پاکستانی معاشرے میں قانون کی حکمرانی ہمیشہ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کی زنجیروں میں جکڑی رہی ہے۔ جب ہم ملک میں جرائم کی دنیا اور بااثر کرداروں پر نظر ڈالتے ہیں تو دو ایسے چہرے سامنے آتے ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکی بلکہ اپنے اثر و رسوخ سے ریاستی اداروں کو بھی بے بس بنا دیا۔
ایک طرف کراچی اور لاہور میں منشیات کا نیٹ ورک چلانے والی ’پنکی‘ ہے اور دوسری طرف منی لانڈرنگ کیس کے باعث عالمی شہرت حاصل کرنے والی ماڈل گرل ’آیان علی‘۔
پنکی، منشیات کی رانی اور اداروں کی خاموشی
پنکی ایک ایسا کردار ہے جس نے منشیات کی دنیا میں ایک نیا ’فارمولا‘ متعارف کروایا۔ اس کا عروج صرف اس کی مجرمانہ ذہنیت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے پولیس اور انتظامیہ کی وہ ملی بھگت بھی شامل تھی جو دولت کی چمک کے آگے سر جھکا دیتی ہے۔ پنکی کا یہ اعتراف کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ہمیشہ اپنے ساتھ بھاری رقم رکھتی تھی، ہمارے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک عورت کراچی سے لاہور تک منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی، پولیس افسران سے شادیاں کر کے اپنے جرائم پر پردہ ڈالتی رہی، اور وفاقی ادارے جیسے اے این ایف اور ایکسائز اس سب سے لاعلم رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ گرفتار ہوئی تو ایک پولیس انسپکٹر نے اسے ریمانڈ نہ ملنے پر مبارکباد دی اور ’عیدی‘ کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جب جرم کو وردی کی سرپرستی حاصل ہو جائے تو قانون صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک بااثر کیس ماڈل گرل آیان علی کا بھی تھا۔
14 مارچ 2015 کو پاکستان کی معروف ماڈل گرل آیان علی اسلام آباد ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے لاکھوں ڈالر بیرون ملک لے جانے کے الزام میں کسٹمز اور ایف آئی اے حکام کے ہاتھوں گرفتار ہوئی اور اڈیالہ جیل راولپنڈی پہنچا دی گئی۔ وہ کافی عرصہ جیل میں بھی رہی۔ اس کی وکالت سابق صدر آصف علی زرداری کے وکلا، لطیف کھوسہ، فاروق ایچ نائیک اور بابر اعوان نے کی۔ بالآخر وہ ضمانت پر رہا ہو کر بیرون ملک چلی گئی۔
آیان علی کا کیس پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر غیر معمولی شہرت حاصل کر چکا تھا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد وہ کیس کی سماعت کے لیے کراچی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرتی رہتی تھی۔ انہی پیشیوں میں ایک موقع پر میری بھی اس سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔
یہ 31 مارچ 2016 کی بات ہے۔ میں اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی سے اسلام آباد جا رہا تھا۔ کراچی ایئرپورٹ کے ڈپارچر لاؤنج میں بیٹھا معروف برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کی کتاب ’ویٹنگ فار اللہ‘ پڑھ رہا تھا، جو پاکستانی سیاست اور محترمہ بینظیر بھٹو پر لکھی گئی ہے۔ بورڈنگ شروع ہو چکی تھی اور مسافر اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔ آخرکار ایک خاتون کی سریلی آواز میں اعلان ہوا کہ کراچی سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 308 کے مسافر جہاز کی طرف روانہ ہوں۔
میں اپنی دھن میں کتاب پڑھنے میں مصروف رہا یہاں تک کہ آخری اعلان ہوا، تب جا کر جہاز میں پہنچا۔ جہاز بوئنگ تھا اور اتفاق سے میری فرنٹ سیٹ تھی۔ دو نشستوں والی قطار میں ونڈو سائیڈ پر ایک نہایت ماڈرن خاتون سیاہ پینٹ شرٹ سوٹ میں بیٹھی ہوئی تھی جبکہ ساتھ والی نشست خالی تھی۔ میں نے ایئر ہوسٹس سے تصدیق کی تو اس نے بتایا کہ یہی میری سیٹ ہے۔
اجنبی خاتون کے ساتھ بیٹھنا میرے لیے عجیب تھا کیونکہ میرا بچپن اندرون سندھ کے قبائلی اور جاگیردارانہ ماحول میں گزرا تھا، جہاں معمولی باتوں پر بھی شکوک پیدا ہو جاتے تھے۔ بہرحال میں جا کر اس کے برابر والی نشست پر بیٹھ گیا۔ میں نے بھی کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔
جہاز نے اڑان بھری تو برابر بیٹھی خاتون کوئی فیشن میگزین دیکھ رہی تھی۔ اتفاق سے اس فلائٹ میں المرتضی ہاؤس کے پرانے ملازم مامی جان محمد کھکھرانی ابڑو کے بیٹے ممتاز ابڑو فلائٹ اسٹیورڈ تھے، جنہیں بینظیر بھٹو نے ملازمت دلوائی تھی۔ ممتاز مجھے دیکھ کر نہایت احترام سے ملا اور بولا: ’قادری صاحب، کسی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا۔‘

برابر بیٹھی خاتون یہ سب غور سے دیکھ رہی تھی۔ میں تو اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا کہ یہ آیان علی ہے، جو اس وقت میڈیا پر مسلسل خبروں میں تھی۔ شاید میرے کالے لباس اور ممتاز کے احترام بھرے انداز سے وہ یہ سمجھ بیٹھی کہ میرا تعلق کسی روحانی خاندان سے ہے۔
اس نے مجھ سے پوچھا: ’سر، آپ قادری ہیں؟‘ میں نے جواب دیا: ’جی۔‘
بس پھر کیا تھا، وہ قادرین کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی۔ کہنے لگی: ’آپ لوگوں کا سلسلہ تو بڑے پرہیزگاروں اور عبادت گزاروں کا سلسلہ ہے، کیا خوب نعتیں اور روحانی بزرگ ہوتے ہیں آپ لوگوں میں۔‘
میں خاموشی سے سنتا رہا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ طالب علمی کے زمانے میں ہمیں تو گاؤں کے مولوی ’کافر کمیونسٹ‘ تک قرار دے چکے تھے اور ہمارا ان پیری فقیری کے معاملات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ مگر میں نے سوچا، مفت میں عزت مل رہی ہے تو اپنی حقیقت بتانے کی کیا ضرورت ہے۔
اسی دوران میں نے اپنے جیل کے تجربات یاد کیے، جہاں میں نے بڑے بڑے ڈاکوؤں اور مجرموں کو تسبیح پڑھتے دیکھا تھا۔ تب مجھے اندازہ ہوگیا کہ آیان علی پر بھی جیل کا اثر ہے۔
کچھ دیر بعد آیان علی نے کہا: ’قادری صاحب، ملک میں نہ جانے کیا کچھ ہو رہا ہے، مگر پکڑی صرف میں گئی ہوں۔ بڑے لوگوں کی لڑائی میں ایک بے قصور لڑکی پس رہی ہے۔ میرے لیے دعا کریں۔‘
میں دل ہی دل میں شرمندہ بھی ہو رہا تھا کہ وہ مجھے کوئی صاحب کرامت پیر سمجھ بیٹھی ہے، مگر میں نے سنجیدگی سے کہا:
’دل چھوٹا نہ کریں، اللہ بہتر کرے گا، آپ کے لیے آسانی ہوگی۔‘
اس دن وہ اپنے پاسپورٹ کی واپسی کی سماعت کے لیے جا رہی تھی۔ اتفاق سے عدالت نے اسی پیشی پر اسے پاسپورٹ واپس کرنے اور مشروط طور پر بیرون ملک سفر کی اجازت دینے کا حکم دے دیا۔
اگلے دن واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر دوبارہ ملاقات ہوئی۔ وہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔ بڑے احترام سے ملی اور بولی: ’قادری صاحب، اللہ آپ کو خوش رکھے، آپ کی دعا قبول ہوگئی۔ عدالت نے میرا پاسپورٹ واپس کر دیا اور بیرون ملک سفر کی اجازت بھی دے دی ہے۔‘
میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا: ’ہم قادری تو فیض دینے والے ہوتے ہیں، آپ کے لیے دعائیں ہی دعائیں ہیں۔‘
البتہ دل میں ایک خوف بھی تھا کہ اگر اس وقت کے طاقتور حلقوں یا وزیر داخلہ چوہدری نثار کو معلوم ہوگیا کہ میں مفت میں ’روحانی خدمات‘ انجام دے رہا ہوں تو کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔
ایک بات میں نے ضرور نوٹ کی کہ دونوں مرتبہ ایئرپورٹ پر آیان علی کے استقبال اور روانگی کے لیے غیر معمولی پروٹوکول، سیکیورٹی اور بلٹ پروف گاڑیاں موجود تھیں۔ تب میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید سیاست اور نظریات سے زیادہ فائدہ تعویذ، دھاگوں اور روحانی فیض کے کاروبار میں ہے، بس انسان میں اداکاری ہونی چاہیے۔
زندگی واقعی عجیب کھیل ہے۔ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ کب، کہاں اور کن لوگوں سے ملاقات ہو جائے۔ ایک طرف میں خود کو کمیونسٹ ذہن رکھنے والا شخص سمجھتا تھا اور دوسری طرف لوگ مجھے پیر و مرشد تصور کر رہے تھے۔
اسی کو کہتے ہیں: ’قسمت مہربان ہو تو دال بھی شیرے جیسی لگنے لگتی ہے۔‘

