سویڈن میں یکم جولائی 2026 سے ایک نیا قانون نافذ ہو گیا ہے، جس کے تحت فرسٹ کزن یعنی چچا، تایا، ماموں یا خالہ کی اولاد کے درمیان شادی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد جبری شادیوں، غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد، خاندانی دباؤ اور خواتین و نوجوانوں کے استحصال کی روک تھام کرنا ہے۔
یہ قانون سویڈش پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا، جس کی باقاعدہ منظوری کے بعد اب اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ حکومت کے مطابق نئی قانون سازی سے ایسے افراد کو زیادہ قانونی تحفظ ملے گا جو خاندان یا سماجی دباؤ کے باعث اپنی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیے جاتے ہیں۔
نئے قانون کے تحت صرف کزنز کی شادی ہی ممنوع نہیں ہوگی بلکہ ایسے رشتوں میں بھی شادی کی اجازت نہیں ہوگی جہاں ایک فرد دوسرے شخص کے بہن یا بھائی کی اولاد ہو۔
اس کے علاوہ سوتیلے بہن بھائی اور ایسے بہن بھائی جن کا تعلق گود لینے کے عمل سے قائم ہوا ہو، ان کے درمیان شادی کی اجازت دینے کی گنجائش بھی ختم کر دی گئی ہے۔
اس سے پہلے بعض مخصوص حالات میں سوتیلے بہن بھائیوں یا گود لیے گئے بہن بھائیوں کو خصوصی اجازت کے ذریعے شادی کی اجازت دی جا سکتی تھی، تاہم نئے قانون کے بعد یہ استثنا بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے ایک اور اہم تبدیلی یہ کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک میں اپنے کزن سے شادی کرتا ہے تو ایسی شادی کو بھی عام طور پر سویڈن میں قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس راستے کو بند کرنا ہے جس کے ذریعے لوگ بیرون ملک شادی کرکے واپس آ کر اسے سویڈن میں رجسٹر کروا لیتے تھے۔
سویڈش حکومت کے مطابق بعض خاندان ملکی قوانین سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک میں جا کر ایسی شادیاں کرتے تھے جو سویڈن کے قوانین یا سماجی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ نئی قانون سازی کے بعد ایسے طریقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ شادی ہر فرد کا ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے اور کسی بھی شخص کو خاندان، برادری یا ثقافتی دباؤ کے تحت شادی پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
حکام کے مطابق یہ قانون خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر تشدد، جبری شادی اور خاندانی دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف سماجی اقدامات کافی نہیں بلکہ مؤثر قانونی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اسی مقصد کے تحت شادی کے قوانین میں یہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
سویڈن میں گزشتہ چند برسوں سے کزنز کی شادی کے معاملے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری تھی۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس موضوع پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے تھے۔
قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی سے جبری شادیوں کے امکانات کم ہوں گے اور ایسے نوجوانوں کو بہتر تحفظ ملے گا جن پر خاندان کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون ان افراد کو بھی سہارا فراہم کرے گا جو اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ تمام کزنز کی شادیوں پر مکمل پابندی ضروری نہیں تھی کیونکہ بہت سے خاندانوں میں ایسی شادیاں دونوں فریقوں کی رضامندی سے ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر معاملے کو جبری شادی قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے انفرادی حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
تاہم سویڈش حکومت کا مؤقف ہے کہ مجموعی طور پر یہ قانون انسانی حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات اور ذاتی آزادی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکام کے مطابق قانون کا بنیادی مقصد کسی خاص ثقافت یا برادری کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ہر فرد کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق فراہم کرنا ہے۔
نئے قانون کے تحت دو جولائی 2026 سے رجسٹر ہونے والی تمام نئی شادیوں کا جائزہ انہی نئے قواعد کے مطابق لیا جائے گا۔ متعلقہ سرکاری ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملک میں ہونے والی یا بیرون ملک انجام پانے والی ایسی شادیاں جو نئے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہوں، انہیں قانونی حیثیت نہ مل سکے۔
سویڈن کو انسانی حقوق، صنفی مساوات اور بچوں و خواتین کے تحفظ کے حوالے سے دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شادی کے قوانین میں یہ تبدیلی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہر فرد کو آزاد، محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کا حق فراہم کرنا ہے۔
نئی قانون سازی سے توقع کی جا رہی ہے کہ جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی اور متاثرہ افراد کو مزید قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔





