[rank_math_breadcrumb]

فرانس کی حکومت نے زیادہ بچے پیدا کرنے کے اپنے شہریوں کو خطوط بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

فرانس میں پہلی بار دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا مرحلہ آیا ہے کہ شرحِ اموات شرحِ پیدائش سے بڑھ گئی ہے اور ملک کی آبادی قدرتی طور پر سکڑنے لگی ہے۔ بدلتے ہوئے انہی اعداد و شمار نے فرانسیسی حکومت کو سنجیدہ اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔

گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کے پیش نظر حکومت نے خواتین اور مردوں کو خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت وزارتِ صحت کی جانب سے ملک بھر کے تمام 29 سالہ شہریوں کو خطوط ارسال کیے جائیں گے، جن میں بچوں کی پیدائش کی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق سائنسی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے فی خاتون اوسطاً 2.1 بچوں کی پیدائش ضروری سمجھی جاتی ہے، تاہم فرانس میں یہ شرح 2025 میں 1.56 ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ یہ یورپ کے کئی ممالک سے بہتر ہے، مگر آبادی کے تسلسل کے لیے ناکافی ہے۔

قومی ادارہ برائے شماریات و معاشی مطالعات کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 6 لاکھ 45 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی، جبکہ 6 لاکھ 51 ہزار افراد انتقال کر گئے۔

ماہرین کے مطابق اموات میں اضافے کی بڑی وجہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی ’بیبی بومر‘ نسل کی بڑھتی عمر ہے، جو اب ضعیفی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ 2025 میں اموات کی تعداد میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا، جس میں شدید فلو کی وبا بھی ایک سبب بنی، تاہم بنیادی وجہ آبادی کا تیزی سے بوڑھا ہونا قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق صدر ایمانوئیل میکرون نے وزارتِ صحت کے تیار کردہ 16 نکاتی قومی تولیدی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہریوں میں تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ وزیرِ صحت اسٹیفانی رسٹ کا کہنا ہے کہ بچوں کی پیدائش کا فیصلہ خواتین اور مردوں دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور حکومت کسی پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتی بلکہ باخبر انتخاب کی سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔

اس منصوبے کے تحت ’مائی فرٹیلیٹی‘ کے نام سے ایک قومی آن لائن پورٹل بھی قائم کیا جا رہا ہے، جہاں شہری تولیدی اور جنسی صحت سے متعلق مستند معلومات حاصل کر سکیں گے۔ اس پلیٹ فارم پر عمر، طرزِ زندگی اور طبی مسائل جیسے عوامل کے اثرات سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔

حکومت نے 29 سے 37 سال کی عمر کے افراد کے لیے سرکاری اخراجات پر بیضہ محفوظ کرنے کی سہولت میں توسیع کا بھی اعلان کیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سہولت کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا، اسی لیے 2028 تک ملک بھر میں 30 نئے مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

مزید برآں، 2021 میں منظور ہونے والے حیاتیاتی اخلاقیات کے قانون کے بعد سنگل خواتین اور ہم جنس شراکت داری رکھنے والی خواتین کو ریاست کے خرچ پر آئی وی ایف علاج کی اجازت دی گئی تھی۔ اس قانون کے بعد عطیہ کردہ نطفے کے ذریعے علاج کی شرح میں 8.5 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حکومت اینڈومیٹریوسس اور پولی سسٹک اووری سنڈروم جیسے امراض پر تحقیق اور علاج کے لیے بھی اضافی فنڈنگ فراہم کرے گی، کیونکہ یہ بیماریاں بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں خواتین کی تولیدی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

یوں فرانس آبادی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے محض اعداد و شمار پر اکتفا نہیں کر رہا بلکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے سماجی، طبی اور معاشی سطح پر جامع حکمتِ عملی ترتیب دے رہا ہے۔

اسی بارے میں: