Tag: عدالت

  • صداقت کی دہلیز، ناانصافی کی دائرہ بندی: کراچی کی چیف کورٹ، نوآبادیاتی عدالت اور تاریخ کے فراموش شدہ دھارے

    صداقت کی دہلیز، ناانصافی کی دائرہ بندی: کراچی کی چیف کورٹ، نوآبادیاتی عدالت اور تاریخ کے فراموش شدہ دھارے

    بحرِ ہند کے کنارے آباد یہ عظیم الشان میٹروپولیٹن شہر کراچی صرف ساحلی تجارت، بحری تاریخ اور بندرگاہوں کا شہر نہیں، بلکہ یہ آئین، انصاف اور نوآبادیاتی طاقت کے درمیان ہونے والے ان گنت معرکوں کا خاموش گواہ بھی ہے۔

    کیماڑی کی لہروں سے ذرا پرے، موجودہ کورٹ روڈ پر واقع جودھ پور کے سرخ پتھروں سے تراشی گئی وہ باوقار اور تاریخی عمارت، جو آج ‘ہائی کورٹ آف سندھ’ کے نام سے جانی جاتی ہے، اپنے اندر ایک صدی پر محیط قانون، قانون شکنی اور آئینی ارتقا کے پُرپیچ قصے سمیٹے ہوئے ہے۔

    1839 میں انگریزوں کے غاصبانہ قبضے کے بعد، جب کراچی کو برطانوی ہند کا معاشی دروازہ بنانے کا عمل شروع ہوا، تو اس نوآبادیاتی نظام کو چلانے اور اس کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایک عدالتی ڈھانچے کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا۔

    برطانوی اقتدار، عدالتی ارتقا اور عمارت کا سنگِ بنیاد

    سندھ میں برطانوی عدالتی نظام کی رسمی شروعات 1866 کے ‘سندھ جوڈیشل کورٹ ایکٹ’ کے تحت ‘جوڈیشل کمشنر کی عدالت’ سے ہوئی، جس کا مقصد انتظامی اور تجارتی تنازعات کو نمٹانا تھا۔

    تاہم، 1920 کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے، جب کراچی پورٹ کے راستے بین الاقوامی تجارت نے وسعت اختیار کی اور شہر میں قانونی و معاشی سرگرمیاں عروج پر پہنچیں، تو ایک باقاعدہ اور شاندار اعلیٰ عدالت کی ضرورت محسوس کی گئی۔

    3 نومبر 1923 کو بمبئی کے گورنر سر لیسلی ولسن نے موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اطالوی نشاۃ ثانیہ کے طرزِ تعمیر پر مبنی یہ عمارت تقریباً 6 سال کے طویل عرصے میں 26 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے مکمل ہوئی۔ 22 نومبر 1929 کو اس شاندار چیف کورٹ کا افتتاح ہوا۔

    عمارت کے بیرونی حصے پر کراچی کے مقامی ‘گیزری’ کے پیلے سندھی پتھر، یونانی طرز کے کورینتھین اور ڈورک ستون اور اوپری حصے پر بنے سرخ ٹائلوں والے گنبد اس کے معماری شاہکار ہونے کا پُروقار اعلان کرتے تھے۔

    بعد ازاں، 1936 میں جب سندھ کو بمبئی پریسیڈنسی سے الگ کر کے ایک مستقل صوبہ بنایا گیا، تو 1906 کے جوڈیشل ایکٹ میں ترمیم کر کے اسے باقاعدہ ‘چیف کورٹ آف سندھ’ کا عدالتی و آئینی درجہ دے دیا گیا۔

    انصاف کا بنچ: برطانوی جج، مقامی دانش اور پہلا مسلم جج

    چیف کورٹ آف سندھ کا عدالتی بنچ اپنے آپ میں ایک انوکھا اور تاریخی تنوع رکھتا تھا، جہاں برطانوی بیرسٹرز، ہندو قانونی ماہرین، پارسی قانون دان اور مسلم وکلا عدالتی نظام کا حصہ تھے۔

    سر گوڈفرے ڈیوس

    سر گوڈفرے ڈیوس چیف کورٹ آف سندھ کے پہلے باقاعدہ چیف جج مقرر ہوئے۔ انہوں نے 1935 سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد 1948 تک اس اعلیٰ منصب پر خدمات انجام دیں۔ وہ برطانوی قانونی نظام کے ساتھ ساتھ مقامی روایات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔

    جسٹس روپ چند بیلارام

    جسٹس روپ چند بیلارام سندھ کی عدالتی تاریخ کے اہم مقامی ہندو ججوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ تجارتی قوانین، زمینوں کے تنازعات اور کسٹمز کے معاملات میں اپنے فیصلوں کے لیے برطانوی ہند میں معروف تھے۔

    جسٹس حاتم بی بدرالدین طیب جی

    ممبئی کے نامور طیب جی خاندان سے تعلق رکھنے والے یہ روشن خیال قانونی ماہر چیف کورٹ آف سندھ کے پہلے مسلم جج بننے کے اعزاز سے سرفراز ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948 میں وہ سر گوڈفرے کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف کورٹ کے چیف جج بھی بنے۔

    اس دور میں عدالت کے انتظامی اور دفتری امور کو سنبھالنے کے لیے رجسٹرار کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا تھا۔ 1936 میں بمبئی سے عدالتی ریکارڈ اور دستاویزات کی منتقلی کے دوران انگریز آئی سی ایس افسران اور مقامی ڈسٹرکٹ ججز نے بطور رجسٹرار فرائض انجام دیے، تاکہ نوخیز صوبے کی عدالت کا انتظامی ڈھانچا مربوط رہے۔

    قانون کی دنیا کے تاریخی معرکے: استعماری طاقت اور شمشیرِ عدل کے درمیان کشمکش

    چیف کورٹ آف سندھ پر تاریخ دانوں اور ناقدین کا اکثر یہ اعتراض رہا ہے کہ یہ نوآبادیاتی طاقت کا ایک اوزار تھی، لیکن اس کے برعکس عدالت کے بعض فیصلوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ججوں نے برطانوی بیوروکریسی، پولیس اور نوآبادیاتی حکمرانوں کے اقدامات کو قانون کی کسوٹی پر پرکھا اور بعض مواقع پر حکومت کے خلاف فیصلے صادر کیے۔

    پیر پگاڑا اور حر تحریک کا المیہ

    حر تحریک کے قائد سید صبغت اللہ شاہ راشدی، پیر پگاڑا ثانی، کے خلاف برطانوی حکومت نے تحریک کو کچلنے کے لیے سندھ کے بعض علاقوں میں سخت اقدامات کیے۔ ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور بغاوت کے الزام میں 20 مارچ 1943 کو انہیں پھانسی دی گئی۔ چیف کورٹ آف سندھ اس دور میں عدالتی اور آئینی معاملات کا ایک اہم فورم تھی، جہاں ریاستی اقدامات کے خلاف قانونی سوالات اٹھائے جاتے تھے۔

    برطانوی انتظامیہ کے خلاف زمینوں کی ضبطی

    1930 کی دہائی میں جب نوآبادیاتی حکومت نے بندرگاہ اور ملٹری کینٹ کی توسیع کے نام پر مقامی شہریوں کی املاک حاصل کرنے کی کوشش کی، تو عدالت میں زمینوں کے حصول اور معاوضے سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت آئے۔ ان مقدمات میں شہریوں کے ملکیتی حقوق اور ریاست کے اختیارات کے درمیان توازن کا سوال اہم رہا۔

    پولیس کے صوابدیدی اختیارات اور پریس کی آزادی

    چیف کورٹ آف سندھ میں ‘ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ’ کے تحت گرفتاریوں، حبسِ بے جا اور انتظامی احکامات سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت رہے۔ اسی طرح پریس پر پابندیوں اور نوآبادیاتی انتظامیہ کے اختیارات سے متعلق قانونی تنازعات بھی عدالت تک پہنچے۔ ان مقدمات نے شہری آزادیوں، انتظامی اختیارات اور قانون کی حکمرانی کے سوالات کو نمایاں کیا۔

    جمشید نصروانجی اور کے ایم سی کے اختیارات کا تحفظ

    کراچی کے معروف میئر جمشید نصروانجی مہتا کی قیادت میں جب میونسپلٹی نے شہر کی صفائی، شہری سہولتوں اور عوامی مقامات سے متعلق اپنے اختیارات کے لیے نوآبادیاتی انتظامیہ سے اختلاف کیا، تو بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور حکومت کی مداخلت کا معاملہ بھی قانونی تنازعات کا حصہ بنا۔

    سندھ چیف کورٹ کی بیرونی دیوار کے ساتھ گاندھی جی کا مجسمہ

    8 جولائی 1934 کو کراچی کی تاجروں کی تنظیم ‘کراچی انڈین مرچنٹس ایسوسی ایشن’ نے گاندھی جی کے ہاتھوں ان کے مجسمے کی نقاب کشائی کرائی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی ایک عرصے تک یہ مجسمہ وہاں نصب رہا۔

    نوآبادیاتی نقشِ پا سے سندھ ہائی کورٹ کا سفر

    1947 میں آزادی کے بعد، جب کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت بنا، تو یہی چیف کورٹ ملک کے اہم قانونی مراکز میں شامل ہو گئی۔ جب ملک میں ون یونٹ کا نفاذ ہوا، تو 1955 میں یہ عمارت ‘مغربی پاکستان ہائی کورٹ، کراچی بنچ’ کا حصہ بن گئی۔ بعد ازاں جولائی 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے پر اسے باقاعدہ ‘ہائی کورٹ آف سندھ’ کا نام دیا گیا۔

    سندھ کلچرل ہیریٹیج پروٹیکشن ایکٹ 1994 کے تحت اب یہ عمارت صوبے کے محفوظ تاریخی ورثے کا حصہ ہے۔ وقت کی ضرورت کے تحت اس کی اصل تاریخی ساخت کے عقب میں 1974 میں جدید ‘اینیکس بلاک’ بھی تعمیر کیا گیا، لیکن سرخ پتھر کی وہ مرکزی عمارت، قدآور ستون اور ساگوان کی لکڑی سے سجے ہال آج بھی برطانوی ہند کے عدالتی وقار اور نوآبادیاتی سندھ کے تنازعات کی گواہی دیتے ہیں۔

    کراچی پورٹ کی مٹی اور ‘گھاس بندر’ کی لہروں سے لے کر چیف کورٹ کی کارروائیوں تک، سندھ کی تاریخ صرف فاتحین کے بیانیے پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ان ججوں، وکیلوں اور عام انسانوں کا بھی لوک حافظہ ہے جنہوں نے استعماری راج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قانون اور صداقت کا علم بلند رکھا۔

  • سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں ہوا، بھارت معاہدے کی پابندی کا پابند ہے، عالمی ثالثی عدالت

    سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں ہوا، بھارت معاہدے کی پابندی کا پابند ہے، عالمی ثالثی عدالت

    پاکستان نے ہیگ کی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلہ جاری کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات، حکومت پاکستان کے مطابق نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس کے تنازع پر آج فریقین کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا فیصلہ اور عبوری اقدامات سے متعلق حکم جاری کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ اور حکم تاحال باضابطہ طور پر شائع نہیں کیے گئے، تاہم توقع ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران انہیں جاری کر دیا جائے گا۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ‘التوا’ میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابل قبول نہیں ہے۔

    عدالت نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد معطل ہوا ہے بلکہ یہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

    عدالت کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عمل کرنا ہوگا، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔

    حکومت پاکستان نے ثالثی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر بھارت پر یہ عبوری پابندی بھی عائد کی ہے کہ وہ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور بجلی کے پانی کے اخراج کے ڈھانچے کو مقررہ سطح سے اوپر کنکریٹ کا کام نہیں کر سکتا۔ یہ پابندی غیر جانب دار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہے گی۔ غیر جانب دار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔

    عدالت نے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے، جو غیر جانب دار ماہر کے حتمی فیصلے کے کچھ عرصے بعد تک جاری رہے گا۔

    پاکستان نے عبوری اقدامات کی ضرورت سے متعلق عدالت کے فیصلے اور بھارت پر عائد کی گئی پابندیوں کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

    حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ثالثی عدالت کے فیصلے اور حکم کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے گی، جو ان کی باضابطہ اشاعت کے بعد دستیاب ہوں گی۔ حکومت اس امر پر بھی غور کرے گی کہ یہ فیصلے دونوں فریقوں کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت دوبارہ بات چیت کی راہ ہموار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتے ہیں، تاکہ دونوں ممالک کی معاہدے کے تحت قانونی طور پر پابند ذمہ داریوں کی عکاسی ہو۔

  • پاکستان میں عدالتی کرپشن منظم شکل اختیار کر چکی ہے، عالمی رپورٹ

    پاکستان میں عدالتی کرپشن منظم شکل اختیار کر چکی ہے، عالمی رپورٹ

    انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومین رائیٹس (ایف آئی ڈی ایچ) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پاکستان کے عدالتی نظام پر جاری اپنی مشترکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں عدالتی نظام کے تقریباً ہر درجے پر بدعنوانی جڑیں پکڑ چکی ہے۔ جس کے باعث عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عدالتی بدعنوانی اب انفرادی یا محدود نوعیت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے منظم اور وسیع پیمانے پر پھیل جانے کے شواہد موجود ہیں، جو ’بڑی سطح کی بدعنوانی‘ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

    32 صفحات پر مشتمل رپورٹ Under the Bench: Mapping corruption risks in Pakistan’s justice system ’بینچ کے اندر: پاکستان کے نظام انصاف میں بدعنوانی کے خطرات کی نقشہ سازی‘ کے لیے وکلا، حاضر و سابق ججوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت 30 افراد سے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔

    ان میں سپریم کورٹ کے دو سابق چیف جسٹس، سابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج بھی شامل تھے۔ انٹرویوز فروری اور مارچ 2026 کے دوران اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور میں کیے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے جمہوری ادارے، خصوصاً عدلیہ، مسلسل کمزور ہوئے ہیں جبکہ بنیادی آزادیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس ماحول میں عدلیہ بعض مواقع پر اختلاف رائے رکھنے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف ریاستی اقدامات کا ذریعہ بنتی دکھائی دی، جس سے انصاف کی فراہمی پر عوامی اعتماد مزید متاثر ہوا۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالتی بدعنوانی کو فروغ دینے والے تین بنیادی عوامل ہیں۔ ان میں کمزور نظام انصاف، سفارش اور اقربا پروری پر مبنی سماجی رویے، اور عدلیہ کی آزادی میں مسلسل کمی شامل ہیں۔ ان عوامل نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں رشوت، اثر و رسوخ اور سیاسی مداخلت کو روکنا مشکل ہو گیا ہے۔

    ایف آئی ڈی ایچ کی سیکریٹری جنرل شاہندہ اسماعیل نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ عدالتی نظام کے تقریباً ہر شعبے میں بدعنوانی گہرائی تک سرایت کر چکی ہے اور اس کے اثرات براہ راست انسانی حقوق پر پڑ رہے ہیں۔

    ان کے مطابق عدالتی بدعنوانی کوئی ایسا جرم نہیں جس کا کوئی متاثرہ فریق نہ ہو، بلکہ اس کی وجہ سے منصفانہ ٹرائل کا حق محدود ہو جاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے ہی بدعنوانی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ متعدد انٹرویو دینے والوں نے کہا کہ اکثر مقدمات میں ایف آئی آر درج کرانے، تحقیقات آگے بڑھانے یا بعض اوقات شواہد میں ردوبدل کرنے کے لیے رشوت طلب کی جاتی ہے۔

    بعض وکلا نے مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ لاکھوں روپے مالیت کے مالیاتی تنازعات میں صرف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھی بھاری رشوت مانگی گئی کیونکہ متاثرہ فریق کو خدشہ ہوتا ہے کہ پولیس سے تعلقات خراب ہونے پر پورا مقدمہ متاثر ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بدعنوانی صرف پولیس تک محدود نہیں رہتی بلکہ مقدمہ عدالت پہنچنے کے بعد بھی مختلف مراحل پر رشوت اور غیر قانونی اثر و رسوخ استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بعض وکلا عدالتی عملے کو رشوت دے کر مقدمات مخصوص ججوں کے سامنے لگوانے، جلد سماعت حاصل کرنے، فیصلوں کی نقول جلد حاصل کرنے یا مقدمات کے ریکارڈ میں ردوبدل جیسے غیر قانونی کام کرواتے ہیں۔

     کئی انٹرویو دینے والوں نے کہا کہ مقدمات کی سماعت کے شیڈول میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے رشوت کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔

    پاکستان میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہونے کی وجہ سے فریقین جلد سماعت کے لیے رشوت دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکانے کے لیے بھی غیر قانونی ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 تک ملک بھر کی عدالتوں میں تقریباً 24 لاکھ مقدمات زیر سماعت تھے، جن میں بڑی تعداد ضلعی عدالتوں کی تھی جبکہ سپریم کورٹ میں بھی دسیوں ہزار مقدمات زیر التوا تھے۔

    تحقیق میں عدالتی نظام میں سفارش، ذاتی تعلقات اور اقربا پروری کو بھی ایک بڑی بدعنوانی قرار دیا گیا ہے۔ متعدد وکلا نے بتایا کہ بعض بااثر وکلا، حاضر یا سابق ججوں کے قریبی رشتہ داروں یا بااثر شخصیات کے مقدمات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض وکلا ججوں کے ساتھ سماجی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مختلف غیر رسمی طریقے اختیار کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں عدالتی کارروائی میں فائدہ حاصل ہو سکے۔

    کئی انٹرویو دینے والوں نے اعلیٰ عدلیہ پر ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض جج دباؤ یا ممکنہ نتائج کے خوف سے ایسے فیصلے دیتے ہیں جو قانون کے مطابق نہیں ہوتے۔ رپورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججوں کے خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے 2024 میں خفیہ اداروں کی جانب سے مبینہ دباؤ اور نگرانی کے الزامات سامنے رکھے تھے۔

    26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے بھی عدلیہ کی محدود خودمختاری کو مزید کمزور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ترامیم کے ذریعے ججوں کی تقرری، تبادلوں اور برطرفی کے طریقہ کار میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے عدلیہ پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلیاں بین الاقوامی معیار کے مطابق عدالتی آزادی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

    تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف موجود ادارے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احتسابی نظام اکثر مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والوں کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر قانون سازی موجود نہیں۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے 2025 کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام کے نزدیک پولیس سب سے زیادہ بدعنوان ادارہ ہے جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق عدالتی نظام میں رشوت کی اوسط رقم دیگر شعبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ رپورٹ میں ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے اشاریے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں بدعنوانی سے پاک نظام کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی انتہائی کم بتائی گئی ہے۔

    عدالتی بدعنوانی کا سب سے زیادہ نقصان غریب، کم آمدنی والے اور مذہبی و سماجی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پہنچتا ہے کیونکہ وہ مہنگے قانونی عمل یا غیر قانونی ادائیگیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کا تعلق تشدد، جبری اعترافات، سزائے موت کے مقدمات اور خواتین کے لیے قانونی شعبے میں مساوی مواقع کی کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے رپورٹ کے اجرا پر کہا کہ عدالتی بدعنوانی ختم کرنے کے لیے صرف ججوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانا یا عدالتوں میں کیمرے نصب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس کے لیے عدلیہ کی آزادی بحال کرنا، نظام انصاف کی بنیادی خامیوں کو دور کرنا، شفافیت بڑھانا اور ایسے عوامل کا خاتمہ ضروری ہے جو غیر مناسب عدالتی طرز عمل اور متنازع فیصلوں کو جنم دیتے ہیں۔

    رپورٹ کے اختتام پر ایف آئی ڈی ایچ اور ایچ آر سی پی نے حکومت اور عدلیہ کو متعدد سفارشات پیش کی ہیں۔ ان میں عدالتی نظام کی انتظامی اصلاحات، مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار میں شفافیت، بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر احتساب، عدالتی فیصلوں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ، اور بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف علامتی اقدامات کافی نہیں بلکہ وسیع، مؤثر اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

  • چھ  جولائی 2018: احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو 10 سال سزا کا دن

    چھ جولائی 2018: احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو 10 سال سزا کا دن

    چھ جولائی 2018 کو احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سات سال اور ان کے داماد کیپٹن صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    اس تاریخ پر میاں نواز شریف کو یقیناً لاڑکانہ، بینظیر بھٹو اور جسٹس رحمت حسین جعفری یاد آئے ہوں گے۔

    نواز شریف کی زندگی پر مبنی ایک کتاب میں میاں نواز شریف لکھتے ہیں: ‘جب جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو مجھے برطرف کر کے ہائی جیکنگ کیس میں جیل بھیج دیا تو مقدمہ سننے والے لاڑکانہ کے جج جسٹس رحمت حسین جعفری پر فوج کے دو جرنیل، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمود کی جانب سے شدید دباؤ ڈالا گیا کہ نواز شریف کو سزائے موت سنائی جائے، مگر اس سندھی جج نے ان دونوں جرنیلوں کا دباؤ قبول نہیں کیا۔

    اگر ان کی جگہ کوئی پنجابی جج ہوتا تو شاید پہلے ہی میری سزائے موت لکھ چکا ہوتا اور کہتا کہ نواز شریف کو پھانسی دی جائے۔’

    (حوالہ: سہیل وڑائچ کی کتاب ‘غدار کون’)

    دوسرا منظر

    1978 میں ذوالفقار علی بھٹو کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ جب وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کی سربراہی میں نواب محمد احمد خان قتل کیس کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تو، انہوں نے ایک وکیل کی خالی کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کی۔ اس پر چیف جسٹس مولوی مشتاق نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا: ‘مسٹر، آپ اب وزیراعظم نہیں رہے، آپ محض قتل کے ایک ملزم ہیں۔ کرسی پر بیٹھنے کے بجائے ملزمان کے کٹہرے میں جا کر کھڑے ہوں۔’

    ایک اور پیشی پر جب ذوالفقار علی بھٹو نے شکایت کی کہ کوٹ لکھپت جیل میں ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور صاحبزادی بینظیر بھٹو کے ساتھ ملاقات کے دوران توہین آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے، تو چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا: ‘خاموش رہو! تم عادی جھوٹے ہو۔’

    مصنف کے مطابق، اسی ماحول میں مقدمہ چلایا گیا اور تین اور چار اپریل کی درمیانی شب ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

    تیسرا منظر

    نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں بینظیر بھٹو کو مختلف مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعے مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔ بینظیر بھٹو کبھی کراچی اور کبھی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں، مگر انہوں نے یہ تمام حالات برداشت کیے اور بعد ازاں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

    جب بعد میں خود نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو اسلام آباد کی عدالت سے سزا سنائی گئی تو ایک لمحے کے لیے انہیں لاڑکانہ، بینظیر بھٹو اور جسٹس رحمت حسین جعفری ضرور یاد آئے ہوں گے۔

    نواز شریف کے مقدمے میں فوجی دباؤ قبول نہ کرنے والے جسٹس رحمت حسین جعفری لاڑکانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لاڑکانہ کے معروف قانون دان فقیر محمد جعفری کے صاحبزادے اور جسٹس زیڈ اے چنہ کے داماد تھے۔

  • گھوٹکی: زیادتی کی تصدیق کے لیے ‘ٹو فنگر ٹیسٹ’ لیا گیا، اس ٹیسٹ کے لیے عدالت نے کیا فیصلہ دیا تھا؟ 

    گھوٹکی: زیادتی کی تصدیق کے لیے ‘ٹو فنگر ٹیسٹ’ لیا گیا، اس ٹیسٹ کے لیے عدالت نے کیا فیصلہ دیا تھا؟ 

    گھوٹکی میں کم عمر لڑکی کے مبینہ اجتماعی زیادتی کیس نے اُس وقت نیا رخ اختیار کر لیا، جب واقعے سے متعلق سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹ میں بعض مشاہدات درج کیے گئے، جن پر قانونی اور طبی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    تعلقہ اسپتال گھوٹکی سے ڈاکٹر رابعہ نواز کے دستخط سے جاری میڈیکل رپورٹ کے مطابق، تین مئی کو پیش آنے والے مبینہ واقعے کی متاثرہ لڑکی، مائی حوراں، کا طبی معائنہ 19 مئی کو کیا گیا۔ رپورٹ میں متاثرہ کی عمر 20 سال درج کی گئی ہے، جبکہ لڑکی اور اُس کے والدین نے اس کی عمر 15 سال بتائی تھی، جس سے عمر کے تعین سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، معائنے کے دوران بعض طبی مشاہدات درج کیے گئے، تاہم اس میں کسی واضح بیرونی زخم کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں ایسے طریقۂ کار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جسے پاکستان میں عدالتی سطح پر متنازع اور غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

    ٹو فنگر ٹیسٹ: عدالتی فیصلہ کیا کہتا ہے؟

    لاہور ہائی کورٹ نے جنوری 2021 میں ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جنسی زیادتی سے متاثرہ خواتین پر کیا جانے والا ورجینٹی ٹیسٹ یا ٹو فنگر ٹیسٹ (TFT) غیر قانونی اور آئین کے منافی ہے۔

    فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس عائشہ اے ملک نے قرار دیا تھا کہ ایسے ٹیسٹ جنسی تشدد کے مقدمات میں سائنسی یا فرانزک اعتبار سے قابلِ اعتماد نہیں، اور یہ متاثرہ خاتون کے وقار، نجی زندگی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔

    عدالت نے مزید قرار دیا تھا کہ ایسے طریقے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہیں اور آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25 سے مطابقت نہیں رکھتے۔

    متاثرہ خاندان کے الزامات اور پولیس پر سوالات

    واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی اپنے والدین کے ہمراہ سکھر نیشنل پریس کلب پہنچی، جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر احتجاج کیا۔

    متاثرہ لڑکی اور اُس کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ تین مئی کو عادل پور کے قریب گاؤں وزیر چاچڑ میں چند افراد نے اُسے والدین کے سامنے اغوا کیا اور بعد ازاں اُس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔

    خاندان کے مطابق، انہوں نے مختلف تھانوں اور مقامی بااثر شخصیات سے رجوع کیا، تاہم ابتدائی طور پر انہیں مطلوبہ قانونی مدد نہیں ملی۔ متاثرہ لڑکی کے والد غلام شبیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں اور وہ صرف انصاف چاہتے ہیں۔

    والدہ یاسمین نے پولیس کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی روز تک انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، مگر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

    سوشل میڈیا دباؤ کے بعد مقدمہ درج

    خاندان کے مطابق، سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے اور عوامی ردعمل کے بعد 19 مئی کو مقدمہ درج کیا گیا اور متاثرہ کو طبی معائنے کے لیے اسپتال بھیجا گیا۔

    تاہم خبر لکھے جانے تک کسی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق سامنے نہیں آئی تھی، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرینِ قانون کے مطابق، متاثرہ خاندان کے الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں اور حتمی قانونی ذمہ داری کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

  • شادی کا وعدہ کرکے مکر جانا جرم نہیں۔

    شادی کا وعدہ کرکے مکر جانا جرم نہیں۔

    بھارت کی ایک ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ان دنوں سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔

    بھارتی ریاست تلنگانہ کی ہائی کورٹ نے شادی کے وعدے سے پیچھے ہٹ جانے والے شخص کو بے گناہ قرار دے دیا۔

    کہانی شروع ہوئی 2022 میں ایک خاتون نے پولیس کو شکایت کی کہ اس کے بوائے فرینڈ نے 2018 سے محبت کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔

    تقریباً پانچ سال جب خاتون نے شادی پر زور دیا تو بوائے فرینڈ نے انکار کر دیا۔ اکتوبر 2022 میں برادری کی پنچائیت کے دوران لڑکے نے شادی کی حامی بھر لی مگر بعد میں مکر گیا۔

    لڑکی کی درخواست پر420 اور دیگر دفعات کے تحت پولیس نے کارروائی شروع کردی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شکایت میں ایسی کوئی ٹھوس بات نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ تعلق کے آغاز میں ہی ملزم کی نیت دھوکہ دینے کی تھی۔

    اس کے برعکس، تعلق کی مدت اور نوعیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ایک رضامندی کا تعلق تھا جو بعد میں ناکام ہو گیا۔

    عدالت نے قرار دیا کہ دھوکہ دہی کا جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ابتدا ہی سے دھوکہ دینے کی نیت موجود ہو۔ ‘شادی کے وعدے کی محض خلاف ورزی، اگر ابتدا میں دھوکہ دہی کی نیت ثابت نہ ہو، تو تعزیراتِ ہند کی دفعات 417 یا 420 کے تحت جرم نہیں بنتی۔’