[rank_math_breadcrumb]

اچھڑو تھر: سندھ کا سفید صحرا، جہاں ریت کے درمیان جھیلیں زندگی کو جنم دیتی ہیں

سندھ کے ضلع سانگھڑ کے مشرقی حصے میں واقع اچھڑو تھر یا ‘وائٹ ڈیزرٹ’ ایک منفرد صحرائی خطہ ہے۔

یہ صحرا اپنی سفید مائل ریت، ریتیلے ٹیلوں کے درمیان پھیلے قدرتی آبی ذخائر، چراگاہوں اور مال مویشی پر مشتمل معیشت کی وجہ سے تھرپارکر کے سرخ و سنہری ریت والے صحرا سے بالکل مختلف شناخت رکھتا ہے۔ ماہرین اسے سندھ کے نایاب صحرائی ویٹ لینڈ نظام کا حصہ قرار دیتے ہیں، جہاں صحرا اور پانی ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

اچھڑو تھر زیادہ تر ضلع سانگھڑ کے شمال مشرقی علاقوں اور ضلع خیرپور کے جنوب مشرقی حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی ساخت میں بلند و پست سفید ریتیلے ٹیلے، قدرتی نشیبی میدان، نمکین زمینیں اور بارش یا نہری پانی سے بھرنے والی قدیم جھیلیں شامل ہیں۔ یہی خصوصیات اسے پاکستان کے دیگر صحراؤں سے ممتاز بناتی ہیں۔

اس صحرا کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ویٹ لینڈ کمپلیکس ہے، جہاں تقریباً سو کے قریب چھوٹی بڑی جھیلیں اور آبی ذخائر موجود ہیں۔ ان میں بوٹار، کلاں کر، ماتھون، اکڑو، گجاری، کلر واری اور سنہری جھیلیں زیادہ معروف ہیں۔ بعض جھیلیں نارا کینال نظام سے آنے والے پانی سے میٹھی رہتی ہیں، جبکہ کئی جھیلیں بارشوں پر انحصار کرتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ نمکین ہو جاتی ہیں۔ یہی آبی ذخائر صحرائی ماحول میں حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

بارشوں کے بعد اچھڑو تھر کا منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ سفید ریت کے درمیان سبز گھاس اگ آتی ہے، قدرتی چراگاہیں آباد ہو جاتی ہیں اور جھیلیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔ یہی موسم مقامی چرواہوں کے لیے سب سے اہم ہوتا ہے کیونکہ مویشیوں کو وافر چارہ میسر آتا ہے اور دودھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

اچھڑو تھر کی معیشت کا بنیادی انحصار مال مویشی پر ہے۔ یہاں بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ اور بعض علاقوں میں بھینسیں بھی پالی جاتی ہیں۔ مقامی خاندان نسل در نسل چرواہا طرز زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں اور موسمی حالات کے مطابق اپنے ریوڑوں کے ساتھ چراگاہوں اور جھیلوں کے درمیان نقل مکانی کرتے ہیں۔ اونٹ اس خطے کی روایتی شناخت ہے، جبکہ بھیڑ اور بکریاں مقامی آبادی کی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

یہ صحرا پرندوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سردیوں میں وسطی ایشیا اور سائبیریا سے آنے والے ہزاروں مہاجر پرندے ان جھیلوں پر قیام کرتے ہیں۔ فلیمنگو، پیلیکن، بطخوں کی مختلف اقسام، بگلے، آبی مرغابیاں اور دوسرے آبی پرندے ہر سال یہاں پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین اچھڑو تھر کے ویٹ لینڈز کو بین الاقوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔

اچھڑو تھر میں جنگلی حیات بھی پائی جاتی ہے۔ صحرائی لومڑی، جنگلی خرگوش، چنکارا ہرن، صحرائی رینگنے والے جانور اور مختلف اقسام کے پرندے اس ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ صحرائی پودے، جھاڑیاں اور قدرتی گھاس نہ صرف جنگلی حیات بلکہ مقامی مویشیوں کی بقا کے لیے بھی ضروری ہیں۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے غیر متوقع رجحانات، نارا کینال میں پانی کی کمی، زیر زمین پانی کی گرتی سطح اور غیر منصوبہ بند انسانی سرگرمیاں اچھڑو تھر کے قدرتی نظام کے لیے بڑے خطرات بنتی جا رہی ہیں۔ جھیلوں کے سکڑنے سے نہ صرف مہمان پرندوں کی تعداد متاثر ہوتی ہے بلکہ مقامی چرواہوں اور ان کے مال مویشیوں کی زندگی بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

قدرتی حسن، سفید ریت، جھیلوں کے جال، چراگاہوں، مہاجر پرندوں اور صدیوں پرانی چرواہا ثقافت کے امتزاج نے اچھڑو تھر کو سندھ کے منفرد ترین قدرتی خطوں میں شامل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس علاقے کے ویٹ لینڈز، حیاتیاتی تنوع اور روایتی طرز زندگی کے تحفظ کو مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں: