اسپین نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد بیلجیم کو 2-1 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ متبادل کھلاڑی میکل میرینو نے میچ کے 88ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کر کے اپنی ٹیم کو یادگار فتح دلائی۔ اب سیمی فائنل میں اسپین کا مقابلہ فرانس سے ہوگا۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق لاس اینجلس اسٹیڈیم میں شدید گرمی کے باوجود دونوں ٹیموں نے تیز رفتار کھیل پیش کیا۔ اسپین نے آغاز ہی سے گیند پر زیادہ کنٹرول رکھا اور حملہ آور انداز اپنایا، جبکہ بیلجیم نے دفاعی حکمت عملی کے ساتھ جوابی حملوں پر انحصار کیا۔
میچ کا پہلا گول اسپین کے فابیان روئز نے پہلے ہاف میں کیا۔ یہ گول ایک ری باؤنڈ پر ملا، جب بیلجیم کے دفاع نے گیند کو مکمل طور پر کلیئر کرنے میں ناکامی دکھائی۔ اس گول کے بعد اسپین نے مزید کئی حملے کیے لیکن بیلجیم کے تجربہ کار گول کیپر تھیبو کورٹوا نے عمدہ سیوز کر کے اپنی ٹیم کو مزید نقصان سے بچائے رکھا۔
دوسرے ہاف میں بیلجیم نے کھیل میں واپسی کی۔ چارلس ڈی کیٹیلیئر نے ایک خوبصورت ہیڈر کے ذریعے گیند جال میں پہنچا کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کے بعد میچ مزید دلچسپ ہو گیا اور دونوں ٹیموں نے برتری حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔
میچ کا اہم موڑ اس وقت آیا جب بیلجیم کے گول کیپر تھیبو کورٹوا انجری کا شکار ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔ ان کی جگہ متبادل گول کیپر سینے لامنز کو میدان میں اتارا گیا۔ اگرچہ انہوں نے ابتدا میں اعتماد کے ساتھ کھیل پیش کیا، لیکن میچ کے آخری لمحات میں ان سے ایک بڑی غلطی ہو گئی۔
88ویں منٹ میں اسپین کی جانب سے ایک طاقتور شاٹ کو لامنز مکمل طور پر قابو میں نہ رکھ سکے۔ گیند ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میکل میرینو نے فوری طور پر گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ اس گول نے اسپین کو 2-1 کی برتری دلا دی، جو میچ کے اختتام تک برقرار رہی۔
میکل میرینو اس ورلڈ کپ میں پہلے بھی متبادل کھلاڑی کے طور پر اہم گول کر چکے ہیں۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے ناک آؤٹ مرحلے کے دو مختلف مقابلوں میں متبادل کھلاڑی کے طور پر فاتحانہ گول کیے۔
اعداد و شمار بھی اسپین کی برتری ظاہر کرتے ہیں۔ اسپین نے پورے میچ میں 17 شاٹس لیے، جبکہ بیلجیم صرف پانچ شاٹس تک محدود رہا۔ نوجوان اسٹار لامین یامال نے مسلسل اپنی رفتار اور مہارت سے بیلجیم کے دفاع کو پریشان کیے رکھا، اگرچہ وہ گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
بیلجیم اس میچ میں کئی اہم کھلاڑیوں کی انجری سے بھی متاثر رہا۔ کپتان یوری تیلیمانز میچ سے پہلے ہی زخمی ہو گئے تھے، جبکہ عمادو اونانا پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے تھے۔ ان انجریز نے بیلجیم کی کارکردگی پر واضح اثر ڈالا، خاص طور پر مڈفیلڈ میں ٹیم کمزور دکھائی دی۔
دوسری جانب اسپین نے پورے میچ میں بہتر تنظیم، شاندار پاسنگ اور گیند پر کنٹرول کا مظاہرہ کیا۔ کوچ لوئیس ڈی لا فوئنٹے کی حکمت عملی ایک بار پھر کامیاب ثابت ہوئی اور متبادل کھلاڑیوں نے بھی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
اس کامیابی کے بعد اسپین اب سیمی فائنل میں فرانس کا سامنا کرے گا۔ دونوں یورپی طاقتوں کے درمیان یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اسپین 2010 کے بعد ایک بار پھر ورلڈ کپ جیتنے کے خواب کے مزید قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ فرانس بھی مسلسل عمدہ فارم میں ہے، جس کے باعث سیمی فائنل ایک سخت اور دلچسپ مقابلہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

