وفاقی بجٹ 2026-27: خواتین کی صحت سے متعلق مصنوعات پر ٹیکس ختم

صحت

 وفاقی حکومت نے خواتین کی تنظیموں کے طویل مطالبے کے بعد بجٹ 2026-27 میں ماہواری کے دوران بنیادی صحتکی مصنوعات جیسے سینیٹری پیڈ پر عائد ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خواتین کی صحت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعدادماہواری کے دوران بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ عالمی اداروں اور مقامی تنظیموں کے مطابق ملک میں کروڑوں خواتین ایسی ہیں جو فیکٹری میں تیار کردہ محفوظ سینیٹری پیڈ استعمال نہیں کر سکتیں، جس کی ایک بڑی وجہ ان مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکس ہے۔

پاکستان میں سینیٹری پیڈز پر مقامی سطح پر 18 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ درآمد شدہ پیڈز اور خام مال پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے۔ یونیسیف اور دیگر اداروں کے مطابق مختلف مقامی لیویز شامل ہونے کے بعد مجموعی ٹیکس تقریباً 40 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کا اثر براہ راست ان خواتین پر پڑتا ہے جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

بجٹ تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے  اعلان کیا کہ سینیٹری پیڈز اور دیگر نسوانی حفظانِ صحت کی مصنوعات پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی ایکٹوسٹس کے مطابق اس اقدام سے ان مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے، جس سے لاکھوں خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔

حکومت نے آبادی میں اضافے پر قابو پانے کے لیے مانع حمل مصنوعات کنڈومز اور دیگر اشیا پر بھی ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کو فروغ دینا اور عوام کو ضروری طبی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔

جنوبی ایشیا کے کئی ممالک ان اشیا پر ٹیکس یا تو ختم یا کم کر چکے ہیں۔ انڈیا نے 2018 میں سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس ختم کیا، جبکہ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھوٹان میں بھی اس حوالے سے ریلیف دیا جا چکا ہے۔ برطانیہ، کینیا اور جنوبی افریقہ بھی پیریڈ ٹیکس ختم کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

پاکستان میں اس معاملے پر قانونی اور سماجی سطح پر آواز بھی اٹھائی جا رہی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ میں پیریڈ ٹیکس کے خلاف درخواست دائر کی جا چکی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ماہانہ سینیٹری پیڈ خریدنا ایک بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹری پیڈ کو عیش و عشرت کی شے کے بجائے بنیادی ضرورت تسلیم کیا جانا چاہیے تاکہ خواتین کو محفوظ اور سستی سہولت میسر آ سکے۔ ان کے مطابق ماہواری کا مسئلہ صرف صفائی کا معاملہ نہیں بلکہ خواتین کی صحت، تعلیم اور وقار سے جڑا انسانی مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں: