Tag: صحت

  • جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    صبح کے وقت شہر ابھی پوری طرح جاگا بھی نہیں ہوتا لیکن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور بڑھنے لگتا ہے۔ فضا میں دھواں پھیلنے لگتا ہے اور کہیں کہیں کچرا جلنے کی بو بھی آتی ہے۔ انہی حالات میں ہزاروں بچے بستے اٹھائے اسکولوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سانس لینا ہی مشکل ہو تو سیکھنے کا عمل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

    یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا۔ اسے صحت اور تعلیم دونوں زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

    کراچی کی فضا اور اعداد و شمار

    23 مئی 2026 کو شہر میں اے کیو آئی 134 ریکارڈ کیا گیا، جو صحت کے لیے خاصی نقصان دہ سطح سمجھی جاتی ہے۔ رواں برس مارچ میں اے کیو آئی 153 بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسی فضا میں مسلسل سانس لینا انسانی جسم پر نمایاں اثرات ڈال سکتا ہے۔ بچوں کے لیے اس کا درست موازنہ کرنا آسان نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    شہری امور کے ماہرین کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی کا بڑا سبب ٹریفک ہے۔ اندازہ ہے کہ لگ بھگ ستر فیصد آلودگی گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی اخراج، کچرا جلانا، ڈیزل جنریٹر، تعمیراتی سرگرمیوں کی گرد اور ناقص ایندھن کا جلنا بھی فضا کو خراب کرتے ہیں۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق باریک آلودہ ذرات ‘پی ایم 2 اعشاریہ 5’ بچوں کے نشوونما پاتے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا کر سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں، جبکہ خراب فضائی معیار توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کا دھواں اور بیرونی سرگرمیاں بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، اس لیے آلودگی والے دنوں میں اے کیو آئی کی نگرانی کی جائے اور این 95 ماسک کے بغیر غیر ضروری باہر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

    بچے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

    ڈاکٹروں کے مطابق بچے بڑوں کی نسبت تیزی سے سانس لیتے ہیں، اس لیے وہ فضا میں موجود باریک ذرات زیادہ مقدار میں اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔ یہ ذرات پھیپھڑوں کی نشوونما پر اثر ڈالتے ہیں اور بعض صورتوں میں توجہ اور یادداشت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر صائمہ کاشف کے مطابق بچپن وہ مرحلہ ہے جب سانس کا نظام تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو تین برس میں بچوں میں الرجی اور سانس کے مسائل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے وائرل فلو سال میں چند بار ہوتا تھا، اب بعض بچوں میں یہ تعداد زیادہ ہو گئی ہے اور زیادہ تر کیس الرجی سے جڑے ہوتے ہیں۔ سانس کی بیماریاں اب صرف سردیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سال بھر سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔

    عام علامات

    متاثرہ بچوں میں ناک کی سوزش، مستقل نزلہ، ناک بند رہنے کے باعث منہ سے سانس لینا، نیند میں خلل، بار بار انفیکشن اور کھانسی جیسی علامات دیکھی جاتی ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بچہ مسلسل آلودہ فضا میں سانس لے رہا ہے۔

    ہمدرد یونیورسٹی سے وابستہ حکیم محمد انس شمسی کے مطابق صاف ہوا صحت مند زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن جسم کو نیوٹریشن پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن اب یہی عناصر فضا میں مناسب یا مطلوبہ مقدار میں موجود نہ ہوں تو اس کا براہ راست اثر بڑھتے ہوئے بچوں کی مجموعی نشوونما پر پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف پھیپھڑے بلکہ پورے جسم کی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔ صبح کے وقت ماحول میں خنکی کی وجہ سے آلودگی کی سطح ویسے ہی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، اور آلودہ ذرات زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ پہلے بچوں میں سانس کے مسائل صرف سردیوں میں سامنے آتے تھے لیکن اب یہ سارا سال کا مسئلہ بن گئے ہیں۔

    دماغ اور سیکھنے کی صلاحیت

    مائنڈ سائنس کے ماہر آصف علی خان کے مطابق فضائی آلودگی کے باریک ذرات دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتے ہیں جو توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں۔ بعض مطالعات میں دماغی سوزش اور سیکھنے کی رفتار میں کمی کے شواہد ملے ہیں۔ ایسی صورت میں بچہ کلاس میں جلد تھک جاتا ہے اور اس کے لیے سبق پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

    کلاس روم کی صورتحال

    شہر کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے بات چیت میں یہ سامنے آیا کہ آلودگی زیادہ ہونے سے بچوں میں سر درد، تھکن اور گلے کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق ایسے دنوں میں غیر حاضری بھی بڑھتی ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

    بہادرآباد کے ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ محمد عارف کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو طویل مدت میں تعلیمی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ کورنگی کی ایک استاد تابندہ سحر کے مطابق آلودگی کے دوران فلو اور سانس کے مسائل کی وجہ سے حاضری کم ہو جاتی ہے۔

    آلودگی کم کرنے کے اہم مشورے

    پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری زبیر احمد کی رائے میں فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے ایک ‘تعلیمی ایمرجنسی’ بن چکی ہے۔ آلودہ فضا بچوں کی جسمانی نشوونما اور توجہ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اسکول سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کلاس رومز میں پودے لگانے، اسکول کے اطراف گرین بیلٹ بنانے اور ہوا کے معیار ناپنے والے حساسات نصب کرنے سے فضا کی نگرانی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کو ایئر کوالٹی انڈیکس ‘اے کیو آئی’ سے متعلق تربیت دینا ضروری ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نجی گاڑیوں کا ہجوم مقامی آلودگی بڑھاتا ہے۔ کار پولنگ اور محفوظ جدید سہولیات سے لیس بس سروس اس مسئلے کا بہتر حل ہو سکتے ہیں۔

    عالمی تحقیق کیا کہتی ہے

    مختلف ملکوں میں ہونے والی تحقیق نے فضائی آلودگی اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ ایک بین الاقوامی جائزے میں اٹھائیس ممالک کے مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہی رجحان سامنے آیا کہ زیادہ آلودگی والے علاقوں میں امتحانی نتائج نسبتاً کم رہے۔ امریکہ میں ہونے والے ایک بڑے مطالعے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ فضا میں موجود باریک ذرات میں اضافے کے ساتھ ریاضی اور انگریزی کے نمبروں میں کمی دیکھی گئی، اور کم عمر بچے زیادہ متاثر ہوئے۔

    محکمہ موسمیات کے محدود وسائل

    پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق کراچی میں اس وقت فضائی آلودگی ناپنے کے آلات ‘ایئر کوالٹی میٹرنگ سینسرز’ موجود نہیں ہیں، اس لیے واضح صورتحال نہیں بتائی جا سکتی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے تناظر میں دیکھیں تو فضائی آلودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    ترجمان انجم نذیر ضیغم نے بتایا کہ سردیوں میں ہوا شمال مشرق کی جانب سے چلتی ہے، جبکہ گرمیوں میں جنوب مغربی ہوا سمندر سے خشکی کی جانب آتی ہے۔ سردیوں میں اے کیو آئی زیادہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ گرمیوں میں اس کا اثر نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اب خطرہ بن گئی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ مسئلہ کم ہو سکے۔

    وجوہات اور چیلنجز

    پرانی گاڑیاں، صنعتی دھواں، کچرا ٹھکانے لگانے کا ناقص نظام، تعمیراتی گرد اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، مگر مؤثر نگرانی اور عمل درآمد کے بغیر بہتری محدود رہی ہے۔

    والدین کا کردار

    ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید آلودگی کے دنوں میں بچوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ بھیجا جائے، ماسک کے استعمال پر توجہ دی جائے اور سانس یا الرجی کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔

    آگے کیا ہونا چاہیے

    کچرا جلانے پر سخت پابندی، گاڑیوں کے دھوئیں کی باقاعدہ جانچ، اسکولوں کے اطراف ٹریفک کا بہتر انتظام، شجرکاری اور صاف توانائی کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ بعض تعلیمی ماہرین نصاب میں ماحولیاتی شعور کو عملی انداز میں شامل کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔

    صاف ہوا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کی بنیاد ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بہتر سیکھ سکیں تو انہیں سانس لینے کے لیے بہتر فضا بھی دینا ہوگی۔

  • سندھ کے محکمۂ صحت میں پروموشن کے بعد پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نام پر ہونے والا کاروبار

    سندھ کے محکمۂ صحت میں پروموشن کے بعد پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نام پر ہونے والا کاروبار

    گزشتہ دنوں ایک سرکاری اسپتال جانا ہوا، وہاں ایک خاتون ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو گریڈ 17 کی میڈیکل آفیسر سے ترقی پا کر گریڈ 18 میں سینئر میڈیکل آفیسر بنی ہیں۔ وہ شاید اخبارات یا فیس بک پر میری تحریریں پڑھتی رہی ہیں۔ میں جس مریض کی عیادت کے لیے اسپتال گیا تھا، اُس وارڈ میں اُن کی ڈیوٹی تھی۔

    انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ کئی برسوں سے یہاں باقاعدگی سے ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔ اُن کی گریڈ 18 میں پروموشن ہو چکی ہے، مگر اب پوسٹنگ آرڈرز جاری ہونے والے ہیں۔ سیکریٹریٹ میں بیٹھے محکمۂ صحت کے بااثر افراد کے ایجنٹوں نے پیغام دیا ہے کہ اُن کی پوسٹنگ کندھ کوٹ، کشمور یا شکارپور کی جا رہی ہے۔ اگر وہ موجودہ مقام پر سکون سے ڈیوٹی جاری رکھنا چاہتی ہیں تو لاکھوں روپے تیار رکھیں، ورنہ دور دراز اضلاع جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

    رندھی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا: ‘میں نے کبھی یہ اضلاع دیکھے تک نہیں، ایک غیر شادی شدہ لڑکی اکیلے ایسے دور دراز علاقوں میں کیسے جا سکتی ہے؟ میرا ڈومیسائل بھی ان اضلاع کا نہیں۔ یہ مسئلہ صرف میرا نہیں، بلکہ جن جن ڈاکٹروں کی گریڈ 18 میں بطور سینئر میڈیکل آفیسر پروموشن ہوئی ہے، اُن سب کے لیے یہ ترقی خوشی کے بجائے ذہنی اذیت بن چکی ہے۔ ہمارے پروموشن سیکریٹریٹ میں بیٹھی مافیا کے لیے گویا لاٹری بن گئے ہیں۔’

    سندھ کے سرکاری محکموں میں گریڈ 17 سے 18 میں ترقی کسی بھی افسر کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ہوتی ہے، مگر یہ ترقی اکثر متعلقہ افسران، خصوصاً لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے ذہنی اور مالی عذاب بن جاتی ہے۔

    1۔ پروموشن کے بعد پوسٹنگ کا عمل اور مالی بدعنوانی

    جب ایک میڈیکل آفیسر گریڈ 17 سے ترقی پا کر گریڈ 18 یعنی سینئر میڈیکل آفیسر بنتا ہے، تو اُسے نئے گریڈ کی پوسٹنگ کے لیے آرڈر درکار ہوتا ہے۔ یہیں سے بدعنوانی کا ایک منظم جال شروع ہوتا ہے۔

    آرڈرز میں تاخیر: پروموشن نوٹیفکیشن کے باوجود پوسٹنگ آرڈر جان بوجھ کر روکے جاتے ہیں تاکہ افسر ‘مفاہمت’ پر مجبور ہو جائے۔

    ریٹ لسٹ کلچر: سیکریٹریٹ کے بعض مخصوص شعبوں میں مختلف شہروں اور پرکشش عہدوں کے لیے غیر رسمی ‘ریٹ’ مقرر ہوتے ہیں۔

    2۔ پوسٹنگ کا خوف

    ترقی پانے والے افسر کو اپنے شہر سے سینکڑوں میل دور کسی پسماندہ علاقے میں پوسٹنگ کا خوف دکھا کر رشوت طلب کی جاتی ہے۔

    3۔ لیڈی میڈیکل آفیسرز کی بلیک میلنگ

    محکمۂ صحت میں لیڈی میڈیکل آفیسرز اس نظام کا سب سے زیادہ شکار بنتی ہیں۔

    4۔ خاندانی مجبوریاں

    خواتین ڈاکٹروں کے لیے اپنے گھر، بچوں اور خاندان کو چھوڑ کر دور جانا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ اس انسانی مجبوری کو سیکشن آفیسر کلچر بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

    5۔ قریبی پوسٹنگ کا سودا

    شہر کے بڑے اسپتالوں میں خالی اسامیاں ہونے کے باوجود انہیں کاغذوں میں پُر ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ قریبی پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم وصول کی جا سکے۔

    میڈیکل آفیسر سے سینئر میڈیکل آفیسر تک کا سفر

    محکمۂ صحت میں سینئر میڈیکل آفیسر کے طور پر ترقی پانے والوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں کچھ یوں ہیں:

    1۔ کیڈر کی بلیک میلنگ

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ سینئر میڈیکل آفیسر کو اُس کے قریبی شہر کے بجائے ایسے مقام پر تعینات کیا جاتا ہے جہاں اُس کی ضرورت کم ہو، صرف اس لیے کہ اُس نے ‘سفارش’ یا ‘نذرانہ’ پیش نہیں کیا ہوتا۔

    2۔ سرپلس پول

    کئی افسران کو پروموشن کے بعد طویل عرصے تک پوسٹنگ کا انتظار کرایا جاتا ہے، جس سے اُن کی سروس متاثر ہوتی ہے۔

    3۔ بدعنوانی کی بڑی وجوہات اور طریقے

    سیاسی مداخلت:
    بااثر سیاسی شخصیات اپنے من پسند افراد کو ایڈجسٹ کرانے کے لیے میرٹ کو پامال کرتی ہیں۔

    بیوروکریٹک رکاوٹیں:
    فائلوں کو غیر ضروری اعتراضات کے تحت دبا دیا جاتا ہے۔

    ایجنٹ مافیا:
    سیکریٹریٹ کے اندر اور باہر ایسے گروہ سرگرم ہیں جو افسران اور انتظامیہ کے درمیان ‘ڈیل’ کراتے ہیں۔

    اثرات (Impact Analysis)

    1۔ پیشہ ورانہ بددلی

    جب ایک قابل ڈاکٹر یا پروفیسر کو اپنے حق کے لیے رشوت دینی پڑے تو اس کا اثر اُس کی کارکردگی اور جذبے پر پڑتا ہے۔

    2۔ محکمۂ صحت کا زوال

    جب پوسٹنگ میرٹ کے بجائے پیسے کی بنیاد پر ہوگی تو اسپتالوں میں اہل افراد کی کمی پیدا ہو جائے گی۔

    3۔ عام آدمی کا نقصان

    دور دراز علاقوں کے لوگ آج بھی بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں، کیونکہ وہاں کوئی جانا نہیں چاہتا اور لوگ رشوت دے کر شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    4۔ تجویز کردہ اصلاحات

    آن لائن پوسٹنگ سسٹم:
    پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا پورا نظام سافٹ ویئر کے ذریعے ہونا چاہیے، جہاں خالی آسامیوں کی تفصیل عوامی طور پر دستیاب ہو۔

    فکسڈ ٹینئور پالیسی:
    ہر افسر کے لیے ایک مخصوص مدت تک دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینا لازمی ہو، مگر یہ فیصلہ بلا امتیاز ہو۔

    اینٹی کرپشن کا فعال کردار:
    پروموشن سیزن میں محکمۂ صحت کے سیکریٹریٹس پر سخت نگرانی رکھی جائے۔

    خواتین کے لیے خصوصی رعایت:
    لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے ‘قریبی پوسٹنگ’ کو بنیادی حق قرار دیا جائے تاکہ وہ گھر اور ملازمت میں توازن قائم رکھ سکیں۔

    پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نام پر ہونے والی یہ مالی بدعنوانی صرف ایک محکمے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی ناسور ہے جو سندھ کے اہم ترین شعبے یعنی صحت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ جب تک پوسٹنگ کا اختیار شفاف اور خودکار نظام کے حوالے نہیں کیا جائے گا، یہ بلیک میلنگ جاری رہے گی۔

    ایک کیس کا ذکر:

    ایک خاتون لیکچرار کا کیس میری نظر سے گزرا۔ اُس خاتون لیکچرار کی پروموشن اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ہوئی، مگر ترقی کے بعد اُن کی پوسٹنگ گورنمنٹ گرلز زبیدہ کالج حیدرآباد سے گورنمنٹ گرلز کالج ٹھٹھہ کر دی گئی۔ اُس خاتون اسسٹنٹ پروفیسر نے رقم دے کر اپنی ٹرانسفر رکوا لی۔ جس شخص نے اپنے ایجنٹ کے ذریعے یہ رقم وصول کی، وہی شخص آج کل سندھ کے ایک اہم ادارے میں تعینات ہے۔

  • امریکہ کی عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا غریب ممالک پر ممکنہ طور کیا اثرات ہوں گے؟

    امریکہ کی عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا غریب ممالک پر ممکنہ طور کیا اثرات ہوں گے؟

    دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر بیماریوں کی روک تھام، علاج، ویکسینیشن، ماں اور بچے کی صحت، اور ہنگامی طبی حالات میں امداد فراہم کرنے والا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے امریکہ جیسے بڑے اور بااثر ملک کا اس ادارے سے الگ ہونا کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت سے امریکہ علحیدگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا وبائی امراض، غذائی قلت، کمزور صحت کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث نئے امراض سے دوچار ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدگی کا اعلان کیا، ایک سال کی قانونی مدت مکمل ہونے کے بعد 22 جنوری2026 کو امریکہ باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کے اس اہم ادارے سے الگ ہو چکا ہے۔

    امریکہ کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ عالمی ادارہ صحت عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

    امریکہ طویل عرصے تک عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون رہا ہے۔ اس کی فراہم کردہ مالی امداد سے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک میں پولیو، خسرہ، تپِ دق، ایچ آئی وی، ملیریا اور دیگر مہلک بیماریوں کے خلاف پروگرام جاری رہے۔

    اگر امریکہ کی جانب سے مالی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے تو ان پروگراموں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان کروڑوں غریب افراد پر پڑنے کا امکان ہے، جو پہلے ہی کمزور اور محدود صحت کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔

    غریب ممالک میں صحت کے مسائل محض بیماریوں تک محدود نہیں ہوتے۔ غربت، غذائی قلت، صاف پانی کی عدم دستیابی اور تعلیم کی کمی ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت ایسے ممالک کو صرف مالی امداد ہی نہیں دیتا بلکہ تکنیکی معاونت، تربیت یافتہ طبی عملہ، ادویات کی فراہمی اور تحقیق کے شعبے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کی علیحدگی کے نتیجے میں ادارے کی مجموعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے ہنگامی حالات میں بروقت امداد فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    کووِڈ-19 کی عالمی وبا نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ بیماریاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ اگر کسی ایک خطے میں بیماری پھیلتی ہے تو وہ جلد یا بدیر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی ادارہ صحت جیسے ادارے کا مضبوط اور مؤثر ہونا تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

    امریکہ کا اس ادارے سے الگ ہونا عالمی تعاون کو کمزور کر سکتا ہے اور ممالک کے درمیان ہم آہنگی میں کمی کا سبب بن سکتا ہے، جس کے منفی اثرات امیر اور غریب دونوں ممالک کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے بھی عالمی ادارہ صحت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پولیو کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت، ویکسینیشن پروگرامز اور قدرتی آفات کے دوران طبی امداد کی فراہمی میں یہ ادارہ برسوں سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

    اگر ادارے کے وسائل میں کمی آتی ہے تو ان پروگراموں کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی صحت اور زندگی پر پڑے گا۔

    امریکہ کے اس فیصلے کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو سائنسی اصولوں اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ اگر بڑی طاقتیں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایسے عالمی اداروں سے علیحدگی اختیار کرنے لگیں تو عالمی نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔

    اس سے دنیا میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جہاں وسائل سے مالا مال ممالک اپنی صحت کا انتظام خود کر لیں گے جبکہ غریب ممالک مزید مشکلات میں گھِر جائیں گے۔

    یہ امکان بھی موجود ہے کہ یورپ، چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اس مالی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جیسے بڑے عطیہ دہندہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس عمل میں وقت لگے گا اور اس دوران غریب ممالک کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی صحت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی ایک ملک کا الگ ہونا وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے منفی اثرات پوری دنیا کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    غریب ممالک کے لیے یہ فیصلہ خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ ان کی صحت کا انحصار عالمی تعاون پر زیادہ ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی صحت اور زندگی کو ترجیح دے، کیونکہ ایک صحت مند دنیا ہی ایک محفوظ دنیا کی ضمانت ہے۔

  • ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    نئے سال کے آغاز پر وفاقی حکومت کے ادارے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے سماجی اشاریوں میں مجموعی طور پر کچھ حد تک بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ سروے یکم جنوری کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے باضابطہ طور پر جاری کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ سروے ہے، جس کا مقصد عوام کے معاشی اور سماجی حالات کی درست اور حقیقی تصویر پیش کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کا موجودہ مرحلہ ستمبر 2024 سے جون 2025 تک مکمل کیا گیا۔ اس دوران اینڈرائیڈ ٹیبلٹس پر مبنی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پاکستان بھر میں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت، 32 ہزار 814 گھرانوں سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل طریقہ کار سے ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    سروے کے نتائج کو صوبائی سطح پر دو الگ رپورٹس کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے، جن میں سماجی رپورٹ اور معاشی رپورٹ شامل ہیں۔ سماجی رپورٹ میں تعلیم، معلومات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، صحت، آبادی و خاندانی بہبود، رہائش، پانی، صفائی ستھرائی اور خوراک کی عدم تحفظ سے متعلق اہم اشاریوں پر تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ معاشی رپورٹ میں گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اخراجات کی بنیاد پر غربت کے تخمینے کے لیے ضروری اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    تعلیم اور صحت کی صورتحال

    تعلیم کے شعبے سے متعلق سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک میں شرح خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے، جسے ماہرین تعلیمی شعبے میں بتدریج بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن تعلیمی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

    دوسری جانب یونیسف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سرکاری اعداد و شمار سے قدرے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ یونیسف کے مطابق سال 2025 میں پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھا۔ اندازوں کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے مجموعی بچوں کی آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قومی ترقی کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ مستقبل کی افرادی قوت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    صحت کے شعبے میں سروے کے نتائج نسبتاً مثبت رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی مکمل ویکسینیشن کی شرح 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی اموات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صاف ایندھن استعمال کرنے والے گھرانوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جسے ماحولیاتی بہتری اور صحت مند طرزِ زندگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    ڈیجیٹل رسائی میں خاطرخواہ اضافہ

    ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سروے کے نتائج خاص طور پر نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ افراد کی سطح پر انٹرنیٹ استعمال 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، تقریباً 96 فیصد گھرانوں میں موبائل یا اسمارٹ فون کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں آن لائن تعلیم، ای-کامرس اور ڈیجیٹل روزگار کے مواقع میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

    اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں موبائل فونزکی درآمدات پر801.13ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 40.51فیصدزیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موبائل فونز کی درآمدات پر570.18ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا،نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات پر156.56ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجونومبر2024کے مقابلہ میں 4.81فیصدزیادہ ہے،نومبر 2024میں موبائل فونزکی درآمدات پر149.37ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا۔

    اکتوبرکے مقابلہ میں نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر8.30فیصدکی کمی ہوئی، اکتوبرمیں موبائل فونزکادرآمدی بل 144.56ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

    غربت میں کمی

    ماہرین معاشیات کے مطابق سروے کے اعداد و شمار غربت میں کمی، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ سروے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے ترتیب دیں اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، خاص طور پر تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔

    مجموعی طور پر ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کو پاکستان میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان نتائج کو مؤثر پالیسی اقدامات میں تبدیل کیا گیا تو یہ سروے پاکستانی عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی اور دیرپا بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

  • وٹامنز کیا ہیں اور صحت مند زندگی کے لیے کیوں ضروری ہیں؟

    وٹامنز کیا ہیں اور صحت مند زندگی کے لیے کیوں ضروری ہیں؟

    ماہرین صحت کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں وٹامنز کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیوں، جلد، آنکھوں اور قوتِ مدافعت سے جڑی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔

    ہم روزانہ خوراک کھاتے ہیں، پانی پیتے ہیں اور جسمانی توانائی حاصل کرتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی سوچتے ہیں کہ ہماری صحت کے پیچھے اصل کام کرنے والے عناصر کون ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم لیکن اکثر نظر انداز ہونے والا جزو ہیں وٹامنز۔ یہ وہ قدرتی غذائی اجزا ہیں جو جسم کے مختلف افعال کو درست رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

    جسم انہیں خود نہیں بنا سکتا، اس لیے ان کا حصول خوراک یا سپلیمنٹ کے ذریعے ضروری ہوتا ہے۔ وٹامنز کی کمی نہ صرف جسمانی کمزوری بلکہ سنگین بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

    وٹامنز کی اقسام

    :غذائیت کے ماہرین وٹامنز کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں
    پہلی قسم ہے چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز، جن میں وٹامن اے، ڈی، ای اور کے شامل ہیں۔ یہ جسم میں چربی کے ساتھ محفوظ رہتے ہیں اور طویل عرصے تک جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔

    دوسری قسم ہے پانی میں حل ہونے والے وٹامنز، جن میں وٹامن سی اور وٹامن بی کے مختلف گروپ شامل ہیں۔ یہ جسم میں جمع نہیں ہوتے، اس لیے روزانہ تازہ خوراک کے ذریعے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    وٹامن اے : بینائی اور جلد کا محافظ

    وٹامن اے کو اکثر ‘نگاہ کا وٹامن’ کہا جاتا ہے۔ یہ آنکھوں کی روشنی کو برقرار رکھنے، جلد کو صحت مند رکھنے اور قوتِ مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے رات کے وقت دیکھنے میں دشواری یعنی رات کا اندھا پن پیدا ہو جاتا ہے۔
    وٹامن اے گاجر، پالک، انڈے کی زردی، دودھ اور مکھن میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ وٹامن اے کی کمی کے باعث خشک جلد، بینائی میں کمزوری، اور انفیکشن کے خلاف کمزور مدافعت کا خطرہ ہوتا ہے۔

    وٹامن بی کمپلیکس: توانائی اور اعصاب کے لیے بنیاد

    وٹامن بی کوئی ایک نہیں بلکہ ایک گروپ ہے جس میں مختلف وٹامنز شامل ہیں اور ہر ایک کا اپنا کردار ہے۔

    وٹامن بی ون (تھیامین): دل اور اعصاب کے نظام کے لیے ضروری۔ اس کی کمی سے "بیری بیری” بیماری ہوتی ہے۔

    وٹامن بی ٹو (رائبوفلاوِن): خلیوں میں توانائی پیدا کرتا ہے اور جلد کی صحت برقرار رکھتا ہے۔

    وٹامن بی تھری (نیاسین): خون کی روانی اور ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔ کمی سے "پیلاگرا” پیدا ہو سکتی ہے۔

    وٹامن بی فائیو (پینتھوتھینک ایسڈ): ہارمونز کی تیاری اور توانائی کے تبادلے میں مدد دیتا ہے۔

    وٹامن بی سکس (پائریڈوکسین): دماغی کارکردگی اور خون میں ہیموگلوبن کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    وٹامن بی سیون (بایوٹن): بالوں، ناخنوں اور جلد کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اسے "خوبصورتی کا وٹامن” کہا جاتا ہے۔

    وٹامن بی نائن (فولک ایسڈ): خون کے سرخ خلیے بنانے اور حمل کے دوران بچے کی نشوونما کے لیے ضروری۔

    وٹامن بی ٹوئلو (کوبالامین): اعصاب اور خون کے نظام کے لیے لازمی۔ اس کی کمی سے خون کی کمی اور اعصابی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

    ذرائع: دلیہ، گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ، دالیں اور سبزیاں۔

    وٹامن سی: قوتِ مدافعت کا ساتھی

    وٹامن سی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے، زخموں کو جلد بھرنے میں مدد دیتا ہے اور خلیوں کو نقصان دہ اجزا سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ جسم میں لوہے کے جذب کو بھی بڑھاتا ہے۔
    ذرائع: کینو، لیموں، امرود، ٹماٹر اور مرچیں۔
    کمی کے اثرات: "اسکاروی” نامی بیماری، جس میں مسوڑھوں سے خون آتا ہے اور جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔

    وٹامن ڈی: ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کا راز

    وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم کے جذب میں مدد دیتا ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ سورج کی روشنی اس کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ ہے۔
    ذرائع: سورج کی روشنی، مچھلی، انڈے کی زردی اور دودھ۔
    کمی کے اثرات: ہڈیوں کا درد، کمزوری، اور بچوں میں رکٹس۔

    وٹامن ای: خلیوں کا محافظ

    وٹامن ای ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے، جلد کو صحت مند رکھتا ہے اور قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔
    ذرائع: بادام، سورج مکھی کے بیج، سبزیوں کے تیل اور پالک۔
    کمی کے اثرات: جسمانی کمزوری، جلد کی خشکی اور مدافعتی نظام کی کمزوری۔

    وٹامن کے: خون جمنے کا نگران

    وٹامن کے جسم میں خون جمنے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے بغیر معمولی زخم بھی دیر سے بھرتے ہیں یا زیادہ خون بہتا ہے۔
    ذرائع: پالک، بند گوبھی، بروکلی اور انڈے۔
    کمی کے اثرات: خون بہنے میں تاخیر، جلد پر نیل پڑ جانا اور زخموں کا دیر سے بھرنا۔

    وٹامنز کی کمی کی وجوہات

    ماہرین کے مطابق جدید طرزِ زندگی نے وٹامنز کی کمی کو عام کر دیا ہے۔ پروسیس شدہ غذائیں، غیر متوازن خوراک، سورج کی روشنی سے گریز اور نیند کی کمی سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ شہروں میں لوگ تازہ پھل اور سبزیاں کم جبکہ فاسٹ فوڈ زیادہ کھاتے ہیں، جس میں قدرتی وٹامنز کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ بعض دوائیں بھی وٹامنز کی سطح پر اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً اینٹی بایوٹکس آنتوں کے اندر موجود وہ بیکٹیریا ختم کر دیتی ہیں جو وٹامن بی اور کے بناتے ہیں۔

    کیا سپلیمنٹ لینا ضروری ہے؟

    اگر خوراک متوازن ہو تو عام طور پر اضافی سپلیمنٹ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن کچھ حالات میں، جیسے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، بوڑھے افراد یا دائمی مریض، انہیں ڈاکٹر کی نگرانی میں وٹامن سپلیمنٹ دیے جا سکتے ہیں۔

    ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وٹامنز کی زیادتی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر وٹامن اے اور ڈی کی زیادہ مقدار جگر کے مسائل یا ہڈیوں کی کمزوری پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے سپلیمنٹ ہمیشہ طبی مشورے کے بعد ہی لینے چاہئیں۔

    وٹامنز کا کردار: صحت کی بنیاد

    وٹامنز کو جسمانی مشین کے نٹ بولٹ کہا جا سکتا ہے۔ یہ بظاہر چھوٹی مقدار میں درکار ہوتے ہیں مگر ان کے بغیر جسم کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
    وٹامن اے بینائی اور جلد کے لیے، وٹامن بی توانائی کے لیے، وٹامن سی قوتِ مدافعت کے لیے، وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے، وٹامن ای خلیوں کی حفاظت کے لیے، اور وٹامن کے خون جمنے کے لیے لازمی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی کمی بھی جسم کے پورے نظام پر اثر ڈال سکتی ہے۔

    نتیجہ: قدرتی وٹامنز کو خوراک کا حصہ بنائیں

    وٹامنز دراصل ہماری صحت کے خاموش محافظ ہیں۔ یہ ہمیں توانائی دیتے ہیں، بیماریوں سے بچاتے ہیں اور جسم کے نظام کو درست رکھتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق اگر ہم اپنی روزمرہ خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں، دودھ، مچھلی اور اناج شامل کریں اور روزانہ کچھ وقت سورج کی روشنی میں گزاریں تو زیادہ تر وٹامنز قدرتی طور پر حاصل ہو سکتے ہیں۔

    ایک ماہر غذائیت کے مطابق: ‘وٹامنز ہماری صحت کے وہ غیر مرئی محافظ ہیں جو خاموشی سے ہمیں بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ ان کی کمی کو معمولی سمجھنا دراصل اپنی صحت سے غفلت برتنا ہے۔’