سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں جب برسات ہوتی ہے تو کارونجھر کے قدیم گرینائٹ پہاڑوں سے درجنوں برساتی نالے رن کچھ کی جانب بہہ نکلتے ہیں۔
ماضی میں یہ قیمتی پانی چند ہی دنوں میں ضائع ہو جاتا تھا، جس کے بعد مہینوں تک پورا علاقہ پانی کی شدید قلت، خشک سالی اور نقل مکانی جیسے مسائل کا سامنا کرتا تھا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں انہی قدرتی گزرگاہوں پر تعمیر کیے جانے والے اسمال ڈیمز نے اس صورتحال کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔
نگرپارکر کا بیشتر علاقہ بارش پر منحصر ہے۔ یہاں نہ کوئی مستقل دریا بہتا ہے اور نہ ہی نہری نظام موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مون سون کی بارشیں ہی اس خطے کی زراعت، مویشی پالنے اور پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اگر بارش اچھی ہو تو صحرا سرسبز ہو جاتا ہے، لیکن اگر بارش کم ہو تو قحط جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے مختلف مراحل میں کارونجھر سے اترنے والے برساتی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے اسمال ڈیمز کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا۔ ابتدا میں ان ڈیمز کی تعداد محدود تھی، مگر اب نگرپارکر کے مختلف مقامات پر درجنوں اسمال ڈیمز تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
یہ ڈیمز بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ زیر زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب پانی کئی ماہ تک ڈیموں میں جمع رہتا ہے تو اس کا بڑا حصہ زمین میں جذب ہو کر زیر زمین پانی کی سطح بلند کرتا ہے، جس سے آس پاس کے کنوؤں اور بورنگ میں پانی کی دستیابی بہتر ہوتی ہے۔
اسمال ڈیمز کا سب سے بڑا فائدہ زراعت کے شعبے کو پہنچ رہا ہے۔ پہلے جہاں بارش ختم ہونے کے چند ہفتوں بعد کھیت خشک ہو جاتے تھے، اب محفوظ شدہ پانی کی بدولت کئی ماہ تک کاشتکاری ممکن ہو رہی ہے۔ کسان اب صرف بارانی فصلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ سبزیاں، پیاز، مرچ، گوار، باجرہ اور دیگر فصلیں بھی کاشت کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں جدید آبپاشی کے طریقے بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں، جس سے پانی کا بہتر استعمال ممکن ہو رہا ہے۔
ان منصوبوں سے مویشی پالنے والے خاندانوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ بارش کے بعد ڈیموں میں محفوظ پانی اور اطراف میں اگنے والی گھاس مویشیوں کے لیے کئی ماہ تک چارے اور پانی کا انتظام فراہم کرتی ہے، جس سے قحط کے دوران ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔
نگرپارکر میں اسمال ڈیمز کا ایک اہم اثر نقل مکانی میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بارش نہ ہونے کی صورت میں بڑی تعداد میں خاندان روزگار اور پانی کی تلاش میں دیگر شہروں کا رخ کرتے تھے، لیکن اب جن علاقوں میں ڈیم تعمیر ہوئے ہیں وہاں مقامی لوگوں کے لیے سال کے زیادہ عرصے تک روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کارونجھر سے بہنے والا برساتی پانی صدیوں سے بغیر استعمال کے رن کچھ میں جا گرتا تھا۔ اگر اس پانی کا زیادہ سے زیادہ حصہ محفوظ کیا جائے تو نہ صرف ہزاروں ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو بھی قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اسمال ڈیمز کی کامیابی صرف تعمیر تک محدود نہیں۔ ان کی باقاعدہ دیکھ بھال، وقتاً فوقتاً گاد کی صفائی، مضبوط حفاظتی بند، پانی کے منصفانہ استعمال اور مقامی آبادی کی شمولیت بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ یہ منصوبے کئی دہائیوں تک مؤثر رہ سکیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث سندھ میں بارشوں کا نظام تیزی سے غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ماہرین اسمال ڈیمز کو صرف ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی ایک اہم حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔
نگرپارکر کے یہ اسمال ڈیمز اس بات کی مثال ہیں کہ اگر بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کر لیا جائے تو صحرا بھی سرسبز ہو سکتا ہے، زراعت کو نئی زندگی مل سکتی ہے اور مقامی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
‘ساگا ڈیجیٹل’، پاکستان کا اے آئی پاورڈ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم۔
