Tag: فرانس

  • انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کانسی کا تمغہ جیت لیا

    انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کانسی کا تمغہ جیت لیا

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا گیا میچ شائقین کے لیے یادگار ثابت ہوا، جہاں انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔

    میامی گارڈنز کے ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور مجموعی طور پر 10 گول اسکور کیے، جو 1982 کے بعد کسی بھی ورلڈ کپ میچ میں سب سے زیادہ گول ہیں۔

    میچ سے پہلے فرانس کے کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم تیسری پوزیشن کا میچ کھیلنے کی خواہش مند نہیں تھی، تاہم انہوں نے اپنی کئی اہم کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا، جن میں کائلیان ایمباپے، مائیکل اولیزے اور گول کیپر مائیک میگنان شامل تھے۔

    دوسری جانب انگلینڈ نے ہیری کین، جوڈ بیلنگھم اور گول کیپر جارڈن پِکفورڈ جیسے چند اہم کھلاڑیوں کو ابتدائی ٹیم میں شامل نہیں کیا۔

    میچ کے آغاز ہی سے انگلینڈ نے جارحانہ انداز اپنایا۔ تیسرے ہی منٹ میں کپتان ڈیکلن رائس نے پنالٹی ایریا کے باہر سے زبردست شاٹ لگا کر گیند جال میں پہنچا دی اور اپنی ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔

    18ویں منٹ میں انگلینڈ نے اپنی برتری مزید مستحکم کر لی۔ ڈیکلن رائس کے کارنر پر دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا نے شاندار ہیڈر کے ذریعے دوسرا گول کر دیا اور اسکور 0-2 ہو گیا۔

    فرانس کی دفاعی لائن مسلسل دباؤ کا شکار رہی جبکہ انگلینڈ کے ونگر بوکایو ساکا نے پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں صرف 10 منٹ کے اندر دو گول کر کے اسکور 0-4 کر دیا۔

    پہلے ہاف کے اختتام تک ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انگلینڈ یکطرفہ کامیابی حاصل کرے گا۔

    وقفے کے بعد فرانس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بیک وقت چار تبدیلیاں کیں۔ موجودہ بیلون ڈی اور فاتح عثمان ڈیمبیلے، لوکاس دینیے، دایو اوپامیکانو اور بریڈلی بارکولا کو میدان میں اتارا گیا، جس کے بعد فرانسیسی ٹیم نے شاندار واپسی کی کوشش کی۔

    دوسرے ہاف کے صرف تین منٹ بعد کائلیان ایمباپے نے گول کر کے اپنی ٹیم کی امیدیں زندہ کر دیں۔ یہ ٹورنامنٹ میں ان کا نواں گول تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں ارجنٹائن کے لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    چند ہی منٹ بعد بریڈلی بارکولا نے دوسرا گول کر دیا اور اسکور 2-4 ہو گیا۔ فرانس نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ انگلینڈ کی دفاعی کارکردگی کمزور دکھائی دی۔

    66ویں منٹ میں ایمباپے نے اپنا دوسرا اور ٹیم کا تیسرا گول اسکور کیا۔ یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ان کا مجموعی طور پر 22واں گول تھا، جس کے ذریعے انہوں نے اس فہرست میں لیونل میسی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

    فرانس کے مائیکل اولیزے نے بھی ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ ایمباپے کے دونوں گولوں پر معاونت کرنے کے بعد وہ ایک ہی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سات اسسٹ کرنے والے کھلاڑی بن گئے اور انہوں نے برازیل کے لیجنڈ پیلے کا ریکارڈ توڑ دیا۔

    دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں نے مسلسل ایک دوسرے کے گول پر حملے کیے۔ دونوں گول کیپرز کو کئی شاندار سیو کرنا پڑے اور میچ آخری لمحوں تک انتہائی دلچسپ رہا۔

    انگلینڈ کے کوچ نے بعد میں جوڈ بیلنگھم اور ایلیٹ اینڈرسن کو میدان میں اتارا تاکہ برتری مزید بڑھائی جا سکے۔ 80ویں منٹ میں بیلنگھم نے گول کرنے کی کوشش کی لیکن فرانسیسی گول کیپر میگنان نے بہترین انداز میں گیند روک لی۔

    چند منٹ بعد انگلینڈ کے ڈیجیڈ اسپینس کو فرانس کے مالو گستو نے پنالٹی ایریا میں فاؤل کر دیا، جس پر ریفری نے پنالٹی دے دی۔ بوکایو ساکا نے پنالٹی پر کامیابی سے گول کر کے اسکور 3-5 کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ انگلینڈ کی مردوں کی ورلڈ کپ تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے صرف چوتھے کھلاڑی بن گئے۔

    میچ ختم ہونے سے قبل اضافی وقت میں عثمان ڈیمبیلے نے فرانس کے لیے چوتھا گول کر دیا اور مقابلہ ایک بار پھر سنسنی خیز ہو گیا۔ تاہم صرف دو منٹ بعد جوڈ بیلنگھم نے انگلینڈ کے لیے چھٹا گول کر کے فرانس کی واپسی کی تمام امیدیں ختم کر دیں۔

    ریفری کی آخری سیٹی بجتے ہی انگلینڈ نے 4-6 سے کامیابی حاصل کر کے ورلڈ کپ کا کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ یہ گزشتہ 60 برسوں میں ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی بہترین کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔

    میچ کے بعد ہارڈ راک اسٹیڈیم میں موجود انگلش شائقین نے اپنی ٹیم کے اعزاز میں گیت گائے جبکہ میدان میں ہی کانسی کے تمغوں کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر فرانس کے اسٹار کائلیان ایمباپے نے انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل سے ملاقات کر کے انہیں مبارک باد بھی دی۔

    میچ کے بعد بوکایو ساکا نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کیا، لیکن وہ اپنے اصل ہدف یعنی ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن کے خلاف شکست نے پوری ٹیم اور شائقین کو مایوس کیا، تاہم اب انہیں مستقبل کی جانب دیکھنا ہوگا۔

    ساکا نے کوچ تھامس ٹوخل پر ہونے والی تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بال میں شکست کے بعد تنقید ہونا معمول کی بات ہے۔ ان کے مطابق اصل کامیابی یہ ہے کہ ٹیم اس دباؤ کا کس طرح جواب دیتی ہے، اور انگلینڈ نے اس میچ میں بہترین انداز میں واپسی کرتے ہوئے مضبوط اختتام کیا۔

    ادھر اب پوری دنیا کی نظریں اتوار کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کا مقابلہ اسپین سے ہوگا۔ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کی کوشش کرے گا، جبکہ اسپین 2010 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا۔

    گولڈن بوٹ کی دوڑ بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ فرانس کے کائلیان ایمباپے اس وقت لیونل میسی سے دو گول آگے ہیں، جبکہ ورلڈ کپ کی مجموعی تاریخ میں بھی وہ میسی پر ایک گول کی برتری حاصل کر چکے ہیں۔ شائقین کو امید ہے کہ فائنل میں بھی عالمی معیار کا دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

  • اسپین نے فرانس کو شکست دے کر ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں جگہ بنا لی، دوسری مرتبہ عالمی ٹائٹل جیتنے کے قریب

    اسپین نے فرانس کو شکست دے کر ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں جگہ بنا لی، دوسری مرتبہ عالمی ٹائٹل جیتنے کے قریب

     یورپی چیمپئن اسپین نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاقتور فرانس کو 2-0 سے شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کر لی۔ اسپین اب 2010 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا ہے اور اتوار کو ہونے والے فائنل میں اس کا مقابلہ انگلینڈ یا ارجنٹائن میں سے کسی ایک ٹیم سے ہوگا۔

    میچ کے آغاز میں دونوں ٹیموں نے محتاط انداز اپنایا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اسپین نے گیند پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ 22 ویں منٹ میں نوجوان اسٹار لامین یامال کو فرانس کے دفاعی کھلاڑی لوکاس ڈینے نے پنالٹی ایریا میں فاؤل کیا، جس پر ریفری نے پنالٹی دے دی۔

    اسپین کے اسٹرائیکر میکل اویارزابال نے پنالٹی کو کامیابی سے گول میں تبدیل کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ یہ اس ٹورنامنٹ میں ان کا پانچواں گول تھا۔

    پہلا گول کھانے کے بعد فرانس نے واپسی کی کوشش کی، مگر اسپین کے منظم دفاع اور مڈفیلڈ نے اسے زیادہ مواقع پیدا نہیں کرنے دیے۔ کپتان روڈری، دانی اولمو اور دیگر کھلاڑیوں نے گیند پر مسلسل کنٹرول برقرار رکھا جبکہ لامین یامال اپنی رفتار اور مہارت سے فرانسیسی دفاع کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہے۔

    دوسرے ہاف میں اسپین نے اپنی برتری مزید مستحکم کر لی۔ 58 ویں منٹ میں دانی اولمو کے ساتھ خوبصورت ون ٹو پاس کے بعد پیڈرو پورو نے گیند کو جال میں پہنچا کر اسکور 2-0 کر دیا۔ اس گول کے بعد فرانس پر دباؤ مزید بڑھ گیا جبکہ اسپین نے میچ کی رفتار پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

    ورلڈ کپ کے دوران فرانس کی جارحانہ لائن، جس میں کپتان کیلیان ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے اور مائیکل اولیزے شامل تھے، اس میچ میں کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکی۔ اسپین کے مضبوط دفاع نے انہیں گول کرنے کے واضح مواقع نہیں دیے۔ اسپین نے پورے ٹورنامنٹ میں دفاعی اعتبار سے غیر معمولی کھیل پیش کیا ہے اور سات میچوں میں صرف ایک گول کھایا ہے۔

    میچ کے بعد اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے کہا کہ ان کی ٹیم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس وقت دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے نظم و ضبط، اتحاد اور اعتماد کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک مضبوط حریف کو شکست دی۔

    دوسری جانب فرانس کے کوچ دیدیے دیشان نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم اسپین کے مقابلے میں بہتر کھیل پیش نہیں کر سکی۔ ان کے مطابق کھلاڑی تکنیکی غلطیوں کا شکار رہے اور حملوں میں مطلوبہ جارحیت دکھانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپین نے ہر شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائی اور کامیابی کا مستحق تھا۔

    سی این این کے مطابق اسپین نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں کیپ وردے کے خلاف بغیر کسی گول کے ڈرا کھیلنے کے بعد سخت تنقید کا سامنا کیا تھا۔ کوچ کی حکمت عملی اور ٹیم کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، لیکن اس کے بعد اسپین نے شاندار انداز میں واپسی کی اور ناک آؤٹ مرحلے میں مسلسل عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کر لی۔

    فرانس کے لیے یہ شکست اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ وہ مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے کا موقع گنوا بیٹھا۔ اب فرانسیسی ٹیم تیسری پوزیشن کے میچ میں شرکت کرے گی، جبکہ اسپین دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے خواب کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔

    ورلڈ کپ 2026 کا دوسرا سیمی فائنل انگلینڈ اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلا جائے گا، جس کی فاتح ٹیم اتوار کو نیو جرسی میں اسپین کے مدمقابل ہوگی۔ فٹبال شائقین کو توقع ہے کہ فائنل عالمی فٹبال کے دو بڑے طاقتور ممالک کے درمیان ایک یادگار مقابلہ ثابت ہوگا۔

  • فرانس کا وہ ساحلی شہر جہاں ایک شاہی شادی نے دو طاقتور سلطنتوں کے درمیان برسوں پرانی جنگ ختم کر دی

    فرانس کا وہ ساحلی شہر جہاں ایک شاہی شادی نے دو طاقتور سلطنتوں کے درمیان برسوں پرانی جنگ ختم کر دی

    فرانس کے جنوب مغرب میں بحرِ اوقیانوس کے کنارے واقع سینٹ جین دے لوز ایک ایسا تاریخی ساحلی شہر ہے جس نے یورپ کی سیاست، سمندری تجارت، وہیل مچھلیوں کے شکار اور جنگی تاریخ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ یہ وہی شہر ہے جہاں ایک شاہی شادی نے فرانس اور اسپین کے درمیان برسوں سے جاری دشمنی کے خاتمے کی راہ ہموار کی اور یورپی تاریخ کا رخ بدل دیا۔

    یہ شہر فرانس کے پیرینیز اٹلانتیک علاقے میں اسپین کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور فرانسیسی باسک خطے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں آج بھی باسک زبان، ثقافت، موسیقی، روایتی طرزِ تعمیر اور سمندری زندگی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ باسک زبان میں اس شہر کو ‘دونی بانے لوہیزونے’ کہا جاتا ہے، جو اس کی قدیم شناخت کی یاد دلاتا ہے۔

    قرونِ وسطیٰ میں سینٹ جین دے لوز ایک چھوٹی سی ماہی گیر بستی تھی، لیکن پندرھویں اور سولہویں صدی میں یہ یورپ کے اہم ترین وہیل شکار مراکز میں شامل ہو گیا۔ باسک ملاح بحرِ اوقیانوس عبور کر کے آج کے کینیڈا کے نیوفاؤنڈ لینڈ تک جاتے اور وہاں وہیل مچھلیوں کا شکار کرتے تھے۔

    مؤرخین کے مطابق باسک ملاح شمالی بحرِ اوقیانوس میں منظم وہیل شکاری مہمات شروع کرنے والوں میں شامل تھے، جب کہ صنعتی پیمانے پر وہیل شکار کا آغاز اس کے کئی صدیوں بعد ہوا۔

    اس شہر کی شہرت صرف ماہی گیری تک محدود نہیں رہی بلکہ یہاں کے باسک سمندری جنگجو بھی یورپ بھر میں اپنی مہارت اور جرات کی وجہ سے مشہور تھے۔ یہ عام قزاق نہیں تھے بلکہ فرانسیسی بادشاہ کی اجازت سے دشمن ممالک کے تجارتی جہازوں پر حملے کرتے تھے۔ ایسے جنگجوؤں کو ‘پرائیویٹیرز’ کہا جاتا تھا اور ان کی کارروائیوں نے اس بندرگاہ کو یورپی بحری طاقتوں کے لیے ایک اہم مقام بنا دیا تھا۔

    سینٹ جین دے لوز کی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ سن 1660 میں پیش آیا، جب فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردہم اور اسپین کی شہزادی ماریا تھیریزا کی شادی اسی شہر کے تاریخی سینٹ جین بپٹسٹ چرچ میں ہوئی۔ یہ شادی صرف ایک شاہی تقریب نہیں تھی بلکہ اس نے فرانس اور اسپین کے درمیان طویل جنگوں کے خاتمے کی علامت بننے والے معاہدۂ پیرینیز کو مضبوط کیا۔ روایت ہے کہ شادی کے بعد چرچ کا وہ دروازہ، جس سے شاہی جوڑا باہر نکلا تھا، ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا تاکہ اس تاریخی لمحے کی یاد محفوظ رہے۔

    شہر میں آج بھی لوئی چہاردہم کا تاریخی گھر اور وہ عمارت محفوظ ہے جہاں اسپین کی شہزادی نے شادی سے قبل قیام کیا تھا۔ یہ تاریخی عمارتیں سترہویں صدی کے شاہی دور کی یادگار کے طور پر آج بھی موجود ہیں۔

    اگرچہ یہ شہر بحرِ اوقیانوس کے کنارے آباد ہے، لیکن یہاں کی ساحلی لہریں نسبتاً پُرسکون رہتی ہیں۔ اس کی وجہ قدرتی نہیں بلکہ انیسویں صدی میں تعمیر کیے گئے مضبوط حفاظتی بند ہیں، جنہوں نے بندرگاہ اور شہر کو سمندر کی طاقتور لہروں سے محفوظ بنایا۔ یہی انجینئرنگ آج بھی اس ساحل کو فرانس کے محفوظ ترین ساحلی علاقوں میں شمار کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔

    دوسری جنگِ عظیم کے دوران بھی اس شہر نے اہم کردار ادا کیا۔ سن 1940 میں جرمن افواج کی پیش قدمی کے دوران ہزاروں فوجیوں، سفارت کاروں اور شہریوں نے اسی بندرگاہ کے ذریعے فرانس سے محفوظ انخلا کیا، جس سے یہ شہر ایک مرتبہ پھر یورپی تاریخ کے اہم واقعات کا خاموش گواہ بن گیا۔

    آج سینٹ جین دے لوز اپنی سرخ اور سفید باسک طرزِ تعمیر، قدیم بندرگاہ، رنگ برنگی کشتیوں، مقامی بازاروں اور سمندری روایات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

    یہاں ہر سال باسک ثقافت سے متعلق میلوں، موسیقی اور روایتی کھیلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، جو اس قدیم تہذیب کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

    سینٹ جین دے لوز اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے بعض چھوٹے شہر بھی تاریخ کے بڑے فیصلوں کے گواہ بن جاتے ہیں۔ ایک ایسا ساحلی شہر جہاں سمندر نے صرف تجارت اور روزگار ہی نہیں بلکہ جنگ، امن، ثقافت اور سفارت کاری کی کئی اہم داستانیں بھی رقم کیں۔

  • باڑہ: 12 سالوں تک شوہر کی قید، تشدد سے متاثرہ فرانسیسی خاتون پانچ بچوں سمیت بازیاب

    باڑہ: 12 سالوں تک شوہر کی قید، تشدد سے متاثرہ فرانسیسی خاتون پانچ بچوں سمیت بازیاب

    خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پولیس نے نے ایک مقامی شخص کو ان کی اپنی فرانسیسی اہلیہ اور پانچ بچوں کو تقریباً 12 سالوں تک گھر میں قید رکھنے اور انہیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

    54 سالہ متاثرہ خاتون، سلوی یاسمینا، جو فرانس کی شہری ہیں، نے 18 جون کو ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو ایک تحریری درخواست دی جس میں کہا گیا کہ وہ اور ان کے بچے گزشتہ بارہ برس سے انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ درخواست میں انہوں نے اپنے شوہر پر گھریلو تشدد، جسمانی تشدد اور غیر قانونی طور پر قید رکھنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔

    ان کی درخواست پر پولیس نے ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس نے ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم بتایا ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کی شادی 2003 میں ہوئی تھی اور وہ 2014 تک آسٹریلیا میں مقیم رہے، جس کے بعد اپنے دو بچوں کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔

    اپنے پولیس بیان میں سلوی یاسمینہ نے کہا کہ انہیں اور ان کے بچوں کو آزادی سے محروم رکھا گیا، روزانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں خدشہ تھا کہ ان کے ساتھ ساتھ بچوں کا مستقبل بھی تباہ ہو جائے گا۔

    پولیس کے مطابق فرانسیسی شہری سلوی یاسمینہ نے بیان دیا ہے کہ ان کا شوہر روزانہ کی بنیاد پر انہیں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتا تھا اور انتہائی پرتشدد رویہ رکھتا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے ایک بیٹے نے خفیہ طور پر گھر سے نکل کر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد باڑہ میں واقع گھر پر چھاپہ مارا گیا۔

    چھاپے کے دوران پولیس نے سلوی یاسمینہ اور ان کے پانچ بچوں کو ایک تنگ اور انتہائی خستہ حال کمرے سے بازیاب کرایا۔ پولیس کے مطابق خاتون اور بچوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔

    سلوی یاسمینہ اور ان کے بچوں کو پشاور کے ایک دارالامان منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان فرانس واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    یاسمینہ کے مطابق وہ 2014 میں آسٹریلیا سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد باڑہ میں رہائش اختیار کر لی۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ پاکستان آنے کے بعد ان کی دنیا محدود ہو کر صرف گھر کی چار دیواری تک رہ گئی۔اور انہیں عملاً قید زندگی گزار رہی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں کسی سے ملنے یا بیرونی دنیا سے رابطہ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

    پولیس حکام کے مطابق خاندان کے دو بڑے بچے تعلیم مکمل نہ کر سکے جبکہ پاکستان میں پیدا ہونے والے تین کم عمر بچوں کو کبھی اسکول میں داخل ہی نہیں کرایا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد اسی روز مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا جن میں جسمانی نقصان پہنچانے، غیر قانونی قید اور دھمکیاں دینے سے متعلق دفعات شامل

    ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کے قانون 2021 کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    پولیس کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی ہدایت پر باڑہ تھانے کے اہلکاروں نے فوری طور پر کارروائی کی اور اس مکان پر چھاپہ مارا جہاں خاتون اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ چھاپے کے دوران خاتون اور بچوں کو بازیاب کرایا گیا جبکہ شوہر کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں سلوی یاسمینا نے انگریزی اور پشتو زبان میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی بازیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اب وہ اور ان کے بچے محفوظ زندگی گزار سکیں گے۔

    انہوں نے اپنی آبائی سرزمین فرانس واپس جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ پولیس حکام کے مطابق خاتون اور ان کے بچوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پہلے خواتین پولیس اسٹیشن اور بعد ازاں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تاکہ انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ خاتون نے فرانس واپسی کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ کے ذریعے فرانس کے سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ خاتون اور ان کے بچوں کی وطن واپسی کے لیے ضروری انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔

  • پیرس، ایک ایسا شہر جس کا نام آتے ہی ذہن میں رومانوی گلیاں، تاریخی عمارتیں، فن، ادب اور ثقافت کی روشن دنیا ابھر آتی ہے۔ دریائے سین کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے دنیا بھر کے فنکاروں، مصنفوں، مفکروں اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا آیا ہے۔

    پیرس، ایک ایسا شہر جس کا نام آتے ہی ذہن میں رومانوی گلیاں، تاریخی عمارتیں، فن، ادب اور ثقافت کی روشن دنیا ابھر آتی ہے۔ دریائے سین کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے دنیا بھر کے فنکاروں، مصنفوں، مفکروں اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا آیا ہے۔

    فرانس کے شمالی حصے میں واقع پیرس ملک کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ صرف فرانس کا سیاسی مرکز ہی نہیں بلکہ یورپ اور دنیا کے اہم ترین ثقافتی، سفارتی اور معاشی مراکز میں بھی شمار ہوتا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت نے اسے صدیوں سے تجارت، تعلیم اور تہذیب کا اہم مرکز بنائے رکھا ہے۔

    پیرس کی تاریخ دو ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ قدیم زمانے میں یہاں سیلٹک قبیلہ ‘پیریسی’ آباد تھا، جس کے نام پر بعد میں شہر کا نام پیرس پڑا۔ رومی سلطنت کے دور میں یہ ایک اہم بستی کے طور پر ترقی کرتا گیا اور قرون وسطیٰ تک یورپ کے نمایاں شہروں میں شامل ہو چکا تھا۔

    بارہویں اور تیرہویں صدی میں پیرس علم و دانش کا مرکز بن گیا۔ اسی دور میں پیرس یونیورسٹی نے یورپ بھر میں شہرت حاصل کی اور شہر علمی سرگرمیوں کا محور بن گیا۔ بعد کی صدیوں میں فرانسیسی بادشاہوں نے یہاں شاندار عمارتیں، محلات اور یادگاریں تعمیر کروائیں جنہوں نے پیرس کو عالمی شہرت دلائی۔

    1789 کی فرانسیسی انقلاب بھی اسی شہر سے شروع ہوئی، ایک ایسا واقعہ جس نے نہ صرف فرانس بلکہ پوری دنیا کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آزادی، مساوات اور اخوت کے نظریات نے بعد میں دنیا کے کئی ممالک کی سیاست اور معاشروں کو متاثر کیا۔

    آج پیرس عالمی سفارت کاری، فیشن، فنون لطیفہ، تعلیم اور سیاحت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر یہاں موجود ہیں۔ ہر سال کروڑوں سیاح اس شہر کا رخ کرتے ہیں، جس سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے شہروں میں شامل رہتا ہے۔

    پیرس ایفل ٹاور، لوور میوزیم، نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل، شانزے لیزے، آرک دی تریومف اور مون مارتر جیسے مقامات کے لیے مشہور ہے۔ لوور میوزیم دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں لیونارڈو ڈاونچی کی مشہور پینٹنگ ‘مونالیزا’ بھی موجود ہے۔

    لیکن پیرس کے بارے میں کچھ کم معروف حقائق بھی نہایت دلچسپ ہیں۔ مثال کے طور پر شہر کے نیچے تقریباً تین سو کلومیٹر طویل سرنگوں اور قدیم کانوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جنہیں پیرس کی کیٹاکومبز کہا جاتا ہے۔ ان زیر زمین راستوں میں لاکھوں افراد کی باقیات محفوظ ہیں، جو انہیں دنیا کے منفرد تاریخی مقامات میں شامل کرتی ہیں۔

    ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پیرس میں دنیا کے قدیم ترین اور سب سے بااثر کیفے کلچر میں سے ایک پروان چڑھا۔ انہی کیفوں میں بیٹھ کر کئی مشہور فلسفیوں، ادیبوں اور مصوروں نے اپنے خیالات اور تخلیقات کو جنم دیا۔

    پیرس کو اکثر ‘روشنیوں کا شہر’ کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ نام صرف اس کی رات کی خوبصورت روشنیوں کی وجہ سے ہے، لیکن دراصل یہ نام اٹھارہویں صدی کے دورِ روشن خیالی سے بھی منسلک ہے، جب پیرس علم، فلسفے اور جدید خیالات کا عالمی مرکز بن گیا تھا۔

    آج بھی پیرس اپنی تاریخی عمارتوں، خوبصورت پلوں، آرٹ گیلریوں، فیشن ہاؤسز اور ثقافتی ورثے کی بدولت دنیا کے نمایاں ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ماضی اور حال ایک ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں صدیوں پرانی عمارتوں کے سائے میں جدید زندگی پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔

    جب آپ دریائے سین کے کنارے کھڑے ہو کر پیرس کی شام کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر صرف عمارتوں اور سڑکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تخلیق، حسن اور تہذیب کی ایک زندہ علامت ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل آپ تک دنیا کے عظیم شہروں، تہذیبوں اور تاریخ کی مستند کہانیاں پہنچاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل کے ساتھ جڑیے اور دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھیے۔

    یہ ہے پیرس، ایک ایسا شہر جس نے صدیوں سے دنیا کو فن، علم، ثقافت اور حسن کا نیا مفہوم دیا ہے، اور جو آج بھی لاکھوں لوگوں کے خوابوں کا حصہ ہے۔

  • فرانس کا وہ خواب جیسا شہر جہاں آج بھی قرونِ وسطیٰ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے

    فرانس کا وہ خواب جیسا شہر جہاں آج بھی قرونِ وسطیٰ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے

    مشرقی فرانس میں جرمنی کی سرحد کے قریب واقع کولمار ان یورپی شہروں میں شمار ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قدیم کہانی اچانک حقیقت بن گئی ہو۔ رنگ برنگے لکڑی کے گھر، پتھروں سے بنی تنگ گلیاں، کھڑکیوں سے جھانکتے پھول، نہروں پر جھکے چھوٹے پل اور خاموش فضائیں اس شہر کو جدید دنیا سے الگ ایک منفرد شناخت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کولمار کو فرانس کے خوبصورت ترین تاریخی شہروں میں شمار کیا جاتا ہے اور ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح صرف اس کی فضا کو محسوس کرنے یہاں پہنچتے ہیں۔

    کولمار فرانس کے علاقے الساس میں واقع ہے، جو صدیوں تک فرانس اور جرمنی کے درمیان ثقافتی اور سیاسی کشمکش کا مرکز رہا۔ یہی تاریخی پس منظر اس شہر کی سب سے دلچسپ پہچان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی عمارتوں، زبان، خوراک، تہواروں اور روزمرہ زندگی میں فرانسیسی اور جرمن تہذیب کا امتزاج واضح دکھائی دیتا ہے۔ بعض مقامات پر جرمن طرز تعمیر نمایاں ہے جبکہ کھانے اور کیفے فرانسیسی ثقافت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ماہرین تاریخ کے مطابق الساس کا علاقہ کئی بار فرانس اور جرمنی کے درمیان منتقل ہوتا رہا، جس کی وجہ سے یہاں کی شناخت منفرد انداز میں تشکیل پائی۔

    کولمار کا پرانا تاریخی مرکز آج بھی بڑی حد تک محفوظ ہے۔ شہر کے کئی گھر پندرھویں اور سولہویں صدی کے طرز تعمیر کے مطابق موجود ہیں۔ ان لکڑی کے گھروں پر رنگین نقش و نگار اور ڈھلوان چھتیں اس دور کی یورپی شہری زندگی کی یاد دلاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان عمارتوں میں سے کئی آج بھی رہائش، دکانوں یا ریستورانوں کے طور پر استعمال ہورہی ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق کولمار ان چند یورپی شہروں میں شامل ہے جہاں قرونِ وسطیٰ کا شہری منظر نسبتاً اصل حالت میں باقی رہا۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ کولمار کو فرانس کے خشک ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ یورپ کے سرسبز علاقوں میں واقع ہے، لیکن اس کے اردگرد موجود ووسج پہاڑی سلسلہ بارشوں کو بڑی حد تک روک دیتا ہے۔ اسی نسبتاً خشک موسم کی وجہ سے یہ علاقہ انگور کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے۔ کولمار فرانس کی مشہور ‘الساس وائن روٹ’ کا اہم حصہ ہے، جہاں صدیوں سے سفید انگور کی مختلف اقسام اگائی جاتی ہیں۔ مقامی معیشت میں آج بھی وائن سازی کا اہم کردار موجود ہے۔

    شہر کا سب سے مشہور حصہ ‘لٹل وینس’ یعنی ‘چھوٹا وینس’ کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ نہروں، پلوں اور رنگین گھروں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ ماضی میں یہی نہریں مقامی تاجروں اور ماہی گیروں کے لیے سامان کی نقل و حمل کا اہم ذریعہ تھیں۔ آج ان نہروں میں چلنے والی چھوٹی کشتیاں سیاحوں کو شہر کے تاریخی حصوں کی سیر کراتی ہیں۔ شام کے وقت جب روشنیوں کا عکس پانی پر پڑتا ہے تو پورا علاقہ کسی فلمی منظر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

    کولمار صرف خوبصورتی کا شہر نہیں بلکہ یورپی تاریخ کا بھی اہم حصہ رہا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران الساس کا علاقہ شدید لڑائیوں کا مرکز بنا، تاہم حیرت انگیز طور پر کولمار کا تاریخی مرکز بڑی حد تک تباہی سے بچ گیا۔ اسی وجہ سے آج بھی یہاں کئی عمارتیں اپنی اصل شکل کے قریب موجود ہیں۔ جنگ کے بعد فرانس نے اس شہر کے تاریخی حسن کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے، جس کی وجہ سے یہ مقام یورپ کے محفوظ ترین تاریخی شہروں میں شمار ہونے لگا۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کے مشہور مجسمے ‘اسٹیچو آف لبرٹی’ کے خالق فریڈرک آگست بارتھولدی کا تعلق بھی کولمار سے تھا۔ ان کی پیدائش اسی شہر میں ہوئی تھی اور آج بھی یہاں ان کے نام کا میوزیم موجود ہے۔ اس میوزیم میں ان کے خاکے، مجسمے اور ذاتی نوادرات محفوظ کیے گئے ہیں۔ کولمار میں بارتھولدی کے مجسمے اور یادگاریں اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ یہ خاموش شہر عالمی فن اور تاریخ سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔

    کولمار کی ایک اور خاص بات اس کے موسمی تہوار ہیں۔ سردیوں میں یہاں لگنے والی کرسمس مارکیٹس پورے یورپ میں مشہور سمجھی جاتی ہیں۔ تاریخی گلیاں روشنیوں، لکڑی کے اسٹالز، روایتی کھانوں اور موسیقی سے بھر جاتی ہیں۔ بہت سے سیاح صرف دسمبر کے مہینے میں اس شہر کی کرسمس فضا دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ بعض سفری رسائل نے کولمار کو یورپ کے خوبصورت ترین کرسمس شہروں میں شامل کیا ہے۔

    اگرچہ جدید یورپ تیزی سے بدل رہا ہے، مگر کولمار آج بھی اپنی پرانی شناخت کو محفوظ رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی خاموش گلیاں، تاریخی عمارتیں اور نہروں پر جھکتی روشنی انسان کو ایسا احساس دلاتی ہیں جیسے وقت کہیں سست پڑگیا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والے بہت سے لوگ اسے صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ماضی کی زندہ جھلک قرار دیتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل آپ کو دنیا کے اُن شہروں کی کہانیاں دکھاتا ہے جہاں تاریخ، ثقافت اور انسانی زندگی آج بھی سانس لیتی ہے۔ دنیا بھر سے منفرد اور دلچسپ کہانیاں، صرف ساگا ڈیجیٹل پر۔

  • فرانس کی حکومت نے زیادہ بچے پیدا کرنے کے اپنے شہریوں کو خطوط بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

    فرانس کی حکومت نے زیادہ بچے پیدا کرنے کے اپنے شہریوں کو خطوط بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

    فرانس میں پہلی بار دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا مرحلہ آیا ہے کہ شرحِ اموات شرحِ پیدائش سے بڑھ گئی ہے اور ملک کی آبادی قدرتی طور پر سکڑنے لگی ہے۔ بدلتے ہوئے انہی اعداد و شمار نے فرانسیسی حکومت کو سنجیدہ اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔

    گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کے پیش نظر حکومت نے خواتین اور مردوں کو خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت وزارتِ صحت کی جانب سے ملک بھر کے تمام 29 سالہ شہریوں کو خطوط ارسال کیے جائیں گے، جن میں بچوں کی پیدائش کی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق سائنسی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

    حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے فی خاتون اوسطاً 2.1 بچوں کی پیدائش ضروری سمجھی جاتی ہے، تاہم فرانس میں یہ شرح 2025 میں 1.56 ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ یہ یورپ کے کئی ممالک سے بہتر ہے، مگر آبادی کے تسلسل کے لیے ناکافی ہے۔

    قومی ادارہ برائے شماریات و معاشی مطالعات کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 6 لاکھ 45 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی، جبکہ 6 لاکھ 51 ہزار افراد انتقال کر گئے۔

    ماہرین کے مطابق اموات میں اضافے کی بڑی وجہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی ’بیبی بومر‘ نسل کی بڑھتی عمر ہے، جو اب ضعیفی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ 2025 میں اموات کی تعداد میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا، جس میں شدید فلو کی وبا بھی ایک سبب بنی، تاہم بنیادی وجہ آبادی کا تیزی سے بوڑھا ہونا قرار دیا جا رہا ہے۔

    فرانسیسی میڈیا کے مطابق صدر ایمانوئیل میکرون نے وزارتِ صحت کے تیار کردہ 16 نکاتی قومی تولیدی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہریوں میں تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ وزیرِ صحت اسٹیفانی رسٹ کا کہنا ہے کہ بچوں کی پیدائش کا فیصلہ خواتین اور مردوں دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور حکومت کسی پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتی بلکہ باخبر انتخاب کی سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔

    اس منصوبے کے تحت ’مائی فرٹیلیٹی‘ کے نام سے ایک قومی آن لائن پورٹل بھی قائم کیا جا رہا ہے، جہاں شہری تولیدی اور جنسی صحت سے متعلق مستند معلومات حاصل کر سکیں گے۔ اس پلیٹ فارم پر عمر، طرزِ زندگی اور طبی مسائل جیسے عوامل کے اثرات سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔

    حکومت نے 29 سے 37 سال کی عمر کے افراد کے لیے سرکاری اخراجات پر بیضہ محفوظ کرنے کی سہولت میں توسیع کا بھی اعلان کیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سہولت کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا، اسی لیے 2028 تک ملک بھر میں 30 نئے مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

    مزید برآں، 2021 میں منظور ہونے والے حیاتیاتی اخلاقیات کے قانون کے بعد سنگل خواتین اور ہم جنس شراکت داری رکھنے والی خواتین کو ریاست کے خرچ پر آئی وی ایف علاج کی اجازت دی گئی تھی۔ اس قانون کے بعد عطیہ کردہ نطفے کے ذریعے علاج کی شرح میں 8.5 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    حکومت اینڈومیٹریوسس اور پولی سسٹک اووری سنڈروم جیسے امراض پر تحقیق اور علاج کے لیے بھی اضافی فنڈنگ فراہم کرے گی، کیونکہ یہ بیماریاں بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں خواتین کی تولیدی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

    یوں فرانس آبادی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے محض اعداد و شمار پر اکتفا نہیں کر رہا بلکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے سماجی، طبی اور معاشی سطح پر جامع حکمتِ عملی ترتیب دے رہا ہے۔

  • ‘ہمیں لوگوں کی خدمت کرتے رہنا چاہیے’ : فرانس کا اعلیٰ ترین سول اعزاز لینے والے پاکستانی نژاد بزرگ اخبار فروش علی اکبر

    ‘ہمیں لوگوں کی خدمت کرتے رہنا چاہیے’ : فرانس کا اعلیٰ ترین سول اعزاز لینے والے پاکستانی نژاد بزرگ اخبار فروش علی اکبر

    پیرس کے فیشن ایبل لاطینی کوارٹر میں گزشتہ 50 برس سے زائد عرصے سےکیفے اور ریسٹورنٹس کے باہر اخبارات فروخت کرنے والے 74 سالہ پاکستانی بزرگ کو فرانس کا اعلیٰ ترین سول اعزاز دیا گیا۔
    بدھ کو الیسی محل میں منعقدہ ایک تقریب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اکبر کو ‘فرانسیسوں سے زیادہ فرانسی’ قرار دیتے ہوئے فرانس کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں نیشنل آرڈر آف میرٹ کا نائٹ مقرر کیا، جو کہ فرانس میں سول یا فوجی شعبے میں نمایاں خدمات پر دیا جاتا ہے۔
    پاکستان کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے علی اکبر 1975 میں راولپنڈی سے پیرس پہنچے تھے انہوں نے چند ماہ معمولی ملازمتیں کیں، پھر پیرس کی سڑکوں گھومتے پھرتے لی موندے، پر مزاحیہ ہفت روزہ ’چارلی ہیبڈو‘ کے نسخے ساربون یونیورسٹی اور دیگر قریبی اداروں کے طلبہ کو فروخت کرنا شروع کیے۔
    1970 کی دہائی میں جب ٹیلی ویژن پر خبروں کی رسائی نے اخبار فروشی کے پیشے کو تقریباً ختم کر دیا تھا، علی اکبر نے نہ صرف اس روایت کو زندہ رکھا بلکہ اپنی خوش مزاجی، مزاحیہ انداز اور مستقل مزاجی سے اسے ایک پہچان میں بدل دیا۔
    علی اکبر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے کاغذ کی خوشبو پسند ہے، مجھے ٹیبلٹ اور اس قسم کی چیزیں پسند نہیں، میں پڑھنا پسند کرتا ہوں، چاہے کچھ بھی ہو، لیکن صرف اصل کتابیں، اسکرین پر نہیں‘۔
    فرانسیسی شہری بھی علی اکبر کی جدو جہد اور محنت کو بہت سراہتے ہیںں، وہ مستقل مزاجی سے پیرس کی گلیوں میں اخبار فروخت کررہے ہیں ، مقامی لوگ ان کے ساتھ بیٹھنے اور کافی پینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ، جدید دور میں بھی بدلتے وقت ٹیکنالوجی اور نئے رجحانات کے باوجود علی اکبر نے اپنے کام سے محبت کی وجہ سے اس پیشے کو نہیں چھوڑا جس کی وجہ سے فرانسیسی حکومت نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا۔
    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے علی اکبر نے کہا کہ ہم زندگی میں آئے ہیں، تو ہمیں لوگوں کی خدمت کرنا چاہیے۔

  • ‘پاکستان میرا پسندیدہ ملک دال ماش پسندیدہ کھانا ہے’: سائیکل پر متعدد ممالک کی سیر کرنے والے فرانسیسی نوجوان

    ‘پاکستان میرا پسندیدہ ملک دال ماش پسندیدہ کھانا ہے’: سائیکل پر متعدد ممالک کی سیر کرنے والے فرانسیسی نوجوان

    فرانس سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان مارو نے سائیکلنگ کے ذریعے دنیا بھر کا ایک منفرد اور طویل سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ وہ فرانس سے روانہ ہو کر اب تک 14,500 کلومیٹر کا فاصلہ سائیکل پر طے کر چکے ہیں اور پاکستان ان کا 21 واں ملک ہے۔

    مارو کا تعلق فرانس کے مغربی ساحلی علاقے برٹنی سے ہے۔ ان کے مطابق وہ پچھلے چھ ماہ سے مسلسل سائیکلنگ کر رہے ہیں جبکہ دو ماہ سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے چین کے راستے خنجراب پاس عبور کر کے پاکستان میں داخلہ لیا۔ اس سے قبل وہ چین، تاجکستان اور افغانستان سے گزرے تھے۔

    پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے خیبر پختونخوا، اسلام آباد، لاہور، حیدرآباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں کا سفر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پہنچنے میں انہیں پانچ ماہ لگے اور یہاں آ کر انہیں وہ سب کچھ ملا جس کے بارے میں انہوں نے پہلے بہت کچھ سنا تھا۔

    اپنے بیان میں مارو کہتے ہیں کہ پاکستان میں میرا پسندیدہ کھانا دال ماش ہے۔ یہ بہت مزیدار ہے۔ مجھے بریانی بھی پسند ہے لیکن وہ میرے لیے کچھ زیادہ اسپائسی ہوتی ہے۔ یہاں کے پھلوں کے جوس بہت اچھے ہیں اور آم کا جوس میرا سب سے پسندیدہ ہے۔ واقعی یہاں کی چائے بھی بہت اچھی ہے۔

    فرانسیسی سائیکلسٹ کے مطابق پاکستان کے لوگ دنیا کے سب سے زیادہ ملنسار، مہمان نواز اور خوش اخلاق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کی پسندیدہ جگہ گلگت بلتستان ہے جہاں کے پہاڑ انہیں دنیا کے بہترین پہاڑ لگتے ہیں۔

    مارو روزانہ اوسطاً 80 سے 120 کلومیٹر سائیکل چلاتے ہیں۔ وہ اپنا تمام سامان خود سائیکل پر لے جاتے ہیں جس میں خیمہ، کپڑے اور ضروری آلات شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق سائیکلنگ انہیں زمین اور لوگوں سے قریب لے آتی ہے اور یہی اس سفر کا اصل مقصد ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یورپی ممالک میں سرحدوں کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے سفر میں پہلی باقاعدہ سرحد یونان اور ترکیہ کے بعد جارجیا میں آئی۔ پاکستان ان کے لیے اب تک کا سب سے یادگار ملک ثابت ہوا ہے اور وہ اسے اپنا پسندیدہ ملک قرار دیتے ہیں۔

    مارو کے مطابق وہ سائیکلنگ ایک تنظیم کے لیے بھی کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں امن، ثقافت اور دوستی کا پیغام پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ ان کے لیے صرف سفر نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔

    پاکستان کے بعد وہ کویت، عراق، شام اور مصر جائیں گے۔ اس کے بعد عرب خلیج کے خطے میں تقریباً پانچ ماہ سائیکلنگ کریں گے جبکہ ان کے طویل سفر کا آخری پڑاؤ نیپال ہوگا۔ ان کے مطابق پورے سفر میں تقریباً 35 یا 36 ممالک شامل ہوں گے اور یہ سفر ممکنہ طور پر دو سال میں مکمل ہوگا۔