Tag: سندھ اسمبلی

  • دو مئی 1972: سندھ کی نئی تاریخ رقم کرنے والا دن، جب متنازعہ ون یونٹ کا خاتمہ، 17 سال بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا

    دو مئی 1972: سندھ کی نئی تاریخ رقم کرنے والا دن، جب متنازعہ ون یونٹ کا خاتمہ، 17 سال بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا

    2 مئی 1972 بروز منگل کی صبح کراچی کی فضا معمول سے مختلف تھی۔ برسوں کی سیاسی کشمکش، ون یونٹ کے تلخ تجربے اور سندھ کی تاریخی شناخت کی بحالی کی جدوجہد کے بعد یہ وہ دن تھا جس کا سندھ کے عوام بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ سندھ اسمبلی کی عمارت میں غیر معمولی گہما گہمی تھی۔ ارکان ایک ایک کر کے ایوان میں داخل ہو رہے تھے۔ ہر چہرے پر ایک نئی تاریخ لکھے جانے کا احساس نمایاں تھا۔ یہ صرف ایک اسمبلی اجلاس نہیں تھا بلکہ سندھ اسمبلی کی بحالی کا پہلا تاریخی دن تھا۔

    اجلاس کا باقاعدہ آغاز صبح نو بجے ہوا، جس کی صدارت گورنر سندھ الحاج میر رسول بخش خان تالپور نے کی۔ قاری شاکر قاسمی نے سورہ العصر کی تلاوت سے اس مبارک گھڑی کا آغاز کیا، جس کا ترجمہ اردو اور سندھی میں پیش کیا گیا۔

    اس کے بعد اراکین اسمبلی کی حلف برداری کا مرحلہ آیا، اور سندھ اسمبلی کے سیکرٹری جمال ابڑو جو سندھی زبان کے معروف ادیب اور شارٹ اسٹوری رائٹر بھی تھے نے اعلان کیا کہ اب محترم گورنر سندھ میر رسول بخش تالپور پہلے سندھی، پھر اردو اور آخر میں انگریزی میں محترم اراکین سے حلف لیں گے۔

    اس تاریخی دن پر ساٹھ اراکین اسمبلی نے سندھی اور اردو میں حلف اٹھایا، جب کہ انگریزی میں کسی نے بھی حلف نہیں اٹھایا۔ حلف اٹھانے والے اراکین کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
    1۔ مسٹر عبد الحمید میمن، 2۔ مسٹر عبدالقادر، 3۔ مسٹر عبدالکریم پلی، 4۔ مسٹر عبداللہ بلوچ، 5۔ سید عبداللہ شاہ، 6۔ مسٹر عبدالواحد بروہی، 7۔ مسٹر احمد علی سومرو، 8۔ حاجی علی انور خان مہر، 9۔ رئیس علی نواز خان انڑ، 10۔ حاجی امیر بخش جونیجو، 11۔ سید علی قطب شاہ، 12۔ سید امیر علی شاہ جاموٹ، 13۔ ارباب امیر حسن، 14۔ میر عطا حسین خان تالپور، 15۔ سید بشیر احمد شاہ، 16۔ مسٹر بوستان علی ہوتھی، 17۔ مسٹر چندر سنگھ رانا، 18۔ مسٹر دوست محمد خان ہکڑو، 19۔ مسٹر در محمد اوستو، 20۔ شاہ فرید الحق، 21۔ مس فردوس جونیجو، 22۔ مسٹر جی اے مدنی، 23۔ مسٹر غلام حیدر، 24۔ حاجی غلام مجتبی خان جتوئی، 25۔ مسٹر غلام رسول خان کیہر، 26۔ مسٹر غلام شبیر شاہ، 27۔ پیر حاجی گل شاہ، 28۔ مسٹر افتخار احمد، 29۔ مسٹر الہی بخش خان، 30۔ میر امام بخش خان تالپور، 31۔ سید امداد حسین شاہ، 32۔ قاسم حاجی عباس، 33۔ سردار محبوب علی خان مگسی، 34۔ مسٹر محمد علی گبول، 35۔ سید محمد حسن شاہ، 36۔ مفتی محمد حسین، 37۔ خلیفو محمد عاقل ہنگورجو، 38۔ حاجی محمد بخش خان جمالی، 39۔ مسٹر محمد حسن حقانی، 40۔ مسٹر محمد خان سومرو، 41۔ مسٹر محمد عثمان کنیڈی، 42۔ میر ممتاز علی تالپور، 43۔ مسٹر منیر احمد آرائیں، 44۔ جام منیر احمد خان، 45۔ نواب مظفر حسین خان، 46۔ مسٹر نبی بخش خان بھرگری، 47۔ سید نادر علی شاہ، 48۔ سید نظر شاہ، 49۔ سردار نور محمد خان بجارانی، 50۔ مسٹر رحیم بخش سومرو، 51۔ جام صادق علی خان، 52۔ آغا صدرالدین خان درانی، 53۔ سید سعید حسن، 54۔ میر سندر خان سندرانی، 55۔ مس تاج بی بی، 56۔ مسٹر واحد بخش خان بگھیو، 57۔ مسٹر ولی محمد جاموٹ، 58۔ سید ظفر علی شاہ، 59۔ حاجی زاہد علی، 60۔ مسٹر ظہور الحسن بھوپالی۔

    حلف اٹھانے کے بعد اراکین نے رجسٹر پر اپنے دستخط ثبت کیے اس کے سندھ کے گورنر میر رسول بخش خان تالپور نے سندھی میں اپنی تقریر کی، جس کا اردو ترجمہ بھی کیا گیا۔ گورنر نے اپنی تقریر میں کہا کہ

    معزز اراکین اسمبلی

    السلام علیکم

    میں صدق دل کے ساتھ سندھ کی قانون ساز اسمبلی میں آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر صوبائی انتخابات میں کامیاب ہونے والے عوامی نمائندے بڑی جدوجہد کے بعد عوام کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے اپنا جائز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب اس معزز ایوان میں آپ کی کارروائیاں عوام کی خواہشات کے اظہار کا ذریعہ بنیں گی۔

    یہ عظیم الشان کامیابی زبردست جدوجہد اور تکالیف کے بغیر حاصل نہیں ہوئی ہے۔ کامیابی کے اس موقع پر ہمیں کسانوں، مزدوروں اور طالب علموں کی جدوجہد کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے آزادی اور جمہوری طرز زندگی کے حصول کی ناقابل تسخیر خواہش کے تحت آپ کو اسمبلی کے لئے منتخب کیا ہے۔ لہذا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک ایسا سماجی اور اقتصادی نظام قائم کریں جو ہر قسم کے استحصال اور لوٹ مار سے پاک ہو۔

    یہ آپ کا مقدس فریضہ ہے کہ آپ محنت کش طبقہ کی حالت کو بہتر بنائیں جو ہمارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جو ماضی میں شدید محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ تقریباً چار ماہ کے اس عرصے میں جب سے پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی ہے اصلاحات اور تعمیر نو کے کام پر زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم منصوبہ بندی اور ترقی کے سلسلے میں ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

    صوبہ سندھ کے مستقبل کی ذمہ داری اب آپ کے شانوں پر ہے۔ پورے صوبے کی نگاہیں اب آپ پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ نگاہیں امید و بیم کے تاثرات کے ساتھ ایک تعمیری جذبے کے تحت برسر اقتدار افراد سے سوال کر رہی ہیں کہ اب وہ ان کے لئے کیا خدمات انجام دیتے ہیں۔ عوام اب تک کئے جانے والے ان کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں جو ان کی حالت کو بہتر بنانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

    اب یہ آپ کا کام ہے کہ آپ نے انتخاب کے وقت جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کریں اور اسلامی سوشلزم کے اصولوں کو نافذ کر کے بیماری، بدحالی، غربت اور مفلسی کو دور کرنے کی کوشش کریں اور عوام کے تحفظ اور خوشحالی کا اہتمام کریں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کی ان مبارک کوششوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مدد کروں گا۔

    معزز اراکین

    ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم نے آزادی اس لئے حاصل کی تھی کہ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ لہذا اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ان اصولوں کو اپنائیں اور اس نظریے کو فراموش نہ کریں جس پر ایک قوم کی حیثیت سے ہماری آزادی کا

    انحصار ہے۔ ہمارا مقصد جس کا ہم نے بہ بانگ دہل اعلان کیا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے عوام کے لئے خوشحالی لائی جائے اور قوموں کی عالمی برادری میں اپنے لئے ایک جائز اور باوقار مقام حاصل کیا جائے تا کہ ہم انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کی جدوجہد میں شامل ہو سکیں۔

    حالیہ اقتصادی اور سیاسی بحران کی وجہ سے ہمارا ملک بے شمار مسائل سے دوچار ہو گیا ہے جنہیں حل کرنے میں آپ کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اپنی تاریخ کے اس نازک دور میں ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جانا چاہئے۔

    ہم یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم متحد نہیں ہو جاتے اور علاقائی عصبیتوں پر قومی مفاد کو ترجیح نہیں دیتے۔ ایک ایسی قوم جو طبقوں اور گروہوں میں بٹی ہوئی ہو اور ایک دوسرے کے خلاف منافرت اور بے اعتمادی کے جذبات کو ابھارنے کی حوصلہ افزائی کرے وہ کبھی خوشحال نہیں ہو سکتی بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ وہ اپنی آزادی بھی برقرار نہیں رکھ سکتی جیسا کہ ابراہم لنکن نے ایک ایسے موقع پر جب امریکی قوم بھی ایسے ہی مسائل سے دوچار تھی یہ کہا تھا کہ ایک ایسا گھر جو اپنے ہی خلاف عدم اتحاد کا شکار ہو قائم نہیں رہ سکتا۔ لہذا میں آپ سے اپیل کروں گا کہ آپ علیحدگی پسند رجحانات اور ایسے اختلافی مسئلوں کا شکار نہ ہوں جو کسی کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہو سکتے۔ یہ ہمارا فرض ہے اور ہمارا مفاد بھی اسی میں ہے کہ ایک مضبوط اور طاقتور پاکستان کی تعمیر کی جائے اور اسے دنیا کا عظیم ترین ملک بنایا جائے۔ لہذا آپ کو جو اختیارات دیے گئے ہیں انہیں ہمیشہ اس صوبے اور پاکستان کے عوام کی مستقل فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں۔

    میری دلی تمنا ہے کہ آپ اپنی کوششوں اور توقعات میں کامیاب ہوں اور میں خلوص دل سے یہ دعا کرتا ہوں کہ آپ اپنی ان عظیم ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں جو آپ کو سونپی گئی ہیں۔

    پاکستان پائندہ باد۔

    گورنر نے تقریر مکمل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ میں سید عبداللہ شاہ کو چیئرمین سندھ اسمبلی نامزد کرتا ہوں تاکہ وہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے الیکشن کروا کر اسمبلی کا باقاعدہ آغاز کریں۔ اس کے بعد سید عبداللہ شاہ نے اعلان کیا کہ آدھے گھنٹے میں جو اراکین اسپیکر کے انتخاب میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنے فارم جمع کرائیں، اور اجلاس آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ جب دس بج کر تیس منٹ پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو چیئرمین سید عبداللہ شاہ نے اعلان کیا کہ جیسا کہ اسپیکر کے لئے صرف غلام رسول خان کیہر کا فارم موصول ہوا ہے لہذا انہیں بلا مقابلہ اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب کیا گیا ہے۔ اس وقت نومنتخب اسپیکر سے حلف گورنر لیتا تھا، لہذا اعلان کیا گیا کہ گورنر سے حلف اٹھانے کے بعد تین بجے اجلاس نومنتخب اسپیکر کی زیر صدارت دوبارہ شروع ہوگا۔

    تین بجے جب اسمبلی اجلاس تیسری مرتبہ شروع ہوا تو اسپیکر غلام رسول خان کیہر نے چیئرمین آف پینل کا اعلان کیا، جس میں مسٹر جی اے مدنی، سید سعید حسن، مس تاج بی بی اور سید امداد حسین شاہ شامل تھے۔

    اس کے بعد نومنتخب اسپیکر نے اپنی کرسی سنبھالتے ہی نہایت جذباتی انداز میں ایوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک تاریخی لمحہ ہے اور وہ ایوان کے تمام ارکان کے شکر گزار ہیں جنہوں

    نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوان کے تمام معزز اراکین کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور پوری دیانت داری، غیر جانبداری اور انصاف کے ساتھ اس ایوان کی کارروائی چلانے کی کوشش کروں گا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی ایک عظیم تاریخی ادارہ ہے اور ماضی میں اس ایوان نے برصغیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ ذمہ داری موجودہ ارکان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ادارے کے وقار کو مزید بلند کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے کام کریں۔

    اسپیکر نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے وقار اور جمہوری روایات کو برقرار رکھنے میں ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے سندھ کے عوام کا ایوان ہے اور ہر رکن کو اپنے خیالات کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

    اس خطاب کے بعد مبارکبادوں اور تہنیتی تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ وزیر اعلی ممتاز علی بھٹو سب سے پہلے کھڑے ہوئے اور انہوں نے نومنتخب اسپیکر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کو ایک باوقار اور پارلیمانی روایات سے واقف شخصیت کی قیادت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے اسپیکر کی سربراہی میں ایوان عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرے گا۔

    حکومتی ارکان نے اپنی تقاریر میں کہا کہ سندھ کی بحالی کے بعد یہ اسمبلی عوامی حقوق کی حقیقی ترجمان ثابت ہوگی۔ بعض ارکان نے کہا کہ ون یونٹ کے دور نے سندھ کی شناخت کو دبانے کی کوشش کی لیکن آج سندھ اسمبلی کی بحالی نے عوام کے دلوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔

    اپوزیشن ارکان نے بھی اسپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایوان کو غیر جانبدارانہ انداز میں چلایا جائے گا اور اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے جمہوری انداز میں سنا جائے گا۔

    اجلاس کو اگلے دن یعنی تین مئی 1972 تک ملتوی کیا گیا۔ تین مئی 1972 کو سید عبداللہ شاہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ ون یونٹ کے ٹوٹنے کے بعد بننے والی اس سندھ اسمبلی میں ممتاز علی بھٹو یکم مئی 1972 کو وزیر اعلی سندھ بنے اور بیس دسمبر 1973 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے ایک سال خدمات انجام دینے کے بعد سید عبداللہ شاہ نے صوبائی کابینہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں یکم جون 1973 کو آغا صدرالدین خان درانی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔

    پچیس جون 1973 کو سندھ کی گورنر بیگم رعنا لیاقت علی خان نے سندھ اسمبلی سے خطاب کیا۔ اسی روز اکسٹھ اراکین نے 1973 کے نئے آئین کے تحت حلف اٹھایا۔ چوبیس دسمبر 1974 کو غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کے وزیر اعلی منتخب ہوئے۔

    اپنی مدت کار کے دوران اس اسمبلی نے سترہ اجلاس منعقد کیے جن میں مجموعی طور پر ایک سو سینتیس نشستیں ہوئیں۔ اسمبلی نے ایک سو چودہ بل منظور کیے جبکہ ایوان میں ایک ہزار سات سو پچپن سوالات کے جوابات دیے گئے۔

    تئیس جون 1972 کو اسپیکر نے شاہ فرید الحق کو قائد حزب اختلاف مقرر کیا۔ سات جنوری 1977 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ مارچ 1977 میں نئے عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات سات مارچ جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات دس مارچ 1977 کو کرانے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی دس جنوری کو تحلیل کی جائے گی جبکہ صوبائی اسمبلیاں تیرہ جنوری 1977 کو تحلیل کر دی جائیں گی۔ یوں تین مئی 1972 کو وجود میں آنے والی یہ اسمبلی جنوری 1977 میں تحلیل کر دی گئی۔

  • 27 اپریل 1937: بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی اور سندھ کے نئے سیاسی دور کا آغاز، سندھ اسمبلی کے پہلے تاریخی اجلاس کی کہانی

    27 اپریل 1937: بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی اور سندھ کے نئے سیاسی دور کا آغاز، سندھ اسمبلی کے پہلے تاریخی اجلاس کی کہانی

    27 اپریل 1937 سندھ کی آئینی اور سیاسی تناظر میں تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ دن تھا جب پہلی مرتبہ نو قائم شدہ صوبہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کراچی کے عارضی اسمبلی ہال میں منعقد ہوا اور سندھ نے ایک الگ صوبے کی حیثیت سے اپنی پارلیمانی و آئینی شناخت کا عملی آغاز کیا۔

    یہ تاریخی سفر دراصل گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 سے شروع ہوا، جس کے تحت تقریباً 89 برس بعد سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے یکم اپریل 1936 کو باقاعدہ ایک علیحدہ صوبے کا درجہ دیا گیا۔ سندھ کی علیحدگی محض انتظامی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ سندھ کے عوام کی ایک طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھی، جس کے ذریعے سندھی قیادت اپنے جداگانہ تشخص، وسائل اور انتظامی حقوق کے تحفظ کی خواہاں تھی۔

    صوبے کے قیام کے بعد سر لانسیلاٹ گراہم کو سندھ کا پہلا گورنر مقرر کیا گیا۔ چونکہ فوری طور پر انتخابات کا انعقاد ممکن نہ تھا، اس لیے گورنر نے ایک سہ رکنی مشاورتی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی کے چیئرمین سر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ (سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ) تھے جبکہ سر شاہنواز بھٹو (شہید ذوالفقار علی بھٹو کے والد) اور دیوان ہیرانند اس کے رکن تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ بمبئی کونسل سے تعلق رکھنے والے سندھ کے سابق اراکین پر مشتمل 25 رکنی عبوری صوبائی کونسل بھی قائم کی گئی، جس میں میر بندہ علی خان ٹالپر (موجودہ ایم این اے میر غلام علی ٹالپور کے والد)، شیخ عبدالمجید سندھی، خان بہادر محمد ایوب کھوڑو، جام جان محمد خان جونیجو، سید میراں محمد شاہ (موجودہ ایم این اے سید نوید قمر کے نانا)، شہید اللہ بخش سومرو، خان بہادر میر شیر محمد خان بجارانی اور رئیس جان محمد بھرگڑی سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ یہ عبوری کونسل اس وقت تک کام کرتی رہی جب تک باقاعدہ صوبائی انتخابات منعقد نہیں ہو گئے۔

    سندھ کے پہلے وزیراعلی سر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ

    پہلی سندھ اسمبلی کی تشکیل اور نشستوں کی تقسیم

    گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت سندھ قانون ساز اسمبلی کو 60 ارکان پر مشتمل رکھا گیا۔ ان نشستوں کی تقسیم برطانوی ہند کے جداگانہ انتخابی نظام کے تحت مختلف طبقات اور برادریوں میں کی گئی تھی۔ اسمبلی میں 33 نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں جبکہ 18 جنرل نشستیں رکھی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ دو نشستیں یورپی اراکین، دو تجارت و صنعت، دو زمینداروں، ایک مزدور اور دو خواتین نشستوں کے لیے مختص تھیں، جن میں ایک مسلم اور ایک غیر مسلم خاتون کے لیے مخصوص کی گئی تھی۔

    یہ پورا انتخابی نظام جداگانہ انتخاب کے اصول پر مبنی تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مختلف صوبوں میں اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی دی گئی۔ مثال کے طور پر سندھ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 73.6 فیصد تھی مگر انہیں اسمبلی میں 64.2 فیصد نشستیں دی گئیں، جبکہ بعض دوسرے صوبوں میں مسلم اقلیت کو آبادی سے کہیں زیادہ نمائندگی فراہم کی گئی۔

    یو۔پی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14 فیصد تھی مگر انہیں 28 فیصد نشستیں دی گئیں۔ بہار میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14.6 فیصد تھی مگر نشستیں 26 فیصد دی گئیں۔ سینٹرل پروونسز میں مسلمان بہت کم تھے (تقریباً 5 فیصد)، لیکن انہیں 12 فیصد سے زیادہ نشستیں دی گئیں۔

    1937 کے انتخابات: ووٹ کا حق کن لوگوں کو حاصل تھا؟

    گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت 1937 کے انتخابات میں ووٹ کا حق آج کے عام حقِ رائے دہی سے بالکل مختلف تھا۔ اس دور میں ہر بالغ شہری کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تھا بلکہ ووٹر بننے کے لیے مخصوص قانونی، مالی، تعلیمی اور سماجی شرائط پوری کرنا ضروری تھیں۔ یہ تمام قواعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے چھٹے شیڈول کے تحت مقرر کیے گئے تھے۔

    ووٹر بننے کے بنیادی تقاضے

    کسی بھی شخص کے لیے ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے چند بنیادی شرائط لازمی تھیں۔ ووٹر کی عمر کم از کم 21 سال ہونی چاہیے تھی۔ اس کے ساتھ وہ برطانوی رعایا، کسی وفاقی ریاست کا باشندہ یا بعض مخصوص صورتوں میں کسی ہندوستانی ریاست کا شہری ہونا ضروری تھا۔ ایسا شخص جو کسی عدالت کی جانب سے ذہنی مریض قرار دیا گیا ہو یا کسی سنگین جرم میں قید، سزا یا جلاوطنی کی سزا کاٹ رہا ہو، ووٹ ڈالنے کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ رہائش بھی ایک اہم شرط تھی۔ شہری اور دیہی حلقوں میں ووٹر کے لیے ضروری تھا کہ وہ گزشتہ مالی سال کے دوران کم از کم 180 دن متعلقہ حلقے یا اس کی حدود کے قریب رہائش پذیر رہا ہو۔ یورپی حلقوں کے لیے شرط یہ تھی کہ متعلقہ شخص کم از کم 180 دن صوبہ سندھ میں مقیم رہا ہو۔

    سندھ اسمبلی کے پہلے اسپیکر بہادر بھوج سنگھ

    ٹیکس اور مالی حیثیت کی بنیاد پر ووٹ کا حق

    اس دور میں ٹیکس ادا کرنا ووٹ کے حق کے لیے ایک اہم معیار تھا۔ ایسا شخص جو گزشتہ مالی سال میں انکم ٹیکس ادا کرتا ہو، ووٹر بننے کا اہل سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح زمین داری بھی ووٹ کے حق کا اہم ذریعہ تھی۔ وہ افراد جو اپنی ملکیت، مستقل کاشتکاری یا سرکاری لیز پر ایسی زمین رکھتے تھے جس پر کم از کم آٹھ روپے مالیت کا لگان عائد ہوتا ہو، ووٹ ڈال سکتے تھے۔

    ہاری یا کاشتکار کے لیے شرط یہ تھی کہ وہ ایسی زمین کاشت کرتا ہو جس پر کم از کم سولہ روپے کا لگان عائد ہو۔ اگر ایک ہی زمین پر متعدد ہاری کام کرتے تھے تو ہر سولہ روپے لگان کے حساب سے صرف ایک ہاری ووٹ کا حق رکھتا تھا۔ اسی طرح وہ افراد بھی ووٹر بن سکتے تھے جنہیں حکومت کی جانب سے زمین یا محصول وصول کرنے کا حق حاصل ہو اور اس کی مالیت مخصوص حد تک پہنچتی ہو۔

    جائیداد اور رہائش کی بنیاد پر ووٹ

    کراچی میں ایسے افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جو کم از کم 30 روپے سالانہ کرائے والے مکان کے مالک یا کرایہ دار ہوں۔ کراچی سے باہر میونسپل یا دیگر شہری علاقوں میں یہ حد 18 روپے سالانہ کرایہ مقرر کی گئی تھی۔ بعض علاقوں میں ایسی جائیداد رکھنے والے افراد بھی ووٹر بن سکتے تھے جن کی سرمایہ مالیت کم از کم 750 روپے ہو۔

    تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ووٹ کا حق

    تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی ووٹر بننے کا راستہ موجود تھا۔ ایسا شخص جو بمبئی یونیورسٹی کا میٹرک، اسکول لیونگ امتحان یا اس کے مساوی کوئی امتحان پاس کر چکا ہو، ووٹ ڈالنے کا اہل تھا۔ اس میں ورنی کیولر فائنل جیسی تعلیمی اسناد بھی شامل تھیں۔

    فوجی خدمات کی بنیاد پر حقِ رائے دہی

    برطانوی فوج سے وابستہ ریٹائرڈ، پنشن یافتہ یا فارغ کیے گئے فوجی افسران، نان کمیشنڈ افسران اور سپاہیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا۔

    خواتین کے لیے ووٹ کا حق

    1937 کے انتخابات میں خواتین کو محدود پیمانے پر ووٹ کا حق حاصل تھا۔ کوئی خاتون اس صورت میں ووٹر بن سکتی تھی اگر وہ رہائش کی شرائط پوری کرتی ہو اور اس کے ساتھ وہ خواندہ ہو یا کسی فوجی افسر یا سپاہی کی بیوہ یا والدہ ہو۔ اسی طرح اگر اس کا شوہر انکم ٹیکس دہندہ، فوج سے وابستہ، زمین دار یا مخصوص مالیت کی جائیداد کا مالک ہوتا تو خاتون کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو جاتا تھا۔ کراچی میں شوہر کی جائیداد کے لیے سالانہ 60 روپے کرایہ مالیت کی شرط رکھی گئی تھی جبکہ دیگر علاقوں میں یہ حد 36 روپے تھی۔

    مشترکہ جائیداد اور جداگانہ انتخاب کا نظام

    مشترکہ خاندانی جائیداد کی صورت میں ہندو مشترکہ خاندان کا منتظم ووٹ کا اہل سمجھا جاتا تھا، جبکہ دیگر خاندانوں میں خاندان کی جانب سے نامزد فرد ووٹ ڈال سکتا تھا۔ 1937 کے انتخابات جداگانہ انتخاب کے اصول کے تحت منعقد ہوئے تھے۔ مسلمان حلقوں میں صرف مسلمان ووٹ ڈال سکتے تھے جبکہ سکھ حلقوں میں صرف سکھ ووٹرز کو حق حاصل تھا۔ ایسے افراد جو مخصوص مذہبی حلقوں میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے، وہ عموماً جنرل حلقوں میں ووٹ نہیں دے سکتے تھے۔

    ووٹر اندراج کا طریقہ کار

    بعض صورتوں میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کروانے کے لیے درخواست دینا ضروری تھا، خصوصاً تعلیمی قابلیت یا خواتین کی مخصوص شرائط کی بنیاد پر ووٹ کا حق حاصل کرنے والوں کے لیے۔

    1937 کے انتخابات کے دلچسپ اعداد و شمار

    1937 کے انتخابات سندھ کی سیاسی تاریخ کے اولین بڑے عوامی انتخاب تھے۔ صوبے میں کل 60 نشستیں تھیں جن میں سے 7 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے جبکہ باقی 53 نشستوں پر 151 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اس وقت سندھ میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 6 لاکھ 14 ہزار 942 تھی، جن میں سے 3 لاکھ 33 ہزار 589 ووٹ ڈالے گئے۔

    اس طرح مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 54.2 فیصد رہا۔ خواتین ووٹروں کی تعداد 27 ہزار 940 تھی لیکن ان میں سے صرف 9 ہزار 705 خواتین نے ووٹ ڈالے، یوں خواتین کا ٹرن آؤٹ صرف 34.7 فیصد رہا۔ انتخابات میں 33 امیدوار اپنی ضمانتیں بھی ضبط کرا بیٹھے۔ مزدور نشست پر ٹرن آؤٹ صرف 27.2 فیصد رہا جبکہ زمیندار نشستوں پر ووٹنگ کی شرح 75.4 فیصد تک جا پہنچی۔

    منتخب ہونے والے ارکان

    1937 کے انتخابات کے نتیجے میں سندھ کی سیاست کی کئی بڑی شخصیات اسمبلی کا حصہ بنیں۔ منتخب ہونے والوں میں سر غلام حسین ہدایت اللہ، شہید اللہ بخش سومرو، محترم جی ایم سید، محمد ایوب کھوڑو، شیخ عبدالمجید سندھی، سید میراں محمد شاہ، جام جان محمد خان، پیر الٰہی بخش (پیر مظہر الحق کے دادا) اور حاجی محمد ہاشم گذدر جیسی نمایاں سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ غیر مسلم اراکین میں جمشید نسروانجی مہتا، آر کے سدھوا، ڈاکٹر پوپٹ لال، پروفیسر جیٹھانند، کرنل موہن اور مس جیٹھی سپا ہیملانی سمیت کئی اہم نام شامل تھے۔

    27 اپریل 1937: سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس

    بالآخر وہ تاریخی دن آ پہنچا جب 27 اپریل 1937 کو کراچی میں سندھ قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس صبح 11 بجے منعقد ہوا۔ یہ اجلاس گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کی دفعہ 62(3) کے تحت طلب کیا گیا تھا۔ اس تاریخی اجلاس کے انتظامات اسمبلی کے سیکریٹری ٹیکمداس ڈی موتوانی نے انجام دیے۔ پہلے روز کے ایجنڈے میں ارکان سے تاجِ برطانیہ سے وفاداری کا حلف لینا، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب، اور تین اہم سرکاری بل پیش کرنا شامل تھا۔ ان بلوں میں وزرا کی تنخواہوں سے متعلق بل، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں کا بل اور اسمبلی انتخابات سے متعلق بعض نااہلیوں کے خاتمے کا بل شامل تھے۔

    دیوان بہادر ہیرانند کی بطور چیئرمین تقرری

    اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری سندھ اسمبلی نے گورنر سندھ سر لانسیلاٹ گراہم کا پیغام پڑھ کر سنایا، جس کے تحت دیوان بہادر ہیرانند کھیم سنگھ کو اسپیکر کے انتخاب تک عبوری چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ دیوان بہادر ہیرانند نے ایوان میں آ کر اپنی نشست سنبھالی اور اجلاس کی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے ارکان کو یاد دلایا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت ہر رکن کے لیے بادشاہِ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھانا لازمی ہے۔

    حلف برداری اور زبان کا تنازع

    چیئرمین نے سیکریٹری کو ہدایت دی کہ ارکان کے نام پکارے جائیں تاکہ وہ آگے آ کر حلف اٹھائیں، چیئرمین سے مصافحہ کریں اور رجسٹر پر دستخط کریں۔ چیئرمین دیوان بہادر ہیرانند کھیم سنگھ، جو اس سے قبل گورنر سندھ کے روبرو حلف اٹھا چکے تھے، نے اسمبلی اراکین سے حلف لیا۔ پہلے روز جن اراکین نے حلف یا توثیق کی،

    ان میں (1) سر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ، (2) مکھی گوبند رام پریتم داس، (3) میر بنده علی خان ولد میر حاجی محمد حسین خان ٹالپر، (4) شیخ عبدالمجید لیلارام، (5) عبد الستار عبد الرحمن پیرزادہ، (6) اکھجی رتن سنگھ سوڈھو، (7) خان صاحب اللہ بخش خداداد خان گبول، (8) خان بہادر اللہ بخش ولد محمد عمر سومرو، (9) سردار بہادر میر الهداد خان امام بخش خان ٹالپر، (10) خان بہادر حاجی امیر علی ولد ٹھارو خان لاہوری، (11) ارباب توگاچی میر محمد، (12) بھوج سنگھ گردنومل پہلجانی، (13) دیال مل دولت رام، (14) دولت رام موہن داس، (15) گھنشیام جیٹھانند شیو داسانی، (16) گھنومل تارا چند، (17) میر غلام علی ولد میر بنده علی خان ٹالپر، (18) میر غلام اللہ خان میر حاجی حسین بخش خان، (19) مخدوم غلام حیدر مخدوم ظہیر الدین، (20) خان بہادر غلام محمد

    عبداللہ خان اسراں، (21) غلام مرتضیٰ شاہ محمد شاہ سید، (22) خان بہادر غلام نبی شاہ موج علی شاہ، (23) راؤ صاحب گوکل داس میوا داس، (24) ہسا رام سندر داس، (25) ڈاکٹر ہیمن داس روپ چند وادھواني، (26) ہوت چند ہیرانند، (27) پیر الٰہی بخش ولد پیر نواز علی، (28) ایسر داس وارند مل، (29) خان صاحب جعفر خان گل محمد خان بڑدی، (30) جمشید نسروانجی مہتا، (31) جام جان محمد خان محمد شریف جونیجو، (32) مسز جینو بائی غلام علی الانا، (33) مس جیٹھی بائی تلسی داس سپاہیملانی، (34) خان بہادر قیصر خان ولد غلام محمد خان بوذدار، (35) کرنل ایچ جے مہون، (36) سید میراں محمد شاہ زین العابدین شاہ، (37) سید محمد علی شاہ ولد سید اللہ آندو شاہ، (38) خان بہادر محمد ایوب ولد شاہ محمد خان کھوڑو، (39) حاجی محمد ہاشم فیض محمد گذدر، (40) میر محمد خان ولد نواب سر غیبی خان چانڈیو، (41) محمد عثمان محمد خان سومرو، (42) محمد یوسف خان بہادر خیر محمد خان چانڈیو، (43) نارائِن داس اے بیچر، (44) نیوندرام وشنداس، (45) نہچلداس چاٹومل، (46) سید نور محمد شاہ ولد مراد علی شاہ سید، (47) ڈی این او سلیون، (48) پرتاب رائے کیسکھ داس، (49) ڈاکٹر پوپٹ لال اے بھوپتکار، (50) جی ایچ راشن، (51) رسول بخش خان محمد بخش خان انڑ، (52) خان صاحب رسول بخش شاہ محبوب شاہ، (53) رستم جی خورشید جی سدھوا، (54) شمس الدین خان درانی، (55) سیتل داس پیرومل، (56) خان صاحب سہراب خان صاحب ولد دینو خان سرکی، اور (57) میر زین الدین خان سندر خان سندراڻي شامل تھے۔

    جبکہ اسمبلی کے دوسرے روز یعنی 28 اپریل 1937 کو، پہلے دن غیر حاضر رہنے والے رکن پیر غلام حیدر شاہ نے اسپیکر کے انتخاب کے لیے ہونے والی بیلٹنگ کے دوران حلف اٹھایا۔

    حلف برداری کے دوران ہی زبان اور مذہبی حساسیت سے متعلق دلچسپ مباحث سامنے آئے۔ آر کے سدھوا نے اعتراض کیا کہ دیگر اسمبلیوں کی طرح حلف کا متن پہلے سے اراکین کو فراہم نہیں کیا گیا۔ ایم ایچ گذدر اور ڈاکٹر پوپٹ لال نے مطالبہ کیا کہ حلف کا متن سندھی اور ہندی زبان میں بھی مہیا کیا جائے تاکہ وہ ارکان جو انگریزی میں مہارت نہیں رکھتے، آسانی سے حلف اٹھا سکیں۔

    چیئرمین نے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے سندھی ترجمہ پڑھوانے کی اجازت دی جبکہ بعد ازاں ہندی ترجمہ فراہم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ اسی دوران آر کے سدھوا نے اوستا کی مذہبی کتاب کو ہاتھ لگا کر حلف اٹھانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ اسمبلی کوئی عدالت نہیں بلکہ سیاسی ادارہ ہے، اس لیے انہوں نے مذہبی کتاب پر حلف کے بجائے باقاعدہ اقرار نامہ دینے کو ترجیح دی۔

    اسمبلی میں زبان کے استعمال پر اہم فیصلہ

    پہلے ہی روز ایوان میں اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ اسمبلی کی کارروائی کس زبان میں چلائی جائے۔ چیئرمین نے فیصلہ دیا کہ انگریزی ایوان کی بنیادی زبان رہے گی، تاہم ایسے ارکان جو روانی سے انگریزی نہیں بول سکتے، انہیں پیشگی اجازت سے سندھی زبان میں اظہارِ خیال کی اجازت ہوگی۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت تھا کہ نو قائم شدہ اسمبلی کو ایک ایسی قانون ساز تنظیم بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی جہاں مختلف زبانیں اور ثقافتیں رکھنے والے اراکین کو نمائندگی کا احساس ہو۔

    لارڈ زیٹ لینڈ کی تقریر پر ہنگامہ خیز بحث

    حلف برداری کے بعد جب کارروائی آگے بڑھنے لگی تو ڈاکٹر پوپٹ لال اے بھوپتکار نے لارڈ زیٹ لینڈ، سیکریٹری آف اسٹیٹ فار انڈیا، کی ایک تقریر کے خلاف التوا کی تحریک پیش کر دی۔ اس تقریر میں صوبائی خودمختاری اور گورنروں کے خصوصی اختیارات سے متعلق خیالات کا اظہار کیا گیا تھا۔

    اپوزیشن ارکان کا مؤقف تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت دی گئی صوبائی خودمختاری دراصل محدود اور نمائشی ہے کیونکہ گورنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔ ڈاکٹر پوپٹ لال، این اے بیچر اور دیگر اراکین نے استدلال کیا کہ اگر گورنر کو ہر اہم معاملے میں مداخلت کا اختیار حاصل رہے گا تو پھر عوامی نمائندہ حکومت محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جائے گی۔

    اس بحث میں جی ایم سید، محمد ہاشم گذدر، شیخ عبدالمجید، اللہ بخش سومرو، محمد ایوب کھوڑو، ڈی این او سلیون، کرنل مہون اور دیگر اہم اراکین نے بھی حصہ لیا۔

    سر غلام حسین ہدایت اللہ کا مؤقف

    اس وقت کے پریمیئر سر غلام حسین ہدایت اللہ نے التوا کی تحریک کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ نہ تو حالیہ نوعیت کا ہے اور نہ ہی براہِ راست صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ ڈاکٹر پوپٹ لال نے یہ تحریک اس وقت جمع کرائی جب وہ ابھی باضابطہ طور پر حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔ سر غلام حسین ہدایت اللہ نے کہا کہ ان کی

    حکومت نے موجودہ آئینی نظام کے تحت ذمہ داریاں قبول کی ہیں اور وہ برطانوی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبے کو چلانے کے لیے تیار ہیں۔

    چیئرمین کا تاریخی فیصلہ

    بحث کے بعد دیوان بہادر ہیرانند کھیم سنگھ نے فیصلہ دیا کہ التوا کی تحریک قواعد کے مطابق ہے اور اس پر اسی روز شام چار بجے بحث کی جائے گی۔

    وزرا کی تنخواہوں کا بل اور کفایت شعاری کا اعلان

    اسی اجلاس کے دوران سر غلام حسین ہدایت اللہ نے تین اہم سرکاری بل پیش کیے۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ وزرا کی تنخواہوں سے متعلق بل کو ملی۔ ابتدائی طور پر اس بل میں ہر وزیر کے لیے ماہانہ دو ہزار روپے تنخواہ تجویز کی گئی تھی، تاہم سر غلام حسین ہدایت اللہ نے اعلان کیا کہ صوبے کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرا نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہ میں 500 روپے کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ حکومت نے ایوان سے درخواست کی کہ وزرا کی تنخواہ 1500 روپے ماہانہ مقرر کی جائے۔ یہ اقدام اس دور میں مالی کفایت شعاری اور عوامی احساسات کے احترام کے طور پر دیکھا گیا۔

    تاریخی اجلاس کا اختتام

    شام چار بجے دوبارہ اجلاس شروع ہوا اور لارڈ زیٹ لینڈ کی تقریر پر بحث ایک بار پھر جاری ہوئی۔ بحث کے دوران اس بات پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے کہ اراکین کو تقریر کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔ بعض اراکین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کوئی رکن انگریزی جانتا ہے تو کیا اسے پھر بھی سندھی میں تقریر کی اجازت ہونی چاہیے۔

    بحث شام چھ بجے تک جاری رہی، جس کے بعد چیئرمین نے اعلان کیا کہ قواعد کے مطابق یہ تحریک وقت ختم ہونے کے باعث خود بخود ختم ہو گئی ہے اور اس پر ووٹنگ نہیں ہوگی۔ یوں 27 اپریل 1937 کو سندھ قانون ساز اسمبلی کے پہلے تاریخی اجلاس کا اختتام ہوا۔

    سندھ اسمبلی کے پہلے سیشن کی کارروائی چار دن جاری رہی۔ دوسرے دن کی کارروائی بھی اسمبلی کے عارضی چیئرمین کی سربراہی میں شروع ہوئی جس میں اسپیکر کے انتخاب کا تاریخی مرحلہ سرانجام پایا۔ اسپیکر کے عہدے کے لیے پیر الٰہی بخش، دیوان بہادر بھوج سنگھ گردنومل پہلجانیے اور شیخ عبدالمجید سندھی امیدوار تھے۔ پہلے امیدوار پیر الٰہی بخش کے نام کے تجویز کنندہ جناب جی ایم سید جبکہ تائید کنندہ جناب محمد علی شاہ تھے۔

    دوسرے امیدوار دیوان بہادر بھوج سنگھ گردنومل پہلجانی کے نام کے تجویز کنندہ ڈاکٹر ہیمن داس روپچند جبکہ تائید کنندہ شری گوکل داس میول داس تھے۔ تیسرے امیدوار شیخ عبدالمجید سندھی کے نام کے تجویز کنندہ خان بہادر غلام نبی شاہ تھے جبکہ تائید کنندہ خان بہادر امیر علی لاہوری تھے۔ تاہم انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل پیر الٰہی بخش نے شیخ عبدالمجید سندھی کے حق میں دستبرداری اختیار کر لی۔

    بعد ازاں ہونے والی رائے شماری میں بھوج سنگھ گردنومل نے 40 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ شیخ عبدالمجید سندھی صرف 18 ووٹ لے سکے۔ اس نتیجے پر محمد ہاشم گذدر نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ مسلم اکثریتی اسمبلی نے ایک ہندو رکن کو اسپیکر منتخب کیا۔

    سندھ اسمبلی کے اس پہلے سیشن میں خان بہادر اللہ بخش خان گبول بنا مقابلہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ اجلاس کے تیسرے دن یعنی 29 اپریل کو سندھ کے گورنر سر لانسلیٹ گراہم نے خطاب کیا، جس کا کانگریس کے ممبران نے بائیکاٹ کیا۔ جبکہ آخری دن یعنی 30 اپریل 1937 کو سندھ اسمبلی نے تین بل پاس کیے اور سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

    سندھ اسمبلی کا یہ اجلاس صرف ایک پارلیمانی کارروائی نہیں تھا بلکہ سندھ کی سیاسی خودمختاری، آئینی شعور اور جمہوری ارتقا کے سفر کا نقطۂ آغاز تھا۔ آج، تقریباً نو دہائیوں بعد بھی، اس اجلاس کی گونج سندھ کی پارلیمانی تاریخ میں سنائی دیتی ہے۔