دو دہائیوں بعد بڑی نجکاری: پی آئی اے 135 ارب روپے میں فروخت، بولی کا عمل لائیو نشر

پی آئی اے

پاکستان کی قومی ایئرلائین، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائینز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے اوپن آکشن کے مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دے کر قومی ایئرلائن خریدلی۔ یہ پاکستان میں تقریباً دو دہائیوں بعد ہونے والی سب سے بڑی نجکاری قرار دی جا رہی ہے۔

بولی کے عمل کا آغاز صبح کے وقت ہوا۔ پہلے مرحلے میں تین پہلے سے اہل قرار دیے گئے گروپس نے سیل بند لفافوں میں اپنی بولیاں جمع کرائیں۔ ان میں لکی سیمنٹ، نجی ایئرلائن ایئربلیو اور عارف حبیب گروپ شامل تھے۔ یہ تقریب سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی۔

پہلے مرحلے میں ایئربلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی دی، جو حکومت کی مقررہ 100 ارب روپے کی ریفرنس قیمت سے کم تھی۔ اس وجہ سے ایئربلیو مقابلے سے باہر ہو گئی۔ لکی سیمنٹ نے 101.5 ارب روپے جبکہ عارف حبیب گروپ نے 115 ارب روپے کی بولی دی۔ اس کے بعد ریفرنس قیمت کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

پہلے مرحلے کے بعد دونوں بڑے بولی دہندگان کو 30 منٹ کا وقفہ دیا گیا تاکہ وہ آپس میں مشاورت کر سکیں۔ وقفے کے بعد اوپن آکشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ اس مرحلے میں ابتدائی قیمت 115 ارب روپے رکھی گئی، جو پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ کی سب سے زیادہ بولی تھی۔ کم از کم اضافی رقم 25 کروڑ روپے مقرر کی گئی۔

دوسرے مرحلے میں دونوں گروپس کے درمیان مختصر مگر سخت مقابلہ ہوا۔ لکی سیمنٹ نے اپنی بولی بڑھا کر 134 ارب روپے کر دی۔ اس کے فوراً بعد عارف حبیب گروپ نے 135 ارب روپے کی پیشکش کی۔ اس بولی کے بعد لکی سیمنٹ نے مقابلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور عارف حبیب گروپ کو مبارک باد دی۔
آکشن کا پورا عمل نہ صرف ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھایا گیا بلکہ حکومت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی لائیو اسٹریم کیا گیا۔ اس اقدام کو شفافیت کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
بولی کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل تک پہنچنے میں کافی محنت اور وقت لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تمام بولی دہندگان پاکستانی ہیں، اور چاہے کوئی بھی جیتے، فائدہ پاکستان کا ہی ہو گا۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے اس سودے کو قومی معیشت پر اعتماد کا ووٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور برطانیہ کی جانب سے پی آئی اے پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اس کامیابی کی بڑی وجہ بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں 10 ارب روپے کی بولی سے آج 135 ارب روپے تک پہنچنا سول ایوی ایشن نظام پر اعتماد کا ثبوت ہے۔

تقریب کے آغاز میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے خطاب کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے پی آئی اے کے کم از کم 75 فیصد حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کا اختیار کامیاب بولی دہندہ آئندہ 90 دن میں استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد صرف ادارہ فروخت کرنا نہیں بلکہ قومی ایئرلائن کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے سرمایہ کے ذریعے طیاروں کی تعداد بڑھائی جائے گی، انجنوں کی مرمت ہو گی، واجبات کم کیے جائیں گے اور ملازمین کو بروقت تنخواہیں دی جائیں گی۔ ان کے مطابق 18 طیاروں کے موجودہ بیڑے کو 30 سے 40 طیاروں تک لے جانے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ یہ پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش تھی۔ گزشتہ سال ہونے والی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب صرف ایک بولی سامنے آئی تھی، جو ریفرنس قیمت سے بہت کم تھی۔ اس بار حکومت نے شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔

نجکاری کمیشن کے مطابق ناکام بولی دہندگان کو مستقبل میں پی آئی اے کے انتظامی معاملات میں کوئی کردار نہیں ملے گا۔ اس شرط کا مقصد نئے انتظامی ڈھانچے کو آزاد اور مؤثر بنانا ہے۔ اس فیصلے کو ماہرین ایک اہم اصلاحی قدم قرار دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں: