Tag: جھیل

  • جنگ عظیم کے دوران اتحادی فوجیوں کے پانی کے لیے ہالیجی جھیل بنانے والے کاریگروں کی رہائش گاہیں آج بھی موجود

    جنگ عظیم کے دوران اتحادی فوجیوں کے پانی کے لیے ہالیجی جھیل بنانے والے کاریگروں کی رہائش گاہیں آج بھی موجود

    دوسری جنگ عظیم کے دوران کراچی اتحادی افواج کا سب سے اہم اڈہ تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں برطانوی، امریکی اور دیگر ممالک کے فوجی یہاں موجود تھے، اور جنگ کب ختم ہوگی اس بارے میں کوئی یقین نہیں تھا۔ ان تمام فوجیوں کے لیے پانی کا انتظام ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ موجودہ پانی کی فراہمی ناکافی تھی، اس لیے انگریز حکومتِ سندھ نے ایک بڑا منصوبہ ہاتھ میں لیا۔

    ہالیجی  جھیل اس وقت ایک چھوٹی سی کھاری جھیل تھی۔ 1940 سے 1943 کے دوران تقریباً پچیس سو مزدوروں نے دن رات کام کرکے اسے میٹھے پانی کے ذخیرے میں تبدیل کر دیا۔ جھیل کے گرد مٹی کا بہت بڑا بند بنایا گیا، نمکین پانی نکالا گیا، اور دریائے سندھ سے ایک نہر کھود کر اسے جوڑ دیا گیا۔ یہ پورا کام صرف دو سال میں مکمل ہوا اور 1943 میں جھیل تیار ہوگئی۔ آپ کو جو بورڈ ملا ہے وہ اسی دورِ تعمیر کا نشان ہے۔

    چھوٹی سی کھارے پانی کی جھیل کو میٹھے پانی کا ذخیرہ بنانے کے لیے کام کرنے عملے اور مزدوروں کی رہائش گاہ کے لیے بنائے گئی عمارتیں آٹھ دہائیوں کے باجود قائم ہیں۔ وہاں جنریٹر، پانی کی موٹرز اور دیگر سامان بھی جوں کا توں موجود ہے۔

    جنگ کے بعد یہ جھیل کراچی کے پانی کی اہم فراہم کنندہ رہی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ جگہ قدرتی اعتبار سے بھی منفرد بن گئی۔ میٹھے پانی کے اس ذخیرے نے پرندوں کی ہجرت کے راستے پر ایک محفوظ ٹھکانا فراہم کیا۔ رفتہ رفتہ ہالیجی  جھیل ایشیا کی سب سے بڑی پرندوں کی پناہ گاہ کے طور پر مشہور ہوگئی۔ سنہ 1972 میں سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اسے محفوظ علاقہ قرار دیا اور 1976 میں اسے رامسر کنونشن کے تحت بین الاقوامی اہمیت کی آبی زمین تسلیم کیا گیا۔

    آج ہالیجی  جھیل پانی کی قلت کے باعث اپنے عروج کے دور میں نہیں ہے، مگر یہ عمارتیں اس عظیم تاریخی منصوبے کی خاموش گواہی دے رہا ہے جب ایک جنگی ضرورت نے ایک ایسی جھیل وجود میں لائی جو بعد میں شہر کی پیاس بجھانے اور قدرتی حیات کی حفاظت کا باعث بنی۔

  • طائر بینوں کی جنت کہلانے والی ہالیجی جھیل کے راستے پر آر بی او ڈی پر 2009 سے ٹوٹا پل دوباری تعمیر نہ ہوسکا

    طائر بینوں کی جنت کہلانے والی ہالیجی جھیل کے راستے پر آر بی او ڈی پر 2009 سے ٹوٹا پل دوباری تعمیر نہ ہوسکا

    کراچی سے چند ہی فاصلے پر واقع ہالیجی جھیل نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی ایک اہم میٹھے پانی کی جھیل ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر رامسر سائٹ کا درجہ بھی حاصل ہے۔ یہ جھیل ہزاروں مہاجر پرندوں کی پناہ گاہ ہے اور ماحولیاتی توازن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر ہفتے، خاص طور پر تعطیلات کے دنوں میں، کراچی سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ مگر اس خوبصورت مقام تک پہنچنے والا راستہ خود ایک کہانی سناتا ہے، بے حسی، بدانتظامی اور ٹوٹے وعدوں کی کہانی۔

    یہ مسئلہ ہالیجی جھیل کے قریب آر بی او ڈی سے جڑا ہوا ہے، جو اصل میں سندھ کے دائیں کنارے سے زہریلا اور کھارا پانی نکالنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر اس منصوبے کی تعمیر نے کئی نئی مشکلات کو جنم دیا، جن میں سب سے نمایاں ہالیجی جھیل کے قریب گزرنے والا راستہ ہے۔

    2006 میں، نیشنل ہائی وے سے ہالیجی جھیل کی طرف جانے والے راستے پر آر بی او ڈی کے اوپر ایک پل تعمیر کیا گیا۔ یہ پل مقامی آبادی اور سیاحوں دونوں کے لیے ایک اہم گزرگاہ تھا۔ لیکن حیران کن طور پر یہ پل چند ہی سالوں میں زبوں حالی کا شکار ہوگیا، جو تعمیراتی معیار اور نگرانی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔

    2009 میں اس پل کی دوبارہ تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے۔ ایک ٹھیکیدار نے کام بھی سنبھالا اور ابتدائی مہینوں میں پل کا اسٹرکچر بھی کھڑا کردیا گیا۔ مگر اس کے بعد جو ہوا، وہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کی ایک عام مگر افسوسناک کہانی ہے۔ ٹھیکیدار اچانک غائب ہوگیا، کام رک گیا، اور منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ نہ کوئی احتساب ہوا، نہ کسی نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    اس کے بعد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس مسئلے کا عارضی حل نکالا۔ انہوں نے پانی کے بہاؤ کے لیے پائپ ڈالے اور اوپر مٹی ڈال کر ایک کچا پل بنا لیا۔ یہی کچا راستہ آج بھی استعمال ہو رہا ہے۔ مگر یہ حل نہ محفوظ ہے، نہ پائیدار۔

    بارشوں کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے۔ یہ عارضی راستہ مکمل طور پر ڈوب جاتا ہے، جس کے باعث متعدد گاؤں کا زمینی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ مریضوں کو اسپتال پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ سیاح بھی اس خستہ حال راستے کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، جس سے ہالیجی جھیل کی سیاحتی اہمیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ آخر 16 سال گزرنے کے باوجود یہ پل دوبارہ کیوں تعمیر نہیں ہوسکا؟ کیا ایک اہم ماحولیاتی مقام اور اس سے جڑے درجنوں دیہات اس قابل نہیں کہ انہیں ایک محفوظ راستہ فراہم کیا جائے؟ آر بی او ڈی جیسے بڑے منصوبے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اگر ایک بنیادی پل کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکتی، تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    یہ معاملہ صرف ایک پل کا نہیں، بلکہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات، نگرانی، اور جوابدہی کا امتحان ہے۔ جب تک ان سوالوں کے جواب نہیں دیے جاتے، ہالیجی جھیل کا یہ راستہ اسی طرح ٹوٹا رہے گا، اور اس کے ساتھ جڑی امیدیں بھی۔