پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کنسورشیم نے سنبھال لیا

پی آئی اے

ملک کی قومی ایئر لائن، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کنسورشیم نے سنبھال لیا۔

عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے ذیلی ادارے ‘پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ’ نے پی آئی اے کی ملکیت معاہدے کے تحت 180 ارب روپے سے حال کی۔

پی آئی اے کی نجکاری کا معاہدہ جنوری 2026 میں طے پایا تھا، تاہم مختلف بین الاقوامی ریگولیٹری منظوریوں اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے باعث ملکیت کی منتقلی میں کئی ماہ کی تاخیر ہوئی۔

حکومت نے اس پیش رفت کو ملک کے نجکاری پروگرام کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے قومی ایئرلائن کی مالی حالت بہتر بنانے، جدید سہولتیں متعارف کرانے اور فضائی خدمات کے معیار کو عالمی سطح تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

حکومت کے مطابق اب تمام ضروری شرائط پوری ہونے کے بعد نجکاری کا پہلا مالی مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور کمپنی کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر خریدار کنسورشیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کے مختلف ممالک میں آپریٹنگ حقوق نئے نجی آپریٹر کے نام منتقل کرنے کے لیے کئی بین الاقوامی اداروں سے منظوری لینا ضروری تھی۔

ان کے مطابق تمام ریگولیٹری تقاضے مکمل ہونے کے بعد اب ملکیت کی منتقلی کا عمل کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کے لیے مقامی قوانین میں بھی ضروری ترامیم کی گئیں۔

نجکاری کے معاہدے کے مطابق اگرچہ باضابطہ منتقلی سے پہلے اہم فیصلوں کا اختیار حکومت کے پاس رہا، تاہم نجی خریداروں کو اس عرصے میں بھی مالی اور آپریشنل معاملات میں مکمل شمولیت حاصل رہی تاکہ منتقلی کے بعد انتظامی امور میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور مسافروں کو خدمات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔

اس رقم میں سے حکومت پاکستان کو 55 ارب روپے ادا کیے جائیں گے جبکہ 125 ارب روپے ایئرلائن کی بہتری، مالی استحکام اور نئی سرمایہ کاری پر خرچ کیے جائیں گے۔

نجکاری کمیشن کے مطابق پہلے مالی مرحلے میں خریدار کنسورشیم نے حکومت کو 10 ارب روپے ادا کیے ہیں جبکہ کمپنی میں 80 ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے پی آئی اے کی مالی پوزیشن مضبوط بنانے، طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے، نئے جہاز شامل کرنے، فضائی آپریشن بہتر بنانے اور مسافروں کو معیاری سہولتیں فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

اعلامیے کے مطابق کنسورشیم آئندہ ایک سال کے دوران دوسرے مالی مرحلے سے پہلے مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی کرے گا۔ اگر کنسورشیم باقی ماندہ 25 فیصد حصص خریدنے کا اختیار استعمال کرتا ہے تو حکومت کو مزید 45 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔

نجکاری کمیشن نے بتایا کہ خریدار گروپ پہلے ہی باقی حصص خریدنے میں دلچسپی کا تحریری اظہار بھی کر چکا ہے۔

پی آئی اے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نئی سرمایہ کاری سے ادارے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی۔

ان اصلاحات میں جدید طیاروں کی خریداری، موجودہ بیڑے کی بہتری، نئے ملکی اور بین الاقوامی روٹس کا آغاز، ادارے کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور مسافروں کو عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کرنا شامل ہے۔

پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے چیئرمین نے اس موقع پر کہا کہ ملکیت کی منتقلی ایک اہم مرحلہ ضرور ہے، لیکن صرف دستاویزات تبدیل ہونے سے عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کا اعتماد ہر پرواز، ہر خدمت اور مسلسل بہتر کارکردگی کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نئی انتظامیہ اس ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے اور قومی ایئرلائن پر عوام کا اعتماد دوبارہ بحال کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پی آئی اے کی ملکیت تبدیل ہو چکی ہے، لیکن پاکستان کی خدمت کا جذبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے مطابق نئی انتظامیہ کا مقصد پی آئی اے کے شاندار ماضی اور تاریخی ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید، منافع بخش اور عالمی معیار کی ایئرلائن میں تبدیل کرنا ہے۔

حکومت نے نجکاری کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے متعدد مالی سہولتیں بھی فراہم کی ہیں۔ ان میں نئے طیاروں کی خریداری، لیز، آلات اور دیگر فضائی سازوسامان پر 15 سال تک ٹیکس سے استثنا شامل ہے۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی منظوری دی ہے اور اس رعایت کو مالیاتی بل 2026-27 میں قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

تاہم اس خصوصی ٹیکس رعایت پر بعض پارلیمانی حلقوں اور نجی فضائی کمپنیوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ سہولت صرف پی آئی اے کے نئے مالکان کو دی گئی ہے جبکہ دیگر نجی ایئرلائنز اس رعایت سے محروم ہیں، جس سے مسابقتی ماحول متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

نجکاری کے بعد کمپنی کی نئی شیئر ہولڈنگ بھی سامنے آ گئی ہے۔

اس کے مطابق فاطمہ فرٹیلائزر کے پاس 34.1 فیصد، فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس 33.9 فیصد، لیک سٹی کے پاس 16 فیصد جبکہ سٹی سکولز گروپ اور اے کے ڈی گروپ کے پاس مشترکہ طور پر 16 فیصد حصص موجود ہیں۔

فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی شمولیت کے بعد کنسورشیم نے کمپنی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان شفاف، مسابقتی اور پیشہ ورانہ انداز میں پیچیدہ نجکاری کے منصوبے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق اس معاہدے سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، معیشت مضبوط ہوگی اور نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔

نجکاری کمیشن نے بھی اس پیش رفت کو پاکستان کے نجکاری پروگرام میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ کمیشن نے وفاقی کابینہ، وزارت خزانہ، وزارت دفاع، متعلقہ سرکاری اداروں، مقامی ریگولیٹری حکام اور مالیاتی مشیر ادارے کے تعاون کو بھی سراہا۔

حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران مزید کئی اہم سرکاری اداروں کی نجکاری کا بھی اعلان کیا ہے۔

ان اداروں میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، زرعی ترقیاتی بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی مشیروں کی تقرری کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نجکاری پروگرام وسیع تر معاشی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، قومی خزانے پر مالی بوجھ کم کرنا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کرنا اور ملک میں مسابقتی معاشی ماحول پیدا کرنا ہے۔

اسی بارے میں: