امریکا اور پرتگال کی فیفا ورلڈ کپ سے رخصتی، کوارٹر فائنل ٹکٹوں کی قیمتیں آدھے سے بھی کم ہوگئیں

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل مرحلے سے پہلے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکا اور پرتگال کی ٹیموں کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد شائقین کی دلچسپی میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں کئی اہم مقابلوں کے ٹکٹ ثانوی مارکیٹ میں تقریباً 60 فیصد تک سستے ہو گئے ہیں۔

فوربس کی ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کمی اسپین اور بیلجیئم کے درمیان کھیلے جانے والے کوارٹر فائنل کے ٹکٹوں میں دیکھی گئی۔ اس مقابلے کے کم ترین درجے کے ٹکٹ، جو چند روز پہلے تقریباً 2 ہزار 950 ڈالر میں فروخت ہو رہے تھے، اب تقریباً ایک ہزار 200 ڈالر تک آ گئے ہیں۔ اس طرح صرف چند دنوں میں ان کی قیمت میں نصف سے بھی زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

ٹکٹوں کی قیمتوں پر نظر رکھنے والی مختلف کمپنیوں کے مطابق صرف ایک میچ ہی نہیں بلکہ تمام کوارٹر فائنل مقابلوں کے اوسط ٹکٹوں کی قیمتیں بھی تیزی سے نیچے آئی ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق گزشتہ تین دنوں میں اوسط قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ صرف ایک دن کے دوران بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

فوربس کے اسٹاف رپورٹر انتونیو پیکینو-IV کا کہنا ہے کہ اس کمی کی سب سے بڑی وجہ امریکا اور پرتگال کی غیر متوقع شکستیں ہیں۔ امریکا میزبان ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے مقامی شائقین کی بڑی تعداد اس کی کامیابی کی امید لگائے بیٹھی تھی، جبکہ پرتگال کی ٹیم کے ساتھ عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو بھی ٹورنامنٹ کا حصہ تھے۔ دونوں ٹیموں کی رخصتی کے بعد بہت سے شائقین نے ٹکٹ خریدنے میں دلچسپی کم کر دی، جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑا۔

فوربس مے مطابق اگر امریکا اور پرتگال کی ٹیمیں آگے بڑھتیں اور ایک دوسرے کے مدمقابل آتیں تو اس مقابلے کو ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچوں میں شمار کیا جاتا۔ ایسے میچ کے لیے ٹکٹوں کی طلب بہت زیادہ ہوتی، لیکن دونوں ٹیموں کی جلد رخصتی نے یہ امکان ختم کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق فرانس اور مراکش کے درمیان ہونے والا کوارٹر فائنل اس مرحلے کا نسبتاً کم قیمت والا مقابلہ بن گیا ہے۔ اس میچ کے ابتدائی ٹکٹ تقریباً 989 سے ایک ہزار 100 ڈالر کے درمیان دستیاب ہیں، جبکہ دیگر بڑے مقابلوں کے مقابلے میں ان کی قیمت نسبتاً کم دیکھی جا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے 2026 کے ٹورنامنٹ کے ٹکٹوں کو تاریخ کے مہنگے ترین ورلڈ کپ ٹکٹوں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ کئی شائقین نے فیفا کی متغیر قیمتوں کی پالیسی پر بھی تنقید کی تھی، کیونکہ مختلف میچوں کے ٹکٹوں کی قیمت طلب کے مطابق مسلسل اوپر نیچے ہوتی رہی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں بڑے نام اور مقبول ٹیمیں کسی بھی ایونٹ کی تجارتی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب ایسی ٹیمیں جلد ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں تو نہ صرف ٹکٹوں کی فروخت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہوٹلوں، سفری خدمات اور دیگر کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے امریکا اور پرتگال کی شکست کے بعد ٹکٹوں کی مارکیٹ میں فوری ردعمل سامنے آیا۔

دوسری جانب بعض شائقین نے ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے انتہائی مہنگے ٹکٹوں کی وجہ سے عام فٹبال مداحوں کے لیے میچ دیکھنا مشکل ہو گیا تھا، لیکن اب قیمتیں کم ہونے سے زیادہ لوگ اس عالمی ایونٹ کے کوارٹر فائنل مقابلے میدان میں بیٹھ کر دیکھ سکیں گے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سیمی فائنل اور فائنل میں عالمی شہرت یافتی ٹیمیں اور بڑے کھلاڑی پہنچتے ہیں تو ٹکٹوں کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے موجودہ کمی کو عارضی رجحان قرار دیا جا رہا ہے، جو ٹورنامنٹ کی بدلتی صورت حال اور شائقین کی طلب کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں شریک ہوئیں، جس کے باعث میچوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اگرچہ ایونٹ مجموعی طور پر شاندار انداز میں جاری ہے، لیکن کوارٹر فائنل سے پہلے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اچانک آنے والی یہ کمی کھیلوں کی دنیا میں غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔