جنرل ضیا نے پانچ جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ کرکے ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا اور ان پر 1974 میں لاہور میں نواب محمد احمد خان قصوری کے مبینہ قتل کا مقدمہ چلایا۔ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو اکثر عرصہ قید اور نظر بندی میں رہیں، جبکہ میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو جلاوطنی میں رہے۔
بھٹو صاحب کی رہائی کے لیے کارکنوں نے مختلف کمیٹیاں بنا کر تحریک چلائی، جن میں پیپلز ورکرز ایکشن کمیٹی وغیرہ شامل تھیں۔ اسی طرح میر مرتضیٰ بھٹو کی قیادت میں جلاوطن کارکن بھی بھٹو صاحب کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔
چار اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جلاوطن کارکنوں نے فوجی آمر ضیا کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا اور پاکستان لبریشن آرمی بنانے کا اعلان کیا، لیکن اسے زیادہ شہرت نہ مل سکی۔ تاہم دو مارچ 1981 کو جب پی آئی اے کا طیارہ اغوا ہوا تو پہلی مرتبہ لوگوں نے ‘الذوالفقار’ تنظیم کا نام سنا۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا بوئنگ طیارہ پی کے 326 کراچی سے پشاور 145 مسافروں کو لے کر جا رہا تھا۔ جب طیارہ ڈیرہ اسماعیل خان کے اوپر پرواز کر رہا تھا تو شام تقریباً چار بج کر 20 منٹ پر اسے اغوا کر لیا گیا۔ اغوا کاروں نے اسلحے کے زور پر پائلٹ کو پشاور کے بجائے افغانستان کے دارالحکومت کابل جانے کا حکم دیا۔ پائلٹ نے طیارہ کابل ایئرپورٹ پر اتار دیا، جہاں افغان سکیورٹی فورسز نے طیارے کو گھیرے میں لے لیا۔
افغان حکام نے کنٹرول ٹاور کے ذریعے اغوا کاروں سے رابطہ کیا۔ اغوا کاروں کے سربراہ سلام اللہ ٹیپو نے بتایا کہ ان کی تعداد تین ہے اور ان کے ساتھی جمال ناصر اور ارشد علی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے اور اگر کوئی کارروائی کی گئی تو وہ طیارے کو مسافروں سمیت تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق الذوالفقار تنظیم سے ہے اور ان کے قائد میر مرتضیٰ بھٹو ہیں، اور وہ انہی کے احکامات مانیں گے۔
ان کے مطالبات یہ تھے کہ جنرل ضیا فوری طور پر اقتدار چھوڑ دیں، عام انتخابات کرائے جائیں اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ افغان حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی، لیکن اغوا کاروں نے میر مرتضیٰ بھٹو کے علاوہ کسی اور سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
پاکستانی حکومت نے اغوا کاروں کے والدین کو کراچی سے کابل بھیجا تاکہ وہ انہیں سمجھا سکیں، لیکن اغوا کاروں نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بیگم نصرت بھٹو ہیں۔
ان دنوں میر مرتضیٰ بھٹو افغانستان میں موجود تھے۔ افغان حکومت کی درخواست پر انہوں نے اغوا کاروں سے رابطہ کیا اور انہیں کسی انتہائی قدم سے روکا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ اس اغوا میں ان کا براہ راست ہاتھ نہیں تھا، لیکن انسانی جانیں بچانے کے لیے انہوں نے مداخلت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الذوالفقار ایک حقیقی تنظیم ہے جس کا مقصد ضیا حکومت کے خلاف جدوجہد ہے۔
افغانستان میں اس وقت روس نواز حکومت تھی، اس لیے افغان حکومت نے اغوا کاروں کے مطالبات پاکستان تک پہنچائے۔ جنرل ضیا نے ہنگامی فوجی کونسل کا اجلاس بلایا اور مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔
بعد میں اغوا کاروں نے اپنے مطالبات محدود کر دیے اور صرف ایک مطالبے پر قائم رہے کہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید 92 سیاسی کارکنوں کو رہا کرکے کابل پہنچایا جائے۔ انہوں نے قیدیوں کی فہرست افغان حکومت کے ذریعے پاکستان کو بھیجی، لیکن حکومت نے انکار کر دیا۔
کابل ایئرپورٹ پر اغوا کاروں کو معلوم ہوا کہ جنرل ضیا کے مارشل لا کے وقت بھٹو صاحب کے ملٹری اے ڈی سی کیپٹن طارق رحیم ان کے مخبر تھے اور وہ طیارے میں موجود ہیں۔ اغوا کاروں نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا اور لاش رن وے پر پھینک دی۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو مزید مسافروں کو قتل کیا جائے گا۔ بعد میں انہوں نے قیدیوں کی فہرست کم کرکے 54 افراد تک محدود کر دی۔
کیپٹن طارق رحیم کے قتل کے بعد افغان حکومت پر عالمی دباؤ بڑھ گیا اور اغوا کاروں کو کابل چھوڑنے کا کہا گیا۔ طیارے میں ایندھن بھر کر وہ طرابلس روانہ ہوئے، لیکن لیبیا نے لینڈنگ کی اجازت نہ دی۔ ایندھن کم ہونے پر طیارہ ایتھنز میں اترا اور وہاں سے ایندھن لے کر دمشق پہنچا۔
یہ اغوا تقریباً 13 دن جاری رہا اور دنیا کی طویل ترین طیارہ اغوا کی کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔
آخرکار 15 مارچ 1981 کو شامی حکومت کی ثالثی کے بعد پاکستان نے 54 سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے دمشق بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ قیدیوں کے پہنچنے کے بعد اغوا کاروں نے طیارہ اور مسافر شامی حکام کے حوالے کر دیے۔ مسافروں کو بعد میں پاکستان واپس لایا گیا۔
آزاد ہونے والے قیدیوں میں مختلف قوم پرست اور سیاسی کارکن شامل تھے۔ ان میں سے کچھ بعد میں پاکستان واپس آ گئے، جبکہ کئی افراد یورپ کے مختلف ممالک میں آباد ہو گئے۔ بعض افراد الذوالفقار کی سرگرمیوں میں مارے گئے، جبکہ کچھ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
قیدیوں کے دمشق پہنچنے کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو نے انہیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو الذوالفقار میں شامل ہوں یا جہاں چاہیں چلے جائیں۔ کچھ افراد ان کے ساتھ رہے، جبکہ بعض واپس وطن یا یورپ چلے گئے۔
سلام اللہ ٹیپو کو بعد میں میر مرتضیٰ بھٹو پر حملے اور جاسوسی کے الزامات کے تحت افغان حکومت نے پل چرخی جیل میں پھانسی دے دی۔
شاہنواز بھٹو، جو الذوالفقار کے آپریشنل کمانڈر تھے، 18 جولائی 1985 کو فرانس کے شہر کینز میں مبینہ طور پر زہر دے کر قتل کر دیے گئے۔ الزام ان کی افغان نژاد اہلیہ ریحانہ پر لگایا گیا، جو بعد میں رہا ہو گئیں۔ ان کی ایک بیٹی سسی ہے جو آج کل امریکہ میں مقیم ہیں۔
میر مرتضیٰ بھٹو 1993 میں انتخابات جیتنے کے بعد پاکستان واپس آئے۔ واپسی سے پہلے انہوں نے بظاہر الذوالفقار تنظیم کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔ 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کے بعد الذوالفقار تنظیم عملاً ختم ہو گئی۔

