شریک میزبان امریکہ کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا سفر اختتام پذیر ہوگیا، جب بیلجیم نے یکطرفہ مقابلے میں اسے 1-4 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
بیلجیم کی جانب سے چارلس ڈی کیٹیلیئر نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گول کیے، جبکہ ہانس فاناکن اور رومیلو لوکاکو نے ایک، ایک گول اسکور کیا۔ امریکہ کی جانب سے واحد گول مالک ٹل مین نے کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرکے مطابق امریکہ کے ساتھ ساتھ کینیڈا اور میکسیکو ورلڈ کی دوڑ سے باہر یوگئے۔
امریکہ اور بیلجیم کے درمیان میچ کے آغاز سے ہی بیلجیم نے جارحانہ انداز اپنایا اور نویں منٹ میں ہی چارلس ڈی کیٹیلیئر نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔
یہ گول امریکی دفاع کی کمزور کارکردگی کا نتیجہ تھا، جس سے میزبان ٹیم دباؤ میں آگئی۔ بیلجیم اس سے پہلے بھی برتری حاصل کرسکتا تھا، لیکن یوری تیلمانس ایک آسان موقع ضائع کر بیٹھے تھے۔
امریکہ نے کچھ دیر بعد کھیل میں واپسی کی کوشش کی۔ اکتیسویں منٹ میں فارورڈ فولارین بالوگن نے فاول حاصل کیا، جس پر ملنے والی فری کک کو مالک ٹل مین نے گول میں تبدیل کردیا۔ گیند بیلجیم کے کھلاڑی ہانس فاناکن سے لگ کر سمت بدل گئی، جس کی وجہ سے گول کیپر تھیبو کورتوا اسے روک نہ سکے اور اسکور 1-1 ہوگیا۔
تاہم امریکی شائقین کی خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ برابری کے صرف ایک منٹ بعد لیانڈرو ٹروسارڈ کے کراس پر چارلس ڈی کیٹیلیئر نے شاندار ہیڈر کے ذریعے اپنا دوسرا اور ٹیم کا دوسرا گول اسکور کردیا۔ اس گول نے ایک مرتبہ پھر بیلجیم کو برتری دلادی اور امریکہ کو دباؤ میں ڈال دیا۔
دوسرے ہاف کے آغاز میں امریکہ نے بہتر کھیل پیش کیا اور حملے کیے، لیکن ستاون ویں منٹ میں گول کیپر میٹ فریز کی سنگین غلطی نے ٹیم کی واپسی کی امیدوں کو تقریباً ختم کردیا۔ فریز گیند کو بروقت کلیئر نہ کرسکے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متبادل کھلاڑی ہانس فاناکن نے آسانی سے گول کرکے اسکور 1-3 کردیا۔
امریکی ٹیم اس جھٹکے سے سنبھل نہ سکی اور اختتامی لمحات میں رومیلو لوکاکو نے ایک خوبصورت گول کرکے بیلجیم کی برتری 1-4 کردی۔ لوکاکو کا یہ ورلڈ کپ میں ساتواں جبکہ بیلجیم کے لیے مجموعی طور پر 93 واں بین الاقوامی گول تھا۔ اس گول کے بعد امریکی شائقین بڑی تعداد میں اسٹیڈیم چھوڑنے لگے۔
اس کامیابی کے ساتھ بیلجیم گزشتہ چار ورلڈ کپ میں تیسری مرتبہ کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ اب اس کا مقابلہ یورپی چیمپیئن اسپین سے ہوگا، جو لاس اینجلس میں کھیلا جائے گا۔
میچ سے قبل ایک تنازع بھی زیر بحث رہا۔ امریکی فارورڈ فولارین بالوگن پر گزشتہ میچ میں سرخ کارڈ کے باعث ایک میچ کی پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم بعد میں انہیں کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس فیصلے پر کافی بحث ہوئی، لیکن بالوگن میچ میں کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد امریکی کھلاڑیوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم اہم مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے باوجود ناک آؤٹ مرحلے میں غلطیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ دوسری جانب بیلجیم کے کھلاڑیوں نے اپنی شاندار ٹیم ورک اور مؤثر فنشنگ کو کامیابی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

