سندھ میں حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کیا جانے والا قانون ایک بچی کی موت کے بعد بنایا گیا۔
اس قانون کو سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔
13 اگست 2018 میں امل عمر اور ان کے والدین کراچی میں ایک کانسرٹ دیکھنے جارہے تھے۔ ٹریفک سگنل پر ان کی گاڑی کے قریب ایک ڈکیت آگیا، ڈکیتی کے بعد پولیس کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں امل کی موت واقع ہوئی۔
اس واقع میں پولیس کے کردار پر تو انگلیاں اُٹھیں لیکن ساتھ ہی پرائیوٹ ہسپتال بھی تنقید کا نشانہ بنے۔ جب امل عمر کو گولی لگی تو ان کے والدین اُنہیں قریب ترین ہسپتال نیشنل میڈیکل سینٹر لے گئے۔ امل کی والدہ کے مطابق ہسپتال کے عملے نے ان کے مدد کرنے کے بجائے تاخیر سے کام لیا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔
سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس میں صارفین نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
جس کے بعد سندھ حکومت نے سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ قانون اسمبلی سے پاس کرایا۔ اس قانون کو (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔
یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد مل سکے۔
اس کی وجہ وہ واقعات تھے جن میں اسپتالوں نے خوف یا غلط فہمی کی وجہ سے فوری علاج سے انکار کیا، اور جانیں ضائع ہو گئیں۔
اس قانون کے مطابق سندھ میں کوئی بھی ہسپتال، چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی، کسی بھی زخمی کو داخل کرنے یا ابتدائی طبی امداد دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔
ہسپتال پولیس کیس کے ڈر سے مریض کو نہیں روک سکتے، نہ ہی پولیس رپورٹ یا ایف آئی آر کا انتظار کیا جائے گا۔ جان بچانا ہمیشہ پہلی ترجیح ہوگی۔
قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مریض یا لواحقین سے فوری طور پر پیسے مانگ کر علاج روکنا بھی جرم ہے۔ ہسپتال پر لازم ہے کہ وہ ابتدائی علاج کرے، مریض کو اسٹبلائز کرے، اور اگر ضرورت ہو تو مناسب سہولت والے ہسپتال ریفر کرے۔
اگر کوئی ہسپتال اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ ایکٹ ہنگامی حالات میں انسانی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، تاکہ کسی بھی زخمی شخص کی زندگی کاغذی کارروائی یا غلط فہمیوں کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔
اگر آپ یا آپ کے آس پاس کبھی کوئی حادثہ پیش آئے، تو یاد رکھیے: سندھ کے کسی بھی ہسپتال کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری علاج فراہم کرے۔
