2 مئی 1972 بروز منگل کی صبح کراچی کی فضا معمول سے مختلف تھی۔ برسوں کی سیاسی کشمکش، ون یونٹ کے تلخ تجربے اور سندھ کی تاریخی شناخت کی بحالی کی جدوجہد کے بعد یہ وہ دن تھا جس کا سندھ کے عوام بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ سندھ اسمبلی کی عمارت میں غیر معمولی گہما گہمی تھی۔ ارکان ایک ایک کر کے ایوان میں داخل ہو رہے تھے۔ ہر چہرے پر ایک نئی تاریخ لکھے جانے کا احساس نمایاں تھا۔ یہ صرف ایک اسمبلی اجلاس نہیں تھا بلکہ سندھ اسمبلی کی بحالی کا پہلا تاریخی دن تھا۔
اجلاس کا باقاعدہ آغاز صبح نو بجے ہوا، جس کی صدارت گورنر سندھ الحاج میر رسول بخش خان تالپور نے کی۔ قاری شاکر قاسمی نے سورہ العصر کی تلاوت سے اس مبارک گھڑی کا آغاز کیا، جس کا ترجمہ اردو اور سندھی میں پیش کیا گیا۔
اس کے بعد اراکین اسمبلی کی حلف برداری کا مرحلہ آیا، اور سندھ اسمبلی کے سیکرٹری جمال ابڑو جو سندھی زبان کے معروف ادیب اور شارٹ اسٹوری رائٹر بھی تھے نے اعلان کیا کہ اب محترم گورنر سندھ میر رسول بخش تالپور پہلے سندھی، پھر اردو اور آخر میں انگریزی میں محترم اراکین سے حلف لیں گے۔
اس تاریخی دن پر ساٹھ اراکین اسمبلی نے سندھی اور اردو میں حلف اٹھایا، جب کہ انگریزی میں کسی نے بھی حلف نہیں اٹھایا۔ حلف اٹھانے والے اراکین کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ مسٹر عبد الحمید میمن، 2۔ مسٹر عبدالقادر، 3۔ مسٹر عبدالکریم پلی، 4۔ مسٹر عبداللہ بلوچ، 5۔ سید عبداللہ شاہ، 6۔ مسٹر عبدالواحد بروہی، 7۔ مسٹر احمد علی سومرو، 8۔ حاجی علی انور خان مہر، 9۔ رئیس علی نواز خان انڑ، 10۔ حاجی امیر بخش جونیجو، 11۔ سید علی قطب شاہ، 12۔ سید امیر علی شاہ جاموٹ، 13۔ ارباب امیر حسن، 14۔ میر عطا حسین خان تالپور، 15۔ سید بشیر احمد شاہ، 16۔ مسٹر بوستان علی ہوتھی، 17۔ مسٹر چندر سنگھ رانا، 18۔ مسٹر دوست محمد خان ہکڑو، 19۔ مسٹر در محمد اوستو، 20۔ شاہ فرید الحق، 21۔ مس فردوس جونیجو، 22۔ مسٹر جی اے مدنی، 23۔ مسٹر غلام حیدر، 24۔ حاجی غلام مجتبی خان جتوئی، 25۔ مسٹر غلام رسول خان کیہر، 26۔ مسٹر غلام شبیر شاہ، 27۔ پیر حاجی گل شاہ، 28۔ مسٹر افتخار احمد، 29۔ مسٹر الہی بخش خان، 30۔ میر امام بخش خان تالپور، 31۔ سید امداد حسین شاہ، 32۔ قاسم حاجی عباس، 33۔ سردار محبوب علی خان مگسی، 34۔ مسٹر محمد علی گبول، 35۔ سید محمد حسن شاہ، 36۔ مفتی محمد حسین، 37۔ خلیفو محمد عاقل ہنگورجو، 38۔ حاجی محمد بخش خان جمالی، 39۔ مسٹر محمد حسن حقانی، 40۔ مسٹر محمد خان سومرو، 41۔ مسٹر محمد عثمان کنیڈی، 42۔ میر ممتاز علی تالپور، 43۔ مسٹر منیر احمد آرائیں، 44۔ جام منیر احمد خان، 45۔ نواب مظفر حسین خان، 46۔ مسٹر نبی بخش خان بھرگری، 47۔ سید نادر علی شاہ، 48۔ سید نظر شاہ، 49۔ سردار نور محمد خان بجارانی، 50۔ مسٹر رحیم بخش سومرو، 51۔ جام صادق علی خان، 52۔ آغا صدرالدین خان درانی، 53۔ سید سعید حسن، 54۔ میر سندر خان سندرانی، 55۔ مس تاج بی بی، 56۔ مسٹر واحد بخش خان بگھیو، 57۔ مسٹر ولی محمد جاموٹ، 58۔ سید ظفر علی شاہ، 59۔ حاجی زاہد علی، 60۔ مسٹر ظہور الحسن بھوپالی۔
حلف اٹھانے کے بعد اراکین نے رجسٹر پر اپنے دستخط ثبت کیے اس کے سندھ کے گورنر میر رسول بخش خان تالپور نے سندھی میں اپنی تقریر کی، جس کا اردو ترجمہ بھی کیا گیا۔ گورنر نے اپنی تقریر میں کہا کہ
معزز اراکین اسمبلی
السلام علیکم
میں صدق دل کے ساتھ سندھ کی قانون ساز اسمبلی میں آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر صوبائی انتخابات میں کامیاب ہونے والے عوامی نمائندے بڑی جدوجہد کے بعد عوام کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے اپنا جائز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب اس معزز ایوان میں آپ کی کارروائیاں عوام کی خواہشات کے اظہار کا ذریعہ بنیں گی۔
یہ عظیم الشان کامیابی زبردست جدوجہد اور تکالیف کے بغیر حاصل نہیں ہوئی ہے۔ کامیابی کے اس موقع پر ہمیں کسانوں، مزدوروں اور طالب علموں کی جدوجہد کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے آزادی اور جمہوری طرز زندگی کے حصول کی ناقابل تسخیر خواہش کے تحت آپ کو اسمبلی کے لئے منتخب کیا ہے۔ لہذا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک ایسا سماجی اور اقتصادی نظام قائم کریں جو ہر قسم کے استحصال اور لوٹ مار سے پاک ہو۔
یہ آپ کا مقدس فریضہ ہے کہ آپ محنت کش طبقہ کی حالت کو بہتر بنائیں جو ہمارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جو ماضی میں شدید محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ تقریباً چار ماہ کے اس عرصے میں جب سے پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی ہے اصلاحات اور تعمیر نو کے کام پر زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم منصوبہ بندی اور ترقی کے سلسلے میں ابھی بہت سا کام باقی ہے۔
صوبہ سندھ کے مستقبل کی ذمہ داری اب آپ کے شانوں پر ہے۔ پورے صوبے کی نگاہیں اب آپ پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ نگاہیں امید و بیم کے تاثرات کے ساتھ ایک تعمیری جذبے کے تحت برسر اقتدار افراد سے سوال کر رہی ہیں کہ اب وہ ان کے لئے کیا خدمات انجام دیتے ہیں۔ عوام اب تک کئے جانے والے ان کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں جو ان کی حالت کو بہتر بنانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اب یہ آپ کا کام ہے کہ آپ نے انتخاب کے وقت جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کریں اور اسلامی سوشلزم کے اصولوں کو نافذ کر کے بیماری، بدحالی، غربت اور مفلسی کو دور کرنے کی کوشش کریں اور عوام کے تحفظ اور خوشحالی کا اہتمام کریں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کی ان مبارک کوششوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مدد کروں گا۔
معزز اراکین
ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم نے آزادی اس لئے حاصل کی تھی کہ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ لہذا اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ان اصولوں کو اپنائیں اور اس نظریے کو فراموش نہ کریں جس پر ایک قوم کی حیثیت سے ہماری آزادی کا
انحصار ہے۔ ہمارا مقصد جس کا ہم نے بہ بانگ دہل اعلان کیا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے عوام کے لئے خوشحالی لائی جائے اور قوموں کی عالمی برادری میں اپنے لئے ایک جائز اور باوقار مقام حاصل کیا جائے تا کہ ہم انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کی جدوجہد میں شامل ہو سکیں۔
حالیہ اقتصادی اور سیاسی بحران کی وجہ سے ہمارا ملک بے شمار مسائل سے دوچار ہو گیا ہے جنہیں حل کرنے میں آپ کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اپنی تاریخ کے اس نازک دور میں ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جانا چاہئے۔
ہم یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم متحد نہیں ہو جاتے اور علاقائی عصبیتوں پر قومی مفاد کو ترجیح نہیں دیتے۔ ایک ایسی قوم جو طبقوں اور گروہوں میں بٹی ہوئی ہو اور ایک دوسرے کے خلاف منافرت اور بے اعتمادی کے جذبات کو ابھارنے کی حوصلہ افزائی کرے وہ کبھی خوشحال نہیں ہو سکتی بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ وہ اپنی آزادی بھی برقرار نہیں رکھ سکتی جیسا کہ ابراہم لنکن نے ایک ایسے موقع پر جب امریکی قوم بھی ایسے ہی مسائل سے دوچار تھی یہ کہا تھا کہ ایک ایسا گھر جو اپنے ہی خلاف عدم اتحاد کا شکار ہو قائم نہیں رہ سکتا۔ لہذا میں آپ سے اپیل کروں گا کہ آپ علیحدگی پسند رجحانات اور ایسے اختلافی مسئلوں کا شکار نہ ہوں جو کسی کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہو سکتے۔ یہ ہمارا فرض ہے اور ہمارا مفاد بھی اسی میں ہے کہ ایک مضبوط اور طاقتور پاکستان کی تعمیر کی جائے اور اسے دنیا کا عظیم ترین ملک بنایا جائے۔ لہذا آپ کو جو اختیارات دیے گئے ہیں انہیں ہمیشہ اس صوبے اور پاکستان کے عوام کی مستقل فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں۔
میری دلی تمنا ہے کہ آپ اپنی کوششوں اور توقعات میں کامیاب ہوں اور میں خلوص دل سے یہ دعا کرتا ہوں کہ آپ اپنی ان عظیم ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں جو آپ کو سونپی گئی ہیں۔
پاکستان پائندہ باد۔
گورنر نے تقریر مکمل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ میں سید عبداللہ شاہ کو چیئرمین سندھ اسمبلی نامزد کرتا ہوں تاکہ وہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے الیکشن کروا کر اسمبلی کا باقاعدہ آغاز کریں۔ اس کے بعد سید عبداللہ شاہ نے اعلان کیا کہ آدھے گھنٹے میں جو اراکین اسپیکر کے انتخاب میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنے فارم جمع کرائیں، اور اجلاس آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ جب دس بج کر تیس منٹ پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو چیئرمین سید عبداللہ شاہ نے اعلان کیا کہ جیسا کہ اسپیکر کے لئے صرف غلام رسول خان کیہر کا فارم موصول ہوا ہے لہذا انہیں بلا مقابلہ اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب کیا گیا ہے۔ اس وقت نومنتخب اسپیکر سے حلف گورنر لیتا تھا، لہذا اعلان کیا گیا کہ گورنر سے حلف اٹھانے کے بعد تین بجے اجلاس نومنتخب اسپیکر کی زیر صدارت دوبارہ شروع ہوگا۔
تین بجے جب اسمبلی اجلاس تیسری مرتبہ شروع ہوا تو اسپیکر غلام رسول خان کیہر نے چیئرمین آف پینل کا اعلان کیا، جس میں مسٹر جی اے مدنی، سید سعید حسن، مس تاج بی بی اور سید امداد حسین شاہ شامل تھے۔
اس کے بعد نومنتخب اسپیکر نے اپنی کرسی سنبھالتے ہی نہایت جذباتی انداز میں ایوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک تاریخی لمحہ ہے اور وہ ایوان کے تمام ارکان کے شکر گزار ہیں جنہوں
نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوان کے تمام معزز اراکین کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور پوری دیانت داری، غیر جانبداری اور انصاف کے ساتھ اس ایوان کی کارروائی چلانے کی کوشش کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی ایک عظیم تاریخی ادارہ ہے اور ماضی میں اس ایوان نے برصغیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ ذمہ داری موجودہ ارکان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ادارے کے وقار کو مزید بلند کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے کام کریں۔
اسپیکر نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے وقار اور جمہوری روایات کو برقرار رکھنے میں ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے سندھ کے عوام کا ایوان ہے اور ہر رکن کو اپنے خیالات کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
اس خطاب کے بعد مبارکبادوں اور تہنیتی تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ وزیر اعلی ممتاز علی بھٹو سب سے پہلے کھڑے ہوئے اور انہوں نے نومنتخب اسپیکر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کو ایک باوقار اور پارلیمانی روایات سے واقف شخصیت کی قیادت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے اسپیکر کی سربراہی میں ایوان عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرے گا۔
حکومتی ارکان نے اپنی تقاریر میں کہا کہ سندھ کی بحالی کے بعد یہ اسمبلی عوامی حقوق کی حقیقی ترجمان ثابت ہوگی۔ بعض ارکان نے کہا کہ ون یونٹ کے دور نے سندھ کی شناخت کو دبانے کی کوشش کی لیکن آج سندھ اسمبلی کی بحالی نے عوام کے دلوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔
اپوزیشن ارکان نے بھی اسپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایوان کو غیر جانبدارانہ انداز میں چلایا جائے گا اور اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے جمہوری انداز میں سنا جائے گا۔
اجلاس کو اگلے دن یعنی تین مئی 1972 تک ملتوی کیا گیا۔ تین مئی 1972 کو سید عبداللہ شاہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ ون یونٹ کے ٹوٹنے کے بعد بننے والی اس سندھ اسمبلی میں ممتاز علی بھٹو یکم مئی 1972 کو وزیر اعلی سندھ بنے اور بیس دسمبر 1973 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے ایک سال خدمات انجام دینے کے بعد سید عبداللہ شاہ نے صوبائی کابینہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں یکم جون 1973 کو آغا صدرالدین خان درانی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔
پچیس جون 1973 کو سندھ کی گورنر بیگم رعنا لیاقت علی خان نے سندھ اسمبلی سے خطاب کیا۔ اسی روز اکسٹھ اراکین نے 1973 کے نئے آئین کے تحت حلف اٹھایا۔ چوبیس دسمبر 1974 کو غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کے وزیر اعلی منتخب ہوئے۔
اپنی مدت کار کے دوران اس اسمبلی نے سترہ اجلاس منعقد کیے جن میں مجموعی طور پر ایک سو سینتیس نشستیں ہوئیں۔ اسمبلی نے ایک سو چودہ بل منظور کیے جبکہ ایوان میں ایک ہزار سات سو پچپن سوالات کے جوابات دیے گئے۔
تئیس جون 1972 کو اسپیکر نے شاہ فرید الحق کو قائد حزب اختلاف مقرر کیا۔ سات جنوری 1977 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ مارچ 1977 میں نئے عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات سات مارچ جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات دس مارچ 1977 کو کرانے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی دس جنوری کو تحلیل کی جائے گی جبکہ صوبائی اسمبلیاں تیرہ جنوری 1977 کو تحلیل کر دی جائیں گی۔ یوں تین مئی 1972 کو وجود میں آنے والی یہ اسمبلی جنوری 1977 میں تحلیل کر دی گئی۔
