Tag: قانون

  • پرتگال میں نیا ’برقعہ قانون‘: عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی، جرمانہ تین ہزار یورو تک

    پرتگال میں نیا ’برقعہ قانون‘: عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی، جرمانہ تین ہزار یورو تک

    پرتگال میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے سے متعلق نیا قانون نافذ ہوگیا ہے، جسے مقامی ذرائع ابلاغ نے ’برقعہ قانون‘ کا نام دیا ہے۔ پرتگال کے صدر انتونیو جوزے سیگورو نے 18 اگست 2026 کو پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کی توثیق کردی۔ یہ قانون کسی مخصوص مذہب کا نام لیے بغیر ایسے لباس یا اشیا کے ذریعے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے سے روکتا ہے جن کا مقصد چہرے کو ڈھانپنا یا کسی شخص کی شناخت مشکل بنانا ہو۔

    یہ قانون پرتگالی پارلیمنٹ نے 17 جولائی 2026 کو حتمی ووٹنگ میں منظور کیا تھا۔ اس کے حق میں حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، انتہائی دائیں بازو کی چیگا، انیشی ایٹو فار لبرل انیشی ایٹو اور ڈیموکریٹک اینڈ سوشل سینٹر نے ووٹ دیا، جبکہ سوشلسٹ پارٹی، لیفٹ بلاک، پرتگالی کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں نے مخالفت کی۔ پین جماعت نے ووٹنگ میں غیر جانب داری اختیار کی۔

    اس قانون کا پس منظر بھی اہم ہے۔ اس کی ابتدائی تجویز انتہائی دائیں بازو کی جماعت چیگا کے ارکان پارلیمنٹ نے جون 2025 میں پیش کی تھی۔ اس تجویز کا مقصد عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے والے لباس پر پابندی عائد کرنا تھا۔ بعد میں پارلیمانی کارروائی کے دوران قانون کے متن میں تبدیلیاں کی گئیں اور حتمی قانون میں مذہب کا براہ راست حوالہ ختم کردیا گیا۔ اس کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اس کا سب سے زیادہ اثر ان مسلمان خواتین پر پڑ سکتا ہے جو نقاب یا ایسا لباس استعمال کرتی ہیں جس سے پورا چہرہ ڈھک جاتا ہے۔

    قانون کے تحت عوامی مقامات پر ایسے کپڑے یا دیگر اشیا استعمال کرنے کی ممانعت ہے جن کا مقصد چہرہ چھپانا یا چہرے کی شناخت میں رکاوٹ ڈالنا ہو۔ تاہم قانون صرف چہرہ چھپانے تک محدود نہیں۔ اس میں کسی شخص کو جنس، مذہب، عمر یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر اپنا چہرہ چھپانے پر مجبور کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ شق قانون کے حتمی متن میں شامل کی گئی اور ابتدائی مسودے میں موجود نہیں تھی۔

    قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے کی دو سطحیں مقرر کی گئی ہیں۔ غفلت کی صورت میں 150 سے 750 یورو تک جرمانہ ہوسکتا ہے، جبکہ جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ 400 سے 3 ہزار یورو تک ہوسکتا ہے۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ جرمانہ تقریباً 3 ہزار یورو بنتا ہے۔

    قانون میں کئی اہم استثنیٰ بھی موجود ہیں۔ صحت سے متعلق ضرورت، پیشہ ورانہ کام، فنون لطیفہ، تفریح یا تشہیر کی وجوہات کی بنا پر چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح موسمی حالات یا حفاظتی ضرورت کی صورت میں بھی پابندی لاگو نہیں ہوگی۔ ہوائی جہازوں، سفارتی اور قونصلر عمارتوں، عبادت گاہوں اور دیگر مقدس مقامات کو بھی قانون کے دائرے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

    صدر انتونیو جوزے سیگورو نے قانون کی منظوری دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ یہ ایک انتہائی حساس سماجی اور ثقافتی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں مختلف حقوق اور ذمہ داریوں کے درمیان متوازن حد مقرر کرنا آسان نہیں۔ تاہم انہوں نے سماجی انضمام، صنفی عدم امتیاز اور عوامی سلامتی سے متعلق دلائل اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے سابقہ فیصلوں کو قانون کی منظوری کی بنیاد قرار دیا۔

    صدر کے مطابق چہرہ انسانی شناخت اور باہمی رابطے کا ایک مرکزی عنصر ہے۔ قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ عوامی مقامات پر چہرے کی شناخت ممکن ہونا سماجی اعتماد، باہمی رابطے اور بعض حالات میں سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے نزدیک یہ قانون کسی خاص مذہب کے خلاف نہیں بلکہ عوامی مقامات پر شناخت سے متعلق ایک عمومی اصول قائم کرتا ہے۔

    تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قانون کی شدید مخالفت کی ہے۔ تنظیم نے جولائی 2026 میں کہا کہ اگرچہ حتمی قانون میں اسلام کا براہ راست حوالہ ختم کردیا گیا ہے، لیکن اس کا عملی اثر خاص طور پر ان مسلمان خواتین پر پڑے گا جو اپنی مرضی سے مکمل چہرے کا نقاب استعمال کرتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کی پابندی مذہبی آزادی اور اظہار رائے کے حقوق کو متاثر کرسکتی ہے اور ایسی خواتین کے لیے تعلیم، روزگار، سرکاری خدمات اور عوامی زندگی تک رسائی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔

    اس بحث میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ پرتگال میں مکمل چہرہ ڈھانپنے والے لباس کا استعمال پہلے ہی بہت محدود ہے۔ اس لیے قانون کے ناقدین کا سوال یہ ہے کہ اگر ایسے لباس پہننے والوں کی تعداد کم ہے تو اس پابندی کی عملی ضرورت کتنی ہے، جبکہ قانون کے حامی اسے ایک وسیع تر اصول کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا تعلق شناخت اور عوامی مقامات پر چہرے کی نمائش سے ہے۔

    پرتگال کا فیصلہ یورپ میں چہرہ ڈھانپنے والے لباس کے بارے میں جاری ایک وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔ فرانس، بیلجیم، ڈنمارک اور آسٹریا سمیت کئی یورپی ممالک پہلے ہی عوامی مقامات پر مکمل یا جزوی طور پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ تاہم ہر ملک کے قانون کی حدود، استثنیٰ اور جرمانے مختلف ہیں۔

    پرتگال کے معاملے میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ حتمی قانون میں کسی مذہبی لباس کا نام نہیں لیا گیا۔ قانونی طور پر پابندی چہرہ چھپانے کے عمل پر ہے، نہ کہ برقعہ یا نقاب کے نام پر۔ لیکن چونکہ مکمل چہرہ ڈھانپنے والا لباس بعض مسلمان خواتین کے مذہبی یا ثقافتی لباس کا حصہ ہے، اس لیے قانون کی منظوری کے ساتھ ہی مذہبی آزادی اور خواتین کے لباس کے انتخاب کا سوال بھی مرکزی بحث بن گیا ہے۔

    یہ تنازع بنیادی طور پر دو مختلف تصورات کے درمیان توازن کا سوال بن چکا ہے۔ ایک طرف ریاست کا مؤقف ہے کہ عوامی مقامات پر شناخت، سماجی رابطے، صنفی مساوات اور سلامتی کو یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی بالغ فرد کو اپنے لباس کے انتخاب سے روکنا شخصی، مذہبی اور ثقافتی آزادی میں مداخلت ہوسکتا ہے۔

    یوں پرتگال کا نیا قانون صرف چہرہ ڈھانپنے کے لباس سے متعلق قانون نہیں رہا بلکہ اس نے یورپ میں مذہبی آزادی، خواتین کے لباس، ریاستی اختیار، شخصی آزادی اور عوامی سلامتی کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس قانون کی اصل آزمائش اب اس کے عملی نفاذ میں ہوگی کہ ریاست چہرے کی شناخت اور عوامی سلامتی کے مقصد کو کس طرح یقینی بناتی ہے اور ساتھ ہی ان شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیسے کرتی ہے جو مذہبی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے لباس کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔

  • سویڈن: جبری شادی، غیرت کے نام پر تشدد کو روکنے کے لیے قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی عائد

    سویڈن: جبری شادی، غیرت کے نام پر تشدد کو روکنے کے لیے قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی عائد

    سویڈن میں یکم جولائی 2026 سے ایک نیا قانون نافذ ہو گیا ہے، جس کے تحت فرسٹ کزن یعنی چچا، تایا، ماموں یا خالہ کی اولاد کے درمیان شادی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد جبری شادیوں، غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد، خاندانی دباؤ اور خواتین و نوجوانوں کے استحصال کی روک تھام کرنا ہے۔

    یہ قانون سویڈش پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا، جس کی باقاعدہ منظوری کے بعد اب اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ حکومت کے مطابق نئی قانون سازی سے ایسے افراد کو زیادہ قانونی تحفظ ملے گا جو خاندان یا سماجی دباؤ کے باعث اپنی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیے جاتے ہیں۔

    نئے قانون کے تحت صرف کزنز کی شادی ہی ممنوع نہیں ہوگی بلکہ ایسے رشتوں میں بھی شادی کی اجازت نہیں ہوگی جہاں ایک فرد دوسرے شخص کے بہن یا بھائی کی اولاد ہو۔

    اس کے علاوہ سوتیلے بہن بھائی اور ایسے بہن بھائی جن کا تعلق گود لینے کے عمل سے قائم ہوا ہو، ان کے درمیان شادی کی اجازت دینے کی گنجائش بھی ختم کر دی گئی ہے۔

    اس سے پہلے بعض مخصوص حالات میں سوتیلے بہن بھائیوں یا گود لیے گئے بہن بھائیوں کو خصوصی اجازت کے ذریعے شادی کی اجازت دی جا سکتی تھی، تاہم نئے قانون کے بعد یہ استثنا بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

    حکومت نے ایک اور اہم تبدیلی یہ کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک میں اپنے کزن سے شادی کرتا ہے تو ایسی شادی کو بھی عام طور پر سویڈن میں قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس راستے کو بند کرنا ہے جس کے ذریعے لوگ بیرون ملک شادی کرکے واپس آ کر اسے سویڈن میں رجسٹر کروا لیتے تھے۔

    سویڈش حکومت کے مطابق بعض خاندان ملکی قوانین سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک میں جا کر ایسی شادیاں کرتے تھے جو سویڈن کے قوانین یا سماجی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ نئی قانون سازی کے بعد ایسے طریقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ شادی ہر فرد کا ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے اور کسی بھی شخص کو خاندان، برادری یا ثقافتی دباؤ کے تحت شادی پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

    حکام کے مطابق یہ قانون خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گا۔

    سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر تشدد، جبری شادی اور خاندانی دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف سماجی اقدامات کافی نہیں بلکہ مؤثر قانونی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اسی مقصد کے تحت شادی کے قوانین میں یہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    سویڈن میں گزشتہ چند برسوں سے کزنز کی شادی کے معاملے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری تھی۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس موضوع پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے تھے۔

    قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی سے جبری شادیوں کے امکانات کم ہوں گے اور ایسے نوجوانوں کو بہتر تحفظ ملے گا جن پر خاندان کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون ان افراد کو بھی سہارا فراہم کرے گا جو اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ تمام کزنز کی شادیوں پر مکمل پابندی ضروری نہیں تھی کیونکہ بہت سے خاندانوں میں ایسی شادیاں دونوں فریقوں کی رضامندی سے ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر معاملے کو جبری شادی قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے انفرادی حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

    تاہم سویڈش حکومت کا مؤقف ہے کہ مجموعی طور پر یہ قانون انسانی حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات اور ذاتی آزادی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکام کے مطابق قانون کا بنیادی مقصد کسی خاص ثقافت یا برادری کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ہر فرد کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق فراہم کرنا ہے۔

    نئے قانون کے تحت دو جولائی 2026 سے رجسٹر ہونے والی تمام نئی شادیوں کا جائزہ انہی نئے قواعد کے مطابق لیا جائے گا۔ متعلقہ سرکاری ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملک میں ہونے والی یا بیرون ملک انجام پانے والی ایسی شادیاں جو نئے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہوں، انہیں قانونی حیثیت نہ مل سکے۔

    سویڈن کو انسانی حقوق، صنفی مساوات اور بچوں و خواتین کے تحفظ کے حوالے سے دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شادی کے قوانین میں یہ تبدیلی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہر فرد کو آزاد، محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کا حق فراہم کرنا ہے۔

    نئی قانون سازی سے توقع کی جا رہی ہے کہ جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی اور متاثرہ افراد کو مزید قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

  • سندھ ڈومیسٹک ورکر ویلفیئر قانون: گھروں میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین کے لیے نئی امید

    سندھ ڈومیسٹک ورکر ویلفیئر قانون: گھروں میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین کے لیے نئی امید

    سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والا ‘سندھ ڈومیسٹک ورکرز ویلفیئر بل 2025’ پاکستان میں گھریلو کام کرنے والے افراد کے حقوق کے حوالے سے ایک غیرمعمولی قانونی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ برسوں سے گھروں میں کام کرنے والے افراد، خاص طور پر خواتین اور بچے، ایک ایسی غیر رسمی ورک فورس کا حصہ رہے ہیں جسے نہ مکمل مزدور سمجھا گیا اور نہ ہی انہیں وہ قانونی تحفظ ملا جو دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس قانون کو صرف ایک لیبر قانون نہیں بلکہ سماجی رویوں میں تبدیلی کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔

    پاکستان میں گھریلو کام کرنے والوں کی درست تعداد کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، تاہم لیبر اور انسانی حقوق سے وابستہ اداروں کے مطابق لاکھوں افراد اس شعبے سے وابستہ ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور کم عمر بچوں کی بھی رہی ہے۔ گھروں کے اندر ہونے والے کام کی وجہ سے یہ شعبہ ہمیشہ نگرانی، رجسٹریشن اور قانونی تحفظ سے تقریباً باہر رہا۔ اسی خلا کی وجہ سے کم اجرت، تشدد، جبری مشقت، غیر انسانی رویے اور طویل اوقات کار جیسے مسائل بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔

    نئے قانون کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اس میں گھریلو کام کرنے والے افراد کو محض ‘نوکر’ یا ‘سرونٹ’ کہنے کے بجائے باقاعدہ ‘ڈومیسٹک ورکر’ تسلیم کیا گیا ہے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق الفاظ کی یہ تبدیلی محض رسمی نہیں بلکہ انسانی وقار اور شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیا کے کئی معاشروں میں گھریلو ملازمین کو اکثر نچلے درجے کے افراد کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اسی لیے یہ قانون پہلی بار عزت اور پیشہ ورانہ شناخت کو بھی قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرتا ہے۔

    قانون کے مطابق گھر میں رہ کر کام کرنے والے یا مکمل وقتی ڈومیسٹک ورکر سے روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جاسکے گا۔ ہفتے میں ایک دن لازمی آرام کا ہوگا، جبکہ اضافی دن کام لینے کی صورت میں اضافی معاوضہ دینا ہوگا۔ ماضی میں گھریلو ملازمین کے لیے اوقات کار کا کوئی واضح تصور موجود نہیں تھا اور کئی ملازمین صبح سے رات گئے تک مسلسل کام کرتے تھے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہی غیر واضح نظام استحصال کی بڑی وجوہات میں شامل تھا۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین کے لیے زچگی کی تنخواہ سمیت چھٹیوں کا تصور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس قانون کے تحت خواتین ڈومیسٹک ورکرز کو تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹی دینے کی شق شامل کی گئی ہے، جسے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیماری، ہنگامی صورتحال اور مذہبی تہواروں کے لیے بھی باضابطہ رخصتوں کا تصور شامل کیا گیا ہے۔

    قانون کی ایک اور اہم شق کم عمر بچوں سے گھریلو مشقت پر پابندی ہے۔ سولہ سال سے کم عمر بچوں کو گھریلو ملازمت پر رکھنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق پاکستان میں گھروں کے اندر بچوں سے کام لینا ہمیشہ ایک حساس مسئلہ رہا ہے کیونکہ ایسے بچے اکثر جسمانی تشدد، تعلیم سے محرومی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں مختلف شہروں سے کم عمر گھریلو ملازمین پر تشدد اور ہلاکتوں کے متعدد واقعات بھی سامنے آچکے ہیں، جنہوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔

    یہ قانون پہلی بار گھریلو ملازمین کے لیے تحریری ملازمت نامے کی شرط بھی متعارف کرا رہا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق پاکستان میں گھریلو ملازمت ہمیشہ زبانی معاہدوں پر چلتی رہی، جس کی وجہ سے اجرت، چھٹی، کام کے اوقات اور ذمہ داریوں پر تنازعات پیدا ہوتے تھے۔ اب آجر اور ڈومیسٹک ورکر دونوں کی رجسٹریشن اور ملازمت کی تحریری دستاویزات اس شعبے کو باقاعدہ دستاویزی شکل دے سکتی ہیں۔

    خواتین ڈومیسٹک ورکرز کے لیے ہراسگی کے خلاف شکایت کا حق بھی اس قانون کا اہم حصہ ہے۔ گھریلو ماحول چونکہ نجی دائرے میں آتا ہے، اس لیے ایسے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوپاتے تھے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس قانون پر مؤثر عملدرآمد ہوا تو پہلی بار گھروں کے اندر کام کرنے والی خواتین کے لیے قانونی تحفظ کا عملی راستہ کھل سکتا ہے۔

    تاہم کئی ماہرین اس قانون کے نفاذ کو سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ گھریلو کام بند دروازوں کے پیچھے ہوتا ہے، جہاں سرکاری نگرانی محدود رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال ہے کہ صرف قانون سازی کافی نہیں ہوگی بلکہ اس کے ساتھ عوامی شعور، رجسٹریشن نظام، شکایتی مراکز اور سخت نگرانی کا مؤثر نظام بھی ضروری ہوگا۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر بھی گھریلو ملازمین کے حقوق کافی دیر سے تسلیم کیے گئے۔ بین الاقوامی لیبر تنظیم نے کئی برس پہلے گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے عالمی کنونشن منظور کیا تھا، جس میں مناسب اجرت، آرام، تحفظ اور انسانی وقار کو بنیادی حق قرار دیا گیا تھا۔ سندھ کا نیا قانون اسی عالمی رجحان کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    یہ قانون آخرکار صرف تنخواہ یا چھٹیوں کا معاملہ نہیں بلکہ اس سوچ کو بدلنے کی کوشش بھی ہے جس میں گھریلو کام کرنے والے افراد کو اکثر غیر مرئی سمجھ لیا جاتا تھا۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ قانون واقعی گھروں کے اندر کام کرنے والے لاکھوں افراد کی زندگی بدل سکے گا یا یہ بھی صرف سرکاری دستاویزات تک محدود رہ جائے گا۔

  • آیان علی سے کوکین کوئین انمول عرف پنکی تک، قانون کی بے بسی کے دو رخ

    آیان علی سے کوکین کوئین انمول عرف پنکی تک، قانون کی بے بسی کے دو رخ

    پاکستانی معاشرے میں قانون کی حکمرانی ہمیشہ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کی زنجیروں میں جکڑی رہی ہے۔ جب ہم ملک میں جرائم کی دنیا اور بااثر کرداروں پر نظر ڈالتے ہیں تو دو ایسے چہرے سامنے آتے ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکی بلکہ اپنے اثر و رسوخ سے ریاستی اداروں کو بھی بے بس بنا دیا۔

    ایک طرف کراچی اور لاہور میں منشیات کا نیٹ ورک چلانے والی ’پنکی‘ ہے اور دوسری طرف منی لانڈرنگ کیس کے باعث عالمی شہرت حاصل کرنے والی ماڈل گرل ’آیان علی‘۔

    پنکی، منشیات کی رانی اور اداروں کی خاموشی

    پنکی ایک ایسا کردار ہے جس نے منشیات کی دنیا میں ایک نیا ’فارمولا‘ متعارف کروایا۔ اس کا عروج صرف اس کی مجرمانہ ذہنیت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے پولیس اور انتظامیہ کی وہ ملی بھگت بھی شامل تھی جو دولت کی چمک کے آگے سر جھکا دیتی ہے۔ پنکی کا یہ اعتراف کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ہمیشہ اپنے ساتھ بھاری رقم رکھتی تھی، ہمارے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک عورت کراچی سے لاہور تک منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی، پولیس افسران سے شادیاں کر کے اپنے جرائم پر پردہ ڈالتی رہی، اور وفاقی ادارے جیسے اے این ایف اور ایکسائز اس سب سے لاعلم رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ گرفتار ہوئی تو ایک پولیس انسپکٹر نے اسے ریمانڈ نہ ملنے پر مبارکباد دی اور ’عیدی‘ کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جب جرم کو وردی کی سرپرستی حاصل ہو جائے تو قانون صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتا ہے۔

    ایسا ہی ایک بااثر کیس ماڈل گرل آیان علی کا بھی تھا۔

    14 مارچ 2015 کو پاکستان کی معروف ماڈل گرل آیان علی اسلام آباد ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے لاکھوں ڈالر بیرون ملک لے جانے کے الزام میں کسٹمز اور ایف آئی اے حکام کے ہاتھوں گرفتار ہوئی اور اڈیالہ جیل راولپنڈی پہنچا دی گئی۔ وہ کافی عرصہ جیل میں بھی رہی۔ اس کی وکالت سابق صدر آصف علی زرداری کے وکلا، لطیف کھوسہ، فاروق ایچ نائیک اور بابر اعوان نے کی۔ بالآخر وہ ضمانت پر رہا ہو کر بیرون ملک چلی گئی۔

    آیان علی کا کیس پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر غیر معمولی شہرت حاصل کر چکا تھا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد وہ کیس کی سماعت کے لیے کراچی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرتی رہتی تھی۔ انہی پیشیوں میں ایک موقع پر میری بھی اس سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔

    یہ 31 مارچ 2016 کی بات ہے۔ میں اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی سے اسلام آباد جا رہا تھا۔ کراچی ایئرپورٹ کے ڈپارچر لاؤنج میں بیٹھا معروف برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کی کتاب ’ویٹنگ فار اللہ‘ پڑھ رہا تھا، جو پاکستانی سیاست اور محترمہ بینظیر بھٹو پر لکھی گئی ہے۔ بورڈنگ شروع ہو چکی تھی اور مسافر اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔ آخرکار ایک خاتون کی سریلی آواز میں اعلان ہوا کہ کراچی سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 308 کے مسافر جہاز کی طرف روانہ ہوں۔

    میں اپنی دھن میں کتاب پڑھنے میں مصروف رہا یہاں تک کہ آخری اعلان ہوا، تب جا کر جہاز میں پہنچا۔ جہاز بوئنگ تھا اور اتفاق سے میری فرنٹ سیٹ تھی۔ دو نشستوں والی قطار میں ونڈو سائیڈ پر ایک نہایت ماڈرن خاتون سیاہ پینٹ شرٹ سوٹ میں بیٹھی ہوئی تھی جبکہ ساتھ والی نشست خالی تھی۔ میں نے ایئر ہوسٹس سے تصدیق کی تو اس نے بتایا کہ یہی میری سیٹ ہے۔

    اجنبی خاتون کے ساتھ بیٹھنا میرے لیے عجیب تھا کیونکہ میرا بچپن اندرون سندھ کے قبائلی اور جاگیردارانہ ماحول میں گزرا تھا، جہاں معمولی باتوں پر بھی شکوک پیدا ہو جاتے تھے۔ بہرحال میں جا کر اس کے برابر والی نشست پر بیٹھ گیا۔ میں نے بھی کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔

    جہاز نے اڑان بھری تو برابر بیٹھی خاتون کوئی فیشن میگزین دیکھ رہی تھی۔ اتفاق سے اس فلائٹ میں المرتضی ہاؤس کے پرانے ملازم مامی جان محمد کھکھرانی ابڑو کے بیٹے ممتاز ابڑو فلائٹ اسٹیورڈ تھے، جنہیں بینظیر بھٹو نے ملازمت دلوائی تھی۔ ممتاز مجھے دیکھ کر نہایت احترام سے ملا اور بولا: ’قادری صاحب، کسی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا۔‘

    برابر بیٹھی خاتون یہ سب غور سے دیکھ رہی تھی۔ میں تو اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا کہ یہ آیان علی ہے، جو اس وقت میڈیا پر مسلسل خبروں میں تھی۔ شاید میرے کالے لباس اور ممتاز کے احترام بھرے انداز سے وہ یہ سمجھ بیٹھی کہ میرا تعلق کسی روحانی خاندان سے ہے۔

    اس نے مجھ سے پوچھا: ’سر، آپ قادری ہیں؟‘ میں نے جواب دیا: ’جی۔‘

    بس پھر کیا تھا، وہ قادرین کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی۔ کہنے لگی: ’آپ لوگوں کا سلسلہ تو بڑے پرہیزگاروں اور عبادت گزاروں کا سلسلہ ہے، کیا خوب نعتیں اور روحانی بزرگ ہوتے ہیں آپ لوگوں میں۔‘

    میں خاموشی سے سنتا رہا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ طالب علمی کے زمانے میں ہمیں تو گاؤں کے مولوی ’کافر کمیونسٹ‘ تک قرار دے چکے تھے اور ہمارا ان پیری فقیری کے معاملات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ مگر میں نے سوچا، مفت میں عزت مل رہی ہے تو اپنی حقیقت بتانے کی کیا ضرورت ہے۔

    اسی دوران میں نے اپنے جیل کے تجربات یاد کیے، جہاں میں نے بڑے بڑے ڈاکوؤں اور مجرموں کو تسبیح پڑھتے دیکھا تھا۔ تب مجھے اندازہ ہوگیا کہ آیان علی پر بھی جیل کا اثر ہے۔

    کچھ دیر بعد آیان علی نے کہا: ’قادری صاحب، ملک میں نہ جانے کیا کچھ ہو رہا ہے، مگر پکڑی صرف میں گئی ہوں۔ بڑے لوگوں کی لڑائی میں ایک بے قصور لڑکی پس رہی ہے۔ میرے لیے دعا کریں۔‘

    میں دل ہی دل میں شرمندہ بھی ہو رہا تھا کہ وہ مجھے کوئی صاحب کرامت پیر سمجھ بیٹھی ہے، مگر میں نے سنجیدگی سے کہا:

    ’دل چھوٹا نہ کریں، اللہ بہتر کرے گا، آپ کے لیے آسانی ہوگی۔‘

    اس دن وہ اپنے پاسپورٹ کی واپسی کی سماعت کے لیے جا رہی تھی۔ اتفاق سے عدالت نے اسی پیشی پر اسے پاسپورٹ واپس کرنے اور مشروط طور پر بیرون ملک سفر کی اجازت دینے کا حکم دے دیا۔

    اگلے دن واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر دوبارہ ملاقات ہوئی۔ وہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔ بڑے احترام سے ملی اور بولی: ’قادری صاحب، اللہ آپ کو خوش رکھے، آپ کی دعا قبول ہوگئی۔ عدالت نے میرا پاسپورٹ واپس کر دیا اور بیرون ملک سفر کی اجازت بھی دے دی ہے۔‘

    میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا: ’ہم قادری تو فیض دینے والے ہوتے ہیں، آپ کے لیے دعائیں ہی دعائیں ہیں۔‘

    البتہ دل میں ایک خوف بھی تھا کہ اگر اس وقت کے طاقتور حلقوں یا وزیر داخلہ چوہدری نثار کو معلوم ہوگیا کہ میں مفت میں ’روحانی خدمات‘ انجام دے رہا ہوں تو کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

    ایک بات میں نے ضرور نوٹ کی کہ دونوں مرتبہ ایئرپورٹ پر آیان علی کے استقبال اور روانگی کے لیے غیر معمولی پروٹوکول، سیکیورٹی اور بلٹ پروف گاڑیاں موجود تھیں۔ تب میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید سیاست اور نظریات سے زیادہ فائدہ تعویذ، دھاگوں اور روحانی فیض کے کاروبار میں ہے، بس انسان میں اداکاری ہونی چاہیے۔

    زندگی واقعی عجیب کھیل ہے۔ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ کب، کہاں اور کن لوگوں سے ملاقات ہو جائے۔ ایک طرف میں خود کو کمیونسٹ ذہن رکھنے والا شخص سمجھتا تھا اور دوسری طرف لوگ مجھے پیر و مرشد تصور کر رہے تھے۔

    اسی کو کہتے ہیں: ’قسمت مہربان ہو تو دال بھی شیرے جیسی لگنے لگتی ہے۔‘

  • ایک بچی کی موت کے باعث بننے والا سندھ کا قانون (امل عمر) ایکٹ 2019 کیا ہے؟

    ایک بچی کی موت کے باعث بننے والا سندھ کا قانون (امل عمر) ایکٹ 2019 کیا ہے؟

    سندھ میں حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کیا جانے والا قانون ایک بچی کی موت کے بعد بنایا گیا۔

    اس قانون کو سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔
    13 اگست 2018 میں امل عمر اور ان کے والدین کراچی میں ایک کانسرٹ دیکھنے جارہے تھے۔ ٹریفک سگنل پر ان کی گاڑی کے قریب ایک ڈکیت آگیا، ڈکیتی کے بعد پولیس کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں امل کی موت واقع ہوئی۔

    اس واقع میں پولیس کے کردار پر تو انگلیاں اُٹھیں لیکن ساتھ ہی پرائیوٹ ہسپتال بھی تنقید کا نشانہ بنے۔ جب امل عمر کو گولی لگی تو ان کے والدین اُنہیں قریب ترین ہسپتال نیشنل میڈیکل سینٹر لے گئے۔ امل کی والدہ کے مطابق ہسپتال کے عملے نے ان کے مدد کرنے کے بجائے تاخیر سے کام لیا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔

    سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس میں صارفین نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    جس کے بعد سندھ حکومت نے سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ قانون اسمبلی سے پاس کرایا۔ اس قانون کو (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔

    یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد مل سکے۔

    اس کی وجہ وہ واقعات تھے جن میں اسپتالوں نے خوف یا غلط فہمی کی وجہ سے فوری علاج سے انکار کیا، اور جانیں ضائع ہو گئیں۔
    اس قانون کے مطابق سندھ میں کوئی بھی ہسپتال، چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی، کسی بھی زخمی کو داخل کرنے یا ابتدائی طبی امداد دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔

    ہسپتال پولیس کیس کے ڈر سے مریض کو نہیں روک سکتے، نہ ہی پولیس رپورٹ یا ایف آئی آر کا انتظار کیا جائے گا۔ جان بچانا ہمیشہ پہلی ترجیح ہوگی۔
    قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مریض یا لواحقین سے فوری طور پر پیسے مانگ کر علاج روکنا بھی جرم ہے۔ ہسپتال پر لازم ہے کہ وہ ابتدائی علاج کرے، مریض کو اسٹبلائز کرے، اور اگر ضرورت ہو تو مناسب سہولت والے ہسپتال ریفر کرے۔

    اگر کوئی ہسپتال اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
    یہ ایکٹ ہنگامی حالات میں انسانی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، تاکہ کسی بھی زخمی شخص کی زندگی کاغذی کارروائی یا غلط فہمیوں کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔

    اگر آپ یا آپ کے آس پاس کبھی کوئی حادثہ پیش آئے، تو یاد رکھیے: سندھ کے کسی بھی ہسپتال کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری علاج فراہم کرے۔