سندھ کے ساحل پر واقع کراچی شہر کی تاریخ محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ سمندر کی لہروں کے ساتھ آنے والے ہنرمند، دور اندیش اور جفاکش طبقات کی داستانِ عزیمت ہے۔
جب اٹھارویں صدی کے آخری سالوں اور انیسویں صدی کے وسط میں کراچی کے اولڈ ٹاؤن اور بندرگاہی بستی کو بین الاقوامی تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی تھی، تو اس وقت جن برادریوں نے اپنے سرمائے، عزم اور سماجی بصیرت سے اس نوخیز شہر کی بنیادوں کو استوار کیا، ان میں ‘اسماعیلی خوجہ’ برادری کا کردار سب سے نمایاں، منظم اور تاریخی افق پر ثبت ہے۔
انیسویں صدی سے لے کر موجودہ دور تک کراچی کی معیشت، صنعت، تعلیم، بلدیاتی نظم اور صحتِ عامہ کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو، جہاں اس برادری کے فلاحی اور تجارتی اقدامات کے ان مٹ نقوش موجود نہ ہوں۔ یہ ایک ایسے مخلص اور جفاکش طبقے کی کہانی ہے، جس نے شہر سے صرف منافع نہیں کمایا بلکہ اسی منافع کو اسکولوں، ہسپتالوں اور سماجی اداروں کی صورت میں شہر کو واپس لوٹا کر اسے ایک جدید شہری مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جغرافیائی ہجرت کا پس منظر: کَچھ اور گجرات سے کراچی آمد
کراچی میں اسماعیلی خوجہ برادری کی آمد کا سلسلہ برطانوی فتح سے بھی قبل، اٹھارویں صدی کے آخری برسوں اور انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں شروع ہو چکا تھا۔ اس ہجرت کے پیچھے بنیادی طور پر دو بڑے عوامل کارفرما تھے۔
شدید قحط اور متبادل کی تلاش: سنہ 1799 میں گجرات، کاٹھیاواڑ اور کَچھ کے سرحدی علاقوں میں ایک ہولناک قحط پڑا، جس نے وہاں کی زراعت اور مقامی معیشت کو تباہ کر دیا۔ اس بحران کے نتیجے میں وہاں کی روایتی تاجر برادریوں نے متبادل اور محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا۔
کراچی بندرگاہ کا فطری عروج: تالپور دور کے آخری برسوں میں کراچی کی بندرگاہ غلے، چمڑے اور سمندری تجارت کے لیے ایک پرامن اور ابھرتا ہوا مرکز بن رہی تھی۔ برطانوی راج کے آغاز کے بعد جب کراچی کی بندرگاہ کو ایک جدید تجارتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا تھا، تو اس برادری کے تاجر بڑے پیمانے پر یہاں منتقل ہوئے۔
کَچھ، بھج، پنیلی اور گجرات کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے یہ خاندان سب سے پہلے کراچی کے قدیم ترین حصوں، یعنی کھارادر اور میٹھادر کے اولڈ سٹی ایریا میں آباد ہوئے۔ ان کی ابتدائی رہائش گاہیں تنگ گلیوں میں تھیں، لیکن ان کے حوصلے اور تجارتی روابط بحرِ ہند کی وسعتوں جتنے پھیلے ہوئے تھے۔
اسی تاریخی ہجرت اور کَچھ سے کراچی منتقلی کی اسی لہر میں قائداعظم محمد علی جناح کے والد جناح بھائی پونجا بھی انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں گجرات سے کراچی منتقل ہوئے اور کھارادر کے وزیر مینشن کو اپنا مسکن بنایا، جہاں انہوں نے کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے درآمدات اور برآمدات کے کاروبار میں نام کمایا اور برادری کے مقتدر حلقوں میں اپنی پہچان بنائی۔
لیاری سے مکران بلوچستان تک خشک مچھلی کی بین الاقوامی صنعت
اسماعیلی خوجہ تاجروں نے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ مکران کے ساحل، اورماڑہ، پسنی اور گوادر تک ایک انتہائی مربوط اور وسیع تجارتی نیٹ ورک قائم کیا۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں جب گوادر عمان کی سلطنت کا حصہ بنا، تو کَچھ اور حیدرآباد سندھ سے بڑی تعداد میں خوجہ تاجر گوادر منتقل ہوئے اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔
مچھلی کو نمک لگا کر سکھانے کا عمل: انیسویں صدی کے اس دور میں، جب دنیا ٹھنڈا ذخیرہ کرنے کی جدید سہولتوں سے ناواقف تھی، اسماعیلی تاجروں نے مچھلی کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے اور بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ملکوں تک پہنچانے کے لیے نمک لگا کر سکھانے کی صنعت کو فروغ دیا۔
گوادر، پسنی اور اورماڑہ کے ساحلوں پر یہ تاجر مقامی ماہی گیروں کو کشتیاں اور جدید جال فراہم کرتے تھے اور بدلے میں ان سے مچھلی خریدتے تھے۔ مچھلی پکڑنے کے بعد اسے صاف کیا جاتا، پھر سمندری نمک کی تہوں میں دبا دیا جاتا تاکہ اس کا پانی نکل جائے، جس کے بعد اسے کھلے میدانوں میں تیز دھوپ میں سکھایا جاتا تھا۔ اس طریقے سے مچھلی کئی مہینوں تک خراب نہیں ہوتی تھی۔

لیاری کے گودام اور برآمدی منڈی: بلوچستان کے ساحلوں پر تیار ہونے والی یہ خشک مچھلی روایتی لکڑی کے بحری جہازوں کے ذریعے کراچی لائی جاتی تھی۔ کراچی کی بندرگاہ کے فروغ کے بعد لیاری مچھلی کی پراسیسنگ اور بین الاقوامی تجارت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ لیاری کا علاقہ، موجودہ میمن سوسائٹی کھڈہ سے کلری نالے تک، خشک مچھلی کے بڑے بڑے گوداموں، جنہیں مقامی زبان میں ‘ستھر’ کہا جاتا تھا، سے بھر گیا۔
یہ گودام اونچی چار دیواریوں پر مشتمل ہوتے تھے، جہاں ماری پور اور ہاکس بے کے نمک کے کارخانوں سے لایا گیا کچا نمک استعمال ہوتا تھا۔ اس صنعت نے لیاری کے ہزاروں مقامی بلوچ مردوں اور خواتین کو روزگار فراہم کیا۔
اسماعیلی خوجہ تاجروں کے بین الاقوامی روابط اتنے مضبوط تھے کہ وہ اس زمانے میں بھی یہ مصنوعات عالمی منڈیوں تک برآمد کرتے تھے۔ اس خشک مچھلی کی سب سے بڑی منڈی سلون، موجودہ سری لنکا، تھی، جہاں کولمبو میں اس کی بہت زیادہ طلب تھی۔
اس کے علاوہ برما، موجودہ میانمار، ملایا، موجودہ ملائیشیا، اور چین تک شارک مچھلی کے پر اور مخصوص خشک مچھلیاں برآمد کی جاتی تھیں، جنہیں چینی روایتی ادویات اور سوپ میں استعمال کیا جاتا تھا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کارپوریٹ سیکٹر میں خدمات
کراچی کی بندرگاہ کو ایک چھوٹے تجارتی مرکز سے برصغیر اور بعد ازاں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنانے میں اسماعیلی خوجہ تاجروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بندرگاہ کی نقل و حمل، بحری تجارت اور درآمد و برآمد کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا سرمایہ وقف کیا۔
بندرگاہ پر آنے والے درآمدی سامان، جیسے چائے، مصالحے اور کپڑا، کو سنبھالنے اور ملکی پیداوار، جیسے کپاس، اون، چمڑا اور غلہ، کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے انہوں نے جوڑیا بازار اور کھارادر کو تھوک تجارت کا مرکز بنایا، جس سے بندرگاہ کی آمدنی اور محصولات میں تاریخی اضافہ ہوا۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران، جب کراچی کی بندرگاہ کو برطانوی فوج کی رسد اور نقل و حمل کے لیے ایک اہم فوجی مرکز بنایا گیا، تو اسماعیلی رہنماؤں نے بندرگاہ کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے برطانوی ہند کی حکومت کو بھاری فنڈز اور جنگی قرضے فراہم کیے۔
تاریخ ساز خاندان اور ان کا کاروباری اثر و رسوخ
کراچی اور گوادر کی معاشی تاریخ اسماعیلی برادری کے چند مقتدر اور نامور کاروباری خاندانوں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ان خاندانوں کو آغا خان کی طرف سے ‘اسٹیٹ ایجنٹ’، ‘مُکھی’ اور ‘وارث’ جیسے معزز خطابات سے نوازا گیا، اور انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ شہر کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا۔
فدو، بساریہ خاندان: کَچھ، بھج، سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان کراچی کے اولین بااثر اسماعیلی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ‘وارث بساریہ فدو’ کو آغا خان اول نے 1881 میں کراچی، لسبیلہ اور سندھ کا ‘اسٹیٹ ایجنٹ’ مقرر کیا تھا۔
انہوں نے سر آغا خان سوم کی پیدائش کے مقام کی دیکھ بھال کی اور کھارادر میں تاریخی مسافر خانہ تعمیر کروایا۔ ان کے بیٹے ‘وزیر رحیم بساریہ’ بیسویں صدی کے اوائل میں کراچی کونسل کے صفِ اول کے رہنما رہے اور برطانوی ہند کی کونسل میں برادری کی نمائندگی کی۔
علی دینا، شالوانی خاندان: اس خاندان کی جڑیں بلوچستان اور کراچی کے پرانے تجارتی راستوں سے ملتی ہیں۔ ‘مکھی علی محمد علی دینا’ اس خاندان کے سب سے مشہور فرد تھے، جنہوں نے ملیر کے علاقے میں وسیع زرعی زمینیں خریدیں اور کھارادر میں اپنا تجارتی دفتر قائم کر کے کپڑے اور غلے کی تجارت کو فروغ دیا۔
انہوں نے ہی کھارادر کے تاریخی اسکول کی بنیاد رکھی۔ اسی خاندان کے مکھی ہود بھائی شالوانی بھی کراچی کونسل کے سرگرم رکن رہے۔
قاسم ولی، کولمبو والا خاندان: یہ خاندان چمڑے کی بین الاقوامی تجارت میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ ‘سیٹھ بندے علی قاسم’ اس خاندان کے سربراہ تھے، جن کا تجارتی نیٹ ورک یورپ کی سوئس کمپنیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے لیاری میں چمڑا رنگنے کی فیکٹریاں قائم کیں اور سنہ 1917 میں 50 لاکھ روپے کے سرمائے سے ‘خوجہ اسماعیلیہ ٹریڈنگ کمپنی’ قائم کی۔
سری لنکا کے شہر کولمبو کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط کی وجہ سے ان کا خاندان ‘کولمبو والا’ کے نام سے مشہور ہوا اور انہوں نے جان بائی میٹرنٹی ہوم کے لیے بھاری فنڈز فراہم کیے۔
گابا خاندان: مچھلی کی برآمد، پراسیسنگ اور بحری تجارت میں گابا خاندان کا نام کراچی اور گوادر دونوں جگہوں پر ایک صدی سے نمایاں رہا ہے۔ ان کی قائم کردہ سمندری خوراک اور پراسیسنگ کی فیکٹریاں آج بھی کام کر رہی ہیں اور خاندانی کاروبار کی پائیداری کی بہترین مثال ہیں۔
کریم امپیکس اور پادامسی خاندان: جوڑیا بازار اور کھارادر میں کپڑے اور غلے کی تھوک تجارت میں اس خاندان کا نام انتہائی معتبر مانا جاتا ہے۔ بعد میں انہوں نے گارڈن اور فیڈرل بی ایریا میں اسماعیلی رہائشی سوسائٹیوں، کمیونٹی فلیٹس اور رہائشی بلاکس، کی تعمیر میں کلیدی مالی خدمات انجام دیں۔

تاریخی عمارات اور سماجی مراکز
کراچی کے اولڈ سٹی ایریا کی گلیاں اسماعیلی خوجہ برادری کے تعمیراتی ذوق اور سماجی تنظیم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے قائم کردہ مراکز میں درج ذیل عمارات تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔
کھارادر جماعت خانہ، کراچی کا پہلا مرکز: یہ صرف ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ کراچی میں اسماعیلی تاریخ کا سنگِ میل بھی ہے۔ کراچی کا پہلا جماعت خانہ 1820 کی دہائی میں کاغذی بازار، کھارادر، کے قریب مٹی سے بنے ایک سادہ ڈھانچے کی صورت میں قائم کیا گیا تھا۔ بعد میں مکھی رمضان اسماعیل کی قیادت میں برادری نے موجودہ آغا خان روڈ پر، بندرگاہ کے فٹ بال اسٹیڈیم کے متصل، 3000 مربع گز کا ایک بڑا پلاٹ حاصل کیا۔
اس عظیم الشان پکی عمارت کا پہلا مرحلہ نومبر 1882 میں مکمل ہوا۔ اس عمارت پر خوبصورت پیاز نما گنبد بنائے گئے تھے، جو روایتی اسلامی اور گجراتی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے تھے۔ روایات کے مطابق، اپنے وقت میں اسے ایشیا کا سب سے بڑا چھت والا مسلم ہال سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں اسی مقام پر دو فروری 1970 میں ایک اور جدید عمارت کا افتتاح کیا گیا، جسے پاکستان کے ‘درک خانہ’، یعنی مرکزی جماعت خانہ، کا درجہ حاصل ہے۔
گارڈن جماعت خانہ: بیسویں صدی کے اوائل میں جب برادری معاشی طور پر مستحکم ہوئی، تو اولڈ سٹی کی بھیڑ سے نکل کر انہوں نے گارڈن ایسٹ کا رخ کیا، جہاں امراء نے خوبصورت نوآبادیاتی طرز کے بنگلے تعمیر کروائے۔ برٹو روڈ پر واقع گارڈن جماعت خانہ اپنی شاندار، وسیع اور گنبد دار طرزِ تعمیر کے لیے مشہور ہے اور کراچی کی سرکاری تاریخی عمارات میں شمار ہوتا ہے۔
ہنی مون لاج: یہ تاریخی عمارت کراچی کے علاقے قاسم آباد، کورنگی روڈ، کے قریب ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ یہ وہ یادگار مقام ہے جہاں اسماعیلیوں کے اڑتالیسویں امام، ‘سر سلطان محمد شاہ، آغا خان سوم’، کی دو نومبر 1877 کو ولادت ہوئی تھی۔ اس مقام کی دیکھ بھال وارث بساریہ فدو کے خاندان نے کی۔
سر آغا خان سوم نے بعد ازاں برصغیر کی مسلم سیاست میں تاریخی کردار ادا کیا، آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے مستقل صدر منتخب ہوئے اور لندن کی گول میز کانفرنسوں میں قائداعظم محمد علی جناح کے ہمراہ مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کیا۔
آغا خان جمنازیم: گارڈن کے علاقے میں واقع یہ عمارت بیسویں صدی کے وسط میں برادری کے نوجوانوں کی کھیلوں، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے تعمیر کی گئی تھی، جو اس دور کے جدید طرزِ تعمیر کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔
تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک اور سو سالہ سنگِ میل
اسماعیلی برادری نے اس دور میں جدید تعلیم، خصوصاً خواتین کی تعلیم، پر اس وقت توجہ دی جب برصغیر کا مسلم معاشرہ اس سے نسبتاً دور تھا۔ آغا خان ایجوکیشن سروسز، پاکستان، کے تحت کراچی میں اسکولوں کا ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔
آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول، کھارادر، سو سالہ تاریخ: یہ اس خطے میں جدید تعلیم کی تاریخ کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس کی بنیاد اسماعیلی برادری کے مایہ ناز مخیر ‘مکھی علی محمد علی دینا’ نے سر آغا خان سوم کی ہدایت اور سرپرستی میں رکھی تھی۔
اس کا سنگِ بنیاد 1920 میں رکھا گیا، عمارت کی تعمیر میں چھ سال لگے اور باقاعدہ کلاسوں کا آغاز 1926 میں ‘علی محمد مکھی علی دینا خوجہ اسماعیلی گرلز اسکول’ کے نام سے ہوا، تاکہ پرانے کراچی کی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے۔ جون 2026 میں اس اسکول نے اپنی شاندار خدمات کے ایک سو سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔ یہ اسکول آج بھی کھارادر میں تین مختلف تاریخی بلاکس پر مشتمل ہے۔
الیکزینڈریا بلاک: جسے چرچ آف انگلینڈ نے 1914 میں تعمیر کیا تھا اور بعد میں یہ اسکول کا حصہ بنا۔
علی دینا بلاک: یہ وہ مرکزی تاریخی حصہ ہے جو مکھی علی محمد نے خود تعمیر کروایا تھا۔
اے کے ایس بلاک: یہ جدید دور کی ضروریات کے مطابق تعمیر کی گئی نئی عمارت ہے۔ اس اسکول نے ایک صدی میں بارہ ہزار سے زائد گریجویٹس تیار کیے ہیں۔
سلطان محمد شاہ آغا خان اسکول، کریم آباد: کریم آباد میں واقع یہ اسکول پچاس سال سے زائد عرصے سے قائم ہے اور اس کا شمار کراچی کے بہترین اسکولوں میں ہوتا ہے، جہاں تین ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

زچہ و بچہ کی صحت اور طبی مراکز کا جال
صحتِ عامہ، بالخصوص زچہ و بچہ کی صحت، کے شعبے میں اسماعیلی خوجہ برادری کی خدمات کراچی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔
جان بائی میٹرنٹی ہوم، کھارادر، سو سالہ تاریخ: یہ کراچی میں ماں اور بچے کی صحت کا سب سے قدیم اور تاریخی ادارہ ہے۔ اس کا اصل نام ‘جان بائی قاسم ولی خوجہ اسماعیلیہ میٹرنٹی ہوم’ ہے۔ اس کی بنیاد معروف مخیر وزیر بندے علی قاسم نے اپنی والدہ ‘جان بائی’ کی یاد میں رکھی تھی۔
اس کا سنگِ بنیاد سر آغا خان سوم نے 1920 میں رکھا۔ یہ شاندار عمارت 1924 میں مکمل ہوئی اور اس وقت کے کمشنر سندھ جے ایل ریو نے پندرہ اپریل 1924 کو اس کا افتتاح کیا۔ اس دور میں، جب دائیوں اور روایتی طریقوں سے زچگیاں ہوتی تھیں، یہ کراچی کا جدید ترین زچہ و بچہ مرکز تھا، جہاں صرف ایک روپیہ روزانہ کے عوض غریب مچھیروں اور بندرگاہ کے مزدوروں کو علاج اور ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔
آج اس کا نام ‘آغا خان ہسپتال برائے خواتین و اطفال، کھارادر’ ہے، جو اب آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا حصہ بن کر ایک مکمل ثانوی نگہداشت کا ہسپتال بن چکا ہے اور یہاں اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد بچوں کی ولادت ہو چکی ہے۔
آشا بائی اور کریم آباد میٹرنٹی ہومز: آغا خان ہیلتھ سروسز نے کراچی کے پرانے علاقے آگرہ تاج کالونی اور لیاری کے سنگم پر ‘آشا بائی میٹرنٹی ہوم’ قائم کیا، جس نے دہائیوں تک مقامی بلوچ برادری کی زچہ و بچہ کی ضروریات پوری کیں۔ جب اسماعیلی برادری نے فیڈرل بی ایریا کا رخ کیا تو وہاں ‘کریم آباد میٹرنٹی ہوم’ قائم کیا گیا، جو اب ایک جدید ہسپتال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی اور جدید طبی نظام
بیسویں صدی کے آخر میں اسماعیلی برادری کے فلاحی نیٹ ورک نے کراچی کو دنیا کے طبی اور تعلیمی نقشے پر نمایاں مقام دلایا۔
آغا خان یونیورسٹی: یہ پاکستان کی پہلی نجی یونیورسٹی ہے، جو 1983 میں قائم کی گئی۔ یہ طب، نرسنگ اور اساتذہ کی تعلیم کے شعبوں میں عالمی سطح پر ایک معتبر ادارہ ہے۔ اسی کے تحت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ قائم کیا گیا، جو پاکستان کا پہلا نجی تعلیمی بورڈ ہے۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال: اسٹیڈیم روڈ پر واقع یہ عظیم الشان ہسپتال گیارہ نومبر 1985 کو قائم ہوا۔ یہ پاکستان کا پہلا بین الاقوامی معیار کا طبی مرکز ہے۔ اس کی منفرد گلابی سنگِ مرمر سے مزین عمارت اسلامی اور جدید طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔
یہ ادارہ معاشی اور سماجی حیثیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کے اصول پر کام کرتا ہے، جہاں زکوٰۃ اور فلاحی فنڈز کے ذریعے ہر سال اربوں روپے کی لاگت سے لاکھوں مستحق مریضوں کا مفت یا رعایتی علاج کیا جاتا ہے۔
شہر کا تاریخی ورثہ
کراچی کا اولڈ سٹی ایریا، کھارادر کی گلیاں، گارڈن کے نوآبادیاتی بنگلے، لیاری کے پرانے کھڈے اور کیماڑی کی لہریں اسماعیلی خوجہ برادری کی دو صدیوں پر محیط محنت، دیانت اور فلاحی وژن کی گواہ ہیں۔ مٹی کے پہلے جماعت خانے سے لے کر آغا خان یونیورسٹی کے عظیم الشان ایوانوں تک، اور مکران سے لے کر کولمبو تک پھیلی خشک مچھلی کی صنعت سے جدید کارپوریٹ شعبے تک، اس برادری نے کراچی کو اپنا تن، من اور دھن پیش کیا۔ کراچی کی معاشی اور سماجی تاریخ کا یہ دستاویزی کالم اس سچی اور بے غرض فلاحی و تجارتی روایت کا اعتراف ہے، جس کے بغیر عروس البلاد کراچی کی تاریخ کا کوئی بھی تذکرہ ہمیشہ ادھورا، بے رنگ اور نامکمل رہے گا۔

