بھر میں محض ڈیڑھ لاکھ کی قلیل آبادی پر مشتمل اس برادری نے کراچی کی بندرگاہ، پاکستان کی معاشی بقا اور اولڈ سٹی ایریا، کھارادر و لیاری، کے سماجی، طبی اور مذہبی افق پر جو لازوال نقوش چھوڑے، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔

    دو براعظم، ایک خاندان: کراچی اور مشرقی افریقہ کا بحری نیٹ ورک

    انیسویں صدی کے وسط، 1840 کی دہائی، میں جب کَچھ، بھج، پنیلی اور کاٹھیاواڑ کے خوجہ تاجروں نے شدید قحط اور معاشی بحران کے سبب ہجرت کی، تو ان کا سفر دو متوازی راستوں پر گامزن ہوا۔

    ایک دھڑا سندھ کے ساحل پر اتر کر کراچی میں آباد ہوا، جبکہ دوسرا بڑا حصہ لکڑی کے روایتی بحری جہازوں کے ذریعے بحرِ ہند کو عبور کرتا ہوا مشرقی افریقہ کے ساحلوں، یعنی زنجبار، ممباسا اور دارالسلام پر اترا۔

    عقائد کی تبدیلی اور اسماعیلی شیعہ سے اثنا عشریہ شیعہ بننے کے بعد بھی، ان دونوں خطوں کے خوجہ تاجروں کے مابین خاندانی، کاروباری اور ثقافتی مراسم اتنے مضبوط رہے کہ انہوں نے کراچی بندرگاہ کو مشرقی افریقہ کی منڈیوں کے لیے ایک مستقل سپلائی بیس بنا دیا۔

    روایتی بحری جہازوں کے اس نیٹ ورک کے ذریعے کراچی سے چاول، شکر، گرم مصالحے اور سوتی کپڑا افریقہ بھیجا جاتا تھا، جبکہ افریقہ کے زرخیز ساحلوں سے ہاتھی دانت، قیمتی لونگ، ناریل اور سمندری پانی سے محفوظ رہنے والی عمارتی لکڑی کراچی لائی جاتی تھی، جس سے پرانے کراچی کے مکانات کی چھتیں اور بندرگاہ کی کشتیاں بنتی تھیں۔

    افریقہ فیڈریشن، ورلڈ فیڈریشن اور کراچی جماعت کا اشتراک

    مشرقی افریقہ کے مختلف شہروں میں جیسے جیسے برادری نے تجارتی عروج حاصل کیا، انہوں نے منظم ‘جماعتیں’ قائم کیں۔ سنہ 1946 میں دارالسلام، تنزانیہ، میں ‘افریقہ فیڈریشن’ کی بنیاد رکھی گئی تاکہ کینیا، یوگنڈا، زنجبار، موزمبیق اور مڈغاسکر کی جماعتوں کو یکجا کیا جا سکے۔

    اس افریقہ فیڈریشن اور کراچی کی خوجہ اثنا عشریہ جماعت کے مابین ایک مخلصانہ فلاحی اور مالیاتی رشتہ قائم ہوا۔ افریقہ کے متمول خوجہ تاجروں نے کراچی کو اپنے وطنِ ثانی کے طور پر دیکھا اور یہاں کے مذہبی، تعلیمی اور طبی اداروں کے لیے باقاعدگی سے بھاری فنڈز بھیجے۔

    بعد ازاں، 1976 میں لندن میں قائم ہونے والی ‘ورلڈ فیڈریشن آف خوجہ شیعہ اثنا عشری’ کا کراچی ایک مضبوط اور ناگزیر ستون بن گیا۔ آج بھی کراچی کے جوڑیا بازار اور کیمیکل مارکیٹ کے خوجہ تاجر تنزانیہ اور کینیا کے ساتھ چائے کی پتی، دالوں اور ادویات کی تجارت کا بڑا نیٹ ورک سنبھالتے ہیں۔

    یوگنڈا کا بحران اور کراچی ہجرت کا تاریخی موڑ

    برادری کی تاریخ میں ایک ہولناک موڑ سنہ 1972 میں آیا، جب یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے نسلی عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام ایشیائی باشندوں اور خوجہ تاجروں کو چوبیس گھنٹوں میں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔ ان خوجہ خاندانوں کا سب کچھ وہیں چھوٹ گیا۔

    اگرچہ برادری کی بڑی تعداد برطانیہ، یورپ اور کینیڈا کی طرف نکل گئی، لیکن ایک کثیر تعداد نے اپنے آبائی روابط کی بنیاد پر کراچی، پاکستان، کا رخ کیا۔

    افریقہ سے بے دخل ہو کر آنے والے ان باہمت تاجروں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنے پرانے تجربے اور بچائے ہوئے سرمائے کو کراچی کی معیشت میں جھونک دیا۔ انہوں نے کلفٹن اور گارڈن کے علاقوں میں جدید رہائشی جائیدادیں تیار کیں، جوڑیا بازار کی ہول سیل مارکیٹ کو اپنی کاروباری مہارت سے وسعت دی، اور افریقہ میں اپنے پرانے روابط کو استعمال کرتے ہوئے کراچی سے کاٹن یارن، یعنی دھاگے، اور کپڑے کی برآمدات کا وہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جس نے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کو قیمتی زرِ مبادلہ فراہم کیا۔

    حبیب خاندان: نوزائیدہ پاکستان کی معاشی ڈھال اور بلینک چیک کی داستان

    قیامِ پاکستان کی تاریخ میں خوجہ اثنا عشریہ برادری کے مایہ ناز ‘حبیب خاندان’ کا کردار محض ایک کاروباری خاندان کا نہیں، بلکہ اس معاشی ڈھال کا تھا جس نے اگست 1947 میں نوزائیدہ ملک کو دیوالیہ ہونے اور معاشی بحران سے بچایا۔

    1941 قائد اعظم کی درخواست پر بمبئی میں حبیب بینک کا قیام۔

    1947، جون: قائد اعظم کی ہدایت پر پورا نیٹ ورک اور خزانہ کراچی منتقل۔

    1947، اگست: بھارتی حکومت نے 75 کروڑ روپے روکے، خزانہ خالی ہوا اور ملازمین کی تنخواہیں رک گئیں۔

    1947، ستمبر: سیٹھ محمد علی حبیب کا عبوری حکومت کو آٹھ کروڑ روپے کا تاریخی ‘بلینک چیک’۔

    1948، یکم جولائی: اسٹیٹ بینک کے قیام میں حبیب خاندان کی مالی و تکنیکی معاونت۔

    حبیب بینک کا قیام، 1941

    تقسیم سے قبل برصغیر کی بینکاری پر ہندو اور برطانوی سرمایہ کاروں کا راج تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی دور اندیش نظریں دیکھ رہی تھیں کہ آزاد مسلم ریاست کے لیے اپنے بینک کا ہونا ضروری ہے۔ ان کی خصوصی درخواست پر حبیب خاندان نے 25 اگست 1941 کو بمبئی میں مسلمانوں کے پہلے شیڈولڈ کمرشل بینک، حبیب بینک لمیٹڈ، کی بنیاد رکھی۔

    کراچی منتقلی اور پرخطر آپریشن، 1947

    جون 1947 میں تقسیم کے اعلان کے ساتھ ہی، قائد اعظم کی ہدایت پر حبیب خاندان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا پورا ہیڈ کوارٹر اور نیٹ ورک بمبئی سے کراچی منتقل کر دیا۔ بمبئی سے سونا، نقدی اور اہم دستاویزات بحری جہازوں کے ذریعے پرخطر حالات میں کراچی بندرگاہ پہنچانا اس برادری کے وفادار ملازمین کا ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ کراچی کا ایم اے جناح روڈ اس مالیاتی نیٹ ورک کا گڑھ بن گیا۔

    تاریخی ‘بلینک چیک’ اور آٹھ کروڑ روپے کی امداد

    آزادی کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کے حصے کے 75 کروڑ روپے کے اثاثے روک لیے۔ پاکستان کا سرکاری خزانہ بالکل خالی تھا، مہاجرین کے کیمپ ابل رہے تھے اور ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہ تھے۔ اس نازک وقت میں قائد اعظم نے سیٹھ محمد علی حبیب سے رابطہ کیا۔

    سیٹھ محمد علی حبیب نے حب الوطنی کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے عبوری حکومت کو 80 ملین، یعنی آٹھ کروڑ روپے، کا قرضہ اور فنڈز جاری کیے۔ روایات کے مطابق، انہوں نے قائد اعظم کو ایک ‘بلینک چیک’ پیش کر دیا تھا کہ ملک کو بچانے کے لیے جتنی رقم درکار ہو، نکال لی جائے۔ اسی رقم سے پاکستان کے ابتدائی سرکاری امور کا پہیہ چلا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان (1948):

    جب یکم جولائی 1948 کو قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، تو اس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، سونے کے ذخائر کی منتقلی اور ابتدائی ورکنگ کیپیٹل کی فراہمی میں حبیب بینک کے ماہرین اور حبیب خاندان نے کلیدی تکنیکی اور مالیاتی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر سے جمع ہونے والے چندے کا مرکزی اکاؤنٹ ‘قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان فنڈ’ بھی حبیب بینک ہی سنبھالتا تھا۔

    اگرچہ 1974 میں یہ بینک قومیایا گیا، لیکن اس خاندان نے معصومین ہسپتال (لیاری)، حبیب یونیورسٹی، حبیب پبلک اسکول، بینک الحبیب اور بینک الفلاح کے ذریعے کراچی کی معاشی و تعلیمی آبیاری جاری رکھی۔

    کھارادر اور لیاری، قدیم عزاداری اور مٹتی تہذیب کے آثار

    اولڈ سٹی ایریا کا یہ خطہ صرف تجارت کا مرکز نہیں تھا، بلکہ یہ خوجہ اثنا عشریہ برادری کے مذہبی عقیدے، عزاداریِ امام حسین علیہ السلام اور عوامی فلاح کا سب سے پرانا گڑھ ہے۔

    بڑا امام باڑہ، کھارادر (منزلِ عزا):

    کھارادر کی تنگ اور تاریخی گلیوں میں واقع یہ عظیم الشان امام بارگاہ 1878 (کچھ کتبوں کے مطابق 1868) میں خوجہ اثنا عشریہ برادری کے معزز اور مخیر رہنما سیٹھ حاجی تھاور تھریا اور ان کے بیٹوں نے اپنی ذاتی زمین اور سرمائے سے تعمیر کروائی تھی۔ شروع میں یہ دو منزلہ عمارت تھی، جس میں 1963 میں تیسری منزل کا اضافہ کیا گیا۔

    یہاں کی عزاداری میں سندھی، کَچھی اور ایرانی ثقافت کا رنگ جھلکتا ہے۔ محرم کے دوران یہاں روایتی ایرانی ماتمی ساز ‘سنج و دمام’ اور سندھی طرز کے ‘نقارے’ کی گونج میں ماتم کیا جاتا ہے۔ یہاں 27 ذوالحج کو سو سال پرانے تاریخی علم پاک کو اتارا جاتا ہے (جسے ‘علم نہار کرنا’ کہتے ہیں) اور 29 ذوالحج کی رات کو عقیدت کے ساتھ دوبارہ علم کشائی کی جاتی ہے۔

    حسینیہ ایرانیان، کھارادر:

    قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1948 میں قائم ہونے والا یہ مرکز خوجہ اثنا عشریہ برادری اور ایران (شیراز و بوشہر) سے آئے تاجروں کے باہمی اشتراک کا شاہکار ہے، جس کا انتظام ‘انجمنِ حسینیہ ایرانیان’ چلاتی ہے۔

    اس مقام کی سب سے بڑی انتظامی اہمیت یہ ہے کہ کراچی کے تمام مرکزی اور سرکاری جلوس (نو اور دس محرم کے یومِ عاشور کے جلوس) نشتر پارک سے برآمد ہو کر، ایم اے جناح روڈ سے گزرتے ہوئے اسی حسینیہ ایرانیان پر آ کر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔

    یہ وہ منبر ہے جہاں علامہ رشید ترابی اور علامہ طالب جوہری جیسی صدی کے مایہ ناز خطبا دہائیوں تک مجلس پڑھتے رہے۔ یہاں دس محرم کی صبح زائرین میں روایتی ‘ایرانی پلاؤ اور چلو کباب’ بطورِ نیاز تقسیم کیا جاتا ہے، جو اس کی ایک الگ پہچان ہے۔

    بشوکی امام بارگاہ (نیا آباد، لیاری):

    برطانوی راج سے بھی پہلے 1806 میں قائم ہونے والی یہ امام بارگاہ کراچی کی قدیم ترین امام بارگاہ مانی جاتی ہے، جب شہر کی آبادی محض 35 ہزار تھی۔ اس کی بنیاد خلیجِ فارس سے آئے ایک عراقی تاجر ‘بشو’ نے رکھی تھی، لیکن اس کا انتظام ہمیشہ لیاری کے مقامی معززین اور خاندانوں کے پاس رہا، جو سنی عقیدے سے تعلق رکھنے کے باوجود نسل در نسل اس کے خادم اور محافظ ہیں۔

    بلدیہ کراچی کے 1884 کے تاریخی بجٹ ریکارڈ کے مطابق، اس کی گلی (امام بارگاہ روڈ) کو پکا کرنے کے لیے اس زمانے میں 183 روپے مختص کیے گئے تھے۔

    روشنی کے سفیر: غلامانِ عباسؑ، حبیب پبلک اسکول، حبیب یونیورسٹی اور انقلابی تعلیمی نیٹ ورک

    کراچی میں خوجہ شیعہ اثنا عشریہ برادری کی خدمات محض جوڑیا بازار کی تجارت، حبیب بینک کی مالیاتی ڈھال یا کھارادر کی عزاداری تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس برادری نے کراچی کی تاریخ میں علم اور شعور کی جو شمعیں روشن کیں، وہ ان کا سب سے پائیدار اور لازوال اثاثہ ہیں۔

    بیسویں صدی کے وسط میں، جب تقسیمِ ہند کے بعد کراچی کی آبادی میں اچانک لاکھوں مہاجرین اور سفید پوش خاندانوں کا اضافہ ہوا، تو برادری کے مقتدر علما، مخلص دانشوروں اور مخیر تاجروں نے محسوس کیا کہ قوم کی بقا صرف تجارت میں نہیں بلکہ جدید سائنسی اور انگریزی تعلیم میں ہے۔ اسی سوچ کے تحت اولڈ سٹی ایریا سمیت کراچی میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے جو آج بھی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ جیسے:

    غلامانِ عباس اسکول اینڈ ہاسٹل: اس ادارے نے نہ صرف خوجہ برادری بلکہ کراچی کے دیگر عام مسلم اور متوسط طبقے کے بچوں کو انتہائی کم فیس (اور مستحق بچوں کو مکمل اسکالرشپ) کے ساتھ وہ معیارِ تعلیم دیا جو اس دور کے مہنگے ترین کلفٹن کے مشنری اسکولوں کا ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے پڑھے ہوئے ہزاروں طلبا آج دنیا بھر میں نامور پوزیشنوں پر فائز ہیں۔

    حبیب پبلک اسکول (1959)، جہاں قائدین اور اولمپئنز تیار ہوئے:

    جب ہم خوجہ اثنا عشریہ برادری کے تعلیمی اداروں کا ذکر کرتے ہیں، تو مائی کولاچی اور مولوی تمیز الدین خان روڈ پر واقع ‘حبیب پبلک اسکول’ کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ اسکول حبیب خاندان (سرمایہ کار: محمد علی حبیب) نے 1959 میں قائم کیا تھا اور یہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ پاکستان کی نرسری ہے۔

    حبیب پبلک اسکول نے پاکستان کو کئی ایسے نام دیے جنہوں نے دنیا بھر میں ملک کا پرچم بلند کیا۔ یہ اسکول اپنی بے پناہ سستی فیس، کڑے نظم و ضبط، شاندار کھیل کے میدانوں اور سوئمنگ پول کے باعث پورے کراچی میں اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ مانا جاتا رہا، جہاں امیر اور غریب کا بچہ ایک ہی ڈیسک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا تھا۔

    حبیب یونیورسٹی۔ پاکستان کی پہلی لبرل آرٹس یونیورسٹی: تعلیم کے میدان میں برادری کے حبیب خاندان نے اکیسویں صدی میں جو سب سے بڑا تاریخی قدم اٹھایا، وہ ‘حبیب یونیورسٹی’ کا قیام ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی بھی نجی خاندان کی طرف سے دیا گیا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ یہ یونیورسٹی عالمی معیار کے لبرل آرٹس، کمیونیکیشن ڈیزائن، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے فراہم کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت اس کا ‘یو ہوپ’ اسکالرشپ پروگرام ہے، جس کے تحت کراچی کے سرکاری کالجوں اور غریب بستیوں کے ذہین بچوں کو سو فیصد مفت اسکالرشپ دی جاتی ہے، تاکہ پیسے کی کمی کسی کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

    سراج کالونی اور معصومین ہسپتال

    لیاری کے موسیٰ لین کے ساتھ واقع سراج کالونی خوجہ اثنا عشریہ اور پرانے کَچھی و شیرازی سادات خاندانوں کا مسکن رہی ہے۔ اسی موسیٰ لین اور کھارادر کے سنگم پر، آتمارام پریتم داس روڈ (حالیہ شاہ عبداللطیف بھٹائی روڈ) پر ‘معصومین ہسپتال’ واقع ہے، جو حبیب خاندان اور برادری کے مخیر حضرات کا قائم کردہ ایک فلاحی ادارہ ہے اور بارہ اماموں اور چودہ معصومینؑ کے نام سے منسوب ہے۔

    یہ ہسپتال دہائیوں سے لیاری کے غریب ماہی گیروں، جونا مارکیٹ اور اولڈ سٹی کے متوسط طبقے کے لیے سستی ترین زچہ و بچہ اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

    قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے نڈر سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ (1994-1997)، جن کا تعلق اسی لیاری (نیا آباد) سے تھا، وہ نسلی طور پر خوجہ نہیں بلکہ قدیم ‘سندھی سادات’ (شیرازی سید) خاندان سے تھے، تاہم عقیدے کے اعتبار سے شیعہ اثنا عشری ہونے کے ناطے وہ اولڈ سٹی ایریا کی ان تمام مذہبی و عزاداری کی روایات کے بچپن سے شاہد رہے تھے۔)

    آخری آرام گاہیں اور آخری رسومات کا نظام

    خوجہ اثنا عشریہ برادری کے سماجی نظم و ضبط اور اپنی کمیونٹی کے لیے خدمات کا اندازہ ان کے قائم کردہ تدفین اور آخری رسومات کے مربوط نظام سے لگایا جا سکتا ہے، جو کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں ایک طویل عرصے سے قائم ہے۔

    علی باغ قبرستان (قدیم خوجہ اثنا عشریہ قبرستان):

    حالیہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کے سامنے، لیاری اور پرانے کراچی کے مابین خوجہ اسماعیلی جماعت کے حسینی باغ قبرستان کے قریب واقع ‘علی باغ’ برادری کا قدیم ترین اور تاریخی قبرستان ہے۔ یہ صرف ایک قبرستان نہیں بلکہ کراچی کی ہجرتی تاریخ کا ایک کتبہ ہے، جہاں کَچھ، کاٹھیاواڑ اور مشرقی افریقہ سے آ کر کراچی بندرگاہ کو آباد کرنے والے اولیا، مقتدر تاجروں، حبیب خاندان کے بزرگوں اور عام محنت کشوں کی صد سالہ پرانی قبریں موجود ہیں۔

    یہ باغ برادری کے پرانے بزرگوں نے وقف کیا تھا تاکہ کمیونٹی کے افراد کو ایک ہی جگہ باوقار تدفین میسر آ سکے۔ ہارون فیملی، ہدایت اللہ فیملی، اور بی سی سی آئی والے مشہور بین الاقوامی بینکر آغا حسن عابدی سمیت دیگر بڑے بڑے خاندان اور تاریخ ساز شخصیات یہاں دفن ہیں۔

    مٹی کا قرض

    لوہانہ برادری کے تجارتی ماضی سے لے کر بمبئی کی قانونی کشمکش تک، اور کَچھ کے قحط سے لے کر مشرقی افریقہ کی بے دخلی اور یوگنڈا کے بحران تک، خوجہ شیعہ اثنا عشریہ برادری نے تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں کا سامنا انتہائی پامردی اور نظم و ضبط سے کیا۔

    حبیب خاندان کا وہ تاریخی ‘بلینک چیک’ ہو، معصومین ہسپتال کی سستی شفا ہو، کھارادر کے بڑے امام باڑے اور حسینیہ ایرانیان سے اٹھنے والی سنج و دمام کی صدائیں ہوں یا علی باغ کی خاموش قبریں، یہ سب گواہ ہیں کہ اس قلیل ترین برادری نے کراچی کی مٹی کا قرض کس شان سے اتارا ہے۔

    معیشت کی بلند ترین پوزیشنوں سے لے کر لیاری کی پسماندہ گلیوں تک، ان کی خدمات عروس البلاد کراچی کی تاریخ کا وہ اَن مٹ نقش ہیں جنہیں وقت کی کوئی بھی لہر کبھی مٹا نہیں پائے گی۔