پیرس کے فیشن ایبل لاطینی کوارٹر میں گزشتہ 50 برس سے زائد عرصے سےکیفے اور ریسٹورنٹس کے باہر اخبارات فروخت کرنے والے 74 سالہ پاکستانی بزرگ کو فرانس کا اعلیٰ ترین سول اعزاز دیا گیا۔
بدھ کو الیسی محل میں منعقدہ ایک تقریب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اکبر کو ‘فرانسیسوں سے زیادہ فرانسی’ قرار دیتے ہوئے فرانس کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں نیشنل آرڈر آف میرٹ کا نائٹ مقرر کیا، جو کہ فرانس میں سول یا فوجی شعبے میں نمایاں خدمات پر دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے علی اکبر 1975 میں راولپنڈی سے پیرس پہنچے تھے انہوں نے چند ماہ معمولی ملازمتیں کیں، پھر پیرس کی سڑکوں گھومتے پھرتے لی موندے، پر مزاحیہ ہفت روزہ ’چارلی ہیبڈو‘ کے نسخے ساربون یونیورسٹی اور دیگر قریبی اداروں کے طلبہ کو فروخت کرنا شروع کیے۔
1970 کی دہائی میں جب ٹیلی ویژن پر خبروں کی رسائی نے اخبار فروشی کے پیشے کو تقریباً ختم کر دیا تھا، علی اکبر نے نہ صرف اس روایت کو زندہ رکھا بلکہ اپنی خوش مزاجی، مزاحیہ انداز اور مستقل مزاجی سے اسے ایک پہچان میں بدل دیا۔
علی اکبر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے کاغذ کی خوشبو پسند ہے، مجھے ٹیبلٹ اور اس قسم کی چیزیں پسند نہیں، میں پڑھنا پسند کرتا ہوں، چاہے کچھ بھی ہو، لیکن صرف اصل کتابیں، اسکرین پر نہیں‘۔
فرانسیسی شہری بھی علی اکبر کی جدو جہد اور محنت کو بہت سراہتے ہیںں، وہ مستقل مزاجی سے پیرس کی گلیوں میں اخبار فروخت کررہے ہیں ، مقامی لوگ ان کے ساتھ بیٹھنے اور کافی پینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ، جدید دور میں بھی بدلتے وقت ٹیکنالوجی اور نئے رجحانات کے باوجود علی اکبر نے اپنے کام سے محبت کی وجہ سے اس پیشے کو نہیں چھوڑا جس کی وجہ سے فرانسیسی حکومت نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے علی اکبر نے کہا کہ ہم زندگی میں آئے ہیں، تو ہمیں لوگوں کی خدمت کرنا چاہیے۔
