سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں ہوا، بھارت معاہدے کی پابندی کا پابند ہے، عالمی ثالثی عدالت

پاکستان نے ہیگ کی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلہ جاری کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات، حکومت پاکستان کے مطابق نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس کے تنازع پر آج فریقین کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا فیصلہ اور عبوری اقدامات سے متعلق حکم جاری کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ اور حکم تاحال باضابطہ طور پر شائع نہیں کیے گئے، تاہم توقع ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران انہیں جاری کر دیا جائے گا۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ‘التوا’ میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابل قبول نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد معطل ہوا ہے بلکہ یہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

عدالت کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عمل کرنا ہوگا، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔

حکومت پاکستان نے ثالثی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر بھارت پر یہ عبوری پابندی بھی عائد کی ہے کہ وہ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور بجلی کے پانی کے اخراج کے ڈھانچے کو مقررہ سطح سے اوپر کنکریٹ کا کام نہیں کر سکتا۔ یہ پابندی غیر جانب دار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہے گی۔ غیر جانب دار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔

عدالت نے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے، جو غیر جانب دار ماہر کے حتمی فیصلے کے کچھ عرصے بعد تک جاری رہے گا۔

پاکستان نے عبوری اقدامات کی ضرورت سے متعلق عدالت کے فیصلے اور بھارت پر عائد کی گئی پابندیوں کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ثالثی عدالت کے فیصلے اور حکم کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے گی، جو ان کی باضابطہ اشاعت کے بعد دستیاب ہوں گی۔ حکومت اس امر پر بھی غور کرے گی کہ یہ فیصلے دونوں فریقوں کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت دوبارہ بات چیت کی راہ ہموار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتے ہیں، تاکہ دونوں ممالک کی معاہدے کے تحت قانونی طور پر پابند ذمہ داریوں کی عکاسی ہو۔

اسی بارے میں: