سمندر پار روابط، فلاحی مینار: کراچی کی بندرگاہ، خوجہ اثنا عشریہ برادری، کراچی کے درخشاں دور کا ایک باب

بندرگاہ

کراچی کی دو سو سالہ تاریخ سمندر کے راستے آنے والے عزم و ہمت کے ان قافلوں کی داستان ہے، جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے اس شہر کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو سینچا۔

گزشتہ مقالے میں ہم نے کراچی بندرگاہ کی ترقی اور تعمیرِ شہر میں اسماعیلی خوجہ برادری کے کردار کا احاطہ کیا تھا۔ لیکن کراچی کی کہانی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک ہم اسی برادری کے اس دھڑے کا ذکر نہ کریں جو انیسویں صدی کے وسط میں ایک بڑے نظریاتی اور تنظیمی موڑ کے بعد ‘خوجہ شیعہ اثنا عشریہ’ کے طور پر ابھرا۔

یہ داستان ان لوہانہ تاجروں کے پس منظر سے شروع ہوتی ہے جنہیں سنہ 1400 میں پیر صدر الدین نے سندھ اور گجرات کے علاقوں میں اسلام کی روشنی سے منور کیا تھا اور فارسی لفظ ‘خواجہ’ سے ان کی پہچان ‘خوجہ تاجروں’ کے طور پر قائم ہوئی۔

لیکن سنہ 1845 میں جب آغا خان نے سندھ کا دورہ کیا اور بعد ازاں بمبئی کو اپنا مرکز بنایا، تو برادری کے تجارتی اور مذہبی فنڈز، جو 20 فیصد تک جمع کیے جاتے تھے، اور نئے فرمودات پر برادری کے اندر ایک فکری و قانونی کشمکش کا آغاز ہوا۔

اس تنازع اور طویل قانونی چارہ جوئی کے نتیجے میں دنیا بھر میں ‘خوجہ شیعہ اثنا عشریہ جماعتوں’ کا قیام عمل میں آیا۔ دنیا بھر میں محض ڈیڑھ لاکھ کی قلیل آبادی پر مشتمل اس برادری نے کراچی کی بندرگاہ، پاکستان کی معاشی بقا اور اولڈ سٹی ایریا، کھارادر و لیاری، کے سماجی، طبی اور مذہبی افق پر جو لازوال نقوش چھوڑے، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔

دو براعظم، ایک خاندان: کراچی اور مشرقی افریقہ کا بحری نیٹ ورک

انیسویں صدی کے وسط، 1840 کی دہائی، میں جب کَچھ، بھج، پنیلی اور کاٹھیاواڑ کے خوجہ تاجروں نے شدید قحط اور معاشی بحران کے سبب ہجرت کی، تو ان کا سفر دو متوازی راستوں پر گامزن ہوا۔

ایک دھڑا سندھ کے ساحل پر اتر کر کراچی میں آباد ہوا، جبکہ دوسرا بڑا حصہ لکڑی کے روایتی بحری جہازوں کے ذریعے بحرِ ہند کو عبور کرتا ہوا مشرقی افریقہ کے ساحلوں، یعنی زنجبار، ممباسا اور دارالسلام پر اترا۔

عقائد کی تبدیلی اور اسماعیلی شیعہ سے اثنا عشریہ شیعہ بننے کے بعد بھی، ان دونوں خطوں کے خوجہ تاجروں کے مابین خاندانی، کاروباری اور ثقافتی مراسم اتنے مضبوط رہے کہ انہوں نے کراچی بندرگاہ کو مشرقی افریقہ کی منڈیوں کے لیے ایک مستقل سپلائی بیس بنا دیا۔

روایتی بحری جہازوں کے اس نیٹ ورک کے ذریعے کراچی سے چاول، شکر، گرم مصالحے اور سوتی کپڑا افریقہ بھیجا جاتا تھا، جبکہ افریقہ کے زرخیز ساحلوں سے ہاتھی دانت، قیمتی لونگ، ناریل اور سمندری پانی سے محفوظ رہنے والی عمارتی لکڑی کراچی لائی جاتی تھی، جس سے پرانے کراچی کے مکانات کی چھتیں اور بندرگاہ کی کشتیاں بنتی تھیں۔

افریقہ فیڈریشن، ورلڈ فیڈریشن اور کراچی جماعت کا اشتراک

مشرقی افریقہ کے مختلف شہروں میں جیسے جیسے برادری نے تجارتی عروج حاصل کیا، انہوں نے منظم ‘جماعتیں’ قائم کیں۔ سنہ 1946 میں دارالسلام، تنزانیہ، میں ‘افریقہ فیڈریشن’ کی بنیاد رکھی گئی تاکہ کینیا، یوگنڈا، زنجبار، موزمبیق اور مڈغاسکر کی جماعتوں کو یکجا کیا جا سکے۔

اس افریقہ فیڈریشن اور کراچی کی خوجہ اثنا عشریہ جماعت کے مابین ایک مخلصانہ فلاحی اور مالیاتی رشتہ قائم ہوا۔ افریقہ کے متمول خوجہ تاجروں نے کراچی کو اپنے وطنِ ثانی کے طور پر دیکھا اور یہاں کے مذہبی، تعلیمی اور طبی اداروں کے لیے باقاعدگی سے بھاری فنڈز بھیجے۔

بعد ازاں، 1976 میں لندن میں قائم ہونے والی ‘ورلڈ فیڈریشن آف خوجہ شیعہ اثنا عشری’ کا کراچی ایک مضبوط اور ناگزیر ستون بن گیا۔ آج بھی کراچی کے جوڑیا بازار اور کیمیکل مارکیٹ کے خوجہ تاجر تنزانیہ اور کینیا کے ساتھ چائے کی پتی، دالوں اور ادویات کی تجارت کا بڑا نیٹ ورک سنبھالتے ہیں۔

یوگنڈا کا بحران اور کراچی ہجرت کا تاریخی موڑ

برادری کی تاریخ میں ایک ہولناک موڑ سنہ 1972 میں آیا، جب یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے نسلی عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام ایشیائی باشندوں اور خوجہ تاجروں کو چوبیس گھنٹوں میں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔ ان خوجہ خاندانوں کا سب کچھ وہیں چھوٹ گیا۔

اگرچہ برادری کی بڑی تعداد برطانیہ، یورپ اور کینیڈا کی طرف نکل گئی، لیکن ایک کثیر تعداد نے اپنے آبائی روابط کی بنیاد پر کراچی، پاکستان، کا رخ کیا۔

افریقہ سے بے دخل ہو کر آنے والے ان باہمت تاجروں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنے پرانے تجربے اور بچائے ہوئے سرمائے کو کراچی کی معیشت میں جھونک دیا۔ انہوں نے کلفٹن اور گارڈن کے علاقوں میں جدید رہائشی جائیدادیں تیار کیں، جوڑیا بازار کی ہول سیل مارکیٹ کو اپنی کاروباری مہارت سے وسعت دی، اور افریقہ میں اپنے پرانے روابط کو استعمال کرتے ہوئے کراچی سے کاٹن یارن، یعنی دھاگے، اور کپڑے کی برآمدات کا وہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جس نے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کو قیمتی زرِ مبادلہ فراہم کیا۔

حبیب خاندان: نوزائیدہ پاکستان کی معاشی ڈھال اور بلینک چیک کی داستان

قیامِ پاکستان کی تاریخ میں خوجہ اثنا عشریہ برادری کے مایہ ناز ‘حبیب خاندان’ کا کردار محض ایک کاروباری خاندان کا نہیں، بلکہ اس معاشی ڈھال کا تھا جس نے اگست 1947 میں نوزائیدہ ملک کو دیوالیہ ہونے اور معاشی بحران سے بچایا۔

1941 قائد اعظم کی درخواست پر بمبئی میں حبیب بینک کا قیام۔

1947، جون: قائد اعظم کی ہدایت پر پورا نیٹ ورک اور خزانہ کراچی منتقل۔

1947، اگست: بھارتی حکومت نے 75 کروڑ روپے روکے، خزانہ خالی ہوا اور ملازمین کی تنخواہیں رک گئیں۔

1947، ستمبر: سیٹھ محمد علی حبیب کا عبوری حکومت کو آٹھ کروڑ روپے کا تاریخی ‘بلینک چیک’۔

1948، یکم جولائی: اسٹیٹ بینک کے قیام میں حبیب خاندان کی مالی و تکنیکی معاونت۔

حبیب بینک کا قیام، 1941

تقسیم سے قبل برصغیر کی بینکاری پر ہندو اور برطانوی سرمایہ کاروں کا راج تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی دور اندیش نظریں دیکھ رہی تھیں کہ آزاد مسلم ریاست کے لیے اپنے بینک کا ہونا ضروری ہے۔ ان کی خصوصی درخواست پر حبیب خاندان نے 25 اگست 1941 کو بمبئی میں مسلمانوں کے پہلے شیڈولڈ کمرشل بینک، حبیب بینک لمیٹڈ، کی بنیاد رکھی۔

کراچی منتقلی اور پرخطر آپریشن، 1947

جون 1947 میں تقسیم کے اعلان کے ساتھ ہی، قائد اعظم کی ہدایت پر حبیب خاندان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا پورا ہیڈ کوارٹر اور نیٹ ورک بمبئی سے کراچی منتقل کر دیا۔ بمبئی سے سونا، نقدی اور اہم دستاویزات بحری جہازوں کے ذریعے پرخطر حالات میں کراچی بندرگاہ پہنچانا اس برادری کے وفادار ملازمین کا ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ کراچی کا ایم اے جناح روڈ اس مالیاتی نیٹ ورک کا گڑھ بن گیا۔

تاریخی ‘بلینک چیک’ اور آٹھ کروڑ روپے کی امداد

آزادی کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کے حصے کے 75 کروڑ روپے کے اثاثے روک لیے۔ پاکستان کا سرکاری خزانہ بالکل خالی تھا، مہاجرین کے کیمپ ابل رہے تھے اور ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہ تھے۔ اس نازک وقت میں قائد اعظم نے سیٹھ محمد علی حبیب سے رابطہ کیا۔

سیٹھ محمد علی حبیب نے حب الوطنی کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے عبوری حکومت کو 80 ملین، یعنی آٹھ کروڑ روپے، کا قرضہ اور فنڈز جاری کیے۔ روایات کے مطابق، انہوں نے قائد اعظم کو ایک ‘بلینک چیک’ پیش کر دیا تھا کہ ملک کو بچانے کے لیے جتنی رقم درکار ہو، نکال لی جائے۔ اسی رقم سے پاکستان کے ابتدائی سرکاری امور کا پہیہ چلا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (1948):

جب یکم جولائی 1948 کو قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، تو اس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، سونے کے ذخائر کی منتقلی اور ابتدائی ورکنگ کیپیٹل کی فراہمی میں حبیب بینک کے ماہرین اور حبیب خاندان نے کلیدی تکنیکی اور مالیاتی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر سے جمع ہونے والے چندے کا مرکزی اکاؤنٹ ‘قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان فنڈ’ بھی حبیب بینک ہی سنبھالتا تھا۔

اگرچہ 1974 میں یہ بینک قومیایا گیا، لیکن اس خاندان نے معصومین ہسپتال (لیاری)، حبیب یونیورسٹی، حبیب پبلک اسکول، بینک الحبیب اور بینک الفلاح کے ذریعے کراچی کی معاشی و تعلیمی آبیاری جاری رکھی۔

کھارادر اور لیاری، قدیم عزاداری اور مٹتی تہذیب کے آثار

اولڈ سٹی ایریا کا یہ خطہ صرف تجارت کا مرکز نہیں تھا، بلکہ یہ خوجہ اثنا عشریہ برادری کے مذہبی عقیدے، عزاداریِ امام حسین علیہ السلام اور عوامی فلاح کا سب سے پرانا گڑھ ہے۔

بڑا امام باڑہ، کھارادر (منزلِ عزا):

کھارادر کی تنگ اور تاریخی گلیوں میں واقع یہ عظیم الشان امام بارگاہ 1878 (کچھ کتبوں کے مطابق 1868) میں خوجہ اثنا عشریہ برادری کے معزز اور مخیر رہنما سیٹھ حاجی تھاور تھریا اور ان کے بیٹوں نے اپنی ذاتی زمین اور سرمائے سے تعمیر کروائی تھی۔ شروع میں یہ دو منزلہ عمارت تھی، جس میں 1963 میں تیسری منزل کا اضافہ کیا گیا۔

یہاں کی عزاداری میں سندھی، کَچھی اور ایرانی ثقافت کا رنگ جھلکتا ہے۔ محرم کے دوران یہاں روایتی ایرانی ماتمی ساز ‘سنج و دمام’ اور سندھی طرز کے ‘نقارے’ کی گونج میں ماتم کیا جاتا ہے۔ یہاں 27 ذوالحج کو سو سال پرانے تاریخی علم پاک کو اتارا جاتا ہے (جسے ‘علم نہار کرنا’ کہتے ہیں) اور 29 ذوالحج کی رات کو عقیدت کے ساتھ دوبارہ علم کشائی کی جاتی ہے۔

حسینیہ ایرانیان، کھارادر:

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1948 میں قائم ہونے والا یہ مرکز خوجہ اثنا عشریہ برادری اور ایران (شیراز و بوشہر) سے آئے تاجروں کے باہمی اشتراک کا شاہکار ہے، جس کا انتظام ‘انجمنِ حسینیہ ایرانیان’ چلاتی ہے۔

اس مقام کی سب سے بڑی انتظامی اہمیت یہ ہے کہ کراچی کے تمام مرکزی اور سرکاری جلوس (نو اور دس محرم کے یومِ عاشور کے جلوس) نشتر پارک سے برآمد ہو کر، ایم اے جناح روڈ سے گزرتے ہوئے اسی حسینیہ ایرانیان پر آ کر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔

یہ وہ منبر ہے جہاں علامہ رشید ترابی اور علامہ طالب جوہری جیسی صدی کے مایہ ناز خطبا دہائیوں تک مجلس پڑھتے رہے۔ یہاں دس محرم کی صبح زائرین میں روایتی ‘ایرانی پلاؤ اور چلو کباب’ بطورِ نیاز تقسیم کیا جاتا ہے، جو اس کی ایک الگ پہچان ہے۔

بشوکی امام بارگاہ (نیا آباد، لیاری):

برطانوی راج سے بھی پہلے 1806 میں قائم ہونے والی یہ امام بارگاہ کراچی کی قدیم ترین امام بارگاہ مانی جاتی ہے، جب شہر کی آبادی محض 35 ہزار تھی۔ اس کی بنیاد خلیجِ فارس سے آئے ایک عراقی تاجر ‘بشو’ نے رکھی تھی، لیکن اس کا انتظام ہمیشہ لیاری کے مقامی معززین اور خاندانوں کے پاس رہا، جو سنی عقیدے سے تعلق رکھنے کے باوجود نسل در نسل اس کے خادم اور محافظ ہیں۔

بلدیہ کراچی کے 1884 کے تاریخی بجٹ ریکارڈ کے مطابق، اس کی گلی (امام بارگاہ روڈ) کو پکا کرنے کے لیے اس زمانے میں 183 روپے مختص کیے گئے تھے۔

روشنی کے سفیر: غلامانِ عباسؑ، حبیب پبلک اسکول، حبیب یونیورسٹی اور انقلابی تعلیمی نیٹ ورک

کراچی میں خوجہ شیعہ اثنا عشریہ برادری کی خدمات محض جوڑیا بازار کی تجارت، حبیب بینک کی مالیاتی ڈھال یا کھارادر کی عزاداری تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس برادری نے کراچی کی تاریخ میں علم اور شعور کی جو شمعیں روشن کیں، وہ ان کا سب سے پائیدار اور لازوال اثاثہ ہیں۔

بیسویں صدی کے وسط میں، جب تقسیمِ ہند کے بعد کراچی کی آبادی میں اچانک لاکھوں مہاجرین اور سفید پوش خاندانوں کا اضافہ ہوا، تو برادری کے مقتدر علما، مخلص دانشوروں اور مخیر تاجروں نے محسوس کیا کہ قوم کی بقا صرف تجارت میں نہیں بلکہ جدید سائنسی اور انگریزی تعلیم میں ہے۔ اسی سوچ کے تحت اولڈ سٹی ایریا سمیت کراچی میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے جو آج بھی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ جیسے:

غلامانِ عباس اسکول اینڈ ہاسٹل: اس ادارے نے نہ صرف خوجہ برادری بلکہ کراچی کے دیگر عام مسلم اور متوسط طبقے کے بچوں کو انتہائی کم فیس (اور مستحق بچوں کو مکمل اسکالرشپ) کے ساتھ وہ معیارِ تعلیم دیا جو اس دور کے مہنگے ترین کلفٹن کے مشنری اسکولوں کا ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے پڑھے ہوئے ہزاروں طلبا آج دنیا بھر میں نامور پوزیشنوں پر فائز ہیں۔

حبیب پبلک اسکول (1959)، جہاں قائدین اور اولمپئنز تیار ہوئے:

جب ہم خوجہ اثنا عشریہ برادری کے تعلیمی اداروں کا ذکر کرتے ہیں، تو مائی کولاچی اور مولوی تمیز الدین خان روڈ پر واقع ‘حبیب پبلک اسکول’ کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ اسکول حبیب خاندان (سرمایہ کار: محمد علی حبیب) نے 1959 میں قائم کیا تھا اور یہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ پاکستان کی نرسری ہے۔

حبیب پبلک اسکول نے پاکستان کو کئی ایسے نام دیے جنہوں نے دنیا بھر میں ملک کا پرچم بلند کیا۔ یہ اسکول اپنی بے پناہ سستی فیس، کڑے نظم و ضبط، شاندار کھیل کے میدانوں اور سوئمنگ پول کے باعث پورے کراچی میں اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ مانا جاتا رہا، جہاں امیر اور غریب کا بچہ ایک ہی ڈیسک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا تھا۔

حبیب یونیورسٹی۔ پاکستان کی پہلی لبرل آرٹس یونیورسٹی: تعلیم کے میدان میں برادری کے حبیب خاندان نے اکیسویں صدی میں جو سب سے بڑا تاریخی قدم اٹھایا، وہ ‘حبیب یونیورسٹی’ کا قیام ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی بھی نجی خاندان کی طرف سے دیا گیا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ یہ یونیورسٹی عالمی معیار کے لبرل آرٹس، کمیونیکیشن ڈیزائن، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے فراہم کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت اس کا ‘یو ہوپ’ اسکالرشپ پروگرام ہے، جس کے تحت کراچی کے سرکاری کالجوں اور غریب بستیوں کے ذہین بچوں کو سو فیصد مفت اسکالرشپ دی جاتی ہے، تاکہ پیسے کی کمی کسی کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

سراج کالونی اور معصومین ہسپتال

لیاری کے موسیٰ لین کے ساتھ واقع سراج کالونی خوجہ اثنا عشریہ اور پرانے کَچھی و شیرازی سادات خاندانوں کا مسکن رہی ہے۔ اسی موسیٰ لین اور کھارادر کے سنگم پر، آتمارام پریتم داس روڈ (حالیہ شاہ عبداللطیف بھٹائی روڈ) پر ‘معصومین ہسپتال’ واقع ہے، جو حبیب خاندان اور برادری کے مخیر حضرات کا قائم کردہ ایک فلاحی ادارہ ہے اور بارہ اماموں اور چودہ معصومینؑ کے نام سے منسوب ہے۔

یہ ہسپتال دہائیوں سے لیاری کے غریب ماہی گیروں، جونا مارکیٹ اور اولڈ سٹی کے متوسط طبقے کے لیے سستی ترین زچہ و بچہ اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے نڈر سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ (1994-1997)، جن کا تعلق اسی لیاری (نیا آباد) سے تھا، وہ نسلی طور پر خوجہ نہیں بلکہ قدیم ‘سندھی سادات’ (شیرازی سید) خاندان سے تھے، تاہم عقیدے کے اعتبار سے شیعہ اثنا عشری ہونے کے ناطے وہ اولڈ سٹی ایریا کی ان تمام مذہبی و عزاداری کی روایات کے بچپن سے شاہد رہے تھے۔)

آخری آرام گاہیں اور آخری رسومات کا نظام

خوجہ اثنا عشریہ برادری کے سماجی نظم و ضبط اور اپنی کمیونٹی کے لیے خدمات کا اندازہ ان کے قائم کردہ تدفین اور آخری رسومات کے مربوط نظام سے لگایا جا سکتا ہے، جو کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں ایک طویل عرصے سے قائم ہے۔

علی باغ قبرستان (قدیم خوجہ اثنا عشریہ قبرستان):

حالیہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کے سامنے، لیاری اور پرانے کراچی کے مابین خوجہ اسماعیلی جماعت کے حسینی باغ قبرستان کے قریب واقع ‘علی باغ’ برادری کا قدیم ترین اور تاریخی قبرستان ہے۔ یہ صرف ایک قبرستان نہیں بلکہ کراچی کی ہجرتی تاریخ کا ایک کتبہ ہے، جہاں کَچھ، کاٹھیاواڑ اور مشرقی افریقہ سے آ کر کراچی بندرگاہ کو آباد کرنے والے اولیا، مقتدر تاجروں، حبیب خاندان کے بزرگوں اور عام محنت کشوں کی صد سالہ پرانی قبریں موجود ہیں۔

یہ باغ برادری کے پرانے بزرگوں نے وقف کیا تھا تاکہ کمیونٹی کے افراد کو ایک ہی جگہ باوقار تدفین میسر آ سکے۔ ہارون فیملی، ہدایت اللہ فیملی، اور بی سی سی آئی والے مشہور بین الاقوامی بینکر آغا حسن عابدی سمیت دیگر بڑے بڑے خاندان اور تاریخ ساز شخصیات یہاں دفن ہیں۔

مٹی کا قرض

لوہانہ برادری کے تجارتی ماضی سے لے کر بمبئی کی قانونی کشمکش تک، اور کَچھ کے قحط سے لے کر مشرقی افریقہ کی بے دخلی اور یوگنڈا کے بحران تک، خوجہ شیعہ اثنا عشریہ برادری نے تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں کا سامنا انتہائی پامردی اور نظم و ضبط سے کیا۔

حبیب خاندان کا وہ تاریخی ‘بلینک چیک’ ہو، معصومین ہسپتال کی سستی شفا ہو، کھارادر کے بڑے امام باڑے اور حسینیہ ایرانیان سے اٹھنے والی سنج و دمام کی صدائیں ہوں یا علی باغ کی خاموش قبریں، یہ سب گواہ ہیں کہ اس قلیل ترین برادری نے کراچی کی مٹی کا قرض کس شان سے اتارا ہے۔

معیشت کی بلند ترین پوزیشنوں سے لے کر لیاری کی پسماندہ گلیوں تک، ان کی خدمات عروس البلاد کراچی کی تاریخ کا وہ اَن مٹ نقش ہیں جنہیں وقت کی کوئی بھی لہر کبھی مٹا نہیں پائے گی۔

اسی بارے میں: