Tag: فیفا ورلڈ کپ

  • فیفا ورلڈ کپ فائنل: اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو شکست دے کر دوسری بار فٹبال ورلڈ کپ کا چیمپئن بن گیا

    فیفا ورلڈ کپ فائنل: اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو شکست دے کر دوسری بار فٹبال ورلڈ کپ کا چیمپئن بن گیا

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل دنیا بھر کے کروڑوں فٹبال شائقین کے لیے ایک ناقابل فراموش مقابلہ ثابت ہوا۔ نیویارک کے نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے اضافی وقت کے دوسرے حصے میں کیا گیا ایک فیصلہ کن گول ارجنٹینا کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

    مسلسل 120 منٹ تک جاری رہنے والے سخت اور اعصاب شکن مقابلے میں دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل پیش کیا، تاہم آخر میں قسمت نے اسپین کا ساتھ دیا جبکہ لیونل میسی اور ان کی ٹیم ایک اور عالمی اعزاز حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

    ورلڈ کپ کے اس فائنل کا دنیا بھر میں بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ایک طرف اسپین کی نوجوان، منظم اور تیز رفتار ٹیم تھی جبکہ دوسری جانب ارجنٹینا کی قیادت تجربہ کار لیونل میسی کر رہے تھے، جن کے لیے یہ میچ ان کے شاندار کیریئر کا ایک اور تاریخی لمحہ بن سکتا تھا۔ دونوں ٹیمیں پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے فائنل تک پہنچی تھیں، اس لیے شائقین کو ایک سخت مقابلے کی توقع تھی، جو درست ثابت ہوئی۔

    میچ کے آغاز سے ہی دونوں ٹیموں نے محتاط حکمت عملی اختیار کی۔ اسپین نے گیند پر زیادہ دیر تک قبضہ رکھنے کی کوشش کی جبکہ ارجنٹینا نے تیز جوابی حملوں پر انحصار کیا۔ ابتدائی دس منٹ میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے کھیل کو سمجھنے میں مصروف رہیں اور کسی نے غیر ضروری خطرہ مول لینے کی کوشش نہیں کی۔

    کچھ ہی دیر بعد اسپین نے اپنی روایتی مختصر پاسنگ کے ذریعے کھیل پر گرفت مضبوط کرنا شروع کر دی۔ مڈفیلڈ کے کھلاڑیوں نے گیند کو ایک دوسرے کے درمیان گھما کر ارجنٹینا کے دفاع میں جگہ بنانے کی کوشش کی، لیکن جنوبی امریکی ٹیم کے محافظ مکمل توجہ کے ساتھ کھیل رہے تھے اور ہر حملہ ناکام بنا رہے تھے۔

    ارجنٹینا نے بھی جلد ہی اپنی رفتار بڑھائی۔ لیونل میسی کئی مرتبہ گیند لے کر اسپین کے دفاع میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کیے۔ ان کے ایک خوبصورت پاس پر ارجنٹینا کے فارورڈ نے گول کی جانب شاٹ لگایا، لیکن اسپین کے گول کیپر نے شاندار انداز میں گیند روک کر اپنی ٹیم کو نقصان سے بچا لیا۔

    پہلے ہاف کے دوران دونوں ٹیموں کو چند اچھے مواقع ملے، مگر کوئی بھی انہیں گول میں تبدیل نہ کر سکی۔ اسپین کے ایک خطرناک حملے پر گیند گول پوسٹ کے قریب سے باہر نکل گئی جبکہ ارجنٹینا کے ایک شاٹ کو دفاعی کھلاڑی نے آخری لمحے میں روک لیا۔ پہلے 45 منٹ بغیر کسی گول کے ختم ہوئے، لیکن کھیل کا معیار اتنا بلند تھا کہ شائقین مسلسل اپنی نشستوں پر جمے رہے۔

    دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں نے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا۔ اسپین نے ونگز سے حملوں کی رفتار بڑھائی جبکہ ارجنٹینا نے میسی کو زیادہ آزادی دے دی تاکہ وہ کھیل کی رفتار تبدیل کر سکیں۔ میسی نے اپنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور کئی مرتبہ اسپین کے دفاع کو چکمہ دیا، مگر آخری پاس یا آخری شاٹ کامیاب نہ ہو سکا۔

    میچ کے ساٹھویں منٹ کے بعد کھیل مزید دلچسپ ہو گیا۔ دونوں کوچز نے تازہ دم کھلاڑی میدان میں اتارے تاکہ ٹیم کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔ ان تبدیلیوں سے کھیل میں نئی جان آ گئی اور دونوں جانب سے یکے بعد دیگرے حملے دیکھنے کو ملے۔

    اسپین کے ایک تیز رفتار حملے میں گیند گول کے بالکل سامنے موجود کھلاڑی تک پہنچی، مگر ارجنٹینا کے گول کیپر نے برق رفتاری سے آگے بڑھ کر گول ہونے سے بچا لیا۔ اس کے چند ہی منٹ بعد ارجنٹینا نے بھی خطرناک حملہ کیا، لیکن اسپین کے دفاع نے اجتماعی کوشش سے گیند کو کلیئر کر دیا۔

    آخری پندرہ منٹ میں دونوں ٹیموں پر دباؤ واضح نظر آ رہا تھا۔ کھلاڑی مسلسل دوڑنے کے باعث تھکن کا شکار تھے، لیکن کوئی بھی ٹیم ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔ شائقین ہر حملے پر اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوتے اور اسٹیڈیم میں جوش و خروش دیدنی تھا۔

    مقررہ نوے منٹ ختم ہونے تک اسکور صفر، صفر رہا۔ اس کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔ اضافی وقت کے پہلے پندرہ منٹ میں بھی دونوں ٹیمیں احتیاط سے کھیلتی رہیں۔ دونوں کوچ جانتے تھے کہ ایک معمولی غلطی پوری محنت پر پانی پھیر سکتی ہے، اس لیے دفاع پر خصوصی توجہ دی گئی۔

    اضافی وقت کے دوسرے حصے میں اسپین نے اپنی تمام تر توانائی آخری حملوں پر لگا دی۔ ایک منظم حرکت کے دوران مڈفیلڈ سے گیند ونگ پر بھیجی گئی، جہاں سے خوبصورت کراس کیا گیا۔ گیند اسپین کے حملہ آور تک پہنچی جس نے کسی غلطی کے بغیر طاقتور شاٹ لگا کر گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ اس گول کے ساتھ ہی اسپین کے کھلاڑی خوشی سے اچھل پڑے جبکہ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں ہسپانوی شائقین جشن منانے لگے۔

    گول کے بعد ارجنٹینا نے پوری ٹیم کو حملے پر لگا دیا۔ لیونل میسی نے آخری لمحات میں مسلسل گیند اپنے پاس رکھی اور اسپین کے دفاع کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کئی شاندار پاس دیے، لیکن اسپین کے دفاعی کھلاڑی غیر معمولی اعتماد کے ساتھ ہر حملہ روکنے میں کامیاب رہے۔

    ریفری کی جانب سے دیے گئے آخری اضافی منٹوں میں ارجنٹینا کو ایک خطرناک موقع ملا، مگر گیند گول پوسٹ سے معمولی فاصلے سے باہر نکل گئی۔ یہ لمحہ شاید پورے میچ کا سب سے افسوسناک لمحہ تھا کیونکہ اس کے فوراً بعد ریفری نے اختتامی سیٹی بجا دی۔

    اختتامی سیٹی بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی میدان میں دوڑ پڑے۔ کچھ کھلاڑی خوشی سے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے جبکہ کئی ایک دوسرے کو گلے لگا کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ کوچنگ اسٹاف اور ریزرو کھلاڑی بھی میدان میں پہنچ گئے اور جشن شروع ہو گیا۔

    دوسری جانب ارجنٹینا کے کھلاڑی شدید مایوسی کا شکار نظر آئے۔ لیونل میسی کچھ دیر تک میدان میں خاموش کھڑے رہے اور پھر اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو حوصلہ دیتے دکھائی دیے۔ ان کے چہرے پر شکست کا غم صاف دکھائی دے رہا تھا۔ شائقین نے انہیں بھرپور تالیاں بجا کر خراج تحسین پیش کیا۔

    اسپین کے کوچ نے میچ کے بعد کہا کہ ان کی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی نظم و ضبط، محنت اور اجتماعی کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق فائنل میں دونوں ٹیموں کے درمیان فرق صرف ایک موقع کا تھا، جس سے ان کے کھلاڑیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

    ارجنٹینا کے کوچ نے کہا کہ ان کی ٹیم نے دل سے کھیل پیش کیا اور آخری لمحے تک مقابلہ کیا، لیکن فٹبال میں بعض اوقات صرف ایک لمحہ پوری کہانی بدل دیتا ہے۔ انہوں نے اسپین کو فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنی ٹیم کی جدوجہد کو قابل فخر قرار دیا۔

    اسپین نے اس ورلڈ کپ میں مسلسل متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ اس نے ناک آؤٹ مرحلے میں مضبوط حریفوں کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی اور فیصلہ کن مقابلے میں بھی اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے کامیابی اپنے نام کی۔ ٹیم کے دفاع، مڈفیلڈ اور گول کیپر نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کیا۔

    ارجنٹینا نے بھی پورے عالمی کپ میں بہترین فٹبال کھیلی۔ ٹیم نے گروپ مرحلے سے لے کر سیمی فائنل تک کئی مضبوط ٹیموں کو شکست دی، لیکن فائنل میں قسمت اس کا ساتھ نہ دے سکی۔ لیونل میسی نے ٹورنامنٹ بھر میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور تجربے سے ٹیم کی رہنمائی کی، تاہم آخری میچ میں وہ اپنی ٹیم کو کامیابی نہ دلا سکے۔

    میچ کے اختتام پر اسپین کے کپتان نے ورلڈ کپ ٹرافی بلند کی تو پورا اسٹیڈیم خوشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ رنگا رنگ آتش بازی، موسیقی اور شائقین کے جشن نے فائنل کو یادگار بنا دیا۔ اسپین کے کھلاڑیوں نے اپنے اہل خانہ اور مداحوں کے ساتھ تاریخی کامیابی کا جشن منایا جبکہ ارجنٹینا کے کھلاڑی خاموشی سے میدان سے رخصت ہوئے۔

    یوں فیفا ورلڈ کپ 2026 کا اختتام ایک ایسے فائنل پر ہوا جس میں دونوں ٹیموں نے عالمی معیار کی فٹبال پیش کی، لیکن فیصلہ صرف ایک گول نے کیا۔ اسپین نے دوسری مرتبہ دنیا کی بہترین فٹبال ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ ارجنٹینا اور لیونل میسی کو ایک اور عالمی اعزاز کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔

    سنسنی، حیرت اور ڈرامائی مقابلے

    امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 فٹبال کے شائقین کے لیے ایک یادگار ٹورنامنٹ ثابت ہوا۔

    اس ورلڈ کپ میں کئی مضبوط ٹیمیں غیر متوقع طور پر باہر ہوئیں جبکہ چند ایسی ٹیموں نے شاندار کھیل پیش کیا جن سے زیادہ توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ ناک آؤٹ مرحلے میں ہر میچ ایک فائنل کی طرح کھیلا گیا، جہاں ایک معمولی غلطی بھی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی تھی۔

    سب سے بڑی حیرت ناک نتائج میں جرمنی اور برازیل کی جلد رخصتی شامل رہی۔ جرمنی کو پہلے ہی ناک آؤٹ مقابلے میں پیراگوئے نے پینلٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دے دی، جسے اس ورلڈ کپ کا ایک بڑا اپ سیٹ قرار دیا گیا۔

    اسی طرح برازیل جیسی پانچ بار کی عالمی چیمپئن ٹیم کو پری کوارٹر فائنل میں ناروے نے ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔

    مراکش نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ اب عالمی فٹبال کی بڑی طاقت بن چکا ہے۔ اس نے پہلے نیدرلینڈز کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دی، پھر کینیڈا کو تین صفر سے ہرا کر کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اگرچہ فرانس نے کوارٹر فائنل میں مراکش کا سفر دو صفر کی فتح کے ساتھ ختم کر دیا، لیکن مراکش نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کیا۔

    کوارٹر فائنل کے دلچسپ مقابلے

    پہلا کوارٹر فائنل فرانس اور مراکش کے درمیان ہوا۔ مراکش نے دفاعی انداز میں کھیلنے کی کوشش کی، لیکن فرانس کے مضبوط حملوں کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ فرانس نے دو صفر سے کامیابی حاصل کرکے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔

    دوسرے کوارٹر فائنل میں اسپین اور بیلجیم کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ دونوں ٹیموں نے جارحانہ کھیل پیش کیا، تاہم اسپین نے دو ایک سے کامیابی حاصل کرکے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی۔

    تیسرے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کا مقابلہ ناروے سے تھا۔ ناروے پہلے ہی برازیل کو شکست دے کر اعتماد کے ساتھ میدان میں اترا تھا، لیکن انگلینڈ نے شاندار واپسی کرتے ہوئے دو ایک سے فتح حاصل کی اور سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔

    چوتھا کوارٹر فائنل ارجنٹینا اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ ارجنٹینا نے اپنی مضبوط اٹیک کے ذریعے تین ایک سے کامیابی حاصل کی۔ سوئٹزرلینڈ نے دفاع میں بھرپور مزاحمت کی، مگر ارجنٹائن کے مسلسل حملوں کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔

    سیمی فائنل میں بڑے معرکے

    پہلا سیمی فائنل فرانس اور اسپین کے درمیان تھا۔ فرانس سے ایک سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن اسپین نے نہایت منظم کھیل پیش کرتے ہوئے دو صفر سے کامیابی حاصل کر لی۔ اسپین کے دفاع اور مڈفیلڈ نے فرانس کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا، جس کے باعث فرانس فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

    دوسرا سیمی فائنل انگلینڈ اور ارجنٹینا کے درمیان ہوا، جو پورے ٹورنامنٹ کے بہترین مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ دونوں ٹیموں نے شاندار فٹبال کھیلی، لیکن ارجنٹینا نے دو ایک سے کامیابی حاصل کرکے فائنل میں جگہ بنا لی، جبکہ انگلینڈ کو تیسری پوزیشن کے میچ پر اکتفا کرنا پڑا۔

    تیسری پوزیشن کا دلچسپ مقابلہ

    تیسری پوزیشن کے لیے انگلینڈ اور فرانس آمنے سامنے آئے۔ یہ میچ گولوں کی بارش کے باعث ٹورنامنٹ کا سب سے دلچسپ مقابلہ بن گیا۔ دونوں ٹیموں نے جارحانہ کھیل پیش کیا، لیکن آخر میں انگلینڈ نے فرانس کو چھ چار سے شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کر لی۔

    اہم اپ سیٹ جنہوں نے ٹورنامنٹ کا رخ بدل دیا

    اس ورلڈ کپ میں کئی حیران کن نتائج سامنے آئے۔ جرمنی کی پیراگوئے کے ہاتھوں شکست، برازیل کی ناروے کے خلاف ناکامی، پرتگال کا اسپین کے ہاتھوں اخراج، اور بیلجیم کی اسپین کے خلاف شکست ایسے نتائج تھے جنہوں نے ناک آؤٹ مرحلے کا نقشہ ہی بدل دیا۔

    ناروے نے برازیل کو شکست دے کر دنیا بھر کے شائقین کو حیران کیا، جبکہ مراکش نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ عالمی سطح پر کسی بھی بڑی ٹیم کو ٹکر دے سکتا ہے۔

    ارجنٹینا نے پورے ناک آؤٹ مرحلے میں مسلسل متاثر کن کھیل پیش کیا۔ اس نے کیپ ورڈی، مصر، سوئٹزرلینڈ اور پھر انگلینڈ کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔

    دوسری جانب اسپین نے آسٹریا، پرتگال، بیلجیم اور فرانس جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست دے کر اپنی بہترین فارم کا مظاہرہ کیا۔ اسپین کا دفاع اور تیز رفتار حملے اس کی کامیابی کی بڑی وجہ بنے۔

    یادگار ورلڈ کپ

    2026 کا فیفا ورلڈ کپ کئی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ میں بڑے اپ سیٹ، سنسنی خیز مقابلے، آخری لمحوں کے گول، پینلٹی شوٹ آؤٹ اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیموں کی شاندار کارکردگی نے شائقین کو مسلسل محظوظ کیا۔ مراکش اور ناروے جیسی ٹیموں نے ثابت کیا کہ عالمی فٹبال میں اب صرف روایتی طاقتوں کی اجارہ داری نہیں رہی، جبکہ اسپین، ارجنٹینا، انگلینڈ اور فرانس نے بھی اعلیٰ معیار کی فٹبال پیش کرکے ٹورنامنٹ کو یادگار بنا دیا۔

    سابق عالمی چیمپینز

    اسپین نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں ارجنٹینا کو اضافی وقت میں ایک صفر سے شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ اس کامیابی کے بعد رائٹرز نے 1930 سے اب تک ہونے والے تمام فیفا ورلڈ کپ فاتحین کی فہرست جاری کی ہے۔ ف

    یفا ورلڈ کپ کی تاریخ کا پہلا ٹورنامنٹ 1930 میں یوراگوئے میں کھیلا گیا تھا، جہاں میزبان یوراگوئے نے ارجنٹینا کو شکست دے کر پہلا عالمی کپ اپنے نام کیا۔ اٹلی نے 1934 اور 1938 میں مسلسل دو مرتبہ ٹائٹل جیتا، جبکہ یوراگوئے نے 1950 میں دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1954 میں مغربی جرمنی نے پہلی بار عالمی کپ جیتا۔

    برازیل نے 1958 اور 1962 میں مسلسل دو عالمی کپ جیتے، جبکہ 1966 میں انگلینڈ نے اپنی سرزمین پر واحد مرتبہ ورلڈ کپ کا ٹائٹل حاصل کیا۔ 1970 میں برازیل نے تیسری بار عالمی کپ جیتا اور بعد ازاں 1994 اور 2002 میں بھی کامیابی حاصل کر کے پانچ مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والی دنیا کی کامیاب ترین ٹیم بن گئی۔

    1974 اور 1990 میں مغربی جرمنی جبکہ 2014 میں متحدہ جرمنی نے ٹائٹل جیت کر مجموعی طور پر چار عالمی کپ اپنے نام کیے۔ ارجنٹینا نے 1978، 1986 اور 2022 میں کامیابی حاصل کی، جبکہ فرانس نے 1998 اور 2018 میں عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اٹلی نے 1982 اور 2006 میں مزید دو ٹائٹل جیت کر مجموعی تعداد چار کر دی۔

    اسپین نے پہلی مرتبہ 2010 میں نیدرلینڈز کو اضافی وقت میں شکست دے کر عالمی کپ جیتا تھا۔ اب 2026 میں اس نے ارجنٹینا کو ایک صفر سے ہرا کر دوسری بار فیفا ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کر لی ہے۔ اس طرح اب تک صرف آٹھ ممالک ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جن میں برازیل، جرمنی، اٹلی، ارجنٹینا، فرانس، یوراگوئے، انگلینڈ اور اسپین شامل ہیں۔

  • فیفا ورلڈ کپ فائینل: پاپ سنگر میڈونا، جسٹن بیبر، شکیرا اور بی ٹی ایس نے ہاف ٹائم شو کے دوران شائقین کے دل موہ لیے

    فیفا ورلڈ کپ فائینل: پاپ سنگر میڈونا، جسٹن بیبر، شکیرا اور بی ٹی ایس نے ہاف ٹائم شو کے دوران شائقین کے دل موہ لیے

    عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ میڈونا اور گلوکار جسٹن بیبر نے 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے ہاف ٹائم شو میں ہزاروں شائقین کو اپنی پرفارمنس سے محظوظ کیا۔

    میڈونا نے اپنا مشہور گانا ‘میوزک’ پیش کیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اسٹیڈیم کے نیچے موجود سرنگوں سے اچانک اسٹیج پر نمودار ہوئی ہوں۔

    جسٹن بیبر، جنوبی کوریا کے معروف پاپ گروپ بی ٹی ایس اور کولمبیا کی پاپ گلوکارہ شکیرا نے بھی اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔

     ہاف ٹائم شو کا دورانیہ 27 منٹ اور 22 سیکنڈ رہا، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے طویل وقفہ تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ ان کے علاوہ مشہور اداکار ٹموتھی شیلامے اور ٹام کروز اس موقع پر شریک نمایاں شخصیات میں سرِفہرست رہے۔ کائلی جینر بھی اسٹیڈیم میں موجود تھیں اور انہیں ٹموتھی شیلامے کے ساتھ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ مشہور یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے بھی میچ دیکھنے کے لیے شرکت کی۔

    پورے ٹورنامنٹ کے دوران فٹبال کی مشہور شخصیت ڈیوڈ بیکہم، ان کی اہلیہ وکٹوریہ بیکہم، پیرس ہلٹن اور سوفیا ورگارا بھی مختلف میچوں میں دیکھی گئیں اور فائنل میں بھی ان کی موجودگی متوقع تھی۔

     مشہور شخصیات میں کائلی جینر اپنے دوست ٹموتھی شالامے کے ساتھ جبکہ بیونسے اور جے زی بھی شامل تھے۔

    فائنل سے قبل اختتامی تقریب میں جینیفر ہڈسن، رابی ولیمز، لورا پاؤسینی، نکول شیرزنگر اور معروف اسٹریمر آئی شو اسپیڈ نے بھی پرفارمنس دی، جبکہ پوسٹ میلون نے تقریب کی سربراہی کی۔ ہالی ووڈ اسٹار ٹام کروز نے بھی اختتامی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔

    کولمبیا کی پاپ گلوکارہ شکیرا اور نائجیریا کے معروف موسیقار برنا بوائے نے ایک بار پھر ایک ہی اسٹیج پر پرفارم کیا۔ دونوں نے گزشتہ ماہ میکسیکو سٹی میں ہونے والی ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب میں بھی مشترکہ پرفارمنس دی تھی۔

    جنوبی کوریا کے کے پاپ گروپ بی ٹی ایس نے لازمی فوجی سروس مکمل کرنے کے بعد تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد موسیقی کی دنیا میں واپسی کی ہے۔ اس وقت یہ گروپ دنیا بھر میں 85 شہروں پر مشتمل عالمی موسیقی کے دورے پر ہے۔

    وقفے کے اس خصوصی شو کی ترتیب برطانوی بینڈ کولڈ پلے کے مرکزی گلوکار کرس مارٹن نے دی۔ اس شو کے ذریعے فیفا گلوبل سٹیزن ایجوکیشن فنڈ کے لیے فنڈز جمع کیے جائیں گے، جس کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کی تعلیم کے لیے 100 ملین ڈالر (73 ملین پاؤنڈ) اکٹھا کرنا ہے۔

    اس سے قبل کھیل کی اختتامی تقریب کا آغاز مختلف موسیقی اور ثقافتی پروگراموں سے ہوا۔ معروف گلوکارہ اور اداکارہ جینیفر ہڈسن نے امریکی قومی ترانہ پیش کیا، جبکہ ہالی ووڈ اداکار ٹام کروز نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔

    مشہور اسٹریمر آئی شو اسپیڈ سب سے پہلے نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم کے میدان میں آئے۔ ان کے ساتھ ڈھول بجانے والے فنکار اور رنگ برنگے لباس میں ملبوس رقاص بھی موجود تھے۔

    گلوکارہ نکول شیرزنگر، برطانوی گلوکار رابی ولیمز اور اطالوی گلوکارہ لورا پاؤسینی نے بھی مشترکہ پرفارمنس پیش کی، جبکہ ریپر اور گلوکار پوسٹ میلون نے اپنا مقبول گانا ‘واہ’ پیش کیا۔

    میچ شروع ہونے سے پہلے متعدد ایوارڈز جیتنے والی گلوکارہ اور اداکارہ جینیفر ہڈسن نے ایک براہِ راست موسیقی بینڈ کے ساتھ امریکی قومی ترانہ پیش کیا۔

    تمام موسیقی کی پرفارمنس کے بعد ہالی ووڈ اداکار ٹام کروز اسٹیج پر آئے اور انہوں نے فائنل میچ کا باقاعدہ تعارف کرایا۔

    اختتامی تقریب میں رابی ولیمز، لورا پاؤسینی اور نکول شیرزنگر کی مشترکہ پرفارمنس کو لاکھوں افراد نے دیکھا۔ تقریب میں موسیقی، روشنیوں اور رنگا رنگ مناظر کے ذریعے ورلڈ کپ کے اختتام کو یادگار بنانے کی کوشش کی گئی۔

  • انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کانسی کا تمغہ جیت لیا

    انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کانسی کا تمغہ جیت لیا

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا گیا میچ شائقین کے لیے یادگار ثابت ہوا، جہاں انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔

    میامی گارڈنز کے ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور مجموعی طور پر 10 گول اسکور کیے، جو 1982 کے بعد کسی بھی ورلڈ کپ میچ میں سب سے زیادہ گول ہیں۔

    میچ سے پہلے فرانس کے کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم تیسری پوزیشن کا میچ کھیلنے کی خواہش مند نہیں تھی، تاہم انہوں نے اپنی کئی اہم کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا، جن میں کائلیان ایمباپے، مائیکل اولیزے اور گول کیپر مائیک میگنان شامل تھے۔

    دوسری جانب انگلینڈ نے ہیری کین، جوڈ بیلنگھم اور گول کیپر جارڈن پِکفورڈ جیسے چند اہم کھلاڑیوں کو ابتدائی ٹیم میں شامل نہیں کیا۔

    میچ کے آغاز ہی سے انگلینڈ نے جارحانہ انداز اپنایا۔ تیسرے ہی منٹ میں کپتان ڈیکلن رائس نے پنالٹی ایریا کے باہر سے زبردست شاٹ لگا کر گیند جال میں پہنچا دی اور اپنی ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔

    18ویں منٹ میں انگلینڈ نے اپنی برتری مزید مستحکم کر لی۔ ڈیکلن رائس کے کارنر پر دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا نے شاندار ہیڈر کے ذریعے دوسرا گول کر دیا اور اسکور 0-2 ہو گیا۔

    فرانس کی دفاعی لائن مسلسل دباؤ کا شکار رہی جبکہ انگلینڈ کے ونگر بوکایو ساکا نے پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں صرف 10 منٹ کے اندر دو گول کر کے اسکور 0-4 کر دیا۔

    پہلے ہاف کے اختتام تک ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انگلینڈ یکطرفہ کامیابی حاصل کرے گا۔

    وقفے کے بعد فرانس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بیک وقت چار تبدیلیاں کیں۔ موجودہ بیلون ڈی اور فاتح عثمان ڈیمبیلے، لوکاس دینیے، دایو اوپامیکانو اور بریڈلی بارکولا کو میدان میں اتارا گیا، جس کے بعد فرانسیسی ٹیم نے شاندار واپسی کی کوشش کی۔

    دوسرے ہاف کے صرف تین منٹ بعد کائلیان ایمباپے نے گول کر کے اپنی ٹیم کی امیدیں زندہ کر دیں۔ یہ ٹورنامنٹ میں ان کا نواں گول تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں ارجنٹائن کے لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    چند ہی منٹ بعد بریڈلی بارکولا نے دوسرا گول کر دیا اور اسکور 2-4 ہو گیا۔ فرانس نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ انگلینڈ کی دفاعی کارکردگی کمزور دکھائی دی۔

    66ویں منٹ میں ایمباپے نے اپنا دوسرا اور ٹیم کا تیسرا گول اسکور کیا۔ یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ان کا مجموعی طور پر 22واں گول تھا، جس کے ذریعے انہوں نے اس فہرست میں لیونل میسی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

    فرانس کے مائیکل اولیزے نے بھی ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ ایمباپے کے دونوں گولوں پر معاونت کرنے کے بعد وہ ایک ہی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سات اسسٹ کرنے والے کھلاڑی بن گئے اور انہوں نے برازیل کے لیجنڈ پیلے کا ریکارڈ توڑ دیا۔

    دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں نے مسلسل ایک دوسرے کے گول پر حملے کیے۔ دونوں گول کیپرز کو کئی شاندار سیو کرنا پڑے اور میچ آخری لمحوں تک انتہائی دلچسپ رہا۔

    انگلینڈ کے کوچ نے بعد میں جوڈ بیلنگھم اور ایلیٹ اینڈرسن کو میدان میں اتارا تاکہ برتری مزید بڑھائی جا سکے۔ 80ویں منٹ میں بیلنگھم نے گول کرنے کی کوشش کی لیکن فرانسیسی گول کیپر میگنان نے بہترین انداز میں گیند روک لی۔

    چند منٹ بعد انگلینڈ کے ڈیجیڈ اسپینس کو فرانس کے مالو گستو نے پنالٹی ایریا میں فاؤل کر دیا، جس پر ریفری نے پنالٹی دے دی۔ بوکایو ساکا نے پنالٹی پر کامیابی سے گول کر کے اسکور 3-5 کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ انگلینڈ کی مردوں کی ورلڈ کپ تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے صرف چوتھے کھلاڑی بن گئے۔

    میچ ختم ہونے سے قبل اضافی وقت میں عثمان ڈیمبیلے نے فرانس کے لیے چوتھا گول کر دیا اور مقابلہ ایک بار پھر سنسنی خیز ہو گیا۔ تاہم صرف دو منٹ بعد جوڈ بیلنگھم نے انگلینڈ کے لیے چھٹا گول کر کے فرانس کی واپسی کی تمام امیدیں ختم کر دیں۔

    ریفری کی آخری سیٹی بجتے ہی انگلینڈ نے 4-6 سے کامیابی حاصل کر کے ورلڈ کپ کا کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ یہ گزشتہ 60 برسوں میں ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی بہترین کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔

    میچ کے بعد ہارڈ راک اسٹیڈیم میں موجود انگلش شائقین نے اپنی ٹیم کے اعزاز میں گیت گائے جبکہ میدان میں ہی کانسی کے تمغوں کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر فرانس کے اسٹار کائلیان ایمباپے نے انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل سے ملاقات کر کے انہیں مبارک باد بھی دی۔

    میچ کے بعد بوکایو ساکا نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کیا، لیکن وہ اپنے اصل ہدف یعنی ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن کے خلاف شکست نے پوری ٹیم اور شائقین کو مایوس کیا، تاہم اب انہیں مستقبل کی جانب دیکھنا ہوگا۔

    ساکا نے کوچ تھامس ٹوخل پر ہونے والی تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بال میں شکست کے بعد تنقید ہونا معمول کی بات ہے۔ ان کے مطابق اصل کامیابی یہ ہے کہ ٹیم اس دباؤ کا کس طرح جواب دیتی ہے، اور انگلینڈ نے اس میچ میں بہترین انداز میں واپسی کرتے ہوئے مضبوط اختتام کیا۔

    ادھر اب پوری دنیا کی نظریں اتوار کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کا مقابلہ اسپین سے ہوگا۔ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کی کوشش کرے گا، جبکہ اسپین 2010 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا۔

    گولڈن بوٹ کی دوڑ بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ فرانس کے کائلیان ایمباپے اس وقت لیونل میسی سے دو گول آگے ہیں، جبکہ ورلڈ کپ کی مجموعی تاریخ میں بھی وہ میسی پر ایک گول کی برتری حاصل کر چکے ہیں۔ شائقین کو امید ہے کہ فائنل میں بھی عالمی معیار کا دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

  • اسپین نے بیلجیم کو شکست دے کر فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

    اسپین نے بیلجیم کو شکست دے کر فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

    اسپین نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد بیلجیم کو 2-1 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ متبادل کھلاڑی میکل میرینو نے میچ کے 88ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کر کے اپنی ٹیم کو یادگار فتح دلائی۔ اب سیمی فائنل میں اسپین کا مقابلہ فرانس سے ہوگا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق لاس اینجلس اسٹیڈیم میں شدید گرمی کے باوجود دونوں ٹیموں نے تیز رفتار کھیل پیش کیا۔ اسپین نے آغاز ہی سے گیند پر زیادہ کنٹرول رکھا اور حملہ آور انداز اپنایا، جبکہ بیلجیم نے دفاعی حکمت عملی کے ساتھ جوابی حملوں پر انحصار کیا۔

    میچ کا پہلا گول اسپین کے فابیان روئز نے پہلے ہاف میں کیا۔ یہ گول ایک ری باؤنڈ پر ملا، جب بیلجیم کے دفاع نے گیند کو مکمل طور پر کلیئر کرنے میں ناکامی دکھائی۔ اس گول کے بعد اسپین نے مزید کئی حملے کیے لیکن بیلجیم کے تجربہ کار گول کیپر تھیبو کورٹوا نے عمدہ سیوز کر کے اپنی ٹیم کو مزید نقصان سے بچائے رکھا۔

    دوسرے ہاف میں بیلجیم نے کھیل میں واپسی کی۔ چارلس ڈی کیٹیلیئر نے ایک خوبصورت ہیڈر کے ذریعے گیند جال میں پہنچا کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کے بعد میچ مزید دلچسپ ہو گیا اور دونوں ٹیموں نے برتری حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔

    میچ کا اہم موڑ اس وقت آیا جب بیلجیم کے گول کیپر تھیبو کورٹوا انجری کا شکار ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔ ان کی جگہ متبادل گول کیپر سینے لامنز کو میدان میں اتارا گیا۔ اگرچہ انہوں نے ابتدا میں اعتماد کے ساتھ کھیل پیش کیا، لیکن میچ کے آخری لمحات میں ان سے ایک بڑی غلطی ہو گئی۔

    88ویں منٹ میں اسپین کی جانب سے ایک طاقتور شاٹ کو لامنز مکمل طور پر قابو میں نہ رکھ سکے۔ گیند ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میکل میرینو نے فوری طور پر گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ اس گول نے اسپین کو 2-1 کی برتری دلا دی، جو میچ کے اختتام تک برقرار رہی۔

    میکل میرینو اس ورلڈ کپ میں پہلے بھی متبادل کھلاڑی کے طور پر اہم گول کر چکے ہیں۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے ناک آؤٹ مرحلے کے دو مختلف مقابلوں میں متبادل کھلاڑی کے طور پر فاتحانہ گول کیے۔

    اعداد و شمار بھی اسپین کی برتری ظاہر کرتے ہیں۔ اسپین نے پورے میچ میں 17 شاٹس لیے، جبکہ بیلجیم صرف پانچ شاٹس تک محدود رہا۔ نوجوان اسٹار لامین یامال نے مسلسل اپنی رفتار اور مہارت سے بیلجیم کے دفاع کو پریشان کیے رکھا، اگرچہ وہ گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

    بیلجیم اس میچ میں کئی اہم کھلاڑیوں کی انجری سے بھی متاثر رہا۔ کپتان یوری تیلیمانز میچ سے پہلے ہی زخمی ہو گئے تھے، جبکہ عمادو اونانا پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے تھے۔ ان انجریز نے بیلجیم کی کارکردگی پر واضح اثر ڈالا، خاص طور پر مڈفیلڈ میں ٹیم کمزور دکھائی دی۔

    دوسری جانب اسپین نے پورے میچ میں بہتر تنظیم، شاندار پاسنگ اور گیند پر کنٹرول کا مظاہرہ کیا۔ کوچ لوئیس ڈی لا فوئنٹے کی حکمت عملی ایک بار پھر کامیاب ثابت ہوئی اور متبادل کھلاڑیوں نے بھی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔

    اس کامیابی کے بعد اسپین اب سیمی فائنل میں فرانس کا سامنا کرے گا۔ دونوں یورپی طاقتوں کے درمیان یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    اسپین 2010 کے بعد ایک بار پھر ورلڈ کپ جیتنے کے خواب کے مزید قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ فرانس بھی مسلسل عمدہ فارم میں ہے، جس کے باعث سیمی فائنل ایک سخت اور دلچسپ مقابلہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • امریکا اور پرتگال کی فیفا ورلڈ کپ سے رخصتی، کوارٹر فائنل ٹکٹوں کی قیمتیں آدھے سے بھی کم ہوگئیں

    امریکا اور پرتگال کی فیفا ورلڈ کپ سے رخصتی، کوارٹر فائنل ٹکٹوں کی قیمتیں آدھے سے بھی کم ہوگئیں

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل مرحلے سے پہلے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکا اور پرتگال کی ٹیموں کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد شائقین کی دلچسپی میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں کئی اہم مقابلوں کے ٹکٹ ثانوی مارکیٹ میں تقریباً 60 فیصد تک سستے ہو گئے ہیں۔

    فوربس کی ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کمی اسپین اور بیلجیئم کے درمیان کھیلے جانے والے کوارٹر فائنل کے ٹکٹوں میں دیکھی گئی۔ اس مقابلے کے کم ترین درجے کے ٹکٹ، جو چند روز پہلے تقریباً 2 ہزار 950 ڈالر میں فروخت ہو رہے تھے، اب تقریباً ایک ہزار 200 ڈالر تک آ گئے ہیں۔ اس طرح صرف چند دنوں میں ان کی قیمت میں نصف سے بھی زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

    ٹکٹوں کی قیمتوں پر نظر رکھنے والی مختلف کمپنیوں کے مطابق صرف ایک میچ ہی نہیں بلکہ تمام کوارٹر فائنل مقابلوں کے اوسط ٹکٹوں کی قیمتیں بھی تیزی سے نیچے آئی ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق گزشتہ تین دنوں میں اوسط قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ صرف ایک دن کے دوران بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

    فوربس کے اسٹاف رپورٹر انتونیو پیکینو-IV کا کہنا ہے کہ اس کمی کی سب سے بڑی وجہ امریکا اور پرتگال کی غیر متوقع شکستیں ہیں۔ امریکا میزبان ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے مقامی شائقین کی بڑی تعداد اس کی کامیابی کی امید لگائے بیٹھی تھی، جبکہ پرتگال کی ٹیم کے ساتھ عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو بھی ٹورنامنٹ کا حصہ تھے۔ دونوں ٹیموں کی رخصتی کے بعد بہت سے شائقین نے ٹکٹ خریدنے میں دلچسپی کم کر دی، جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑا۔

    فوربس مے مطابق اگر امریکا اور پرتگال کی ٹیمیں آگے بڑھتیں اور ایک دوسرے کے مدمقابل آتیں تو اس مقابلے کو ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچوں میں شمار کیا جاتا۔ ایسے میچ کے لیے ٹکٹوں کی طلب بہت زیادہ ہوتی، لیکن دونوں ٹیموں کی جلد رخصتی نے یہ امکان ختم کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق فرانس اور مراکش کے درمیان ہونے والا کوارٹر فائنل اس مرحلے کا نسبتاً کم قیمت والا مقابلہ بن گیا ہے۔ اس میچ کے ابتدائی ٹکٹ تقریباً 989 سے ایک ہزار 100 ڈالر کے درمیان دستیاب ہیں، جبکہ دیگر بڑے مقابلوں کے مقابلے میں ان کی قیمت نسبتاً کم دیکھی جا رہی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے 2026 کے ٹورنامنٹ کے ٹکٹوں کو تاریخ کے مہنگے ترین ورلڈ کپ ٹکٹوں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ کئی شائقین نے فیفا کی متغیر قیمتوں کی پالیسی پر بھی تنقید کی تھی، کیونکہ مختلف میچوں کے ٹکٹوں کی قیمت طلب کے مطابق مسلسل اوپر نیچے ہوتی رہی۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں بڑے نام اور مقبول ٹیمیں کسی بھی ایونٹ کی تجارتی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب ایسی ٹیمیں جلد ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں تو نہ صرف ٹکٹوں کی فروخت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہوٹلوں، سفری خدمات اور دیگر کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے امریکا اور پرتگال کی شکست کے بعد ٹکٹوں کی مارکیٹ میں فوری ردعمل سامنے آیا۔

    دوسری جانب بعض شائقین نے ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے انتہائی مہنگے ٹکٹوں کی وجہ سے عام فٹبال مداحوں کے لیے میچ دیکھنا مشکل ہو گیا تھا، لیکن اب قیمتیں کم ہونے سے زیادہ لوگ اس عالمی ایونٹ کے کوارٹر فائنل مقابلے میدان میں بیٹھ کر دیکھ سکیں گے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سیمی فائنل اور فائنل میں عالمی شہرت یافتی ٹیمیں اور بڑے کھلاڑی پہنچتے ہیں تو ٹکٹوں کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے موجودہ کمی کو عارضی رجحان قرار دیا جا رہا ہے، جو ٹورنامنٹ کی بدلتی صورت حال اور شائقین کی طلب کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔

    فیفا ورلڈ کپ 2026 اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں شریک ہوئیں، جس کے باعث میچوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اگرچہ ایونٹ مجموعی طور پر شاندار انداز میں جاری ہے، لیکن کوارٹر فائنل سے پہلے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اچانک آنے والی یہ کمی کھیلوں کی دنیا میں غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

  • فیفا ورلڈ کپ: میزبان امریکا ایونٹ سے باہر، بیلجیم نے 1-4 سے شکست دیدی

    فیفا ورلڈ کپ: میزبان امریکا ایونٹ سے باہر، بیلجیم نے 1-4 سے شکست دیدی

    شریک میزبان امریکہ کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا سفر اختتام پذیر ہوگیا، جب بیلجیم نے یکطرفہ مقابلے میں اسے 1-4 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

    بیلجیم کی جانب سے چارلس ڈی کیٹیلیئر نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گول کیے، جبکہ ہانس فاناکن اور رومیلو لوکاکو نے ایک، ایک گول اسکور کیا۔ امریکہ کی جانب سے واحد گول مالک ٹل مین نے کیا۔

    خبر رساں ادارے رائٹرکے مطابق امریکہ کے ساتھ ساتھ کینیڈا اور میکسیکو ورلڈ کی دوڑ سے باہر یوگئے۔

    امریکہ اور بیلجیم کے درمیان میچ کے آغاز سے ہی بیلجیم نے جارحانہ انداز اپنایا اور نویں منٹ میں ہی چارلس ڈی کیٹیلیئر نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔

    یہ گول امریکی دفاع کی کمزور کارکردگی کا نتیجہ تھا، جس سے میزبان ٹیم دباؤ میں آگئی۔ بیلجیم اس سے پہلے بھی برتری حاصل کرسکتا تھا، لیکن یوری تیلمانس ایک آسان موقع ضائع کر بیٹھے تھے۔

    امریکہ نے کچھ دیر بعد کھیل میں واپسی کی کوشش کی۔ اکتیسویں منٹ میں فارورڈ فولارین بالوگن نے فاول حاصل کیا، جس پر ملنے والی فری کک کو مالک ٹل مین نے گول میں تبدیل کردیا۔ گیند بیلجیم کے کھلاڑی ہانس فاناکن سے لگ کر سمت بدل گئی، جس کی وجہ سے گول کیپر تھیبو کورتوا اسے روک نہ سکے اور اسکور 1-1 ہوگیا۔

    تاہم امریکی شائقین کی خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ برابری کے صرف ایک منٹ بعد لیانڈرو ٹروسارڈ کے کراس پر چارلس ڈی کیٹیلیئر نے شاندار ہیڈر کے ذریعے اپنا دوسرا اور ٹیم کا دوسرا گول اسکور کردیا۔ اس گول نے ایک مرتبہ پھر بیلجیم کو برتری دلادی اور امریکہ کو دباؤ میں ڈال دیا۔

    دوسرے ہاف کے آغاز میں امریکہ نے بہتر کھیل پیش کیا اور حملے کیے، لیکن ستاون ویں منٹ میں گول کیپر میٹ فریز کی سنگین غلطی نے ٹیم کی واپسی کی امیدوں کو تقریباً ختم کردیا۔ فریز گیند کو بروقت کلیئر نہ کرسکے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متبادل کھلاڑی ہانس فاناکن نے آسانی سے گول کرکے اسکور 1-3 کردیا۔

    امریکی ٹیم اس جھٹکے سے سنبھل نہ سکی اور اختتامی لمحات میں رومیلو لوکاکو نے ایک خوبصورت گول کرکے بیلجیم کی برتری 1-4 کردی۔ لوکاکو کا یہ ورلڈ کپ میں ساتواں جبکہ بیلجیم کے لیے مجموعی طور پر 93 واں بین الاقوامی گول تھا۔ اس گول کے بعد امریکی شائقین بڑی تعداد میں اسٹیڈیم چھوڑنے لگے۔

    اس کامیابی کے ساتھ بیلجیم گزشتہ چار ورلڈ کپ میں تیسری مرتبہ کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ اب اس کا مقابلہ یورپی چیمپیئن اسپین سے ہوگا، جو لاس اینجلس میں کھیلا جائے گا۔

    میچ سے قبل ایک تنازع بھی زیر بحث رہا۔ امریکی فارورڈ فولارین بالوگن پر گزشتہ میچ میں سرخ کارڈ کے باعث ایک میچ کی پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم بعد میں انہیں کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس فیصلے پر کافی بحث ہوئی، لیکن بالوگن میچ میں کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔

    میچ کے بعد امریکی کھلاڑیوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم اہم مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے باوجود ناک آؤٹ مرحلے میں غلطیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ دوسری جانب بیلجیم کے کھلاڑیوں نے اپنی شاندار ٹیم ورک اور مؤثر فنشنگ کو کامیابی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

  • امریکا نے بوسنیا کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے آخری 16 مرحلے میں جگہ بنا لی

    امریکا نے بوسنیا کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے آخری 16 مرحلے میں جگہ بنا لی

    مشترکہ میزبان امریکا نے شاندار اور جرات مندانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بوسنیا کو صفر کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آخری 16 مرحلے میں رسائی حاصل کر لی۔ یہ ناک آؤٹ مرحلے میں امریکا کی گزشتہ 24 برسوں کے دوران پہلی کامیابی ہے، جس کے بعد میزبان ٹیم کے عالمی کپ میں مزید آگے بڑھنے کی امیدیں بھی روشن ہو گئی ہیں۔ (

    سان فرانسسکو بے ایریا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں امریکا نے آغاز ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جبکہ ریفری کو متعدد مواقع پر ویڈیو معاون نظام (وی اے آر) سے بھی مدد لینا پڑی۔ امریکی کھلاڑی فولارین بالوگن اور کرسچین پولیسک کے ایک ایک گول آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیے گئے، تاہم امریکی ٹیم نے دباؤ برقرار رکھا۔

    میچ کے پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں فولارین بالوگن نے شاندار انداز میں گیند جال میں پہنچا کر امریکا کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔ یہ گول امریکی شائقین کے لیے خوشی کا باعث بنا اور ٹیم پہلے ہاف کا اختتام برتری کے ساتھ کرنے میں کامیاب رہی۔

    دوسرے ہاف میں میچ نے ڈرامائی رخ اختیار کیا جب وی اے آر جائزے کے بعد فولارین بالوگن کو بوسنیا کے مدافع طارق محرمووچ کے خلاف فاؤل پر سرخ کارڈ دکھا دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد امریکا کو تقریباً آدھا گھنٹہ صرف دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا، لیکن اس کے باوجود ٹیم نے نظم و ضبط اور مضبوط دفاع کا مظاہرہ کیا۔  

    ایک کھلاڑی کم ہونے کے باوجود امریکی دفاع نے بوسنیا کو گول کرنے کا کوئی واضح موقع نہیں دیا۔ بوسنیا نے برابری کے لیے کئی حملے کیے، مگر امریکی دفاع اور گول کیپر نے ہر کوشش ناکام بنا دی۔ میچ کے 82ویں منٹ میں مالک ٹل مین نے ایک خوبصورت فری کک پر گول کر کے اسکور دو صفر کر دیا اور امریکی فتح یقینی بنا دی۔

    میچ کے بعد امریکی کپتان کرسچین پولیسک نے کہا کہ ٹیم نے غیر معمولی اتحاد اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق ایک کھلاڑی کم ہونے کے باوجود تمام کھلاڑی ایک دوسرے کے لیے لڑتے رہے اور یہی کامیابی کی اصل وجہ بنی۔ دوسری جانب مالک ٹل مین نے کہا کہ ان کا فری کک پر کیا گیا گول مسلسل مشق کا نتیجہ تھا۔

    امریکی کوچ موریسیو پوچیٹینو نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ تاہم انہوں نے فولارین بالوگن کو دکھائے گئے سرخ کارڈ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ فیصلہ سخت تھا کیونکہ فاؤل غیر ارادی تھا۔

    اس کامیابی کے ساتھ امریکا نے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے جہاں اس کا مقابلہ بیلجیم سے ہوگا، جس نے ایک سنسنی خیز مقابلے میں سینیگال کو تین کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کی۔ تاہم امریکا کو اس اہم میچ میں فولارین بالوگن کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی کیونکہ وہ سرخ کارڈ کے باعث معطل ہو چکے ہیں۔

  • فیفا ورلڈ کپ: مراکش اور پیراگوئے کی تاریخی فتوحات، نیدرلینڈز اور جرمنی ایونٹ سے باہر

    فیفا ورلڈ کپ: مراکش اور پیراگوئے کی تاریخی فتوحات، نیدرلینڈز اور جرمنی ایونٹ سے باہر

    فیفا ورلڈ کپ میں دو بڑے اپ سیٹ دیکھنے میں آئے، جہاں مراکش نے نیدرلینڈز کو، جبکہ پیراگوئے نے چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن جرمنی کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

    مونٹیری میں کھیلے گئے میچ میں مراکش نے نیدرلینڈز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پینلٹی شوٹ آؤٹ میں 3-2 سے شکست دی۔ مقررہ وقت اور اضافی وقت کے اختتام پر دونوں ٹیموں کا اسکور 1-1 سے برابر تھا، جس کے بعد فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا۔

    میچ کے آغاز سے ہی مراکش نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور نیدرلینڈز کے گول پر مسلسل حملے کیے، تاہم ڈچ گول کیپر بارٹ وربروگن نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی یقینی گول بچا لیے، جبکہ مراکش کے چند حملے گول پوسٹ سے بھی ٹکرا گئے۔

    پہلے ہاف میں دونوں ٹیمیں گول کرنے میں ناکام رہیں، لیکن دوسرے ہاف کے 72ویں منٹ میں لیورپول کے فارورڈ کوڈی خاکپو نے خوبصورت گول کرکے نیدرلینڈز کو برتری دلا دی۔ یہ گول ان کے لیے جذباتی اہمیت بھی رکھتا تھا، کیونکہ چند روز قبل انہوں نے اپنے نومولود بچے کے انتقال کی افسوسناک خبر شیئر کی تھی۔

    تاہم نیدرلینڈز کی برتری زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ اضافی وقت کے آغاز میں مراکش کے عیسیٰ دیوپ نے چیمس الدین طالبی کے شاندار کراس پر ہیڈر کے ذریعے گول کرکے مقابلہ برابر کر دیا۔

    اضافی وقت میں بھی دونوں ٹیموں نے کئی مواقع بنائے، لیکن فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا، جہاں نیدرلینڈز کے تین کھلاڑی پینلٹیز ضائع کر بیٹھے، جبکہ اسماعیل صیباری نے فیصلہ کن پینلٹی گول کرکے مراکش کو 3-2 سے تاریخی کامیابی دلا دی۔

    اس کامیابی کے بعد مراکش نے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی، جہاں اس کا مقابلہ کینیڈا سے ہوگا۔

    ادھر میساچوسٹس کے شہر فاکسبرو میں کھیلے گئے ایک اور پری کوارٹر فائنل میں پیراگوئے نے جرمنی کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر ٹورنامنٹ کا ایک اور بڑا اپ سیٹ کر دیا۔

    مقررہ وقت اور اضافی وقت کے بعد مقابلہ 1-1 سے برابر رہا۔ پیراگوئے کے گول کیپر اورلینڈو گل نے پینلٹی شوٹ آؤٹ میں کائی ہاورٹز اور نک وولٹیمیڈے کی پینلٹیز روک لیں، جبکہ جوناتھن تاہ کی پینلٹی بار کے اوپر سے گزر گئی۔ اس کے بعد خوسے کینالے نے فیصلہ کن پینلٹی گول کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔

    یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ جرمنی کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    پیراگوئے کے گول کیپر اورلینڈو گل نے میچ کے بعد کہا کہ اس کامیابی کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق پوری ٹیم نے جرمنی کے مسلسل حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جبکہ پینلٹی شوٹ آؤٹ سے پہلے جرمن کھلاڑیوں کی تیاری کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تھا۔

    پیراگوئے کے کوچ گستاوو الفارو کی دفاعی حکمت عملی بھی کامیاب ثابت ہوئی۔ اگرچہ جرمنی نے میچ میں 75 فیصد گیند اپنے قبضے میں رکھی اور 21 حملے کیے، لیکن پیراگوئے کے منظم دفاع نے اسے زیادہ خطرناک مواقع پیدا نہیں کرنے دیے۔

    پیراگوئے نے 42ویں منٹ میں جولیو اینسیسو کے گول سے برتری حاصل کی، جبکہ جرمنی نے دوسرے ہاف میں کائی ہاورٹز کے ذریعے مقابلہ برابر کر دیا۔ اضافی وقت میں جرمنی کا ایک گول وی اے آر کی مدد سے مسترد کر دیا گیا، جس کے بعد فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا۔

    اس تاریخی کامیابی کے ساتھ پیراگوئے نے جرمنی کو ایونٹ سے باہر کر دیا، جبکہ جرمنی کو مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈ کپ میں مایوس کن انداز میں ٹورنامنٹ سے جلد رخصت ہونا پڑا۔ دوسری جانب مراکش اور پیراگوئے کی فتوحات کو موجودہ ورلڈ کپ کے سب سے بڑے اپ سیٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔