Tag: صحرا

  • نگرپارکر کے اسمال ڈیمز، بارش کے پانی نے صحرا کی تقدیر کیسے بدلنا شروع کی؟

    نگرپارکر کے اسمال ڈیمز، بارش کے پانی نے صحرا کی تقدیر کیسے بدلنا شروع کی؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں جب برسات ہوتی ہے تو کارونجھر کے قدیم گرینائٹ پہاڑوں سے درجنوں برساتی نالے رن کچھ کی جانب بہہ نکلتے ہیں۔

    ماضی میں یہ قیمتی پانی چند ہی دنوں میں ضائع ہو جاتا تھا، جس کے بعد مہینوں تک پورا علاقہ پانی کی شدید قلت، خشک سالی اور نقل مکانی جیسے مسائل کا سامنا کرتا تھا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں انہی قدرتی گزرگاہوں پر تعمیر کیے جانے والے اسمال ڈیمز نے اس صورتحال کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔

    نگرپارکر کا بیشتر علاقہ بارش پر منحصر ہے۔ یہاں نہ کوئی مستقل دریا بہتا ہے اور نہ ہی نہری نظام موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مون سون کی بارشیں ہی اس خطے کی زراعت، مویشی پالنے اور پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اگر بارش اچھی ہو تو صحرا سرسبز ہو جاتا ہے، لیکن اگر بارش کم ہو تو قحط جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

    اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے مختلف مراحل میں کارونجھر سے اترنے والے برساتی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے اسمال ڈیمز کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا۔ ابتدا میں ان ڈیمز کی تعداد محدود تھی، مگر اب نگرپارکر کے مختلف مقامات پر درجنوں اسمال ڈیمز تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

    یہ ڈیمز بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ زیر زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب پانی کئی ماہ تک ڈیموں میں جمع رہتا ہے تو اس کا بڑا حصہ زمین میں جذب ہو کر زیر زمین پانی کی سطح بلند کرتا ہے، جس سے آس پاس کے کنوؤں اور بورنگ میں پانی کی دستیابی بہتر ہوتی ہے۔

    اسمال ڈیمز کا سب سے بڑا فائدہ زراعت کے شعبے کو پہنچ رہا ہے۔ پہلے جہاں بارش ختم ہونے کے چند ہفتوں بعد کھیت خشک ہو جاتے تھے، اب محفوظ شدہ پانی کی بدولت کئی ماہ تک کاشتکاری ممکن ہو رہی ہے۔ کسان اب صرف بارانی فصلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ سبزیاں، پیاز، مرچ، گوار، باجرہ اور دیگر فصلیں بھی کاشت کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں جدید آبپاشی کے طریقے بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں، جس سے پانی کا بہتر استعمال ممکن ہو رہا ہے۔

    ان منصوبوں سے مویشی پالنے والے خاندانوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ بارش کے بعد ڈیموں میں محفوظ پانی اور اطراف میں اگنے والی گھاس مویشیوں کے لیے کئی ماہ تک چارے اور پانی کا انتظام فراہم کرتی ہے، جس سے قحط کے دوران ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔

    نگرپارکر میں اسمال ڈیمز کا ایک اہم اثر نقل مکانی میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بارش نہ ہونے کی صورت میں بڑی تعداد میں خاندان روزگار اور پانی کی تلاش میں دیگر شہروں کا رخ کرتے تھے، لیکن اب جن علاقوں میں ڈیم تعمیر ہوئے ہیں وہاں مقامی لوگوں کے لیے سال کے زیادہ عرصے تک روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کارونجھر سے بہنے والا برساتی پانی صدیوں سے بغیر استعمال کے رن کچھ میں جا گرتا تھا۔ اگر اس پانی کا زیادہ سے زیادہ حصہ محفوظ کیا جائے تو نہ صرف ہزاروں ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو بھی قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔

    تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اسمال ڈیمز کی کامیابی صرف تعمیر تک محدود نہیں۔ ان کی باقاعدہ دیکھ بھال، وقتاً فوقتاً گاد کی صفائی، مضبوط حفاظتی بند، پانی کے منصفانہ استعمال اور مقامی آبادی کی شمولیت بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ یہ منصوبے کئی دہائیوں تک مؤثر رہ سکیں۔

    موسمیاتی تبدیلی کے باعث سندھ میں بارشوں کا نظام تیزی سے غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ماہرین اسمال ڈیمز کو صرف ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی ایک اہم حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

    نگرپارکر کے یہ اسمال ڈیمز اس بات کی مثال ہیں کہ اگر بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کر لیا جائے تو صحرا بھی سرسبز ہو سکتا ہے، زراعت کو نئی زندگی مل سکتی ہے اور مقامی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

    ‘ساگا ڈیجیٹل’، پاکستان کا اے آئی پاورڈ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم۔

  • اچھڑو تھر: سندھ کا سفید صحرا، جہاں ریت کے درمیان جھیلیں زندگی کو جنم دیتی ہیں

    اچھڑو تھر: سندھ کا سفید صحرا، جہاں ریت کے درمیان جھیلیں زندگی کو جنم دیتی ہیں

    سندھ کے ضلع سانگھڑ کے مشرقی حصے میں واقع اچھڑو تھر یا ‘وائٹ ڈیزرٹ’ ایک منفرد صحرائی خطہ ہے۔

    یہ صحرا اپنی سفید مائل ریت، ریتیلے ٹیلوں کے درمیان پھیلے قدرتی آبی ذخائر، چراگاہوں اور مال مویشی پر مشتمل معیشت کی وجہ سے تھرپارکر کے سرخ و سنہری ریت والے صحرا سے بالکل مختلف شناخت رکھتا ہے۔ ماہرین اسے سندھ کے نایاب صحرائی ویٹ لینڈ نظام کا حصہ قرار دیتے ہیں، جہاں صحرا اور پانی ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    اچھڑو تھر زیادہ تر ضلع سانگھڑ کے شمال مشرقی علاقوں اور ضلع خیرپور کے جنوب مشرقی حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی ساخت میں بلند و پست سفید ریتیلے ٹیلے، قدرتی نشیبی میدان، نمکین زمینیں اور بارش یا نہری پانی سے بھرنے والی قدیم جھیلیں شامل ہیں۔ یہی خصوصیات اسے پاکستان کے دیگر صحراؤں سے ممتاز بناتی ہیں۔

    اس صحرا کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ویٹ لینڈ کمپلیکس ہے، جہاں تقریباً سو کے قریب چھوٹی بڑی جھیلیں اور آبی ذخائر موجود ہیں۔ ان میں بوٹار، کلاں کر، ماتھون، اکڑو، گجاری، کلر واری اور سنہری جھیلیں زیادہ معروف ہیں۔ بعض جھیلیں نارا کینال نظام سے آنے والے پانی سے میٹھی رہتی ہیں، جبکہ کئی جھیلیں بارشوں پر انحصار کرتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ نمکین ہو جاتی ہیں۔ یہی آبی ذخائر صحرائی ماحول میں حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

    بارشوں کے بعد اچھڑو تھر کا منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ سفید ریت کے درمیان سبز گھاس اگ آتی ہے، قدرتی چراگاہیں آباد ہو جاتی ہیں اور جھیلیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔ یہی موسم مقامی چرواہوں کے لیے سب سے اہم ہوتا ہے کیونکہ مویشیوں کو وافر چارہ میسر آتا ہے اور دودھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    اچھڑو تھر کی معیشت کا بنیادی انحصار مال مویشی پر ہے۔ یہاں بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ اور بعض علاقوں میں بھینسیں بھی پالی جاتی ہیں۔ مقامی خاندان نسل در نسل چرواہا طرز زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں اور موسمی حالات کے مطابق اپنے ریوڑوں کے ساتھ چراگاہوں اور جھیلوں کے درمیان نقل مکانی کرتے ہیں۔ اونٹ اس خطے کی روایتی شناخت ہے، جبکہ بھیڑ اور بکریاں مقامی آبادی کی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

    یہ صحرا پرندوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سردیوں میں وسطی ایشیا اور سائبیریا سے آنے والے ہزاروں مہاجر پرندے ان جھیلوں پر قیام کرتے ہیں۔ فلیمنگو، پیلیکن، بطخوں کی مختلف اقسام، بگلے، آبی مرغابیاں اور دوسرے آبی پرندے ہر سال یہاں پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین اچھڑو تھر کے ویٹ لینڈز کو بین الاقوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔

    اچھڑو تھر میں جنگلی حیات بھی پائی جاتی ہے۔ صحرائی لومڑی، جنگلی خرگوش، چنکارا ہرن، صحرائی رینگنے والے جانور اور مختلف اقسام کے پرندے اس ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ صحرائی پودے، جھاڑیاں اور قدرتی گھاس نہ صرف جنگلی حیات بلکہ مقامی مویشیوں کی بقا کے لیے بھی ضروری ہیں۔

    ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے غیر متوقع رجحانات، نارا کینال میں پانی کی کمی، زیر زمین پانی کی گرتی سطح اور غیر منصوبہ بند انسانی سرگرمیاں اچھڑو تھر کے قدرتی نظام کے لیے بڑے خطرات بنتی جا رہی ہیں۔ جھیلوں کے سکڑنے سے نہ صرف مہمان پرندوں کی تعداد متاثر ہوتی ہے بلکہ مقامی چرواہوں اور ان کے مال مویشیوں کی زندگی بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

    قدرتی حسن، سفید ریت، جھیلوں کے جال، چراگاہوں، مہاجر پرندوں اور صدیوں پرانی چرواہا ثقافت کے امتزاج نے اچھڑو تھر کو سندھ کے منفرد ترین قدرتی خطوں میں شامل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس علاقے کے ویٹ لینڈز، حیاتیاتی تنوع اور روایتی طرز زندگی کے تحفظ کو مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

  • عمرکوٹ: صحرا میں ریت کا طوفان، خشک سالی اور پانی کی قلت، مون سون کی بارشوں کا بے چینی سے انتظار

    عمرکوٹ: صحرا میں ریت کا طوفان، خشک سالی اور پانی کی قلت، مون سون کی بارشوں کا بے چینی سے انتظار

    تھرپارکر، عمرکوٹ اور اچھڑو تھر میں مون سون بارشوں سے قبل چلنے والی تیز سمندری طوفانی ہواؤں نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔

    گرد آلود ہوائیں پورے صحرائی خطے پر چھائی ہوئی ہیں، جبکہ ریت کے طوفانوں نے دیہی راستوں، سڑکوں اور کھلے میدانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مقامی آبادی اب شدت سے مون سون بارشوں کی منتظر ہے، جنہیں اس بحران سے نجات کی واحد امید سمجھا جا رہا ہے۔

    صحرائے تھر اس وقت شدید خشک سالی، پانی کی قلت اور مسلسل تیز ہواؤں کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ریت جمع ہونے سے آمد و رفت شدید متاثر ہو گئی ہے، جبکہ متعدد مقامات پر صرف فور ویل گاڑیوں کے ذریعے ہی سفر ممکن رہ گیا ہے۔ تیز گرد آلود ہواؤں کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

    تھر کے بیشتر خاندانوں کا انحصار مویشی پالنے پر ہے، لیکن بارشوں میں تاخیر اور خشک سالی نے چرائی کے میدان تقریباً ختم کر دیے ہیں۔ چھوٹے پودے ریت میں دب چکے ہیں، جس سے جانوروں کے لیے چارے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ پانی اور خوراک کی کمی کے باعث مویشیوں میں بیماریوں کے خطرات بھی بڑھنے لگے ہیں، جس سے مقامی آبادی کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    جنگلی حیات بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ صحرائے تھر کے مور، ہرن اور مختلف اقسام کے پرندے پانی اور خوراک کی کمی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اس پورے خطے میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر مون سون کی بارشوں میں مزید تاخیر ہوئی تو پانی، چارے اور روزگار سے جڑے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق بارشیں ہی تھر کی زندگی، زراعت، مویشیوں اور قدرتی ماحول کی بحالی کی امید ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مون سون بارشوں کے آغاز کی پیش گوئی کی ہے، جس سے صحرائے تھر کے لاکھوں مکینوں کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم بارشوں کے آغاز تک اس صحرائی خطے کے باسی سخت موسمی حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔

    کیول لاوا

  • دنیا کے بلند ترین سرد صحرا کا راز، اسکردو کے کٹپانہ اور سرفرنگا، جہاں برف اور ریت ایک ساتھ

    دنیا کے بلند ترین سرد صحرا کا راز، اسکردو کے کٹپانہ اور سرفرنگا، جہاں برف اور ریت ایک ساتھ

    عام طور پر صحرا کا نام آتے ہی ذہن میں تپتی دھوپ، جھلسا دینے والی گرمی اور دور دور تک پھیلی سنہری ریت کا تصور ابھرتا ہے، لیکن پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں ایک ایسا صحرا بھی موجود ہے جہاں برف اور ریت ایک ہی منظر کا حصہ بن جاتے ہیں۔

    اسکردو اور شگر کی وادیوں کے درمیان واقع کٹپانہ اور سرفرنگا کا سرد صحرا دنیا کے بلند ترین سرد صحراؤں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں برف پوش پہاڑ، عظیم گلیشیئرز، دریائے سندھ اور سنہری ریت کے ٹیلے ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    یہ منفرد صحرا سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار پانچ سو فٹ یعنی لگ بھگ دو ہزار دو سو سے دو ہزار چار سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اسی بلندی کی وجہ سے یہاں موسم سرما میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کہیں نیچے چلا جاتا ہے اور برف باری کے بعد ریت کے ٹیلے سفید چادر میں ڈھک جاتے ہیں۔

    دنیا میں ایسے مقامات نہایت کم ہیں جہاں صحرا اور برفانی ماحول اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہوں۔

    کٹپانہ اور سرفرنگا دراصل ایک ہی وسیع سرد صحرائی نظام کے دو اہم حصے ہیں۔ کٹپانہ صحرا اسکردو شہر کے قریب واقع ہے، جبکہ سرفرنگا کا علاقہ شگر کی جانب پھیلا ہوا ہے۔ دونوں مقامات اپنی قدرتی خوبصورتی، منفرد جغرافیے اور دلکش مناظر کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں، فوٹوگرافروں اور مہم جوؤں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

    بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس صحرا کی ریت عام گرم صحراؤں کی طرح صدیوں پرانے خشک موسم کا نتیجہ نہیں بلکہ گلیشیائی اور دریائی عمل سے وجود میں آئی۔ ماہرین کے مطابق ہزاروں برس پہلے قراقرم کے گلیشیئرز سے آنے والا ملبہ اور باریک معدنی ذرات دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے ذریعے اس علاقے میں جمع ہوتے رہے۔

    بعد ازاں تیز اور مسلسل چلنے والی ہواؤں نے انہی ذرات کو منتقل کر کے بلند و بالا ریتی ٹیلوں کی شکل دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس صحرا کی تشکیل میں گلیشیئر، دریا اور ہوا تینوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    اس صحرا کی ایک اور منفرد خصوصیت اس کا محل وقوع ہے۔ یہ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں، قراقرم اور ہمالیہ، کے سائے میں واقع ہے، جبکہ ہندوکش کا خطہ بھی زیادہ فاصلے پر نہیں۔ اسی لیے اس علاقے کے چند کلومیٹر کے سفر میں برفانی چوٹیاں، گلیشیئر، سبز وادیاں، دریائے سندھ اور ریت کے وسیع میدان ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ جغرافیائی تنوع دنیا کے چند ہی خطوں میں موجود ہے۔

    یہ علاقہ صرف قدرتی حسن ہی کا حامل نہیں بلکہ ایک منفرد ماحولیاتی نظام بھی رکھتا ہے۔ یہاں بارش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، ہوا خشک رہتی ہے اور سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے، اس کے باوجود یہاں بلند پہاڑی ماحول سے مطابقت رکھنے والی گھاس، جھاڑیاں اور نباتات کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔

    اسی طرح مختلف پرندے اور جنگلی حیات بھی اس ماحول کا حصہ ہیں، جو سخت موسمی حالات کے باوجود یہاں زندگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    گرمیوں کے موسم میں یہ صحرا سنہری ریت، نیلے آسمان اور برف سے ڈھکی چوٹیوں کے باعث ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے، جبکہ سردیوں میں برف باری کے بعد یہی ریتی ٹیلے سفید برف سے ڈھک جاتے ہیں۔ برف اور ریت کا یہ امتزاج نہ صرف فوٹوگرافروں بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے بھی غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔

    گزشتہ چند برسوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ کٹپانہ اور سرفرنگا صحرا بھی تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ یہاں آف روڈ ڈرائیونگ، کیمپنگ، فوٹوگرافی، سورج طلوع اور غروب ہونے کے مناظر اور ستاروں سے بھرے آسمان کا نظارہ سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

    سرفرنگا کے علاقے میں جیپ ریلیوں اور دیگر سیاحتی سرگرمیوں کے انعقاد نے بھی اس مقام کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق سرد صحرا دراصل ایسے خشک علاقے کو کہا جاتا ہے جہاں بارش بہت کم ہوتی ہے، لیکن موسم انتہائی سرد رہتا ہے۔ اس تعریف کے مطابق کٹپانہ اور سرفرنگا کا صحرا ایک حقیقی سرد صحرا ہے، کیونکہ یہاں سالانہ بارش نہایت محدود ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں شدید برف باری اور منفی درجہ حرارت معمول کی بات ہے۔

    اسکردو اور شگر کے درمیان پھیلا یہ حیرت انگیز صحرا اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ صحرا صرف گرم علاقوں میں ہی نہیں ہوتے۔ قدرت نے پاکستان کے شمال میں ایک ایسا نادر منظر تخلیق کیا ہے جہاں برف، گلیشیئر، دریا اور سنہری ریت ایک ہی سرزمین پر ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہی انفرادیت کٹپانہ اور سرفرنگا کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے منفرد ترین قدرتی عجائبات میں شامل کرتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل آپ کے لیے پاکستان کے قدرتی عجائبات، نایاب حقائق اور حیران کن مقامات کی مستند کہانیاں پیش کرتا ہے۔

    اگر آپ پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں تو ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    نگرپارکر کے قریب واقع رَن آف کچھ میں ان دنوں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے۔ پرندے پانی میں نہاتے، پروں کو صاف کرتے اور جھنڈ کی صورت میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ اردگرد پھیلا نمکین میدان اور ہلکا پانی اس علاقے کی شناخت ہے۔

    رَن آف کچھ ایک وسیع نمکین میدان ہے جو مون سون کے بعد موسم سرما میں جزوی طور پر پانی سے بھر جاتا ہے۔ اسی عرصے میں یہ علاقہ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے عارضی مسکن بن جاتا ہے۔ پرندے یہاں خوراک حاصل کرتے ہیں اور چند ہفتوں کے قیام کے بعد اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

    دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ رَن آف کچھ کا منظر ہر موسم میں بدل جاتا ہے۔ گرمیوں میں یہ سفید نمکین میدان دکھائی دیتا ہے، جبکہ مون سون کے بعد یہی علاقہ کم گہرے پانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی تبدیلی کی وجہ سے یہاں پرندوں اور دیگر آبی حیات کو سازگار ماحول ملتا ہے۔

    یہ علاقہ وائلڈ لائف سینکچوری قرار دیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی رَن آف کچھ رامسر کنونشن کے تحت عالمی اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز میں شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ویٹ لینڈ پرندوں، نمکین پودوں اور مقامی حیات کے لیے ایک اہم قدرتی نظام فراہم کرتا ہے۔

    مقامی فوٹو جرنلسٹ دلیپ پرمار، جو کارونجھر فوٹوگرافی کے نام سے فیس بک پیج چلاتے ہیں، برسوں سے رَن اور کارونجھر کے مناظر کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    دلیپ پرمار کے مطابق رَن آف کچھ پاکستان کے ان مقامات میں شامل ہے جو اپنی وسعت اور خاموش حسن کی وجہ سے منفرد ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے دلیپ پرمار نے کہا: ‘رَن صرف سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک حساس قدرتی علاقہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہاں آنے والے لوگ صفائی، جنگلی حیات اور مقامی ماحول کا خاص خیال رکھیں۔’

    رَن آف کچھ کے یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سندھ میں صرف صحرا نہیں بلکہ ایسے قدرتی خطے بھی موجود ہیں جہاں پانی، پرندے اور زمین ایک ساتھ زندہ دکھائی دیتے ہیں۔