[rank_math_breadcrumb]

پیرس، ایک ایسا شہر جس کا نام آتے ہی ذہن میں رومانوی گلیاں، تاریخی عمارتیں، فن، ادب اور ثقافت کی روشن دنیا ابھر آتی ہے۔ دریائے سین کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے دنیا بھر کے فنکاروں، مصنفوں، مفکروں اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا آیا ہے۔

فرانس کے شمالی حصے میں واقع پیرس ملک کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ صرف فرانس کا سیاسی مرکز ہی نہیں بلکہ یورپ اور دنیا کے اہم ترین ثقافتی، سفارتی اور معاشی مراکز میں بھی شمار ہوتا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت نے اسے صدیوں سے تجارت، تعلیم اور تہذیب کا اہم مرکز بنائے رکھا ہے۔

پیرس کی تاریخ دو ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ قدیم زمانے میں یہاں سیلٹک قبیلہ ‘پیریسی’ آباد تھا، جس کے نام پر بعد میں شہر کا نام پیرس پڑا۔ رومی سلطنت کے دور میں یہ ایک اہم بستی کے طور پر ترقی کرتا گیا اور قرون وسطیٰ تک یورپ کے نمایاں شہروں میں شامل ہو چکا تھا۔

بارہویں اور تیرہویں صدی میں پیرس علم و دانش کا مرکز بن گیا۔ اسی دور میں پیرس یونیورسٹی نے یورپ بھر میں شہرت حاصل کی اور شہر علمی سرگرمیوں کا محور بن گیا۔ بعد کی صدیوں میں فرانسیسی بادشاہوں نے یہاں شاندار عمارتیں، محلات اور یادگاریں تعمیر کروائیں جنہوں نے پیرس کو عالمی شہرت دلائی۔

1789 کی فرانسیسی انقلاب بھی اسی شہر سے شروع ہوئی، ایک ایسا واقعہ جس نے نہ صرف فرانس بلکہ پوری دنیا کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آزادی، مساوات اور اخوت کے نظریات نے بعد میں دنیا کے کئی ممالک کی سیاست اور معاشروں کو متاثر کیا۔

آج پیرس عالمی سفارت کاری، فیشن، فنون لطیفہ، تعلیم اور سیاحت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر یہاں موجود ہیں۔ ہر سال کروڑوں سیاح اس شہر کا رخ کرتے ہیں، جس سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے شہروں میں شامل رہتا ہے۔

پیرس ایفل ٹاور، لوور میوزیم، نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل، شانزے لیزے، آرک دی تریومف اور مون مارتر جیسے مقامات کے لیے مشہور ہے۔ لوور میوزیم دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں لیونارڈو ڈاونچی کی مشہور پینٹنگ ‘مونالیزا’ بھی موجود ہے۔

لیکن پیرس کے بارے میں کچھ کم معروف حقائق بھی نہایت دلچسپ ہیں۔ مثال کے طور پر شہر کے نیچے تقریباً تین سو کلومیٹر طویل سرنگوں اور قدیم کانوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جنہیں پیرس کی کیٹاکومبز کہا جاتا ہے۔ ان زیر زمین راستوں میں لاکھوں افراد کی باقیات محفوظ ہیں، جو انہیں دنیا کے منفرد تاریخی مقامات میں شامل کرتی ہیں۔

ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پیرس میں دنیا کے قدیم ترین اور سب سے بااثر کیفے کلچر میں سے ایک پروان چڑھا۔ انہی کیفوں میں بیٹھ کر کئی مشہور فلسفیوں، ادیبوں اور مصوروں نے اپنے خیالات اور تخلیقات کو جنم دیا۔

پیرس کو اکثر ‘روشنیوں کا شہر’ کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ نام صرف اس کی رات کی خوبصورت روشنیوں کی وجہ سے ہے، لیکن دراصل یہ نام اٹھارہویں صدی کے دورِ روشن خیالی سے بھی منسلک ہے، جب پیرس علم، فلسفے اور جدید خیالات کا عالمی مرکز بن گیا تھا۔

آج بھی پیرس اپنی تاریخی عمارتوں، خوبصورت پلوں، آرٹ گیلریوں، فیشن ہاؤسز اور ثقافتی ورثے کی بدولت دنیا کے نمایاں ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ماضی اور حال ایک ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں صدیوں پرانی عمارتوں کے سائے میں جدید زندگی پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔

جب آپ دریائے سین کے کنارے کھڑے ہو کر پیرس کی شام کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر صرف عمارتوں اور سڑکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تخلیق، حسن اور تہذیب کی ایک زندہ علامت ہے۔

ساگا ڈیجیٹل آپ تک دنیا کے عظیم شہروں، تہذیبوں اور تاریخ کی مستند کہانیاں پہنچاتا ہے۔

ساگا ڈیجیٹل کے ساتھ جڑیے اور دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھیے۔

یہ ہے پیرس، ایک ایسا شہر جس نے صدیوں سے دنیا کو فن، علم، ثقافت اور حسن کا نیا مفہوم دیا ہے، اور جو آج بھی لاکھوں لوگوں کے خوابوں کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں: