پاکستان کا قیام کوئی اچانک حادثہ یا کسی جابر حملہ آور کے زورِ بازو کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک طویل قانونی و سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے اور اس قانونی جدوجہد کا ایک ایک باب تاریخ کے صفحوں پر محفوظ ہے۔
سندھ اسمبلی کی 1943 کی قرارداد بھی ایک ایسا ہی سنگ میل ہے، جس نے قیامِ پاکستان کی منزل کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس قرارداد میں جہاں اور بہت سے نکات اہم ہیں، وہاں سندھ کی جغرافیائی وحدت کو یقینی بنانے کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔
اس تاریخی قرارداد کے اندر صوبائی خود مختاری، جغرافیائی وجود اور وفاق میں ایک خود مختار اکائی کے طور پر شمولیت کے حوالے سے انتہائی اہم قانونی اور آئینی نکات شامل ہیں، جن کا براہِ راست تعلق سندھ کی جغرافیائی و تاریخی وحدت سے ہے۔
قرارداد میں برطانوی حکومت سے یہ قانونی مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو جب الگ وطن کی شکل دی جائے، تو سندھ کو ایک مکمل، تاریخی اور جداگانہ جغرافیائی اکائی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس قرارداد کا بنیادی قانونی نکتہ یہ تھا کہ وفاق میں شامل ہوتے وقت سندھ کی اپنی ایک جغرافیائی اور تاریخی شناخت ہوگی، جس کی سرحدوں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکے گی۔
سندھ کو 1936 میں ایک طویل جدوجہد کے بعد آئینی طور پر بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے اس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت بحال کی گئی تھی۔ 1943 کی قرارداد کا ایک اور اہم قانونی نکتہ یہ تھا کہ سندھ اب ایک آزاد صوبائی اسمبلی کا حامل ہے، اس لیے وہ اپنی جغرافیائی حدود اور سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل قانونی حق رکھتا ہے۔
1940کی قراردادِ لاہور کی طرح 1943 کی سندھ اسمبلی کی قرارداد میں بھی ’اسٹیٹس‘ یعنی ریاستوں کا لفظ استعمال ہوا تھا۔ قانونی طور پر اس کا مطلب یہ تھا کہ جو نیا وفاق یا پاکستان بنے گا، اس میں شامل ہونے والے صوبے اپنی حدود کے اندر مکمل طور پر خود مختار ہوں گے، اور ان کی جغرافیائی وحدت اور اندرونی معاملات میں مرکز یا کسی دوسرے صوبے کی مداخلت کا کوئی قانونی جواز نہیں ہوگا۔
مارچ 1943 کو جی ایم سید کی طرف سے اسمبلی میں جو قرارداد پیش کی گئی، اس کا اصل متن انگریزی زبان میں ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس قرارداد کے وہ اصل جملے اور متن جو سندھ کے تاریخی اور جداگانہ جغرافیائی وجود اور اس کے تحفظ کی بنیاد بنے، درج ذیل ہیں
This House recommends to Government to convey to His Majesty’s Government the sentiments of the Muslims of Sindh, that whereas India is inhabited by peoples of different races and religions, whose culture and civilization are distinct, and whereas Sindh has also a historic and distinct entity as a separate unit Therefore, this House declares that the Muslims of India will not accept any constitution which places them under a single central government dominated by another nation. They must be allowed to form their own independent sovereign states in those zones where they are in a majority.
ترجمہ: یہ ایوان حکومت کو سفارش کرتا ہے کہ وہ شہنشاہِ معظم کی حکومت تک سندھ کے مسلمانوں کے یہ جذبات پہنچائے کہ جہاں ہندوستان میں مختلف نسلوں اور مذہبوں کے لوگ آباد ہیں، جن کی ثقافت اور تہذیب ایک دوسرے سے جدا ہے، اور جہاں سندھ بھی بطور ایک علیحدہ اکائی اپنی ایک تاریخی اور جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کسی ایسے آئین کو قبول نہیں کریں گے جو انہیں کسی دوسری قوم کے زیرِ اثر ایک ہی مرکزی حکومت کے ماتحت لائے۔ انہیں ان خطوں میں اپنی آزاد اور خود مختار ریاستیں قائم کرنے کی اجازت دی جائے جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔
پاکستان کے حق میں سندھ اسمبلی کی اس قرارداد کا اصل مسودہ سندھ اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس کی ایک کاپی وائسرائے ہند کے دفتر کے ذریعے وزیرِ امورِ ہند کو بھی بھیجی گئی تھی۔ یہ تمام خط وکتابت اور برطانوی حکومت کو بھیجی گئی اصل نقول آج بھی لندن کی ‘برٹش لائبریری’ کے ‘انڈیا آفس ریکارڈز’ میں محفوظ ہیں۔
اس کے علاوہ اسلام آباد میں واقع ‘نیشنل آرکائیوز آف پاکستان’ میں بھی اس اہم مسودے کی نقول موجود ہیں۔
اس تمام تر بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ اگر کوئی گھر یا دکان بھی کرایے پر لی جائے یا خریدی جائے، تو اس کے تمام قانونی پہلو دیکھے، پرکھے اور جانچے جاتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بھی آئے اور اپنا بوریا بستر جما کر بیٹھ جائے۔
جب سندھ کو پاکستان میں شامل کیا جا رہا تھا، تو قانون سازوں نے سندھ کی اپنی جغرافیائی وحدت کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا تھا۔ جب بھی کوئی قضیہ عدالت کے روبرو جاتا ہے، تو عدالت فریقین کو بنیادی معاہدے اور دستاویزات حاضر کرنے کا حکم دیتی ہے۔
سندھ اسمبلی کی 1943 کی قرارداد بھی ایسی ہی ایک بنیادی اور مقتدر دستاویز ہے، جو سندھ کی وحدانیت کے مقدمے کو ناقابلِ شکست بناتی ہے۔
کماری جیٹھی تلسیداس سپاہی ملانی سندھ کی سیاسی تاریخ کی ایک غیرمعمولی شخصیت تھیں۔ انہوں نے نہ صرف انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں عملی حصہ لیا بلکہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں قانون سازی، خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
جیٹھی سپاہی ملانی 10 فروری 1906 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حیدرآباد کے کندن مل گرلز ہائی اسکول اور کراچی کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور 1925 میں ڈی جے سندھ کالج، کراچی میں بھی زیر تعلیم رہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شعبہ تدریس سے وابستہ رہیں اور 1929 میں کراچی کے ’دیا آشرم‘ کی پرنسپل مقرر ہوئیں۔
1930 میں انہوں نے ملازمت چھوڑ کر انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور انگریز راج کے خلاف جاری آزادی کی تحریک میں سرگرم حصہ لیا۔ نمک ستیہ گرہ، سول نافرمانی اور دیگر سیاسی تحریکوں میں شرکت کے باعث انہیں کئی مرتبہ گرفتار کرکے قید کیا گیا۔ وہ صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ خواتین، بچوں اور تعلیم کی بہتری کے لیے کام کرنے والی سماجی مصلح بھی تھیں۔ انہوں نے گاندھی اسپتال کی سیکریٹری، میونسپل اسکول بورڈ کی رکن اور 1934 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کی رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ 1935 میں انہوں نے یورپ کا تعلیمی دورہ کیا اور وہاں کے تعلیمی نظام کا مطالعہ کیا۔
سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کے بعد 1937 میں قائم ہونے والی پہلی سندھ لیجسلیٹو اسمبلی میں وہ کانگریس کی امیدوار کی حیثیت سے خواتین کی مخصوص نشست، کراچی اور حیدرآباد، سے بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ وہ سندھ اسمبلی کی انتہائی سرگرم ارکان میں شامل تھیں اور خواتین کے ملکیتی حقوق، مقامی اداروں، تعلیم اور سماجی انصاف سے متعلق قانون سازی میں حصہ لیا۔
جیٹھی بائی تلسیداس سپاہی ملانی 1939 سے 1946 تک سندھ لیجسلیٹو اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر رہیں۔ اس طرح وہ سندھ کی پارلیمانی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔ ممکنہ طور پر متحدہ ہندوستان میں بھی وہ اس منصب پر پہنچنے والی پہلی خاتون تھیں۔
1947 کی تقسیم کے بعد جیٹھی سپاہی ملانی سندھ چھوڑ کر بمبئی چلی گئیں۔ بھارت میں وہ 1952 سے 1962 تک بمبئی لیجسلیٹو کونسل کی رکن اور 1954 سے 1962 تک اس کونسل کی ڈپٹی چیئرمین، یعنی ڈپٹی اسپیکر، رہیں۔
انہوں نے تقسیم کے بعد بے گھر ہونے والے سندھی ہندوؤں کی بحالی اور آبادکاری میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے بمبئی میں ہجرت کرکے پہنچنے والے سندھیوں کے لیے مناسب رہائش کی فراہمی کی کوشش کی اور ’نوجیون کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی‘ کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ماہم، ماتونگا، چیمبور اور لیمگٹن روڈ سمیت مختلف علاقوں میں قائم کی جانے والی رہائشی بستیوں کے ذریعے بہت سے بے گھر سندھی خاندانوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔
سندھ کی یہ بہادر بیٹی 21 مئی 1978 کو انتقال کر گئیں۔
تاریخی تصاویر کا پس منظر
پورٹریٹ تصویر: سندھ اسمبلی میں نصب جیٹھی سپاہی ملانی کی یادگاری تصویر
بلفاسٹ ٹیلی گراف، 7 مئی 1959
یہ تصویر جیٹھی سپاہی ملانی کے برطانیہ کے پارلیمانی دورے کے دوران لی گئی۔ اخبار کے مطابق دولت مشترکہ کے 18 پارلیمنٹرینز پر مشتمل ایک وفد 12 روزہ دورے پر شمالی آئرلینڈ پہنچا تھا۔ وفد کی تین خواتین ارکان نے بینگور اسپتال کا دورہ کیا، جہاں اسپتال کی میٹرن مس ایس ایل کری نے ان کا استقبال کیا۔
تصویر میں بائیں جانب سے مس کری، بمبئی کی جیٹھی ٹی سپاہی ملانی، سسٹر ڈبلیو واٹسن، کینیا کی مسز پانڈیا اور ٹونگا کی مسز ہاویا توہاٹیہو نظر آ رہی ہیں۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ جیٹھی سپاہی ملانی عالمی سطح پر دولت مشترکہ کی پارلیمانی سرگرمیوں میں بھی بھارت اور بمبئی کی نمائندگی کرتی تھیں۔
سنڈرلینڈ ڈیلی ایکو اینڈ شپنگ گزٹ، 26 مئی 1959
یہ تصویر بھی ان کے 1959 کے برطانوی دورے سے متعلق ہے۔ تصویر میں جیٹھی سپاہی ملانی اپنی میزبان مسز رابنسن کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ اخبار نے انہیں مسز رابنسن کی ’بھارتی مہمان‘ کے طور پر متعارف کرایا۔
سنڈرلینڈ ڈیلی ایکو اینڈ شپنگ گزٹ، 3 جون 1959
اس تصویر میں بمبئی لیجسلیٹو کونسل کی ڈپٹی چیئرمین کماری جیٹھی ٹی سپاہی ملانی اور سنڈرلینڈ کے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کی اہلیہ مسز مارگریٹ تھامپسن ’ویئر گلاس ورکس‘ کا دورہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ کمپنی کے کمرشل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایل ڈی ووڈ انہیں کارخانے میں تیار ہونے والی شیشے کی کچھ مصنوعات دکھا رہے ہیں۔
یہ تصویر جیٹھی سپاہی ملانی کے دورے کی مطالعاتی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک پارلیمانی رہنما کی حیثیت سے وہ صرف رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور صنعتی مراکز کا دورہ کرکے وہاں کے انتظام، پیداوار اور سماجی ترقی کے طریقوں کا بھی مشاہدہ کرتی رہیں۔
یہ تاریخی تصاویر ہمیں بتاتی ہیں کہ سندھ کی ایک بیٹی نے آزادی کی تحریک سے لے کر سندھ اسمبلی، بمبئی لیجسلیٹو کونسل اور دولت مشترکہ کی بین الاقوامی پارلیمانی سرگرمیوں تک اپنی قابلیت اور جدوجہد سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے سے متعلق تحریک پر سندھ اسمبلی کی اکثریتی رائے اور فیصلے کے بعد قرارداد منظور کی جائے گی۔
اتوار کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق تحریک پر بحث کے دوران ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ کون کون سندھ کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، اور وہ سندھ کے عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوال اور تنقید کی جارہی ہے کہ تحریک پر بحث کرا کے نئے صوبوں کے حامیوں کو بات کرنے کا موقع کیوں فراہم کیا جارہا ہے۔ اگر قرارداد بھی پیش کردی جاتی تو نئے صوبوں کے حامی ایوان میں اپنا مؤقف بیان کرسکتے تھے۔
گزشتہ روز سے نثار کھوڑو کو سوشل میڈیا شدید تنقید کا سامنا ہے۔ دو روز قبل نثار کھوڑو کی جانب سے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث کے لیے تحریکِ التوا جمع کرانے کو بعض حلقے پیپلز پارٹی کے دیرینہ مؤقف سے انحراف قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب پیپلز پارٹی اور خود نثار کھوڑو ماضی میں سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے مطالبے کی مخالفت کرتے رہے ہیں تو پھر اس حساس معاملے کو اسمبلی میں بحث کے لیے لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ سندھ کے قوم پرست اور دیگر سیاسی حلقے اسے پیپلز پارٹی کا ممکنہ ‘یوٹرن’ قرار دے کر نثار کھوڑو پر تنقید کر رہے ہیں۔
نثار کھوڑو نے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک پر بحث کے دوران کشمور سے کراچی تک پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے آئینی فورم پر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبات اور تجاویز کو بھرپور مؤقف کے ساتھ مسترد کریں گے، جبکہ جو لوگ نئے صوبوں کے حامی ہوں گے وہ بھی ریکارڈ پر عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے بھی پانچ مرتبہ نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے، اس کے باوجود دوبارہ نئے صوبوں کے مطالبات اور باتیں سامنے آتی ہیں تو عوام پاکستان پیپلز پارٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایوان میں قرارداد پیش کی جائے۔ اس لیے ایوان میں بحث کے بعد اکثریتی رائے اور فیصلے کی روشنی میں قرارداد منظور کی جائے گی۔
نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ اگر کل یہ مطالبہ زور پکڑ لے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے بارے میں ریفرنڈم کرایا جائے تو پھر کیا فیصلہ جلسوں میں کیا جائے گا؟
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے خلاف اکثریتی رائے سے فیصلہ اسمبلی کو کرنا ہے اور یہی آئینی طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلے دن سے واضح مؤقف ہے کہ سندھ میں نیا صوبہ اور انتظامی یونٹ قبول نہیں، اور نیا صوبہ سندھ کے عوام کا مطالبہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبات کرنے والے ایوان کے اندر اور باہر، پریس کانفرنسوں اور جلسوں میں بھی اپنے مطالبات کررہے ہیں، تو کیا کسی نے انہیں ایسے مطالبات کرنے یا بات کرنے سے روکا ہے؟
نثار احمد کھوڑو نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام سندھ دھرتی کی تقسیم کسی بھی صورت میں نہیں ہونے دیں گے، اور ایوان میں بحث کے بعد اکثریتی رائے سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد منظور کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جس دن سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی باتیں شروع ہوئی ہیں، اس دن سے پریس کانفرنسوں، جلسوں، سیمینارز اور ایوان سمیت ہر فورم پر نئے صوبوں کی باتوں کو مسترد کرکے سندھ کی وحدت کا تحفظ کیا ہے اور کرتا رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ رکھے جائیں، لیکن پانی اور سندھ کی وحدت کے معاملے پر ہر فورم پر فرنٹ لائن پر سندھ کا مقدمہ لڑتا ہوں اور لڑتا رہوں گا، اس لیے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا قطعی مناسب نہیں۔
نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ کی وحدت کا آئینی فورمز پر دفاع اور تحفظ کرنے والوں کے لیے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرکے سندھ کی متحدہ طاقت کو کمزور نہ کیا جائے۔
کچھ دن پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بزنس کمیونٹی کے ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے کا راگ الاپ رہے تھے۔
جس سے گویا جنگل میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ اب نئے صوبے بن رہے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینلز نے تو اس بارے میں فرضی آن لائن ووٹنگ بھی کرائی، جن میں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے ریفرنڈم کے مطابق 95 فیصد شہری نئے صوبوں کے حامی نکلے۔
کل یعنی 08 اگست 2026 بروز ہفتہ کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی ایک قرارداد پاس کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ہزارہ اور دیگر علاقوں کو خیبرپختونخوا سے چھین کر الگ صوبہ بنانے یا وفاق کے حوالے کرنے کے عمل کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے یہاں سندھ میں بھی یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ سندھ اسمبلی بھی اس حوالے سے قرارداد پاس کرے۔ مگر ان دوستوں کے لیے عرض ہے کہ اس حوالے سے سندھ اسمبلی پہلے ہی پانچ دفعہ قراردادیں پاس کر چکی ہے۔ اگر چھٹی دفعہ بھی پاس کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ دوستوں کے لیے ان پانچ قراردادوں کی روداد یہاں رکھی جاتی ہے۔
اس حوالے سے پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو اس وقت کی سندھ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی اکبر کی طرف سے جمع کرائی گئی جبکہ محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔ قرارداد اکثریت رائے سے منظور ہوئی، لیکن اس کے باوجود کراچی کو سندھ سے جدا کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔
دوسری قرارداد 06 مارچ 1954 کو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سائیں جی ایم سید نے ایک قرارداد پیش کی، جس کا متن تھا:
’یہ اسمبلی سندھ حکومت کو سفارش کرتی ہے کہ پاکستان کی حکومت کو یہ درخواست بھیجی جائے کہ کراچی شہر اور اس سے متعلق ان علاقوں کو، جو اس وقت کراچی وفاقی علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سندھ میں بحال کیا جائے۔‘
اس قرارداد پیش ہونے کے بعد ہالا سے تعلق رکھنے والے ایک رکن سید محمد زمان شاہ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی تمہید کے طور پر ذیل کے الفاظ بھی شامل کیے جائیں۔
چونکہ کراچی کو سندھ سے اس مقصد کے تحت الگ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے بارے میں انتظامی اور انتظام کاری کے اختیارات پاکستان کی وفاقی حکومت کے پاس ہوں؛
چونکہ پاکستان کی حکومت اب وفاقی علاقے میں ایک نیا صوبہ قائم کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے اسباب بالکل ناکافی اور ناقابل جواز تھے؛
چونکہ کراچی کو سندھ سے الگ کرتے وقت کیے گئے وعدوں کے برخلاف، پاکستان کی حکومت نے کراچی کی انتظامیہ میں سندھیوں کی ملازمتوں اور کراچی کی مقامی آبادی کے مفادات کا مناسب تحفظ نہیں کیا ہے؛
اور چونکہ پاکستان کی حکومت اب تک کراچی کی علیحدگی کے سبب سندھ حکومت کو ہونے والے دارالحکومت اور آمدنی کے نقصان کا ازالہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
سندھ اسمبلی کے ایوان نے یہ ترمیم شدہ قرارداد پاس کی۔ اس قرارداد کے حق میں وزیراعلیٰ سندھ عبدالستار پیرزادہ، قائد حزب اختلاف سائیں جی ایم سید، قاضی محمد اکبر، پیر الٰہی بخش، شاہنواز پیرزادہ، عبدالفتاح میمن، جعفر خان جمالی، ریونیو کے وزیر پیر علی محمد شاہ راشدی، سیرو مل کرپل داس، علی گوہر کھوڑو، سید غلام حیدر شاہ، سید مبارک علی شاہ اور علی حسن منگی نے تقاریر کیں۔ یہ قرارداد بھی پاس ہوگئی۔
تیسری مرتبہ 25 ستمبر 2014 کو سندھ اسمبلی نے کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد اس وقت کے قائد حزب اختلاف محمد شہریار خان مہر نے پیش کی، جس پر شفیع محمد جاموٹ، نصرت بانو سحر عباسی، ڈاکٹر محمد رفیق بانبھڻ، سعید خان نظامانی، وریام فقیر، سید محمد راشد شاہ، نند کمار گوکلانی، حاجی خدا بخش راجڑ، ہمایوں محمد خان اور مسرور احمد جتوئی سمیت دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے۔ یہ قرارداد بھی ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کی۔
چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جو مشترکہ طور پر ڈاکٹر سہراب خان سرکی، ریحانہ لغاری، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، فیاض علی بٹ، ہیر سوہو، عبدالکریم سومرو، تنزیلہ ام حبیبہ قمبرانی، شمیم ممتاز، سجیلا لغاری، سیدہ ماروی فصیح، حنا دستگیر، غزالہ سیال، فریال تالپور، شازیہ عمر، سید فرخ احمد شاہ، شاہینہ شیر علی، فرحت سیمیں، شہناز بیگم، محمد قاسم سراج سومرو اور محمد علی ملکانی نے پیش کی۔ اس قرارداد کے ذریعے بھی ایوان نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے بارے میں ہر تجویز کو رد کردیا۔
سندھ اسمبلی نے اس سال 21 فروری 2026 کو پانچویں بار دوبارہ کراچی کو سندھ سے ممکنہ طور پر الگ کرنے کے بارے میں کسی بھی تجویز یا اقدام کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے واضح پیغام دیا کہ کراچی سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ ہے، اور اس کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو سندھ کے لوگ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔
ان پانچ تاریخی قراردادوں کی کاپیاں قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہیں، تاکہ عوام خود پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لے سکیں۔
2 مئی 1972 بروز منگل کی صبح کراچی کی فضا معمول سے مختلف تھی۔ برسوں کی سیاسی کشمکش، ون یونٹ کے تلخ تجربے اور سندھ کی تاریخی شناخت کی بحالی کی جدوجہد کے بعد یہ وہ دن تھا جس کا سندھ کے عوام بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ سندھ اسمبلی کی عمارت میں غیر معمولی گہما گہمی تھی۔ ارکان ایک ایک کر کے ایوان میں داخل ہو رہے تھے۔ ہر چہرے پر ایک نئی تاریخ لکھے جانے کا احساس نمایاں تھا۔ یہ صرف ایک اسمبلی اجلاس نہیں تھا بلکہ سندھ اسمبلی کی بحالی کا پہلا تاریخی دن تھا۔
اجلاس کا باقاعدہ آغاز صبح نو بجے ہوا، جس کی صدارت گورنر سندھ الحاج میر رسول بخش خان تالپور نے کی۔ قاری شاکر قاسمی نے سورہ العصر کی تلاوت سے اس مبارک گھڑی کا آغاز کیا، جس کا ترجمہ اردو اور سندھی میں پیش کیا گیا۔
اس کے بعد اراکین اسمبلی کی حلف برداری کا مرحلہ آیا، اور سندھ اسمبلی کے سیکرٹری جمال ابڑو جو سندھی زبان کے معروف ادیب اور شارٹ اسٹوری رائٹر بھی تھے نے اعلان کیا کہ اب محترم گورنر سندھ میر رسول بخش تالپور پہلے سندھی، پھر اردو اور آخر میں انگریزی میں محترم اراکین سے حلف لیں گے۔
اس تاریخی دن پر ساٹھ اراکین اسمبلی نے سندھی اور اردو میں حلف اٹھایا، جب کہ انگریزی میں کسی نے بھی حلف نہیں اٹھایا۔ حلف اٹھانے والے اراکین کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ مسٹر عبد الحمید میمن، 2۔ مسٹر عبدالقادر، 3۔ مسٹر عبدالکریم پلی، 4۔ مسٹر عبداللہ بلوچ، 5۔ سید عبداللہ شاہ، 6۔ مسٹر عبدالواحد بروہی، 7۔ مسٹر احمد علی سومرو، 8۔ حاجی علی انور خان مہر، 9۔ رئیس علی نواز خان انڑ، 10۔ حاجی امیر بخش جونیجو، 11۔ سید علی قطب شاہ، 12۔ سید امیر علی شاہ جاموٹ، 13۔ ارباب امیر حسن، 14۔ میر عطا حسین خان تالپور، 15۔ سید بشیر احمد شاہ، 16۔ مسٹر بوستان علی ہوتھی، 17۔ مسٹر چندر سنگھ رانا، 18۔ مسٹر دوست محمد خان ہکڑو، 19۔ مسٹر در محمد اوستو، 20۔ شاہ فرید الحق، 21۔ مس فردوس جونیجو، 22۔ مسٹر جی اے مدنی، 23۔ مسٹر غلام حیدر، 24۔ حاجی غلام مجتبی خان جتوئی، 25۔ مسٹر غلام رسول خان کیہر، 26۔ مسٹر غلام شبیر شاہ، 27۔ پیر حاجی گل شاہ، 28۔ مسٹر افتخار احمد، 29۔ مسٹر الہی بخش خان، 30۔ میر امام بخش خان تالپور، 31۔ سید امداد حسین شاہ، 32۔ قاسم حاجی عباس، 33۔ سردار محبوب علی خان مگسی، 34۔ مسٹر محمد علی گبول، 35۔ سید محمد حسن شاہ، 36۔ مفتی محمد حسین، 37۔ خلیفو محمد عاقل ہنگورجو، 38۔ حاجی محمد بخش خان جمالی، 39۔ مسٹر محمد حسن حقانی، 40۔ مسٹر محمد خان سومرو، 41۔ مسٹر محمد عثمان کنیڈی، 42۔ میر ممتاز علی تالپور، 43۔ مسٹر منیر احمد آرائیں، 44۔ جام منیر احمد خان، 45۔ نواب مظفر حسین خان، 46۔ مسٹر نبی بخش خان بھرگری، 47۔ سید نادر علی شاہ، 48۔ سید نظر شاہ، 49۔ سردار نور محمد خان بجارانی، 50۔ مسٹر رحیم بخش سومرو، 51۔ جام صادق علی خان، 52۔ آغا صدرالدین خان درانی، 53۔ سید سعید حسن، 54۔ میر سندر خان سندرانی، 55۔ مس تاج بی بی، 56۔ مسٹر واحد بخش خان بگھیو، 57۔ مسٹر ولی محمد جاموٹ، 58۔ سید ظفر علی شاہ، 59۔ حاجی زاہد علی، 60۔ مسٹر ظہور الحسن بھوپالی۔
حلف اٹھانے کے بعد اراکین نے رجسٹر پر اپنے دستخط ثبت کیے اس کے سندھ کے گورنر میر رسول بخش خان تالپور نے سندھی میں اپنی تقریر کی، جس کا اردو ترجمہ بھی کیا گیا۔ گورنر نے اپنی تقریر میں کہا کہ
معزز اراکین اسمبلی
السلام علیکم
میں صدق دل کے ساتھ سندھ کی قانون ساز اسمبلی میں آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر صوبائی انتخابات میں کامیاب ہونے والے عوامی نمائندے بڑی جدوجہد کے بعد عوام کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے اپنا جائز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب اس معزز ایوان میں آپ کی کارروائیاں عوام کی خواہشات کے اظہار کا ذریعہ بنیں گی۔
یہ عظیم الشان کامیابی زبردست جدوجہد اور تکالیف کے بغیر حاصل نہیں ہوئی ہے۔ کامیابی کے اس موقع پر ہمیں کسانوں، مزدوروں اور طالب علموں کی جدوجہد کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے آزادی اور جمہوری طرز زندگی کے حصول کی ناقابل تسخیر خواہش کے تحت آپ کو اسمبلی کے لئے منتخب کیا ہے۔ لہذا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک ایسا سماجی اور اقتصادی نظام قائم کریں جو ہر قسم کے استحصال اور لوٹ مار سے پاک ہو۔
یہ آپ کا مقدس فریضہ ہے کہ آپ محنت کش طبقہ کی حالت کو بہتر بنائیں جو ہمارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جو ماضی میں شدید محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ تقریباً چار ماہ کے اس عرصے میں جب سے پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی ہے اصلاحات اور تعمیر نو کے کام پر زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم منصوبہ بندی اور ترقی کے سلسلے میں ابھی بہت سا کام باقی ہے۔
صوبہ سندھ کے مستقبل کی ذمہ داری اب آپ کے شانوں پر ہے۔ پورے صوبے کی نگاہیں اب آپ پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ نگاہیں امید و بیم کے تاثرات کے ساتھ ایک تعمیری جذبے کے تحت برسر اقتدار افراد سے سوال کر رہی ہیں کہ اب وہ ان کے لئے کیا خدمات انجام دیتے ہیں۔ عوام اب تک کئے جانے والے ان کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں جو ان کی حالت کو بہتر بنانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اب یہ آپ کا کام ہے کہ آپ نے انتخاب کے وقت جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کریں اور اسلامی سوشلزم کے اصولوں کو نافذ کر کے بیماری، بدحالی، غربت اور مفلسی کو دور کرنے کی کوشش کریں اور عوام کے تحفظ اور خوشحالی کا اہتمام کریں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کی ان مبارک کوششوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مدد کروں گا۔
معزز اراکین
ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم نے آزادی اس لئے حاصل کی تھی کہ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ لہذا اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ان اصولوں کو اپنائیں اور اس نظریے کو فراموش نہ کریں جس پر ایک قوم کی حیثیت سے ہماری آزادی کا
انحصار ہے۔ ہمارا مقصد جس کا ہم نے بہ بانگ دہل اعلان کیا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے عوام کے لئے خوشحالی لائی جائے اور قوموں کی عالمی برادری میں اپنے لئے ایک جائز اور باوقار مقام حاصل کیا جائے تا کہ ہم انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کی جدوجہد میں شامل ہو سکیں۔
حالیہ اقتصادی اور سیاسی بحران کی وجہ سے ہمارا ملک بے شمار مسائل سے دوچار ہو گیا ہے جنہیں حل کرنے میں آپ کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اپنی تاریخ کے اس نازک دور میں ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جانا چاہئے۔
ہم یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم متحد نہیں ہو جاتے اور علاقائی عصبیتوں پر قومی مفاد کو ترجیح نہیں دیتے۔ ایک ایسی قوم جو طبقوں اور گروہوں میں بٹی ہوئی ہو اور ایک دوسرے کے خلاف منافرت اور بے اعتمادی کے جذبات کو ابھارنے کی حوصلہ افزائی کرے وہ کبھی خوشحال نہیں ہو سکتی بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ وہ اپنی آزادی بھی برقرار نہیں رکھ سکتی جیسا کہ ابراہم لنکن نے ایک ایسے موقع پر جب امریکی قوم بھی ایسے ہی مسائل سے دوچار تھی یہ کہا تھا کہ ایک ایسا گھر جو اپنے ہی خلاف عدم اتحاد کا شکار ہو قائم نہیں رہ سکتا۔ لہذا میں آپ سے اپیل کروں گا کہ آپ علیحدگی پسند رجحانات اور ایسے اختلافی مسئلوں کا شکار نہ ہوں جو کسی کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہو سکتے۔ یہ ہمارا فرض ہے اور ہمارا مفاد بھی اسی میں ہے کہ ایک مضبوط اور طاقتور پاکستان کی تعمیر کی جائے اور اسے دنیا کا عظیم ترین ملک بنایا جائے۔ لہذا آپ کو جو اختیارات دیے گئے ہیں انہیں ہمیشہ اس صوبے اور پاکستان کے عوام کی مستقل فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں۔
میری دلی تمنا ہے کہ آپ اپنی کوششوں اور توقعات میں کامیاب ہوں اور میں خلوص دل سے یہ دعا کرتا ہوں کہ آپ اپنی ان عظیم ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں جو آپ کو سونپی گئی ہیں۔
پاکستان پائندہ باد۔
گورنر نے تقریر مکمل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ میں سید عبداللہ شاہ کو چیئرمین سندھ اسمبلی نامزد کرتا ہوں تاکہ وہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے الیکشن کروا کر اسمبلی کا باقاعدہ آغاز کریں۔ اس کے بعد سید عبداللہ شاہ نے اعلان کیا کہ آدھے گھنٹے میں جو اراکین اسپیکر کے انتخاب میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنے فارم جمع کرائیں، اور اجلاس آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ جب دس بج کر تیس منٹ پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو چیئرمین سید عبداللہ شاہ نے اعلان کیا کہ جیسا کہ اسپیکر کے لئے صرف غلام رسول خان کیہر کا فارم موصول ہوا ہے لہذا انہیں بلا مقابلہ اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب کیا گیا ہے۔ اس وقت نومنتخب اسپیکر سے حلف گورنر لیتا تھا، لہذا اعلان کیا گیا کہ گورنر سے حلف اٹھانے کے بعد تین بجے اجلاس نومنتخب اسپیکر کی زیر صدارت دوبارہ شروع ہوگا۔
تین بجے جب اسمبلی اجلاس تیسری مرتبہ شروع ہوا تو اسپیکر غلام رسول خان کیہر نے چیئرمین آف پینل کا اعلان کیا، جس میں مسٹر جی اے مدنی، سید سعید حسن، مس تاج بی بی اور سید امداد حسین شاہ شامل تھے۔
اس کے بعد نومنتخب اسپیکر نے اپنی کرسی سنبھالتے ہی نہایت جذباتی انداز میں ایوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک تاریخی لمحہ ہے اور وہ ایوان کے تمام ارکان کے شکر گزار ہیں جنہوں
نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوان کے تمام معزز اراکین کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور پوری دیانت داری، غیر جانبداری اور انصاف کے ساتھ اس ایوان کی کارروائی چلانے کی کوشش کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی ایک عظیم تاریخی ادارہ ہے اور ماضی میں اس ایوان نے برصغیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ ذمہ داری موجودہ ارکان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ادارے کے وقار کو مزید بلند کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے کام کریں۔
اسپیکر نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے وقار اور جمہوری روایات کو برقرار رکھنے میں ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے سندھ کے عوام کا ایوان ہے اور ہر رکن کو اپنے خیالات کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
اس خطاب کے بعد مبارکبادوں اور تہنیتی تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ وزیر اعلی ممتاز علی بھٹو سب سے پہلے کھڑے ہوئے اور انہوں نے نومنتخب اسپیکر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کو ایک باوقار اور پارلیمانی روایات سے واقف شخصیت کی قیادت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے اسپیکر کی سربراہی میں ایوان عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرے گا۔
حکومتی ارکان نے اپنی تقاریر میں کہا کہ سندھ کی بحالی کے بعد یہ اسمبلی عوامی حقوق کی حقیقی ترجمان ثابت ہوگی۔ بعض ارکان نے کہا کہ ون یونٹ کے دور نے سندھ کی شناخت کو دبانے کی کوشش کی لیکن آج سندھ اسمبلی کی بحالی نے عوام کے دلوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔
اپوزیشن ارکان نے بھی اسپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایوان کو غیر جانبدارانہ انداز میں چلایا جائے گا اور اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے جمہوری انداز میں سنا جائے گا۔
اجلاس کو اگلے دن یعنی تین مئی 1972 تک ملتوی کیا گیا۔ تین مئی 1972 کو سید عبداللہ شاہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ ون یونٹ کے ٹوٹنے کے بعد بننے والی اس سندھ اسمبلی میں ممتاز علی بھٹو یکم مئی 1972 کو وزیر اعلی سندھ بنے اور بیس دسمبر 1973 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے ایک سال خدمات انجام دینے کے بعد سید عبداللہ شاہ نے صوبائی کابینہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں یکم جون 1973 کو آغا صدرالدین خان درانی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔
پچیس جون 1973 کو سندھ کی گورنر بیگم رعنا لیاقت علی خان نے سندھ اسمبلی سے خطاب کیا۔ اسی روز اکسٹھ اراکین نے 1973 کے نئے آئین کے تحت حلف اٹھایا۔ چوبیس دسمبر 1974 کو غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کے وزیر اعلی منتخب ہوئے۔
اپنی مدت کار کے دوران اس اسمبلی نے سترہ اجلاس منعقد کیے جن میں مجموعی طور پر ایک سو سینتیس نشستیں ہوئیں۔ اسمبلی نے ایک سو چودہ بل منظور کیے جبکہ ایوان میں ایک ہزار سات سو پچپن سوالات کے جوابات دیے گئے۔
تئیس جون 1972 کو اسپیکر نے شاہ فرید الحق کو قائد حزب اختلاف مقرر کیا۔ سات جنوری 1977 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ مارچ 1977 میں نئے عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات سات مارچ جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات دس مارچ 1977 کو کرانے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی دس جنوری کو تحلیل کی جائے گی جبکہ صوبائی اسمبلیاں تیرہ جنوری 1977 کو تحلیل کر دی جائیں گی۔ یوں تین مئی 1972 کو وجود میں آنے والی یہ اسمبلی جنوری 1977 میں تحلیل کر دی گئی۔
27 اپریل 1937 سندھ کی آئینی اور سیاسی تناظر میں تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ دن تھا جب پہلی مرتبہ نو قائم شدہ صوبہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کراچی کے عارضی اسمبلی ہال میں منعقد ہوا اور سندھ نے ایک الگ صوبے کی حیثیت سے اپنی پارلیمانی و آئینی شناخت کا عملی آغاز کیا۔
یہ تاریخی سفر دراصل گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 سے شروع ہوا، جس کے تحت تقریباً 89 برس بعد سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے یکم اپریل 1936 کو باقاعدہ ایک علیحدہ صوبے کا درجہ دیا گیا۔ سندھ کی علیحدگی محض انتظامی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ سندھ کے عوام کی ایک طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھی، جس کے ذریعے سندھی قیادت اپنے جداگانہ تشخص، وسائل اور انتظامی حقوق کے تحفظ کی خواہاں تھی۔
صوبے کے قیام کے بعد سر لانسیلاٹ گراہم کو سندھ کا پہلا گورنر مقرر کیا گیا۔ چونکہ فوری طور پر انتخابات کا انعقاد ممکن نہ تھا، اس لیے گورنر نے ایک سہ رکنی مشاورتی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی کے چیئرمین سر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ (سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ) تھے جبکہ سر شاہنواز بھٹو (شہید ذوالفقار علی بھٹو کے والد) اور دیوان ہیرانند اس کے رکن تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ بمبئی کونسل سے تعلق رکھنے والے سندھ کے سابق اراکین پر مشتمل 25 رکنی عبوری صوبائی کونسل بھی قائم کی گئی، جس میں میر بندہ علی خان ٹالپر (موجودہ ایم این اے میر غلام علی ٹالپور کے والد)، شیخ عبدالمجید سندھی، خان بہادر محمد ایوب کھوڑو، جام جان محمد خان جونیجو، سید میراں محمد شاہ (موجودہ ایم این اے سید نوید قمر کے نانا)، شہید اللہ بخش سومرو، خان بہادر میر شیر محمد خان بجارانی اور رئیس جان محمد بھرگڑی سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ یہ عبوری کونسل اس وقت تک کام کرتی رہی جب تک باقاعدہ صوبائی انتخابات منعقد نہیں ہو گئے۔
سندھ کے پہلے وزیراعلی سر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ
پہلی سندھ اسمبلی کی تشکیل اور نشستوں کی تقسیم
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت سندھ قانون ساز اسمبلی کو 60 ارکان پر مشتمل رکھا گیا۔ ان نشستوں کی تقسیم برطانوی ہند کے جداگانہ انتخابی نظام کے تحت مختلف طبقات اور برادریوں میں کی گئی تھی۔ اسمبلی میں 33 نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں جبکہ 18 جنرل نشستیں رکھی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ دو نشستیں یورپی اراکین، دو تجارت و صنعت، دو زمینداروں، ایک مزدور اور دو خواتین نشستوں کے لیے مختص تھیں، جن میں ایک مسلم اور ایک غیر مسلم خاتون کے لیے مخصوص کی گئی تھی۔
یہ پورا انتخابی نظام جداگانہ انتخاب کے اصول پر مبنی تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مختلف صوبوں میں اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی دی گئی۔ مثال کے طور پر سندھ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 73.6 فیصد تھی مگر انہیں اسمبلی میں 64.2 فیصد نشستیں دی گئیں، جبکہ بعض دوسرے صوبوں میں مسلم اقلیت کو آبادی سے کہیں زیادہ نمائندگی فراہم کی گئی۔
یو۔پی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14 فیصد تھی مگر انہیں 28 فیصد نشستیں دی گئیں۔ بہار میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14.6 فیصد تھی مگر نشستیں 26 فیصد دی گئیں۔ سینٹرل پروونسز میں مسلمان بہت کم تھے (تقریباً 5 فیصد)، لیکن انہیں 12 فیصد سے زیادہ نشستیں دی گئیں۔
1937 کے انتخابات: ووٹ کا حق کن لوگوں کو حاصل تھا؟
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت 1937 کے انتخابات میں ووٹ کا حق آج کے عام حقِ رائے دہی سے بالکل مختلف تھا۔ اس دور میں ہر بالغ شہری کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تھا بلکہ ووٹر بننے کے لیے مخصوص قانونی، مالی، تعلیمی اور سماجی شرائط پوری کرنا ضروری تھیں۔ یہ تمام قواعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے چھٹے شیڈول کے تحت مقرر کیے گئے تھے۔
ووٹر بننے کے بنیادی تقاضے
کسی بھی شخص کے لیے ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے چند بنیادی شرائط لازمی تھیں۔ ووٹر کی عمر کم از کم 21 سال ہونی چاہیے تھی۔ اس کے ساتھ وہ برطانوی رعایا، کسی وفاقی ریاست کا باشندہ یا بعض مخصوص صورتوں میں کسی ہندوستانی ریاست کا شہری ہونا ضروری تھا۔ ایسا شخص جو کسی عدالت کی جانب سے ذہنی مریض قرار دیا گیا ہو یا کسی سنگین جرم میں قید، سزا یا جلاوطنی کی سزا کاٹ رہا ہو، ووٹ ڈالنے کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ رہائش بھی ایک اہم شرط تھی۔ شہری اور دیہی حلقوں میں ووٹر کے لیے ضروری تھا کہ وہ گزشتہ مالی سال کے دوران کم از کم 180 دن متعلقہ حلقے یا اس کی حدود کے قریب رہائش پذیر رہا ہو۔ یورپی حلقوں کے لیے شرط یہ تھی کہ متعلقہ شخص کم از کم 180 دن صوبہ سندھ میں مقیم رہا ہو۔
سندھ اسمبلی کے پہلے اسپیکر بہادر بھوج سنگھ
ٹیکس اور مالی حیثیت کی بنیاد پر ووٹ کا حق
اس دور میں ٹیکس ادا کرنا ووٹ کے حق کے لیے ایک اہم معیار تھا۔ ایسا شخص جو گزشتہ مالی سال میں انکم ٹیکس ادا کرتا ہو، ووٹر بننے کا اہل سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح زمین داری بھی ووٹ کے حق کا اہم ذریعہ تھی۔ وہ افراد جو اپنی ملکیت، مستقل کاشتکاری یا سرکاری لیز پر ایسی زمین رکھتے تھے جس پر کم از کم آٹھ روپے مالیت کا لگان عائد ہوتا ہو، ووٹ ڈال سکتے تھے۔
ہاری یا کاشتکار کے لیے شرط یہ تھی کہ وہ ایسی زمین کاشت کرتا ہو جس پر کم از کم سولہ روپے کا لگان عائد ہو۔ اگر ایک ہی زمین پر متعدد ہاری کام کرتے تھے تو ہر سولہ روپے لگان کے حساب سے صرف ایک ہاری ووٹ کا حق رکھتا تھا۔ اسی طرح وہ افراد بھی ووٹر بن سکتے تھے جنہیں حکومت کی جانب سے زمین یا محصول وصول کرنے کا حق حاصل ہو اور اس کی مالیت مخصوص حد تک پہنچتی ہو۔
جائیداد اور رہائش کی بنیاد پر ووٹ
کراچی میں ایسے افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جو کم از کم 30 روپے سالانہ کرائے والے مکان کے مالک یا کرایہ دار ہوں۔ کراچی سے باہر میونسپل یا دیگر شہری علاقوں میں یہ حد 18 روپے سالانہ کرایہ مقرر کی گئی تھی۔ بعض علاقوں میں ایسی جائیداد رکھنے والے افراد بھی ووٹر بن سکتے تھے جن کی سرمایہ مالیت کم از کم 750 روپے ہو۔
تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ووٹ کا حق
تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی ووٹر بننے کا راستہ موجود تھا۔ ایسا شخص جو بمبئی یونیورسٹی کا میٹرک، اسکول لیونگ امتحان یا اس کے مساوی کوئی امتحان پاس کر چکا ہو، ووٹ ڈالنے کا اہل تھا۔ اس میں ورنی کیولر فائنل جیسی تعلیمی اسناد بھی شامل تھیں۔
فوجی خدمات کی بنیاد پر حقِ رائے دہی
برطانوی فوج سے وابستہ ریٹائرڈ، پنشن یافتہ یا فارغ کیے گئے فوجی افسران، نان کمیشنڈ افسران اور سپاہیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا۔
خواتین کے لیے ووٹ کا حق
1937 کے انتخابات میں خواتین کو محدود پیمانے پر ووٹ کا حق حاصل تھا۔ کوئی خاتون اس صورت میں ووٹر بن سکتی تھی اگر وہ رہائش کی شرائط پوری کرتی ہو اور اس کے ساتھ وہ خواندہ ہو یا کسی فوجی افسر یا سپاہی کی بیوہ یا والدہ ہو۔ اسی طرح اگر اس کا شوہر انکم ٹیکس دہندہ، فوج سے وابستہ، زمین دار یا مخصوص مالیت کی جائیداد کا مالک ہوتا تو خاتون کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو جاتا تھا۔ کراچی میں شوہر کی جائیداد کے لیے سالانہ 60 روپے کرایہ مالیت کی شرط رکھی گئی تھی جبکہ دیگر علاقوں میں یہ حد 36 روپے تھی۔
مشترکہ جائیداد اور جداگانہ انتخاب کا نظام
مشترکہ خاندانی جائیداد کی صورت میں ہندو مشترکہ خاندان کا منتظم ووٹ کا اہل سمجھا جاتا تھا، جبکہ دیگر خاندانوں میں خاندان کی جانب سے نامزد فرد ووٹ ڈال سکتا تھا۔ 1937 کے انتخابات جداگانہ انتخاب کے اصول کے تحت منعقد ہوئے تھے۔ مسلمان حلقوں میں صرف مسلمان ووٹ ڈال سکتے تھے جبکہ سکھ حلقوں میں صرف سکھ ووٹرز کو حق حاصل تھا۔ ایسے افراد جو مخصوص مذہبی حلقوں میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے، وہ عموماً جنرل حلقوں میں ووٹ نہیں دے سکتے تھے۔
ووٹر اندراج کا طریقہ کار
بعض صورتوں میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کروانے کے لیے درخواست دینا ضروری تھا، خصوصاً تعلیمی قابلیت یا خواتین کی مخصوص شرائط کی بنیاد پر ووٹ کا حق حاصل کرنے والوں کے لیے۔
1937 کے انتخابات کے دلچسپ اعداد و شمار
1937 کے انتخابات سندھ کی سیاسی تاریخ کے اولین بڑے عوامی انتخاب تھے۔ صوبے میں کل 60 نشستیں تھیں جن میں سے 7 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے جبکہ باقی 53 نشستوں پر 151 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اس وقت سندھ میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 6 لاکھ 14 ہزار 942 تھی، جن میں سے 3 لاکھ 33 ہزار 589 ووٹ ڈالے گئے۔
اس طرح مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 54.2 فیصد رہا۔ خواتین ووٹروں کی تعداد 27 ہزار 940 تھی لیکن ان میں سے صرف 9 ہزار 705 خواتین نے ووٹ ڈالے، یوں خواتین کا ٹرن آؤٹ صرف 34.7 فیصد رہا۔ انتخابات میں 33 امیدوار اپنی ضمانتیں بھی ضبط کرا بیٹھے۔ مزدور نشست پر ٹرن آؤٹ صرف 27.2 فیصد رہا جبکہ زمیندار نشستوں پر ووٹنگ کی شرح 75.4 فیصد تک جا پہنچی۔
منتخب ہونے والے ارکان
1937 کے انتخابات کے نتیجے میں سندھ کی سیاست کی کئی بڑی شخصیات اسمبلی کا حصہ بنیں۔ منتخب ہونے والوں میں سر غلام حسین ہدایت اللہ، شہید اللہ بخش سومرو، محترم جی ایم سید، محمد ایوب کھوڑو، شیخ عبدالمجید سندھی، سید میراں محمد شاہ، جام جان محمد خان، پیر الٰہی بخش (پیر مظہر الحق کے دادا) اور حاجی محمد ہاشم گذدر جیسی نمایاں سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ غیر مسلم اراکین میں جمشید نسروانجی مہتا، آر کے سدھوا، ڈاکٹر پوپٹ لال، پروفیسر جیٹھانند، کرنل موہن اور مس جیٹھی سپا ہیملانی سمیت کئی اہم نام شامل تھے۔
27 اپریل 1937: سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس
بالآخر وہ تاریخی دن آ پہنچا جب 27 اپریل 1937 کو کراچی میں سندھ قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس صبح 11 بجے منعقد ہوا۔ یہ اجلاس گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کی دفعہ 62(3) کے تحت طلب کیا گیا تھا۔ اس تاریخی اجلاس کے انتظامات اسمبلی کے سیکریٹری ٹیکمداس ڈی موتوانی نے انجام دیے۔ پہلے روز کے ایجنڈے میں ارکان سے تاجِ برطانیہ سے وفاداری کا حلف لینا، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب، اور تین اہم سرکاری بل پیش کرنا شامل تھا۔ ان بلوں میں وزرا کی تنخواہوں سے متعلق بل، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں کا بل اور اسمبلی انتخابات سے متعلق بعض نااہلیوں کے خاتمے کا بل شامل تھے۔
دیوان بہادر ہیرانند کی بطور چیئرمین تقرری
اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری سندھ اسمبلی نے گورنر سندھ سر لانسیلاٹ گراہم کا پیغام پڑھ کر سنایا، جس کے تحت دیوان بہادر ہیرانند کھیم سنگھ کو اسپیکر کے انتخاب تک عبوری چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ دیوان بہادر ہیرانند نے ایوان میں آ کر اپنی نشست سنبھالی اور اجلاس کی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے ارکان کو یاد دلایا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت ہر رکن کے لیے بادشاہِ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھانا لازمی ہے۔
حلف برداری اور زبان کا تنازع
چیئرمین نے سیکریٹری کو ہدایت دی کہ ارکان کے نام پکارے جائیں تاکہ وہ آگے آ کر حلف اٹھائیں، چیئرمین سے مصافحہ کریں اور رجسٹر پر دستخط کریں۔ چیئرمین دیوان بہادر ہیرانند کھیم سنگھ، جو اس سے قبل گورنر سندھ کے روبرو حلف اٹھا چکے تھے، نے اسمبلی اراکین سے حلف لیا۔ پہلے روز جن اراکین نے حلف یا توثیق کی،
ان میں (1) سر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ، (2) مکھی گوبند رام پریتم داس، (3) میر بنده علی خان ولد میر حاجی محمد حسین خان ٹالپر، (4) شیخ عبدالمجید لیلارام، (5) عبد الستار عبد الرحمن پیرزادہ، (6) اکھجی رتن سنگھ سوڈھو، (7) خان صاحب اللہ بخش خداداد خان گبول، (8) خان بہادر اللہ بخش ولد محمد عمر سومرو، (9) سردار بہادر میر الهداد خان امام بخش خان ٹالپر، (10) خان بہادر حاجی امیر علی ولد ٹھارو خان لاہوری، (11) ارباب توگاچی میر محمد، (12) بھوج سنگھ گردنومل پہلجانی، (13) دیال مل دولت رام، (14) دولت رام موہن داس، (15) گھنشیام جیٹھانند شیو داسانی، (16) گھنومل تارا چند، (17) میر غلام علی ولد میر بنده علی خان ٹالپر، (18) میر غلام اللہ خان میر حاجی حسین بخش خان، (19) مخدوم غلام حیدر مخدوم ظہیر الدین، (20) خان بہادر غلام محمد
عبداللہ خان اسراں، (21) غلام مرتضیٰ شاہ محمد شاہ سید، (22) خان بہادر غلام نبی شاہ موج علی شاہ، (23) راؤ صاحب گوکل داس میوا داس، (24) ہسا رام سندر داس، (25) ڈاکٹر ہیمن داس روپ چند وادھواني، (26) ہوت چند ہیرانند، (27) پیر الٰہی بخش ولد پیر نواز علی، (28) ایسر داس وارند مل، (29) خان صاحب جعفر خان گل محمد خان بڑدی، (30) جمشید نسروانجی مہتا، (31) جام جان محمد خان محمد شریف جونیجو، (32) مسز جینو بائی غلام علی الانا، (33) مس جیٹھی بائی تلسی داس سپاہیملانی، (34) خان بہادر قیصر خان ولد غلام محمد خان بوذدار، (35) کرنل ایچ جے مہون، (36) سید میراں محمد شاہ زین العابدین شاہ، (37) سید محمد علی شاہ ولد سید اللہ آندو شاہ، (38) خان بہادر محمد ایوب ولد شاہ محمد خان کھوڑو، (39) حاجی محمد ہاشم فیض محمد گذدر، (40) میر محمد خان ولد نواب سر غیبی خان چانڈیو، (41) محمد عثمان محمد خان سومرو، (42) محمد یوسف خان بہادر خیر محمد خان چانڈیو، (43) نارائِن داس اے بیچر، (44) نیوندرام وشنداس، (45) نہچلداس چاٹومل، (46) سید نور محمد شاہ ولد مراد علی شاہ سید، (47) ڈی این او سلیون، (48) پرتاب رائے کیسکھ داس، (49) ڈاکٹر پوپٹ لال اے بھوپتکار، (50) جی ایچ راشن، (51) رسول بخش خان محمد بخش خان انڑ، (52) خان صاحب رسول بخش شاہ محبوب شاہ، (53) رستم جی خورشید جی سدھوا، (54) شمس الدین خان درانی، (55) سیتل داس پیرومل، (56) خان صاحب سہراب خان صاحب ولد دینو خان سرکی، اور (57) میر زین الدین خان سندر خان سندراڻي شامل تھے۔
جبکہ اسمبلی کے دوسرے روز یعنی 28 اپریل 1937 کو، پہلے دن غیر حاضر رہنے والے رکن پیر غلام حیدر شاہ نے اسپیکر کے انتخاب کے لیے ہونے والی بیلٹنگ کے دوران حلف اٹھایا۔
حلف برداری کے دوران ہی زبان اور مذہبی حساسیت سے متعلق دلچسپ مباحث سامنے آئے۔ آر کے سدھوا نے اعتراض کیا کہ دیگر اسمبلیوں کی طرح حلف کا متن پہلے سے اراکین کو فراہم نہیں کیا گیا۔ ایم ایچ گذدر اور ڈاکٹر پوپٹ لال نے مطالبہ کیا کہ حلف کا متن سندھی اور ہندی زبان میں بھی مہیا کیا جائے تاکہ وہ ارکان جو انگریزی میں مہارت نہیں رکھتے، آسانی سے حلف اٹھا سکیں۔
چیئرمین نے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے سندھی ترجمہ پڑھوانے کی اجازت دی جبکہ بعد ازاں ہندی ترجمہ فراہم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ اسی دوران آر کے سدھوا نے اوستا کی مذہبی کتاب کو ہاتھ لگا کر حلف اٹھانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ اسمبلی کوئی عدالت نہیں بلکہ سیاسی ادارہ ہے، اس لیے انہوں نے مذہبی کتاب پر حلف کے بجائے باقاعدہ اقرار نامہ دینے کو ترجیح دی۔
اسمبلی میں زبان کے استعمال پر اہم فیصلہ
پہلے ہی روز ایوان میں اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ اسمبلی کی کارروائی کس زبان میں چلائی جائے۔ چیئرمین نے فیصلہ دیا کہ انگریزی ایوان کی بنیادی زبان رہے گی، تاہم ایسے ارکان جو روانی سے انگریزی نہیں بول سکتے، انہیں پیشگی اجازت سے سندھی زبان میں اظہارِ خیال کی اجازت ہوگی۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت تھا کہ نو قائم شدہ اسمبلی کو ایک ایسی قانون ساز تنظیم بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی جہاں مختلف زبانیں اور ثقافتیں رکھنے والے اراکین کو نمائندگی کا احساس ہو۔
لارڈ زیٹ لینڈ کی تقریر پر ہنگامہ خیز بحث
حلف برداری کے بعد جب کارروائی آگے بڑھنے لگی تو ڈاکٹر پوپٹ لال اے بھوپتکار نے لارڈ زیٹ لینڈ، سیکریٹری آف اسٹیٹ فار انڈیا، کی ایک تقریر کے خلاف التوا کی تحریک پیش کر دی۔ اس تقریر میں صوبائی خودمختاری اور گورنروں کے خصوصی اختیارات سے متعلق خیالات کا اظہار کیا گیا تھا۔
اپوزیشن ارکان کا مؤقف تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت دی گئی صوبائی خودمختاری دراصل محدود اور نمائشی ہے کیونکہ گورنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔ ڈاکٹر پوپٹ لال، این اے بیچر اور دیگر اراکین نے استدلال کیا کہ اگر گورنر کو ہر اہم معاملے میں مداخلت کا اختیار حاصل رہے گا تو پھر عوامی نمائندہ حکومت محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جائے گی۔
اس بحث میں جی ایم سید، محمد ہاشم گذدر، شیخ عبدالمجید، اللہ بخش سومرو، محمد ایوب کھوڑو، ڈی این او سلیون، کرنل مہون اور دیگر اہم اراکین نے بھی حصہ لیا۔
سر غلام حسین ہدایت اللہ کا مؤقف
اس وقت کے پریمیئر سر غلام حسین ہدایت اللہ نے التوا کی تحریک کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ نہ تو حالیہ نوعیت کا ہے اور نہ ہی براہِ راست صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ ڈاکٹر پوپٹ لال نے یہ تحریک اس وقت جمع کرائی جب وہ ابھی باضابطہ طور پر حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔ سر غلام حسین ہدایت اللہ نے کہا کہ ان کی
حکومت نے موجودہ آئینی نظام کے تحت ذمہ داریاں قبول کی ہیں اور وہ برطانوی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبے کو چلانے کے لیے تیار ہیں۔
چیئرمین کا تاریخی فیصلہ
بحث کے بعد دیوان بہادر ہیرانند کھیم سنگھ نے فیصلہ دیا کہ التوا کی تحریک قواعد کے مطابق ہے اور اس پر اسی روز شام چار بجے بحث کی جائے گی۔
وزرا کی تنخواہوں کا بل اور کفایت شعاری کا اعلان
اسی اجلاس کے دوران سر غلام حسین ہدایت اللہ نے تین اہم سرکاری بل پیش کیے۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ وزرا کی تنخواہوں سے متعلق بل کو ملی۔ ابتدائی طور پر اس بل میں ہر وزیر کے لیے ماہانہ دو ہزار روپے تنخواہ تجویز کی گئی تھی، تاہم سر غلام حسین ہدایت اللہ نے اعلان کیا کہ صوبے کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرا نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہ میں 500 روپے کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ حکومت نے ایوان سے درخواست کی کہ وزرا کی تنخواہ 1500 روپے ماہانہ مقرر کی جائے۔ یہ اقدام اس دور میں مالی کفایت شعاری اور عوامی احساسات کے احترام کے طور پر دیکھا گیا۔
تاریخی اجلاس کا اختتام
شام چار بجے دوبارہ اجلاس شروع ہوا اور لارڈ زیٹ لینڈ کی تقریر پر بحث ایک بار پھر جاری ہوئی۔ بحث کے دوران اس بات پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے کہ اراکین کو تقریر کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔ بعض اراکین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کوئی رکن انگریزی جانتا ہے تو کیا اسے پھر بھی سندھی میں تقریر کی اجازت ہونی چاہیے۔
بحث شام چھ بجے تک جاری رہی، جس کے بعد چیئرمین نے اعلان کیا کہ قواعد کے مطابق یہ تحریک وقت ختم ہونے کے باعث خود بخود ختم ہو گئی ہے اور اس پر ووٹنگ نہیں ہوگی۔ یوں 27 اپریل 1937 کو سندھ قانون ساز اسمبلی کے پہلے تاریخی اجلاس کا اختتام ہوا۔
سندھ اسمبلی کے پہلے سیشن کی کارروائی چار دن جاری رہی۔ دوسرے دن کی کارروائی بھی اسمبلی کے عارضی چیئرمین کی سربراہی میں شروع ہوئی جس میں اسپیکر کے انتخاب کا تاریخی مرحلہ سرانجام پایا۔ اسپیکر کے عہدے کے لیے پیر الٰہی بخش، دیوان بہادر بھوج سنگھ گردنومل پہلجانیے اور شیخ عبدالمجید سندھی امیدوار تھے۔ پہلے امیدوار پیر الٰہی بخش کے نام کے تجویز کنندہ جناب جی ایم سید جبکہ تائید کنندہ جناب محمد علی شاہ تھے۔
دوسرے امیدوار دیوان بہادر بھوج سنگھ گردنومل پہلجانی کے نام کے تجویز کنندہ ڈاکٹر ہیمن داس روپچند جبکہ تائید کنندہ شری گوکل داس میول داس تھے۔ تیسرے امیدوار شیخ عبدالمجید سندھی کے نام کے تجویز کنندہ خان بہادر غلام نبی شاہ تھے جبکہ تائید کنندہ خان بہادر امیر علی لاہوری تھے۔ تاہم انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل پیر الٰہی بخش نے شیخ عبدالمجید سندھی کے حق میں دستبرداری اختیار کر لی۔
بعد ازاں ہونے والی رائے شماری میں بھوج سنگھ گردنومل نے 40 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ شیخ عبدالمجید سندھی صرف 18 ووٹ لے سکے۔ اس نتیجے پر محمد ہاشم گذدر نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ مسلم اکثریتی اسمبلی نے ایک ہندو رکن کو اسپیکر منتخب کیا۔
سندھ اسمبلی کے اس پہلے سیشن میں خان بہادر اللہ بخش خان گبول بنا مقابلہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ اجلاس کے تیسرے دن یعنی 29 اپریل کو سندھ کے گورنر سر لانسلیٹ گراہم نے خطاب کیا، جس کا کانگریس کے ممبران نے بائیکاٹ کیا۔ جبکہ آخری دن یعنی 30 اپریل 1937 کو سندھ اسمبلی نے تین بل پاس کیے اور سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
سندھ اسمبلی کا یہ اجلاس صرف ایک پارلیمانی کارروائی نہیں تھا بلکہ سندھ کی سیاسی خودمختاری، آئینی شعور اور جمہوری ارتقا کے سفر کا نقطۂ آغاز تھا۔ آج، تقریباً نو دہائیوں بعد بھی، اس اجلاس کی گونج سندھ کی پارلیمانی تاریخ میں سنائی دیتی ہے۔