جب دو دشمن ملک (امریکہ اور ایران) براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور نتیجہ نہیں نکلتا، تو اس سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایک فریق نے دوسرے فریق کی ‘خاموشی’ یا ‘سختی’ کو غلط سمجھ لیا، تو یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں کسی نئی جنگ یا کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
سب کو معلوم ہے کہ سفارتی مذاکرات وقت طلب ہوتے ہیں۔ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اس لیے اگرچہ کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی، لیکن یہ مکمل ناکامی بھی نہیں ہے۔
امریکہ نے اپنا نائب صدر اور ایک انتہائی اعلیٰ سطح کا وفد بھیجا۔ جو تھوڑا بہت بے اعتمادی کا ماحول تھا، وہ بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بارے میں تھا، جن کے لیے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی کوششوں سے واقف نہیں ہیں۔
اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مذاکرات میں شامل ہونا اصل میں ایک ‘بڑا جُوا’ تھا۔
ان کا انداز روایتی سفارت کاری کے بجائے کاروباری تھا۔ ایرانی وفد نے ان کی موجودگی کو شک کی نگاہ سے دیکھا، کیونکہ وہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ یہی بے اعتمادی تھی جس نے مذاکرات کو کسی نتیجے پر پہنچنے نہیں دیا۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی نے ‘اعتماد کی کمی’ پیدا کی، کیونکہ ان کا انداز روایتی سفارت کاری کے بجائے کاروباری یا سیاسی زیادہ ہوتا ہے۔
یہ دونوں بنیادی طور پر کاروباری پس منظر رکھتے ہیں۔ سفارت کاری میں الفاظ کا چناؤ اور صبر اہم ہوتا ہے۔ ایران والوں کو لگا کہ وہ امریکہ کے بجائے کسی دوسرے فریق کا ایجنڈا آگے رکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ عالمی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اپنے داماد اور قریبی دوست کو بھیجنے کا مقصد ایران کو یہ بتانا تھا کہ یہ مذاکرات محض ‘رسمی’ نہیں ہیں، بلکہ انہیں وائٹ ہاؤس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ان کا کردار شاید ایران پر ‘میکسمم پریشر’ (زیادہ سے زیادہ دباؤ) برقرار رکھنا تھا تاکہ کسی بھی معاہدے سے قبل انہیں زیادہ سے زیادہ جھکایا جا سکے۔ عالمی ذرائع اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات خاص طور پر درج ذیل نکات پر اٹک گئے:
امریکی وفد کی سب سے بڑی شرط یہ تھی کہ ایران اپنی یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دے، پر ایران نے کہا کہ انہیں پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کا حق حاصل ہے اور وہ ایسی کسی بھی شرط کو نہیں مانیں گے جو ان کی ملکی خود مختاری کے خلاف ہو۔ ایران کا مطالبہ تھا کہ کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے امریکہ اس پر لگی معاشی پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔
جس پر جے ڈی وینس کا خیال تھا کہ پابندیاں تب ختم ہوں گی جب ایران عملی طور پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا۔ یہ ‘پہلے کون کرے گا’ والی صورتحال مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بن گئی۔ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے مطالبہ کیا کہ ایران خطے میں (جیسے یمن، لبنان اور شام میں) اپنے حمایتی گروہوں کی مدد بند کرے۔ ایران نے اس معاملے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
کچھ رپورٹوں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی، لیکن ان کے طریقہ کار پر اتفاق نہ ہو سکا۔ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر فواد ایزدی نے ان مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اصل میں امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے نام پر کچھ دوسرے مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا۔
وائٹ ہاؤس یہ پیغام دے رہا تھا کہ ایران کا تیل ہمارے حوالے کرو، امریکی کمپنیوں کو شراکت دار بناؤ، ایرانی سرحدوں تک ہمیں مکمل رسائی دو، آبنائے ہرمز پر صرف ہمارا ہی کنٹرول ہو۔ اب یہ وہ باتیں ہیں جو ایران کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ ایران نے واشنگٹن کو یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے یورینیم 2015 والی حالت میں ہی رکھا ہے، بھلے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی دوبارہ آکر چیک کر لے اور ہم یہ پروگرام کسی صورت بند نہیں کریں گے۔
اس معاملے پر نائب صدر نے اتفاق بھی کیا لیکن ان کے دو ساتھیوں نے اس میں ٹانگ اڑا کر معاملات خراب کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو دنیا میں کوئی بھی ایسا ایٹمی ماہر نہیں ملے گا جو کہے کہ 3.65 فیصد افزودہ یورینیم سے ایٹم بم یا دوسرے ایٹمی ہتھیار بن سکتے ہیں۔ یہ بات نائب صدر کو بھی معلوم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے 2015 میں بھی (جے سی پی او اے) اور پھر 2018 میں ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں ادارے کو باہر نکال دیا تھا۔ تہران اب بھی اس ادارے کے ماہرین سے انسپکشن کرانے کے لیے راضی تھا پر یہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، اصل میں انہیں ایرانی تیل، سرحدیں اور آبنائے ہرمز چاہیے جو ایران انہیں کسی صورت نہیں دے گا۔
پاکستان ایک بہت مشکل راستے پر چل رہا ہے۔ میزبان ہونے کے ناطے، پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ دونوں فریقین کو ناراض ہونے سے بچائے۔ اگر یہ مذاکرات آگے بھی مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں، تو اس کا اثر پاکستان کی اپنی معاشی اور سرحدی سلامتی پر بھی پڑے گا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ رابطے کے ذرائع کھلے رہیں گے۔
ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر کوئی ‘بریک تھرو’ ہو جائے، جب نائب صدر جے ڈی وینس واپس واشنگٹن جائیں، وہاں انتظامیہ سے صلاح مشورہ کریں اور کوئی جواب لے کر واپس آئیں۔ اس لیے ہم مزید مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کرتے۔
اکثر عالمی اخبارات نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی، الجزیرہ، سی این این نے لکھا ہے کہ 20 سے 21 گھنٹوں کے طویل اور تھکا دینے والے مذاکرات کے باوجود کوئی بڑا معاہدہ یا ‘بریک تھرو’ نہیں ہو سکا ہے۔
بنیادی رکاوٹ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی شرطوں کو تسلیم نہ کرنا بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان نے اس میں بہترین کردار ادا کیا، پر یہ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم سے ایک گھنٹہ فون پر بات کی، ظاہر ہے کہ کہیں معاملہ رکاوٹ بنا ہے، اب نائب صدر وائٹ ہاؤس جا کر صدر اور ان کی ٹیم کے سامنے باتیں رکھیں گے تب پتہ چلے گا کہ کیا ہو رہا ہے۔
تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی وجہ سے پہلی بار فریقین آمنے سامنے ہوئے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے کو سمجھا ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ آگے چل کر کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ اخبارات کے مطابق ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں ناکامی کئی سیاسی، فوجی اور سفارتی تضادات کا نتیجہ بھی ہے۔
امریکہ کو اصل پریشانی اسرائیل کی ہے، جو ایران کے حمایتی مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، حوثی، حزب اللہ، عراقی شیعہ ملیشیا اور حماس اسرائیل کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل اور دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر اختلاف، پابندیوں کا مسئلہ، علاقائی سیاست، اندرونی سیاسی دباؤ اور سفارتی غلط فہمیاں اور اعتماد کی کمی بنیادی مسئلے رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا، کیونکہ ایران سمیت یورپ کے بھی کئی ممالک صدر ٹرمپ پر اعتماد کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق فی الحال بڑی نہیں بلکہ محدود جنگ کا امکان زیادہ ہے۔ امریکہ براہ راست جنگ کے بجائے اسرائیل کے ہاتھوں دباؤ بڑھائے گا۔ بی بی سی کے مطابق ‘سخت حالات کے باوجود، مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔ دونوں فریقین کو مکمل ڈیل نہیں، بلکہ مرحلہ وار رعایتیں مل سکتی ہیں۔’
الجزیرہ کے مطابق ایران جلدی میں نہیں ہے، وہ وقت کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ ایران پابندیوں کے باوجود زندہ رہنا سیکھ گیا ہے اور امریکہ کی اندرونی سیاست کا انتظار کرے گا۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس ڈیموکریسی کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا غیر ملکی مداخلت کے بارے میں سخت موقف ایرانیوں کے لیے ایک منفرد پہلو تھا، لیکن انہیں ایسے پیچیدہ مذاکرات کا تجربہ کم تھا۔
گیند اب وائٹ ہاؤس کے گراؤنڈ میں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس پر کیا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ اگر واشنگٹن نے کچھ لچک پیدا کی تو مالی اور اقتصادی طور پر اسے فائدہ ہوگا۔ اگر نہیں تو حالات پوری دنیا کے لیے بھیانک ہو جائیں گے۔ سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کی کمی تھا۔
امریکی وفد کا انداز کاروباری ‘لو اور دو’ والا تھا، جبکہ ایرانی وفد اپنے سیاسی اور نظریاتی موقف پر اٹل رہا۔ انہوں نے اپنا دفاع کیا ہے۔
اگر امریکہ محسوس کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے سے مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات یا عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے گا، تو پھر وہ کچھ لچک دکھا سکتا ہے۔ امریکی سیاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ مہینوں بعد امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن بھی ہیں۔ ڈیموکریٹس تنقید کر رہے ہیں۔ پر ریپبلکن والے ٹرمپ کے ہر حال میں حامی ہو کر کھڑے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ شاید کوئی نرمی بھی نہ دکھائیں۔ تب بھی بڑے بریک تھرو کا امکان کم ہے۔
دفاعی عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے اس جنگ کی وجہ سے دنیا کے کئی محاذ خالی چھوڑ دیے ہیں۔ ان مذاکرات کی مکمل ناکامی سے روس یوکرین، جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان والے محاذ دوبارہ کھل سکتے ہیں، اور وہ ملک اس جنگ کے نام کو اپنی جارحیت کے لیے بھی جائز قرار دے کر دنیا کو نئی مصیبت میں مبتلا کریں گے۔
ایران-امریکہ مذاکرات کی ناکامی محض سفارتی ناکامی نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی طاقت کے توازن، مشرق وسطیٰ کی سیاست اور عالمی سلامتی سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ بحران ہے۔
موجودہ حالات میں مذاکرات کی بحالی تب ہی ممکن ہے، جب دونوں فریقین کی طرف سے ‘مرحلہ وار اعتماد سازی’ پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ جے ڈی وینس کی واپسی تک پوری دنیا کو انتظار کرنا ہوگا۔ اگر وائٹ ہاؤس میں بیٹھی انتظامیہ لچک نہ دکھائے، تو اسلام آباد میں کی گئی یہ محنت ضائع ہو سکتی ہے۔

