کچھ دن پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بزنس کمیونٹی کے ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے کا راگ الاپ رہے تھے۔
جس سے گویا جنگل میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ اب نئے صوبے بن رہے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینلز نے تو اس بارے میں فرضی آن لائن ووٹنگ بھی کرائی، جن میں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے ریفرنڈم کے مطابق 95 فیصد شہری نئے صوبوں کے حامی نکلے۔

کل یعنی 08 اگست 2026 بروز ہفتہ کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی ایک قرارداد پاس کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ہزارہ اور دیگر علاقوں کو خیبرپختونخوا سے چھین کر الگ صوبہ بنانے یا وفاق کے حوالے کرنے کے عمل کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے یہاں سندھ میں بھی یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ سندھ اسمبلی بھی اس حوالے سے قرارداد پاس کرے۔ مگر ان دوستوں کے لیے عرض ہے کہ اس حوالے سے سندھ اسمبلی پہلے ہی پانچ دفعہ قراردادیں پاس کر چکی ہے۔ اگر چھٹی دفعہ بھی پاس کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ دوستوں کے لیے ان پانچ قراردادوں کی روداد یہاں رکھی جاتی ہے۔

اس حوالے سے پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو اس وقت کی سندھ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی اکبر کی طرف سے جمع کرائی گئی جبکہ محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔ قرارداد اکثریت رائے سے منظور ہوئی، لیکن اس کے باوجود کراچی کو سندھ سے جدا کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔
دوسری قرارداد 06 مارچ 1954 کو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سائیں جی ایم سید نے ایک قرارداد پیش کی، جس کا متن تھا:
’یہ اسمبلی سندھ حکومت کو سفارش کرتی ہے کہ پاکستان کی حکومت کو یہ درخواست بھیجی جائے کہ کراچی شہر اور اس سے متعلق ان علاقوں کو، جو اس وقت کراچی وفاقی علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سندھ میں بحال کیا جائے۔‘

اس قرارداد پیش ہونے کے بعد ہالا سے تعلق رکھنے والے ایک رکن سید محمد زمان شاہ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی تمہید کے طور پر ذیل کے الفاظ بھی شامل کیے جائیں۔
چونکہ کراچی کو سندھ سے اس مقصد کے تحت الگ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے بارے میں انتظامی اور انتظام کاری کے اختیارات پاکستان کی وفاقی حکومت کے پاس ہوں؛
چونکہ پاکستان کی حکومت اب وفاقی علاقے میں ایک نیا صوبہ قائم کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے اسباب بالکل ناکافی اور ناقابل جواز تھے؛
چونکہ کراچی کو سندھ سے الگ کرتے وقت کیے گئے وعدوں کے برخلاف، پاکستان کی حکومت نے کراچی کی انتظامیہ میں سندھیوں کی ملازمتوں اور کراچی کی مقامی آبادی کے مفادات کا مناسب تحفظ نہیں کیا ہے؛
اور چونکہ پاکستان کی حکومت اب تک کراچی کی علیحدگی کے سبب سندھ حکومت کو ہونے والے دارالحکومت اور آمدنی کے نقصان کا ازالہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
سندھ اسمبلی کے ایوان نے یہ ترمیم شدہ قرارداد پاس کی۔ اس قرارداد کے حق میں وزیراعلیٰ سندھ عبدالستار پیرزادہ، قائد حزب اختلاف سائیں جی ایم سید، قاضی محمد اکبر، پیر الٰہی بخش، شاہنواز پیرزادہ، عبدالفتاح میمن، جعفر خان جمالی، ریونیو کے وزیر پیر علی محمد شاہ راشدی، سیرو مل کرپل داس، علی گوہر کھوڑو، سید غلام حیدر شاہ، سید مبارک علی شاہ اور علی حسن منگی نے تقاریر کیں۔ یہ قرارداد بھی پاس ہوگئی۔

تیسری مرتبہ 25 ستمبر 2014 کو سندھ اسمبلی نے کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد اس وقت کے قائد حزب اختلاف محمد شہریار خان مہر نے پیش کی، جس پر شفیع محمد جاموٹ، نصرت بانو سحر عباسی، ڈاکٹر محمد رفیق بانبھڻ، سعید خان نظامانی، وریام فقیر، سید محمد راشد شاہ، نند کمار گوکلانی، حاجی خدا بخش راجڑ، ہمایوں محمد خان اور مسرور احمد جتوئی سمیت دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے۔ یہ قرارداد بھی ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کی۔
چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جو مشترکہ طور پر ڈاکٹر سہراب خان سرکی، ریحانہ لغاری، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، فیاض علی بٹ، ہیر سوہو، عبدالکریم سومرو، تنزیلہ ام حبیبہ قمبرانی، شمیم ممتاز، سجیلا لغاری، سیدہ ماروی فصیح، حنا دستگیر، غزالہ سیال، فریال تالپور، شازیہ عمر، سید فرخ احمد شاہ، شاہینہ شیر علی، فرحت سیمیں، شہناز بیگم، محمد قاسم سراج سومرو اور محمد علی ملکانی نے پیش کی۔ اس قرارداد کے ذریعے بھی ایوان نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے بارے میں ہر تجویز کو رد کردیا۔

سندھ اسمبلی نے اس سال 21 فروری 2026 کو پانچویں بار دوبارہ کراچی کو سندھ سے ممکنہ طور پر الگ کرنے کے بارے میں کسی بھی تجویز یا اقدام کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے واضح پیغام دیا کہ کراچی سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ ہے، اور اس کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو سندھ کے لوگ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔
ان پانچ تاریخی قراردادوں کی کاپیاں قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہیں، تاکہ عوام خود پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لے سکیں۔

