Tag: سندھ حکومت

  • سندھ حکومت کا سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے پاکستان کے پہلے انٹرایکٹو سائنس مرکز، میگنیفائے سینٹر کا دورہ

    سندھ حکومت کا سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے پاکستان کے پہلے انٹرایکٹو سائنس مرکز، میگنیفائے سینٹر کا دورہ

    کراچی کی ایک روشن صبح میں جب سرکاری اسکولوں کے بچے اپنی کتابیں سنبھالے کلاس رومز میں بیٹھے ہوتے ہیں، تو اکثر ان کے لیے سائنس محض چند ابواب، چند تعریفیں اور چند سوالات تک محدود رہ جاتی ہے۔ مگر اب سندھ میں اس تصور کو بدلنے کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔

    سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو پاکستان کے پہلے انٹرایکٹو سائنس مرکز، میگنفی سائنس سینٹر، کے مطالعاتی دورے کروائے جائیں گے۔ یہ فیصلہ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سوچ کا اظہار ہے کہ سائنس کو کتابوں سے نکال کر تجربے اور مشاہدے کی دنیا میں لے جایا جائے۔

    صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ ڈویژنل سطح پر چھ جدید سائنس ایجوکیشن مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز کا مقصد یہ ہوگا کہ بچے سائنس کو صرف پڑھیں نہیں، اسے دیکھیں، چھوئیں، سمجھیں اور محسوس کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت سائنسی تعلیم کے فروغ کا عملی آغاز کر چکی ہے۔ STEAM مقابلوں کا انعقاد اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھا اور اب سائنس مراکز کے قیام کا فیصلہ اس سفر کا اگلا مرحلہ ہے۔

    اسی تناظر میں وزیر تعلیم نے کراچی میں دی داؤد فاؤنڈیشن کے قائم کردہ میگنفی سائنس سینٹر کا دورہ کیا، جہاں چیف ایگزیکٹو آفیسر فواد سومرو نے ان کا استقبال کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا جدید اور انٹرایکٹو سائنس سینٹر ہے، جہاں سائنس کو تفریحی اور عملی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ وزیر تعلیم نے مختلف گیلریز کا معائنہ کیا اور خاص طور پر مینگرووز ایکو سسٹم گیلری کو سراہا۔

    سید سردار علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں صرف نصابی تعلیم کافی نہیں۔ بچوں کو عملی تجربات اور مشاہداتی انداز میں سیکھنے کے مواقع دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے الفاظ میں، ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم اپنے بچوں کو کسی صورت پیچھے نہیں چھوڑ سکتے۔

    اس سلسلے میں سندھ حکومت اور دی داؤد فاؤنڈیشن کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ فروری کے اختتام تک مفاہمتی یادداشت طے کی جائے گی، جس کے تحت سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے مطالعاتی دوروں کا باقاعدہ نظام اور سالانہ کیلنڈر جاری کیا جائے گا۔ اس کیلنڈر میں ہیریٹیج سائٹس، ثقافتی مراکز اور قومی ورثے کے دیگر مقامات کے دورے بھی شامل ہوں گے تاکہ تعلیم کو ہمہ جہت بنایا جا سکے۔

    سندھ کابینہ اس منصوبے کے لیے گرانٹ کی منظوری دے چکی ہے۔ رواں مالی سال میں تیس ملین روپے اور آئندہ مالی سال میں ساٹھ ملین روپے تک گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ حکومت سالانہ بنیادوں پر ادائیگی کا باقاعدہ طریقہ کار بھی تشکیل دے گی تاکہ طلبہ بغیر کسی چارجز کے ان دوروں سے مستفید ہو سکیں۔

    یہ اقدام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک تعلیمی وژن ہے۔ ایک ایسا وژن جس میں سندھ کے بچے سائنس کو رٹنے کے بجائے سمجھنے لگیں، سوال کرنے لگیں، تجسس پیدا کریں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ اگر یہ سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری رہا تو شاید آنے والے برسوں میں انہی سرکاری اسکولوں سے ایسے ذہن ابھریں جو سائنس، ٹیکنالوجی اور ماحولیات کے میدان میں نئی راہیں متعین کریں۔

  • سندھ حکومت کا امریکی محکمہ زراعت کے اشتراک سے سندھ کی اسکولوں میں غذائی پروگرام کا آغاز

    سندھ حکومت کا امریکی محکمہ زراعت کے اشتراک سے سندھ کی اسکولوں میں غذائی پروگرام کا آغاز

    سندھ حکومت نے امریکی محکمہ زراعت کے اشتراک سے سندھ اسکول میلز پروگرام شروع کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ امریکہ McGovern-Dole پروگرام کے تحت 80 ملین ڈالر کی معاونت فراہم کرے گا۔

    اس سلسلے میں سندھ حکومت کی جانب سے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی نمائندگی میں مفاہمتی یادداشت نامہ پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔

    سندھ اسکول میلز انیشی ایٹو کے معاہدے کی تقریب کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جہاں مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

    اس موقع پر امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمین نے امریکی حکومت کی نمائندگی کی۔سیو دی چلڈرن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر محمد خرم گوندل اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کوکو اُشیاما بھی موقع پر موجود تھے۔

    یہ یادداشت نامہ سندھ حکومت، امریکی محکمہ زراعت، ورلڈ فوڈ پروگرام اور سیو دی چلڈرن کے مابین طے پایا۔ پروگرام کے تحت سندھ بھر کے تقریباً 1300 پرائمری اسکولوں کے 2 لاکھ سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے۔

    طلبہ کو روزانہ پکا ہوا کھانا اور ٹیک ہوم راشن فراہم کیا جائے گا۔منصوبہ Save the Children اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ غذائی قلت سے نمٹنے اور تعلیمی حاضری بڑھانے کے لیے ایک بڑا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں میں غذائی قلت نمایاں نظر آتی ہے، جو سیکھنے کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔

    وزیر تعلیم سندھ نے مزید کہا کہ آج ہم سندھ میں تعلیم اور غذائیت کے ذریعے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکول میلز پروگرام کی مدد سے اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ اسکول لانے میں مدد ملے گی۔ پروگرام کے تحت اساتذہ، ہیڈ ٹیچرز اور اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو فوڈ سیفٹی اور نیوٹریشن کی تربیت بھی دی جائے گی۔

    اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں واٹر، سینیٹیشن اور ہائیجین سہولیات کی بحالی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ امریکی گندم، دالیں اور کوکنگ آئل اسکول میلز پروگرام کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔

    اس پروگرام میں مقامی کسانوں سے پھل اور سبزیاں خرید کرنا بھی شامل ہے، جس سے صوبائی معیشت کو سہارا ملے گا۔محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے سیکریٹری کی جانب سے ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔

    منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک جوائنٹ اسٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔McGovern-Dole پروگرام کم آمدنی والے ممالک میں تعلیم، غذائیت اور فوڈ سکیورٹی کو فروغ دیتا ہے۔

    اس پروگرام کا مقصد بھوک میں کمی اور بالخصوص بچیوں کی پرائمری تعلیم میں بہتری لانا ہے۔