کیا سندھ حکومت بنیادی صحت کی ذمہ داری سے دستبردار ہو رہی ہے؟

سندھ حکومت نے صوبے کے باقی ماندہ 700 سے زائد بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور دیگر پرائمری ہیلتھ سینٹرز کو پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے دور رس اثرات صرف صحت کے نظام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ حکومتی ذمہ داری، سرکاری اداروں کی حیثیت اور ہزاروں ملازمین کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔

سندھ کے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتیں پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہیں۔ بیشتر بنیادی مراکز صحت یا تو غیر فعال ہیں، یا وہاں ضروری ادویات دستیاب نہیں ہوتیں، جبکہ کئی مراکز میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی عدم موجودگی معمول بن چکی ہے۔ اس صورتحال کے باعث غریب مریض اپنے علاقوں میں علاج نہ ملنے پر بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے اور بروقت علاج بھی متاثر ہوتا ہے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ محکمہ صحت کی کارکردگی گزشتہ کئی برسوں سے تنقید کی زد میں رہی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر کسی سرکاری ادارے میں کمزوریاں موجود ہیں تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری کسی دوسرے ادارے کے حوالے کر دے؟ ریاست کا بنیادی فرض عوام کو صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کرنا ہے، نہ کہ اپنے اداروں کو مزید کمزور کرنا۔

اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو محکمہ صحت کے ہزاروں مستقل ملازمین کا مستقبل ہے۔ ان میں ڈاکٹر، نرسیں، ڈسپنسر، پیرامیڈیکل اسٹاف، چوکیدار اور دیگر ملازمین شامل ہیں، جو کئی برسوں سے سرکاری ملازم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دوسری طرف پی پی ایچ آئی کا بیشتر عملہ کنٹریکٹ یا عارضی بنیادوں پر کام کرتا ہے۔

اب جب تمام بنیادی مراکز صحت پی پی ایچ آئی کے حوالے کیے جا رہے ہیں تو یہ سوال فطری طور پر سامنے آتا ہے کہ مستقل ملازمین کی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ پی پی ایچ آئی کے ماتحت کام کریں گے؟ اگر ایسا ہوا تو ان کی ترقی، سروس اسٹرکچر، تبادلوں، پنشن اور دیگر سرکاری مراعات کا کیا ہوگا؟

صوبے کے مختلف اضلاع سے ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بعض ملازمین کو تبادلہ کرکے کراچی رپورٹ کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے ملازمین میں شدید بے چینی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ انتظامی فیصلوں میں شفافیت نہ ہونے سے نہ صرف ملازمین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ ادارہ جاتی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔

پی پی ایچ آئی کے سربراہ جاوید جاگیرانی اور سیکریٹری صحت طاہر سانگی کو قابل افسران قرار دیا جاتا ہے، لیکن اصل سوال افراد کی صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام کی پائیداری کا ہے۔ کیا سندھ کا محکمۂ صحت اس حد تک کمزور ہو چکا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مراکز صحت بھی خود نہیں چلا سکتا؟ اگر ایسا ہے تو پھر حکومت کو اس ناکامی کی وجوہات تلاش کرنی چاہئیں، نہ کہ پورے نظام کو کسی دوسرے ادارے کے سپرد کر دینا چاہیے۔

پی پی ایچ آئی کو ہر سال اربوں روپے کے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن ادویات کی خریداری، طبی آلات، مشینری کی مرمت اور مالی معاملات کے حوالے سے آج تک کوئی جامع اور عوامی آڈٹ رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اگر یہ ادارہ دو دہائیوں سے دیہی صحت کے شعبے میں کام کر رہا ہے تو پھر یہ بھی جائز سوال ہے کہ سندھ کے صحت کے اشاریوں میں وہ نمایاں بہتری کیوں نہیں آ سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

اس فیصلے کے کئی ممکنہ منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر محکمہ صحت کے ضلعی دفاتر کے اختیارات محدود ہو گئے تو محکمہ خود عملی طور پر بے اختیار ہو جائے گا۔ مستقل ملازمین کے حقوق متاثر ہوئے تو صحت کے شعبے میں پیشہ ورانہ اعتماد اور کام کرنے کا جذبہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح جب ریاست اپنے بنیادی اداروں کی ذمہ داریاں دوسرے اداروں کے سپرد کرتی ہے تو عوام کا سرکاری نظام پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر غیر طبی انتظامیہ کے ماتحت کام کریں گے تو طبی فیصلوں اور مریضوں کے علاج پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ صحت کا شعبہ انتظامی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جانا چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر اس معاملے پر واضح پالیسی کا اعلان کرے۔ سب سے پہلے محکمہ صحت کے تمام مستقل ملازمین کو یقین دہانی کرائی جائے کہ ان کی ملازمتیں، سروس اسٹرکچر، ترقی اور دیگر قانونی حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پی پی ایچ آئی کی کارکردگی، مالی معاملات اور انتظامی نظام کا ایک آزاد، غیر جانبدار اور شفاف آڈٹ بھی کرایا جائے تاکہ عوام کے سامنے حقائق آ سکیں۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ محکمہ صحت کے اپنے اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ اگر سرکاری نظام میں خامیاں موجود ہیں تو ان کی اصلاح کی جائے، عملے کی کمی پوری کی جائے، احتساب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور بنیادی مراکز صحت کو فعال بنایا جائے۔ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل اداروں کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انہیں بہتر بنانا ہوتا ہے۔

صحت کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر یہ شعبہ مکمل طور پر انتظامی تجربات یا نیم نجی ماڈلز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو سب سے زیادہ نقصان دیہی علاقوں کے غریب اور بے سہارا عوام کو ہوگا، جو پہلے ہی معیاری طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے پر جلد بازی کے بجائے دور اندیشی سے فیصلہ کرے تاکہ عوام کا اعتماد بھی بحال رہے، سرکاری ادارے بھی مضبوط ہوں اور صحت کا نظام واقعی عوامی خدمت کا ذریعہ بن سکے۔