سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والا ‘سندھ ڈومیسٹک ورکرز ویلفیئر بل 2025’ پاکستان میں گھریلو کام کرنے والے افراد کے حقوق کے حوالے سے ایک غیرمعمولی قانونی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ برسوں سے گھروں میں کام کرنے والے افراد، خاص طور پر خواتین اور بچے، ایک ایسی غیر رسمی ورک فورس کا حصہ رہے ہیں جسے نہ مکمل مزدور سمجھا گیا اور نہ ہی انہیں وہ قانونی تحفظ ملا جو دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس قانون کو صرف ایک لیبر قانون نہیں بلکہ سماجی رویوں میں تبدیلی کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں گھریلو کام کرنے والوں کی درست تعداد کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، تاہم لیبر اور انسانی حقوق سے وابستہ اداروں کے مطابق لاکھوں افراد اس شعبے سے وابستہ ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور کم عمر بچوں کی بھی رہی ہے۔ گھروں کے اندر ہونے والے کام کی وجہ سے یہ شعبہ ہمیشہ نگرانی، رجسٹریشن اور قانونی تحفظ سے تقریباً باہر رہا۔ اسی خلا کی وجہ سے کم اجرت، تشدد، جبری مشقت، غیر انسانی رویے اور طویل اوقات کار جیسے مسائل بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔
نئے قانون کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اس میں گھریلو کام کرنے والے افراد کو محض ‘نوکر’ یا ‘سرونٹ’ کہنے کے بجائے باقاعدہ ‘ڈومیسٹک ورکر’ تسلیم کیا گیا ہے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق الفاظ کی یہ تبدیلی محض رسمی نہیں بلکہ انسانی وقار اور شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیا کے کئی معاشروں میں گھریلو ملازمین کو اکثر نچلے درجے کے افراد کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اسی لیے یہ قانون پہلی بار عزت اور پیشہ ورانہ شناخت کو بھی قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرتا ہے۔
قانون کے مطابق گھر میں رہ کر کام کرنے والے یا مکمل وقتی ڈومیسٹک ورکر سے روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جاسکے گا۔ ہفتے میں ایک دن لازمی آرام کا ہوگا، جبکہ اضافی دن کام لینے کی صورت میں اضافی معاوضہ دینا ہوگا۔ ماضی میں گھریلو ملازمین کے لیے اوقات کار کا کوئی واضح تصور موجود نہیں تھا اور کئی ملازمین صبح سے رات گئے تک مسلسل کام کرتے تھے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہی غیر واضح نظام استحصال کی بڑی وجوہات میں شامل تھا۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین کے لیے زچگی کی تنخواہ سمیت چھٹیوں کا تصور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس قانون کے تحت خواتین ڈومیسٹک ورکرز کو تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹی دینے کی شق شامل کی گئی ہے، جسے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیماری، ہنگامی صورتحال اور مذہبی تہواروں کے لیے بھی باضابطہ رخصتوں کا تصور شامل کیا گیا ہے۔
قانون کی ایک اور اہم شق کم عمر بچوں سے گھریلو مشقت پر پابندی ہے۔ سولہ سال سے کم عمر بچوں کو گھریلو ملازمت پر رکھنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق پاکستان میں گھروں کے اندر بچوں سے کام لینا ہمیشہ ایک حساس مسئلہ رہا ہے کیونکہ ایسے بچے اکثر جسمانی تشدد، تعلیم سے محرومی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں مختلف شہروں سے کم عمر گھریلو ملازمین پر تشدد اور ہلاکتوں کے متعدد واقعات بھی سامنے آچکے ہیں، جنہوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔
یہ قانون پہلی بار گھریلو ملازمین کے لیے تحریری ملازمت نامے کی شرط بھی متعارف کرا رہا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق پاکستان میں گھریلو ملازمت ہمیشہ زبانی معاہدوں پر چلتی رہی، جس کی وجہ سے اجرت، چھٹی، کام کے اوقات اور ذمہ داریوں پر تنازعات پیدا ہوتے تھے۔ اب آجر اور ڈومیسٹک ورکر دونوں کی رجسٹریشن اور ملازمت کی تحریری دستاویزات اس شعبے کو باقاعدہ دستاویزی شکل دے سکتی ہیں۔
خواتین ڈومیسٹک ورکرز کے لیے ہراسگی کے خلاف شکایت کا حق بھی اس قانون کا اہم حصہ ہے۔ گھریلو ماحول چونکہ نجی دائرے میں آتا ہے، اس لیے ایسے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوپاتے تھے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس قانون پر مؤثر عملدرآمد ہوا تو پہلی بار گھروں کے اندر کام کرنے والی خواتین کے لیے قانونی تحفظ کا عملی راستہ کھل سکتا ہے۔
تاہم کئی ماہرین اس قانون کے نفاذ کو سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ گھریلو کام بند دروازوں کے پیچھے ہوتا ہے، جہاں سرکاری نگرانی محدود رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال ہے کہ صرف قانون سازی کافی نہیں ہوگی بلکہ اس کے ساتھ عوامی شعور، رجسٹریشن نظام، شکایتی مراکز اور سخت نگرانی کا مؤثر نظام بھی ضروری ہوگا۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر بھی گھریلو ملازمین کے حقوق کافی دیر سے تسلیم کیے گئے۔ بین الاقوامی لیبر تنظیم نے کئی برس پہلے گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے عالمی کنونشن منظور کیا تھا، جس میں مناسب اجرت، آرام، تحفظ اور انسانی وقار کو بنیادی حق قرار دیا گیا تھا۔ سندھ کا نیا قانون اسی عالمی رجحان کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ قانون آخرکار صرف تنخواہ یا چھٹیوں کا معاملہ نہیں بلکہ اس سوچ کو بدلنے کی کوشش بھی ہے جس میں گھریلو کام کرنے والے افراد کو اکثر غیر مرئی سمجھ لیا جاتا تھا۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ قانون واقعی گھروں کے اندر کام کرنے والے لاکھوں افراد کی زندگی بدل سکے گا یا یہ بھی صرف سرکاری دستاویزات تک محدود رہ جائے گا۔
