[rank_math_breadcrumb]

سندھ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے والا اسکول اسپیسفک بجٹ جاری

سندھ حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے کا اقدام کرتے ہوئے اسکول اسپیسفک بجٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق مجموعی طور پر 18 ارب 63 کروڑ روپے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے گئے ہیں، تاکہ اسکول انتظامیہ روزمرہ اور بنیادی امور خود انجام دے سکے۔

یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس کا مقصد اسکولوں کو انتظامی طور پر بااختیار بنانا اور مرکزی نظام پر انحصار کم کرنا ہے۔ اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت سندھ بھر میں تقریباً 34 ہزار اسکول عمارتوں کو الگ الگ کاسٹ سینٹرز دیے گئے ہیں، تاکہ ہر اسکول کا بجٹ اس کی ضرورت، سطح، کمروں کی تعداد اور طلبہ کے اندراج کے مطابق طے ہو۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک چھوٹے، ایک کمرے پر مشتمل پرائمری اسکول کو کم از کم دو لاکھ 16 ہزار روپے دیے گئے ہیں، جبکہ بڑے اسکولوں کے لیے یہ رقم تین کروڑ 38 لاکھ روپے تک جا سکتی ہے۔ یہ بجٹ اسکول سربراہان کو مکمل انتظامی اختیار کے ساتھ دیا گیا ہے، جس کے تحت ہیڈماسٹر، ہیڈ مسٹریس اور پرنسپل مرمت، دیکھ بھال، فرنیچر کی خریداری، واش روم کی سہولیات، اسٹیشنری، شجرکاری اور ہم نصابی سرگرمیوں سے متعلق فیصلے خود کر سکیں گے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق بجٹ کی مدات بھی واضح طور پر طے کی گئی ہیں۔ کل بجٹ کا 30 فیصد حصہ مرمت اور دیکھ بھال کے لیے، 21 فیصد اسٹیشنری اور تعلیمی مواد کے لیے، 20 فیصد فرنیچر اور فکسچر کے لیے، جبکہ 10 فیصد دیگر ضروری اشیا بشمول شجرکاری، سولر پلیٹس، عمارت کو رنگ کرانے، پینے کے پانی اور واش روم سے متعلق سامان کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 9 فیصد اضافی فرنیچر اور ساز و سامان، جبکہ 2 فیصد فوری اور ہنگامی ضروریات کے لیے رکھا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق یہ تمام بجٹ مالی سال کے اختتام تک خرچ کرنا لازمی ہوگا۔ اس پورے نظام کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرائی گئی ہے۔ ایک موبائل ایپ اور ویب ڈیش بورڈ کے ذریعے اسکول سربراہان کو ہر خرچ کی تفصیل فراہم کرنا ہوگی، جس میں خرچ سے پہلے اور بعد کی تصاویر، رسیدیں اور کام کی مکمل تفصیل شامل ہوگی۔ یہ تصاویر براہ راست لی جائیں گی اور جیو ٹیگ ہوں گی، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ سامان کی فزیکل ویری فکیشن کا عمل بھی کیا جائے گا۔

سندھ حکومت کے اس اقدام کو تعلیمی حلقوں میں ایک اہم اصلاح قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اسکول سطح پر فوری فیصلوں اور بہتری کی راہ ہموار ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آپ اس اقدام کو کس طرح دیکھتے ہیں، اپنی رائے ساگا کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

اسی بارے میں: