Tag: پی آئی اے

  • پی آئی اے طیارہ حادثے میں بچ جانے والے ظفر مسعود کی کتاب ‘سیٹ ‘1C ، موت کے قریب ایک غیر معمولی تجربے سے ہم کیا سکھیں؟

    پی آئی اے طیارہ حادثے میں بچ جانے والے ظفر مسعود کی کتاب ‘سیٹ ‘1C ، موت کے قریب ایک غیر معمولی تجربے سے ہم کیا سکھیں؟

    ظفر مسعود کو بے ہوش ہونے سے پہلے جو آخری بات یاد ہے وہ یہ تھی کہ طیارے کے نیچے جانے انہوں نے اپنے اندر سے ایک آواز سنی: ‘ابھی تمہارا وقت نہیں آیا۔’

    بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود پاکستان انٹرنیشنل ایئلائینز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 803 کے حادثے میں بچ جانے والے دو افراد میں سے ایک ہیں، یہ طیارہ 22 مئی 2020 کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں 99 مسافر اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔

    طیارہ حادثے میں صرف دو افراد زندہ بچے تھے۔ زندہ بچ جانے والے زبیر کے کچھ تجربات بھی بیان کرتے ہیں، جو ملبے میں ایک خلا دیکھ کر جلتے ہوئے طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اسی راستے سے اتر کر طیارے کے ایک پر تک رسائی حاصل کی اور بالآخر کراچی کی ماڈل کالونی میں ایک گھر کی چھت پر جا گرے

    زندہ بچنے والے دوسرے ظفر مسعود تھے، جن کی کہانی مختلف اور متاثر کن ہے۔

    طیارہ حادثے کے پانچ سال بعد مئی 2025 کو انہوں حادثے کی روداد پر کتاب چھپی، ‘سیٹ 1C’۔ اس کتاب میں انہوں نے اس سانحے سے پہلے اور بعد کے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔

    وہ حادثے کے فوراً بعد بے ہوش ہو گئے تھے اور انہیں زمین سے طیارے کے ابتدائی ٹکرانے کے بعد کے صرف تقریباً 30 سیکنڈ یاد ہیں۔ درحقیقت، جیسا کہ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، طیارہ حتمی تباہی سے پہلے کئی بار زمین سے ٹکرایا اور پھر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

    ظفر مسعود، جو معروف فلم اور ٹی وی ایکٹر منور سعید کے اکلوتے بیٹے ہیں، انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور بینک آف پنجاب میں 16 اپریل 2020 کو صدر اور سی ای او بننے سے پہلے کئی قومی اور بین الاقوامی کاروباری اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

    یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب عالمی وبا کرونا (کورونا) کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں تقریباً دو مہینوں تک چلنے والے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے چند روز بعد پیش آیا۔ اس دن رمضان المبارک کا آکری جمع تھا، عید قریب تھی، لوگ گھروں کو لوٹنے کے بے تاب تھے۔

    ‘سیٹ 1C’ مختلف موضوعات پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر کتاب کے ایک باب حادثے کے مختلف پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے اور بین الاقوامی حوالوں سے تقویت پاتا ہے۔

    مثال کے طور پر ‘Arrogance’ کے عنوان سے باب میں وہ پائلٹ کے مبینہ حد سے زیادہ متکبر اور مغرور ہونے اور کراچی ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور کے عملے کے رویے پر روشنی ڈالتے ہیں۔

    وہ لکھتے ہیں: ‘پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے خود ہی لینڈنگ رن وے کو تبدیل کر لیا۔ مزید یہ کہ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ کنٹرول ٹاور کا کچھ عملہ جمعۃ الوداع کی نماز ادا کرنے کے لیے اپنی ڈیوٹی چھوڑ گیا تھا کیونکہ وہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ تھا۔’ وہ پاکستانی معاشرے میں تکبر کے وسیع رجحانات پر بھی تفصیل سے لکھتے ہیں اور عالمی مثالوں سے موازنہ کرتے ہیں۔

    کتبا کے ایک اور باب ‘Goodness’ میں وہ عام پاکستانیوں کی ہمدردی اور انسان دوستی کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح مقامی افراد نے سرکاری امدادی ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے ہی فوری طور پر انہیں اور زبیر کو بچانے کی کوشش کی۔

    چونکہ جلتا ہوا طیارہ ماڈل کالوںی کے گھروں کی چھتوں اور تنگ گلیوں میں گرا تھا، اس لیے جلتے ہوئے ملبے تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ زبیر، جو حادثے کے دوران ہوش میں رہے، اپنی جدوجہد بیان کرتے ہیں کہ کس طرح وہ جلتے ہوئے ڈھانچے سے نکل کر ایمبولینس تک پہنچے۔

    زبیر کی داستان نہایت دلچسپ ہے، طیارے کے پر سے ایک گھر کی چھت پر گرنے کے بعد وہ گھر کی ایک خاتون کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہوئے نیچے گلی میں آئے، اور پاس ہی گلی میں ایک سبزی فروش کے پاس گئے اور پانی مانگا۔

    سبزی فروش نے ابتدا میں اس کو نظر انداز کیا، کیوں کہ حادثے کی وجہ سے اس کی توجہ کاروبار سے ہٹ گئی تھی، مگر بعد میں اس نے پینے کے لیےپانی دے دیا۔

    دوسری جانب ظفر مسعود کی جان بچنا کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ عینی شاہدین کے مطابق ان کی نشست سیدھی ایک عمارت کی تیسری منزل کی چھت پر جا گری۔ ٹکراؤ کا زاویہ ایسا تھا کہ ان کی چوٹوں کی شدت کم ہو گئی۔ پھر وہ نشست چھت سے پھسل کر نیچے کھڑی ایک گاڑی کے بونٹ پر آ گری، جس نے ان کے گرنے کے اثر کو مزید کم کر دیا۔

    اگر وہ سخت سڑک پر گرتے تو شاید اس کو شدید چوٹیں آتیں۔ اس وقت تک طیارے کا باقی حصہ گلی میں مزید آگے جا کر تباہ ہو چکا تھا۔

    میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ باب ‘Dues’ تھا، جس میں وہ بے ہوش ہونے سے پہلے اپنے موت کے قریب تجربے (Near Death Experience – NDE) کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مختصر 30 سیکنڈ کا تجربہ ان واقعات سے بہت مشابہ ہے جو ماضی کی تحقیقات اور دیگر زندہ بچ جانے والوں کی کہانیوں میں بیان کیے گئے ہیں۔

    یہ 30 سیکنڈ ان کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ثابت ہوئے۔ اس دوران ان کو ایک ایسا نفسیاتی تجربہ ہوا جو ایسے افراد کو پیش آتا ہے جو موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں یا عارضی طور پر طبی

    لحاظ سے مردہ قرار دیے جاتے ہیں۔ ایسے تجربات میں اکثر جسم سے باہر نکلنے کا احساس، کسی سرنگ نماں غار سے گزرنے کا تصور، تیز روشنی کا سامنا یا گہری طمانیت کا احساس شامل ہوتا ہے۔

    وہ “Dues” کے باب میں ان تجربات کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ دوسری طرف زبیر کو ایسا کوئی تجربہ نہیں ہوا کیونکہ وہ پورے وقت ہوش میں رہے۔

    ایک متجسس قاری کے طور پر میں نے مختلف مصنفین کے این ڈی ای تجربات کا مطالعہ کیا ہوا تھا، جن میں اکثر ایک جیسا سکون محسوس کرتے ہیں جو موت کے قریب ہونے کے باوجودبیان کیا گیا ہے۔ عام طور پر تاثر ہوتا ہے کہ موت ایک تکلیف دہ عمل ہے۔

    چند برس پہلے کراچی میں میرے ایک دوست آصف علی آزاد نے بھی ایسا ہی تجربہ بیان کیا تھا جب وہ تقریباً ڈوب گئے تھے مگر خوش قسمتی سے بچا لیے گئے۔

    ایک اور تفصیلی اور متاثر کن بیان ہانگ کانگ میں مقیم سندھی خاتون انیتا مورجانی کا ہے، جو اپنی ایک انگریزی کتاب Dying to Be Me: My Journey from Cancer, to Near Death, to True Healing اور بے شمال یوٹیوب ویڈیوز میں اپنا تجربہ بیان کرتی ہیں۔

    خاتون انیتا مورجانی اس وقت کینسر کے آخری اسٹیج پر تھیں اور بیان کرتی ہیں کہ ڈاکٹرز نے انہوں مردہ قرار دے دیا تھا۔ موت کے قریب پہنچنے پر انہیں کسی آواز نے واپس جانے کو کہا کیونکہ ان کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔

    ظفر مسعود لکھتے ہیں کہ بے ہوش ہونے سے پہلے انہوں نے ایک اندرونی آواز سنی جو انہیں یقین دلا رہی تھی کہ وہ زندہ بچ جائیں گے۔ وہ لکھتے ہیں:

    ’میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ تجربہ اتنا ہی گہرا تھا جتنا مجھ سے پہلے لوگوں نے بیان کیا ہے، اگرچہ شاید اتنا ڈرامائی نہیں تھا۔ ایک غیر متزلزل سکون تھا، ایسا ٹھہراؤ جو میرے تمام خیالات اور وجود پر حاوی تھا۔

    ‘میں طیارے کو گرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور اپنے اردگرد خوف محسوس کر رہا تھا، مگر وہ خوف میرے اندر نہیں تھا۔

    ‘یہ میرے خیالات کا مفلوج ہونا نہیں تھا؛ میں خود کو صورتحال سے الگ محسوس نہیں کر رہا تھا، مگر میرے خیالات میں نہ گھبراہٹ تھی نہ خوف۔ بلکہ ان میں وہ گہرا سکون تھا جس کا ذکر کئی زندہ بچ جانے والے کرتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق اس وقت انہوں نے این ڈی ای کے بارے میں کچھ نہیں پڑھا تھا، اس لیے اپنے احساسات کو کسی موجودہ معلومات کے ساتھ جوڑ نہیں سکتا تھا۔ ’میں صرف یہ جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

    وہ عالمی سطح پر لکھی گئی این ڈی ای تحقیق کا حوالہ بھی دیتے ہیں، خاص طور پر ماہر ارضیات البرٹ ہائم کا، جنہیں 1871 میں سوئٹزرلینڈ میں ایسا ہی تجربہ ہوا تھا۔ فروری 1892 میں ہائم نے زیورخ میں سوئس الپائن کلب میں ایسے کئی واقعات پیش کیے۔

    تاہم ظفر مسعود انیتا مورجانی کے تجربات سے ناواقف ہیں۔ کراچی میں گذشتہ ادب فیسٹیول 2025 کے بعد میں نے ان سے این ڈی ای کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مختصراً اس کی تصدیق کی۔ وہ کتاب میں لکھتے ہیں: ’ایک بات جو نمایاں تھی، وہ یہ کہ تحقیق میں بیان کردہ مماثلتوں کے علاوہ، لوگوں کی ذمہ داریاں کس طرح ان کے ذہن میں نمایاں ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بہت بڑے خیالات سے بھی دوچار ہوں۔

    ‘مثال کے طور پر ہائم کو ایک لیکچر کی فکر تھی جو انہیں اگلے دن دینا تھا۔ ڈیڑھ صدی بعد ایک اور طیارہ حادثے کے زندہ بچ جانے والے، رِک الیاس نے بتایا کہ ان کے آخری خیالات اپنی بیوی اور خاندان کے بارے میں تھے اور زندگی سے منفی توانائی ختم کرنے کی خواہش کے بارے میں تھے۔‘

    ظفر مسعود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو اپنی ذمہ داریاں وقت پر پوری کردینی چاہئیں کیونکہ موت غیر متوقع پر آسکتی ہے اور وہ پچھتاوے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ ’بغیر کسی پچھتاوے کے مرنا‘، ان کے اس چیپٹر کا خلاصہ ہے۔ ان کے مطابق ’کوئی پچھتاوا نہیں‘ زندگی کے فیصلوں میں رہنما اصول ہونا چاہیے تاکہ ہم بہتر انسان بن سکیں۔

    ’یہ انسانی فطرت کی عکاسی ہے کہ مختلف ادوار اور حالات کے باوجود، زندہ بچ جانے والے افراد اپنی ذمہ داریوں کو یاد کرتے ہیں، چاہے وہ معمولی ہوں یا اہم۔ یہ میرے تجربے کی زیادہ درست عکاسی تھی بہ نسبت ان خوبصورت بادلوں اور موسیقی کے جن کا کچھ لوگ ان ڈی اے کے دوران ذکر کرتے ہیں۔‘

    آخری سے پہلے والے باب ‘Legacy’میں وہ حادثے سے پہلے اور بعد اپنی فلاحی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘میں ہر شخص کو ترغیب دینا چاہتا ہوں، چاہے وہ کتنا ہی کم عمر یا کم تجربہ کار کیوں نہ ہو، کہ وہ اپنے بچپن کے خوابوں کو ہر قیمت پر پورا کرے، اس بات پر غور کرے کہ وہ دنیا میں کیا چھوڑ کر جانا چاہتا ہے، اور ایسی وراثت کو بنانے کی کوشش کرے۔’

    انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ‘ظفر مسعود فاؤنڈیشن’ قائم کی ہے، جس کا بنیادی مقصد ہر قسم کی ٹرانسپورٹ یا سفر، ہوائی سفر، سڑک، ریل اور سمندری سفر میں مسافروں کی حفاظت کو فروغ دینا ہے۔

  • مارچ 1981: 45 سال قبل ‘الذوالفقار’ تنظیم کی پاکستان کے قومی ایئرلائین کے طیارے کے اغوا کی کہانی

    مارچ 1981: 45 سال قبل ‘الذوالفقار’ تنظیم کی پاکستان کے قومی ایئرلائین کے طیارے کے اغوا کی کہانی

    جنرل ضیا نے پانچ جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ کرکے ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا اور ان پر 1974 میں لاہور میں نواب محمد احمد خان قصوری کے مبینہ قتل کا مقدمہ چلایا۔ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو اکثر عرصہ قید اور نظر بندی میں رہیں، جبکہ میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو جلاوطنی میں رہے۔

    بھٹو صاحب کی رہائی کے لیے کارکنوں نے مختلف کمیٹیاں بنا کر تحریک چلائی، جن میں پیپلز ورکرز ایکشن کمیٹی وغیرہ شامل تھیں۔ اسی طرح میر مرتضیٰ بھٹو کی قیادت میں جلاوطن کارکن بھی بھٹو صاحب کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

    چار اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جلاوطن کارکنوں نے فوجی آمر ضیا کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا اور پاکستان لبریشن آرمی بنانے کا اعلان کیا، لیکن اسے زیادہ شہرت نہ مل سکی۔ تاہم دو مارچ 1981 کو جب پی آئی اے کا طیارہ اغوا ہوا تو پہلی مرتبہ لوگوں نے ‘الذوالفقار’ تنظیم کا نام سنا۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا بوئنگ طیارہ پی کے 326 کراچی سے پشاور 145 مسافروں کو لے کر جا رہا تھا۔ جب طیارہ ڈیرہ اسماعیل خان کے اوپر پرواز کر رہا تھا تو شام تقریباً چار بج کر 20 منٹ پر اسے اغوا کر لیا گیا۔ اغوا کاروں نے اسلحے کے زور پر پائلٹ کو پشاور کے بجائے افغانستان کے دارالحکومت کابل جانے کا حکم دیا۔ پائلٹ نے طیارہ کابل ایئرپورٹ پر اتار دیا، جہاں افغان سکیورٹی فورسز نے طیارے کو گھیرے میں لے لیا۔

    افغان حکام نے کنٹرول ٹاور کے ذریعے اغوا کاروں سے رابطہ کیا۔ اغوا کاروں کے سربراہ سلام اللہ ٹیپو نے بتایا کہ ان کی تعداد تین ہے اور ان کے ساتھی جمال ناصر اور ارشد علی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے اور اگر کوئی کارروائی کی گئی تو وہ طیارے کو مسافروں سمیت تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق الذوالفقار تنظیم سے ہے اور ان کے قائد میر مرتضیٰ بھٹو ہیں، اور وہ انہی کے احکامات مانیں گے۔

    ان کے مطالبات یہ تھے کہ جنرل ضیا فوری طور پر اقتدار چھوڑ دیں، عام انتخابات کرائے جائیں اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ افغان حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی، لیکن اغوا کاروں نے میر مرتضیٰ بھٹو کے علاوہ کسی اور سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

    پاکستانی حکومت نے اغوا کاروں کے والدین کو کراچی سے کابل بھیجا تاکہ وہ انہیں سمجھا سکیں، لیکن اغوا کاروں نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بیگم نصرت بھٹو ہیں۔

    ان دنوں میر مرتضیٰ بھٹو افغانستان میں موجود تھے۔ افغان حکومت کی درخواست پر انہوں نے اغوا کاروں سے رابطہ کیا اور انہیں کسی انتہائی قدم سے روکا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ اس اغوا میں ان کا براہ راست ہاتھ نہیں تھا، لیکن انسانی جانیں بچانے کے لیے انہوں نے مداخلت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الذوالفقار ایک حقیقی تنظیم ہے جس کا مقصد ضیا حکومت کے خلاف جدوجہد ہے۔

    افغانستان میں اس وقت روس نواز حکومت تھی، اس لیے افغان حکومت نے اغوا کاروں کے مطالبات پاکستان تک پہنچائے۔ جنرل ضیا نے ہنگامی فوجی کونسل کا اجلاس بلایا اور مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔

    بعد میں اغوا کاروں نے اپنے مطالبات محدود کر دیے اور صرف ایک مطالبے پر قائم رہے کہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید 92 سیاسی کارکنوں کو رہا کرکے کابل پہنچایا جائے۔ انہوں نے قیدیوں کی فہرست افغان حکومت کے ذریعے پاکستان کو بھیجی، لیکن حکومت نے انکار کر دیا۔

    کابل ایئرپورٹ پر اغوا کاروں کو معلوم ہوا کہ جنرل ضیا کے مارشل لا کے وقت بھٹو صاحب کے ملٹری اے ڈی سی کیپٹن طارق رحیم ان کے مخبر تھے اور وہ طیارے میں موجود ہیں۔ اغوا کاروں نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا اور لاش رن وے پر پھینک دی۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو مزید مسافروں کو قتل کیا جائے گا۔ بعد میں انہوں نے قیدیوں کی فہرست کم کرکے 54 افراد تک محدود کر دی۔

    کیپٹن طارق رحیم کے قتل کے بعد افغان حکومت پر عالمی دباؤ بڑھ گیا اور اغوا کاروں کو کابل چھوڑنے کا کہا گیا۔ طیارے میں ایندھن بھر کر وہ طرابلس روانہ ہوئے، لیکن لیبیا نے لینڈنگ کی اجازت نہ دی۔ ایندھن کم ہونے پر طیارہ ایتھنز میں اترا اور وہاں سے ایندھن لے کر دمشق پہنچا۔

    یہ اغوا تقریباً 13 دن جاری رہا اور دنیا کی طویل ترین طیارہ اغوا کی کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔

    آخرکار 15 مارچ 1981 کو شامی حکومت کی ثالثی کے بعد پاکستان نے 54 سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے دمشق بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ قیدیوں کے پہنچنے کے بعد اغوا کاروں نے طیارہ اور مسافر شامی حکام کے حوالے کر دیے۔ مسافروں کو بعد میں پاکستان واپس لایا گیا۔

    آزاد ہونے والے قیدیوں میں مختلف قوم پرست اور سیاسی کارکن شامل تھے۔ ان میں سے کچھ بعد میں پاکستان واپس آ گئے، جبکہ کئی افراد یورپ کے مختلف ممالک میں آباد ہو گئے۔ بعض افراد الذوالفقار کی سرگرمیوں میں مارے گئے، جبکہ کچھ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

    قیدیوں کے دمشق پہنچنے کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو نے انہیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو الذوالفقار میں شامل ہوں یا جہاں چاہیں چلے جائیں۔ کچھ افراد ان کے ساتھ رہے، جبکہ بعض واپس وطن یا یورپ چلے گئے۔

    سلام اللہ ٹیپو کو بعد میں میر مرتضیٰ بھٹو پر حملے اور جاسوسی کے الزامات کے تحت افغان حکومت نے پل چرخی جیل میں پھانسی دے دی۔

    شاہنواز بھٹو، جو الذوالفقار کے آپریشنل کمانڈر تھے، 18 جولائی 1985 کو فرانس کے شہر کینز میں مبینہ طور پر زہر دے کر قتل کر دیے گئے۔ الزام ان کی افغان نژاد اہلیہ ریحانہ پر لگایا گیا، جو بعد میں رہا ہو گئیں۔ ان کی ایک بیٹی سسی ہے جو آج کل امریکہ میں مقیم ہیں۔

    میر مرتضیٰ بھٹو 1993 میں انتخابات جیتنے کے بعد پاکستان واپس آئے۔ واپسی سے پہلے انہوں نے بظاہر الذوالفقار تنظیم کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔ 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کے بعد الذوالفقار تنظیم عملاً ختم ہو گئی۔

  • پی آئی اے کے قیام کے لیے اپنی ذاتی ایئرلائینز اورینٹ ایئرویز وقف کرنے والے ابو الحسن اصفہانی

    پی آئی اے کے قیام کے لیے اپنی ذاتی ایئرلائینز اورینٹ ایئرویز وقف کرنے والے ابو الحسن اصفہانی

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) 1990 کے بعد سے مسلسل خسارے میں چلنے اور عالمی پروازوں میں بھی واضح کمی کے بعد منگل کو نجکاری کردی گئی۔

    نجکاری کے مرحلہ وار عمل میں عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی دے کر پاکستان کی قومی ایئر لائن کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے۔

    1960 اور 1970 کی دہائیوں کے دوران جنوبی ایشیا کی جدید ایئر لائن سمجھی جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے قیام میں اہم کردار کرنے والے ابو الحسن اصفہانی کے متعلق بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کی قومی ایئرلائینز کے لیے اپنی نجی ایئر لائین وقف کردی۔

    ابو الحسن اصفہانی نہ صرف اورینٹ ایئرویز کے بانی تھے بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد سفارتی اور قومی خدمات کے باعث بھی ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ابو الحسن اصفہانی کی شخصیت اور خدمات پاکستان کی تاریخ میں ایک مضبوط اور باوقار حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔

    ابو الحسن اصفہانی کا کردار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، یعنی پی آئی اے، کے قیام میں بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں پاکستان میں جدید ہوابازی کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جب فضائی سفر برصغیر میں محدود اور مہنگا سمجھا جاتا تھا، اس وقت ابو الحسن اصفہانی نے ایک نجی فضائی کمپنی اورینٹ ایئرویز قائم کی۔ اس اقدام کے پیچھے ان کی یہ سوچ کارفرما تھی کہ مستقبل میں فضائی رابطے تجارت، سیاست اور عوامی روابط کے لیے ناگزیر ہوں گے۔ اس وقت اورینٹ ایئرویز کا قیام ایک غیرمعمولی قدم سمجھا جاتا تھا۔

    1946 میں قائم ہونے والی اورینٹ ایئرویز نے ابتدا میں کلکتہ، دہلی اور آگرہ جیسے شہروں کے درمیان پروازیں شروع کیں۔ تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان ایک نئے ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تو اسے شدید انتظامی اور معاشی چیلنجز کا سامنا تھا۔

    نئے ملک کے پاس نہ مناسب انفراسٹرکچر تھا اور نہ ہی قومی سطح کی کوئی فضائی کمپنی۔ ایسے وقت میں ابو الحسن اصفہانی نے ایک تاریخی فیصلہ کیا اور ہجرت کے بعد اپنی پوری ایئرلائن پاکستان کے لیے وقف کر دی۔

    قیام پاکستان کے فوراً بعد اورینٹ ایئرویز نے پاکستان کی فضائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان طویل فاصلے اور زمینی رابطوں کی کمی کے باعث فضائی سفر ناگزیر تھا۔ اورینٹ ایئرویز نے کراچی، لاہور اور ڈھاکہ کے درمیان پروازیں شروع کیں، جس سے نہ صرف سرکاری امور میں آسانی ہوئی بلکہ عوام کو بھی ایک نئی سہولت میسر آئی۔

    اس دور میں یہ ایئرلائن دراصل پاکستان کی غیر سرکاری مگر عملی قومی ایئرلائن کے طور پر کام کر رہی تھی۔

    1955 میں حکومت پاکستان نے اورینٹ ایئرویز کو قومی تحویل میں لے کر اسے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، یعنی پی آئی اے، کی شکل دی۔ اس طرح اورینٹ ایئرویز پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کی بنیاد بن گئی۔

    پی آئی اے نے جلد ہی بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت بنانا شروع کی اور ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے مختلف شہروں کے لیے پروازیں شروع کیں۔ ابتدائی برسوں میں پی آئی اے کو ایک جدید، منظم اور پیشہ ور ایئرلائن کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جس کی ساکھ دنیا بھر میں قائم ہوئی۔

    ابو الحسن اصفہانی نہ صرف ہوابازی بلکہ سفارت کاری کے میدان میں بھی ایک نمایاں نام تھے۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی مختلف بین الاقوامی فورمز پر کی اور ملک کے لیے سرمایہ کاری اور اعتماد پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔

    ان کی سوچ طویل المدت تھی اور وہ پاکستان کو ایک جدید، خودمختار اور عالمی برادری کا فعال رکن دیکھنا چاہتے تھے۔ پی آئی اے کی صورت میں انہوں نے ملک کو ایک ایسا ادارہ دیا جو کئی دہائیوں تک قومی وقار اور شناخت کی علامت رہا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی اے نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ کبھی اسے دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار کیا گیا اور کبھی انتظامی مسائل، مالی بحران اور سیاسی مداخلت نے اسے کمزور کیا۔

    حالیہ برسوں میں قومی ایئرلائن کی نجکاری اور فروخت جیسے فیصلے اسی طویل تاریخ کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم پی آئی اے کی ابتدا کی کہانی آج بھی یہ یاد دلاتی ہے کہ یہ ادارہ ایک فرد کے وژن، قربانی اور قومی جذبے کا نتیجہ تھا۔

    ابو الحسن اصفہانی کا انتقال 18 نومبر 1981 کو کراچی میں ہوا۔ انہیں گورا قبرستان کے قریب پورے اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی زندگی اور خدمات پاکستان کی ہوابازی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے متعصل ال آصف اسکوائر سے یونیورسٹی روڈ تک شہر کی اہم شاہراہ کو ان کے خدمات کے باعث ان کے نام سے منسوب کرکے ‘ابو الحسن اصفہانی روڈ‘ رکھا گیا۔

    پی آئی اے کی بنیاد رکھنے والے اس وژنری شخص کی کہانی آج بھی اس سوال کو زندہ رکھتی ہے کہ قومی ادارے صرف مالی اثاثے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک قوم کی امیدوں، تاریخ اور شناخت سے جڑے ہوتے ہیں۔

  • دو دہائیوں بعد بڑی نجکاری: پی آئی اے 135 ارب روپے میں فروخت، بولی کا عمل لائیو نشر

    دو دہائیوں بعد بڑی نجکاری: پی آئی اے 135 ارب روپے میں فروخت، بولی کا عمل لائیو نشر

    پاکستان کی قومی ایئرلائین، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائینز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے اوپن آکشن کے مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دے کر قومی ایئرلائن خریدلی۔ یہ پاکستان میں تقریباً دو دہائیوں بعد ہونے والی سب سے بڑی نجکاری قرار دی جا رہی ہے۔

    بولی کے عمل کا آغاز صبح کے وقت ہوا۔ پہلے مرحلے میں تین پہلے سے اہل قرار دیے گئے گروپس نے سیل بند لفافوں میں اپنی بولیاں جمع کرائیں۔ ان میں لکی سیمنٹ، نجی ایئرلائن ایئربلیو اور عارف حبیب گروپ شامل تھے۔ یہ تقریب سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی۔

    پہلے مرحلے میں ایئربلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی دی، جو حکومت کی مقررہ 100 ارب روپے کی ریفرنس قیمت سے کم تھی۔ اس وجہ سے ایئربلیو مقابلے سے باہر ہو گئی۔ لکی سیمنٹ نے 101.5 ارب روپے جبکہ عارف حبیب گروپ نے 115 ارب روپے کی بولی دی۔ اس کے بعد ریفرنس قیمت کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

    پہلے مرحلے کے بعد دونوں بڑے بولی دہندگان کو 30 منٹ کا وقفہ دیا گیا تاکہ وہ آپس میں مشاورت کر سکیں۔ وقفے کے بعد اوپن آکشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ اس مرحلے میں ابتدائی قیمت 115 ارب روپے رکھی گئی، جو پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ کی سب سے زیادہ بولی تھی۔ کم از کم اضافی رقم 25 کروڑ روپے مقرر کی گئی۔

    دوسرے مرحلے میں دونوں گروپس کے درمیان مختصر مگر سخت مقابلہ ہوا۔ لکی سیمنٹ نے اپنی بولی بڑھا کر 134 ارب روپے کر دی۔ اس کے فوراً بعد عارف حبیب گروپ نے 135 ارب روپے کی پیشکش کی۔ اس بولی کے بعد لکی سیمنٹ نے مقابلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور عارف حبیب گروپ کو مبارک باد دی۔
    آکشن کا پورا عمل نہ صرف ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھایا گیا بلکہ حکومت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی لائیو اسٹریم کیا گیا۔ اس اقدام کو شفافیت کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
    بولی کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل تک پہنچنے میں کافی محنت اور وقت لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تمام بولی دہندگان پاکستانی ہیں، اور چاہے کوئی بھی جیتے، فائدہ پاکستان کا ہی ہو گا۔
    دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے اس سودے کو قومی معیشت پر اعتماد کا ووٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور برطانیہ کی جانب سے پی آئی اے پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اس کامیابی کی بڑی وجہ بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں 10 ارب روپے کی بولی سے آج 135 ارب روپے تک پہنچنا سول ایوی ایشن نظام پر اعتماد کا ثبوت ہے۔

    تقریب کے آغاز میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے خطاب کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے پی آئی اے کے کم از کم 75 فیصد حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کا اختیار کامیاب بولی دہندہ آئندہ 90 دن میں استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد صرف ادارہ فروخت کرنا نہیں بلکہ قومی ایئرلائن کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ نئے سرمایہ کے ذریعے طیاروں کی تعداد بڑھائی جائے گی، انجنوں کی مرمت ہو گی، واجبات کم کیے جائیں گے اور ملازمین کو بروقت تنخواہیں دی جائیں گی۔ ان کے مطابق 18 طیاروں کے موجودہ بیڑے کو 30 سے 40 طیاروں تک لے جانے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

    واضح رہے کہ یہ پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش تھی۔ گزشتہ سال ہونے والی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب صرف ایک بولی سامنے آئی تھی، جو ریفرنس قیمت سے بہت کم تھی۔ اس بار حکومت نے شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق ناکام بولی دہندگان کو مستقبل میں پی آئی اے کے انتظامی معاملات میں کوئی کردار نہیں ملے گا۔ اس شرط کا مقصد نئے انتظامی ڈھانچے کو آزاد اور مؤثر بنانا ہے۔ اس فیصلے کو ماہرین ایک اہم اصلاحی قدم قرار دے رہے ہیں۔