Tag: بجٹ

  • وفاق اور صوبوں میں این ایف سی ایوارڈ اور بجٹ سرپلس پر مذاکرات تیز، بجٹ 12 جون کو متوقع

    وفاق اور صوبوں میں این ایف سی ایوارڈ اور بجٹ سرپلس پر مذاکرات تیز، بجٹ 12 جون کو متوقع

    وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس آج (بدھ) طلب کر لیا ہے، جبکہ امکان ہے کہ وفاقی بجٹ جمع 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل این ای سی کا اجلاس تین مرتبہ اور بجٹ پیش کرنے کی تاریخ دو مرتبہ ملتوی کی جا چکی ہے۔ بجٹ سے ایک دن پہلے اقتصادی سروے رپورٹ بھی جاری کی جاتی ہے، جس میں رواں مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کے اعداد وشمار پیش کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کے باعث اقتصادی سروے رپورٹ جاری کرنے کی حتمی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

    پہلے 5 جون اور پھر 10 جون کو بجٹ پیش کرنے کے اعلانات کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں دونوں تاریخیں تبدیل کر دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں کو آگاہ کیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت موجودہ مالی سال میں ملنے والے ان کے مالی حصے میں آئندہ سال کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اگر صوبوں کو موجودہ سال کے مقررہ حصے سے زیادہ رقم موصول ہوتی ہے تو اضافی رقم وفاق کو واپس کرنا ہوگی۔

    وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ، مالی وسائل کی تقسیم اور صوبائی بجٹ سرپلس کے معاملات پر مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے۔ ایک جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کو بڑھتے ہوئے مالی خسارے، قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ مالیاتی اہداف بھی پورے کرنا ہیں۔ اسی تناظر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعاون کے ایک نئے طریقہ کار پر غور جاری ہے۔

    این ایف سی ایوارڈ سے متعلق آئینی ضمانت

    اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا بنیادی نظام این ایف سی ایوارڈ کے تحت چلتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 160 کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جمع کیے جانے والے قابلِ تقسیم ٹیکسوں کو وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک طے شدہ فارمولے کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے۔

    آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3A) اس امر کی ضمانت دیتی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبوں کو ملنے والا حصہ، پچھلے این ایف سی ایوارڈ میں ملنے والے حصے سے کم نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کو اپنے مالی حصے میں کمی پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔

    سادہ الفاظ میں کہا جائے تو وفاق صوبوں کے حصے میں کمی نہیں کر سکتا، کیونکہ آئین کے تحت ہر نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو کم از کم اتنا ہی حصہ ملنا ضروری ہے جتنا انہیں گزشتہ ایوارڈ میں ملا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 2009 میں پیش کیے گئے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد اب تک کوئی نیا ایوارڈ سامنے نہیں آ سکا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت 28 ویں آئینی ترمیم کرنا چاہتی ہے، مگر اس کے لیے کوئی بھی سیاسی جماعت آمادہ نہیں ہے۔

    موجودہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابلِ تقسیم محاصل کا 57.5 فیصد حصہ صوبوں کو جبکہ 42.5 فیصد وفاقی حکومت کو ملتا ہے۔ صوبوں کے درمیان بھی یہ رقم ایک مخصوص فارمولے کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے، جس میں آبادی، غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی اور آبادی کی کثافت جیسے عوامل شامل ہیں۔

    اس فارمولے کے تحت پنجاب کو صوبائی حصے کا تقریباً 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد جبکہ بلوچستان کو 9.09 فیصد حصہ ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے حصے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کے لیے مختص ایک فیصد اضافی حصہ بھی شامل ہے۔

    صوبائی بجٹ سرپلس کیا ہے؟

    گزشتہ چند برسوں سے وفاقی حکومت مسلسل مالی وسائل کی کمی کی شکایت کرتی آرہی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومتیں اپنے بجٹ میں نمایاں سرپلس یا بچت ظاہر کرتی ہیں تاکہ وفاقی مالیاتی خسارہ کم دکھایا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق کی جانب سے متعدد مواقع پر صوبوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ مجموعی مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے زیادہ بجٹ سرپلس پیدا کریں۔

    آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بھی پاکستان کو مجموعی مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور مالی خسارہ محدود رکھنے کی شرائط کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ برس صوبوں سے تقریباً ایک ہزار ارب، یعنی ایک ٹریلین روپے یا اس سے زائد سرپلس پیدا کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ ملکی مالیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اس سال سرپلس کا یہ ہدف 1700 ارب روپے کرنے پر زور دیا جارہے۔

    تاہم اس مطالبے پر صوبوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ صوبائی حکام کا مؤقف تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والا حصہ ان کا آئینی حق ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کٹوتی نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور مقامی حکومتوں کے امور بھی متاثر ہوں گے۔

    اسی تناظر میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے یہ تجویز بھی زیرِ گردش رہی کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دی گئی خودمختاری میں کمی کرتے ہوئے تعلیم اور صحت کے محکمے دوبارہ وفاق کے سپرد کر دیے جائیں۔

    ان اختلافات کے باعث بعض اہم مالیاتی اور اقتصادی فورمز کے اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف پورے کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے مالیاتی انتظامات پر باضابطہ بات چیت شروع ہوئی۔

    بعد ازاں دونوں فریقوں نے ایک درمیانی راستہ اختیار کیا ہے، جسے ’’نیشنل فسکل پیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت صوبوں کے بنیادی این ایف سی حصے میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی، تاہم صوبائی حکومتیں اپنے موجودہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے مزید سرپلس پیدا کریں گی تاکہ مجموعی قومی مالیاتی خسارہ کم کیا جا سکے۔

    مالی سال 2024-25 کے دوران چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار اٹھائیس ارب روپے کا نقد سرپلس پیدا کیا، جو ملکی مالیاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سرپلس رقم براہِ راست وفاقی حکومت کے خزانے میں منتقل نہیں کی جاتی بلکہ اسٹیٹ بینک میں صوبوں کے اپنے نقد کھاتوں میں موجود رہتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ وفاق اس رقم کو براہِ راست استعمال نہیں کر سکتا، تاہم جب ملک کے مجموعی مالیاتی خسارے کا حساب لگایا جاتا ہے تو صوبوں کی یہ بچت مجموعی خسارہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں صوبائی سرپلس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

    حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال میں صوبائی سرپلس کا سب سے بڑا حصہ پنجاب نے فراہم کیا۔ مختلف سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب نے تقریباً 630 سے 800 ارب روپے تک بچت ظاہر کی، جبکہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے بھی اپنے حصے کا سرپلس فراہم کر کے مجموعی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔

    سندھ کی شکایت

    سندھ حکومت طویل عرصے سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی محاصل میں اپنے حصے کو ناکافی قرار دیتی رہی ہے۔

    صوبے کا مؤقف ہے کہ ملک کی معیشت اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود اسے قابلِ تقسیم محاصل میں مناسب حصہ نہیں ملتا۔ سندھ کو یہ خدشہ بھی ہے کہ وفاق قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات پورے کرنے کے لیے صوبوں کے مالی وسائل محدود کرنا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سکھر۔حیدرآباد موٹروے اور کے فور واٹر سپلائی منصوبے جیسے اہم منصوبوں کے لیے ناکافی فنڈز پر بھی سندھ نے بارہا اعتراض کیا ہے۔

    پچھلے سال بجٹ کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر صوبے سے کیے گئے مالی وعدے پورے نہ کرنے پر تنقید کی۔ مراد علی شاہ نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت صوبے کو واجب الادا مالی وسائل منتقل کرنے میں ناکام رہی تو صوبائی بجٹ کے اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا حکومت کا سخت مؤقف

    اس تمام عمل کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف سب سے زیادہ سخت رہا۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ابتدا میں وفاقی مطالبات پر شدید اعتراض کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے مالی حقوق ادا نہ کیے گئے تو وہ مطلوبہ بجٹ سرپلس فراہم نہیں کرے گی۔

    یاد رہے کہ اگست 2022 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی وزیرِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایک متنازع خط لکھا تھا، جس میں صوبے کی جانب سے بجٹ سرپلس (بچت) دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ صوبائی حکومت کا مؤقف تھا کہ وفاق نے صوبے کے 100 ارب روپے واجبات ادا نہیں کیے، جبکہ تباہ کن سیلاب نے بھی صوبے کی مالی صورتحال کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    بعد ازاں فروری 2023 میں سابق صوبائی وزیرِ خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا تھا کہ وہ اپنے اس خط کے مؤقف پر قائم ہیں۔ اس خط میں انہوں نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجٹ سرپلس دینے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

    سابق وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ صوبہ ایسے حالات میں نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کی خواہش کے مطابق اپنے بجٹ میں بچت یا سرپلس پیدا کر سکے۔

    بعد ازاں خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم اور دیگر حکام کا مؤقف تھا کہ وفاق نے نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور سابق فاٹا کے انضمام کے بعد واجب الادا فنڈز کی مد میں صوبے کے اربوں روپے ادا نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے جائز مالی حقوق روکے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اس پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    صوبائی قیادت نے واضح کیا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے حصے میں ایک روپے کی بھی کٹوتی قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ وفاق اپنے مالیاتی خسارے کا بوجھ صوبوں پر منتقل کرنا چاہتا ہے۔

    تاہم بعد ازاں آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کو برقرار رکھنے اور ملک میں مالیاتی استحکام یقینی بنانے کے لیے وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی۔ نتیجتاً صوبے نے نیشنل فسکل پیکٹ پر دستخط کرنے اور مشروط طور پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

    معاہدے کے تحت وفاق نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے کے بنیادی این ایف سی حصے میں کوئی کٹوتی نہیں ہوگی، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے بجٹ کے اندر سے 150 ارب روپے سے زائد سرپلس پیدا کرنے کا ہدف قبول کر لیا۔

    اگرچہ یہ معاملہ وقتی طور پر حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم خیبر پختونخوا حکومت اب بھی بعض خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آر محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا یا این ایف سی کے تحت صوبوں کو اس کا مکمل حصہ بروقت نہ ملا تو مقررہ سرپلس ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    بجٹ کی تاریخوں میں ردوبدل اس لیے بھی ہورہی ہے کیوں کہ وفاقی حکومت قانون سازی کے ذریعے فنانس بل 2026-27  میں من پسند تبدیلیوں کی خواہش مند ہے۔ قومی اسمبلی بجٹ تجاویز کے ساتھ ہی فنانس بل بھی منظور کرتی ہے۔

  • پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور خصوصی طیارے کے لیے سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص

    پنجاب کے سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکریٹریٹ اور ان کا خصوصی طیارہ چلانے پر روزانہ 46 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ ماہانہ یہ خرچ 14 کروڑ 17 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب کی فنانس ڈپارٹمنٹ کی بجٹ دستاویز سے لیے گئے ہیں جنہیں ساگا ڈیجیٹل نے اپنی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ میں شائع کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے دفتر کا سالانہ بجٹ ایک ارب 46 کروڑ 73 لاکھ 85 ہزار روپے ہے۔ اس دفتر میں کل 728 ملازمین کام کرتے ہیں جن پر سالانہ ایک ارب 11 کروڑ 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ملازمین کی بنیادی تنخواہیں صرف 30 کروڑ 27 لاکھ 56 ہزار روپے ہیں جبکہ الاؤنسز کی مد میں 81 کروڑ 70 لاکھ 79 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ یعنی الاؤنسز، بنیادی تنخواہوں سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔

    صرف مہمان نوازی اور تحائف پر سالانہ سات کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم سرکاری مہمانوں کی دعوتوں اور تحفوں پر خرچ ہوتی ہے۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن (پی او ایل) پر 11 کروڑ روپے جبکہ مجموعی سفری اخراجات 11 کروڑ 72 لاکھ 51 ہزار روپے ہیں۔ اسٹیشنری یعنی کاغذ، فائل اور پرنٹنگ پر 75 لاکھ روپے سالانہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ الاؤنسز کے اندر ’دیگر‘ کے کالم پر 40 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں جس کی کوئی وضاحت موجود نہیں۔

    وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں کل ملازمین کی تعداد 728 ہے جس میں سے 212 افسر ہیں اور 514 دیگر عملہ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے علیحدہ یونٹ ’وی آئی پی فلائٹ مینٹیننس اینڈ آپریشن‘ کی طرف۔ اس یونٹ کا سالانہ بجٹ 23 کروڑ 50 لاکھ 51 ہزار روپے ہے۔ اس یونٹ میں کل 51 ملازمین ہیں جن میں پائلٹ، کو پائلٹ، ایئر کرافٹ انجینئر، مکینک، کلینر، ڈرائیور اور دیگر عملہ شامل ہے۔ صرف اس یونٹ کے ایندھن پر تین کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر اور اس کے طیارے پر خرچ کیوں ہو رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟ جب پنجاب کے دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور صاف پانی تک رسائی ایک مسئلہ ہے تو کیا سات کروڑ روپے تحائف پر خرچ کرنا مناسب ہے؟ ساگا ڈیجیٹل کی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ ایسی ہی کہانیاں لاتی ہے۔

  • سندھ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے والا اسکول اسپیسفک بجٹ جاری

    سندھ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے والا اسکول اسپیسفک بجٹ جاری

    سندھ حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے کا اقدام کرتے ہوئے اسکول اسپیسفک بجٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق مجموعی طور پر 18 ارب 63 کروڑ روپے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے گئے ہیں، تاکہ اسکول انتظامیہ روزمرہ اور بنیادی امور خود انجام دے سکے۔

    یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس کا مقصد اسکولوں کو انتظامی طور پر بااختیار بنانا اور مرکزی نظام پر انحصار کم کرنا ہے۔ اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت سندھ بھر میں تقریباً 34 ہزار اسکول عمارتوں کو الگ الگ کاسٹ سینٹرز دیے گئے ہیں، تاکہ ہر اسکول کا بجٹ اس کی ضرورت، سطح، کمروں کی تعداد اور طلبہ کے اندراج کے مطابق طے ہو۔

    اعداد و شمار کے مطابق ایک چھوٹے، ایک کمرے پر مشتمل پرائمری اسکول کو کم از کم دو لاکھ 16 ہزار روپے دیے گئے ہیں، جبکہ بڑے اسکولوں کے لیے یہ رقم تین کروڑ 38 لاکھ روپے تک جا سکتی ہے۔ یہ بجٹ اسکول سربراہان کو مکمل انتظامی اختیار کے ساتھ دیا گیا ہے، جس کے تحت ہیڈماسٹر، ہیڈ مسٹریس اور پرنسپل مرمت، دیکھ بھال، فرنیچر کی خریداری، واش روم کی سہولیات، اسٹیشنری، شجرکاری اور ہم نصابی سرگرمیوں سے متعلق فیصلے خود کر سکیں گے۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق بجٹ کی مدات بھی واضح طور پر طے کی گئی ہیں۔ کل بجٹ کا 30 فیصد حصہ مرمت اور دیکھ بھال کے لیے، 21 فیصد اسٹیشنری اور تعلیمی مواد کے لیے، 20 فیصد فرنیچر اور فکسچر کے لیے، جبکہ 10 فیصد دیگر ضروری اشیا بشمول شجرکاری، سولر پلیٹس، عمارت کو رنگ کرانے، پینے کے پانی اور واش روم سے متعلق سامان کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 9 فیصد اضافی فرنیچر اور ساز و سامان، جبکہ 2 فیصد فوری اور ہنگامی ضروریات کے لیے رکھا گیا ہے۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق یہ تمام بجٹ مالی سال کے اختتام تک خرچ کرنا لازمی ہوگا۔ اس پورے نظام کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرائی گئی ہے۔ ایک موبائل ایپ اور ویب ڈیش بورڈ کے ذریعے اسکول سربراہان کو ہر خرچ کی تفصیل فراہم کرنا ہوگی، جس میں خرچ سے پہلے اور بعد کی تصاویر، رسیدیں اور کام کی مکمل تفصیل شامل ہوگی۔ یہ تصاویر براہ راست لی جائیں گی اور جیو ٹیگ ہوں گی، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ سامان کی فزیکل ویری فکیشن کا عمل بھی کیا جائے گا۔

    سندھ حکومت کے اس اقدام کو تعلیمی حلقوں میں ایک اہم اصلاح قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اسکول سطح پر فوری فیصلوں اور بہتری کی راہ ہموار ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آپ اس اقدام کو کس طرح دیکھتے ہیں، اپنی رائے ساگا کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

  • سندھ حکومت کا سال 2025–26 کے مجموعی بجٹ تین ہزار 450 ارب روپے۔ سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی اخراجات سمیت کس شعبے میں کتنی رقم مختص؟

    سندھ حکومت کا سال 2025–26 کے مجموعی بجٹ تین ہزار 450 ارب روپے۔ سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی اخراجات سمیت کس شعبے میں کتنی رقم مختص؟

    سندھ حکومت نے مالی سال 2025–26 کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 3450 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ یہ بجٹ سندھ اسمبلی سے منظور شدہ ہے اور اس میں پورے مالی سال کے سرکاری اخراجات کا تخمینہ شامل ہے۔

    یہ بجٹ بنیادی طور پر دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک سروس ڈیلیوری یعنی روزمرہ اخراجات، اور دوسرا ترقیاتی اخراجات۔

    سروس ڈیلیوری کے لیے مختص رقم تقریباً 2100 ارب روپے ہے۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو حکومت کو روزمرہ نظام چلانے کے لیے کرنا ہوتے ہیں۔ ان میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، دفاتر کے انتظامی اخراجات، تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر عوامی خدمات سے متعلق اخراجات شامل ہیں۔ اس حصے کا مقصد موجودہ نظام کو فعال رکھنا ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کے لیے تقریباً 1350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان منصوبوں میں اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر، سڑکوں اور پلوں کا انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور جاری و نئے ترقیاتی پروگرام شامل ہوتے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق سندھ حکومت کا بجٹ 2025–26 روزمرہ انتظامی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایک طرف موجودہ نظام کو برقرار رکھنا اور دوسری طرف ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

    مختصراً، سندھ کا کل بجٹ 3450 ارب روپے ہے، جس میں سے 2100 ارب روپے سروس ڈیلیوری اور 1350 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔