Tag: سرکاری اسکول

  • سرکاری اسکولوں کو براہ راست اختیار، سندھ میں اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ کیسے کام کرتی ہے؟

    سرکاری اسکولوں کو براہ راست اختیار، سندھ میں اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ کیسے کام کرتی ہے؟

    سندھ میں سرکاری اسکولوں کے نظام میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرائی گئی ہے۔ اب صوبے کے سرکاری اسکولوں کو روزمرہ کے اخراجات کے لیے براہ راست مالی اختیار دیا جا رہا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ نے اس مقصد کے لیے اسکول اسپیسفک بجٹ جاری کیا ہے، جس کے تحت ہر اسکول کے لیے مختص رقم براہ راست اسی اسکول کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جا رہی ہے۔

    اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اسکول انتظامیہ چھوٹے مگر ضروری کاموں کے لیے بار بار دفاتر کے چکر نہ لگائے۔ اب اسٹیشنری کی خریداری، عمارت کی مرمت، کھیلوں کے سامان یا رنگ و روغن جیسے بنیادی کام اسکول خود انجام دے سکتے ہیں۔

    اس پورے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے محکمہ تعلیم سندھ نے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور موبائل ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جسے اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ کہا جاتا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے اسکول انتظامیہ نہ صرف اپنا مختص بجٹ دیکھ سکتی ہے بلکہ اس کے استعمال کی مکمل تفصیل بھی جمع کروا سکتی ہے۔

    اس پلیٹ فارم کا آغاز ویب سائٹ سے ہوتا ہے۔ صارفین سب سے پہلے سرکاری ویب سائٹ

    [https://pdf.seld.gos.pk](https://pdf.seld.gos.pk)

    پر جاتے ہیں جہاں سے موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ یہ ایپ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں فونز کے لیے دستیاب ہے۔ تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ صرف موبائل فون پر استعمال کی جا سکتی ہے۔

    رجسٹریشن کے لیے اسکول انتظامیہ کو سب سے پہلے اپنا Semis Code درج کرنا ہوتا ہے۔ یہ کوڈ ہر اسکول کے لیے منفرد ہوتا ہے اور ضلعی دفتر کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ Semis Code کی تصدیق کے بعد صارف کو اپنی بنیادی معلومات درج کرنی ہوتی ہیں جن میں مکمل نام، موبائل نمبر، قومی شناختی کارڈ نمبر اور جنس شامل ہیں۔

    رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد صارف کے موبائل نمبر پر OTP یعنی ون ٹائم پاس ورڈ بھیجا جاتا ہے۔ اس کوڈ کو درج کرنے کے بعد اکاؤنٹ کامیابی سے فعال ہو جاتا ہے اور صارف موبائل ایپ میں لاگ اِن کر سکتا ہے۔

    ایپ میں لاگ اِن ہونے کے بعد اسکول کا ڈیش بورڈ سامنے آتا ہے جہاں اسکول کے لیے مختص کل بجٹ دکھایا جاتا ہے۔ یہ بجٹ مختلف کیٹیگریز میں تقسیم ہوتا ہے، جیسے Stationery، Repair & Maintenance، Sports اور دیگر ضروری اخراجات۔

    ہر کیٹیگری کے ساتھ اس کی مختص رقم اور باقی بچنے والا بجٹ بھی نظر آتا ہے، جس سے اسکول انتظامیہ بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔

    جب اسکول کسی کیٹیگری کے تحت کوئی خریداری کرتا ہے، مثلاً اسٹیشنری خریدی جاتی ہے، تو اس کی تفصیل ایپ میں جمع کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ کیٹیگری منتخب کر کے Submit Utilization کا آپشن استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس مرحلے میں خریدی گئی اشیاء کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں، جیسے کاپیاں، قلم یا دیگر اسٹیشنری۔ اس کے ساتھ خریداری کی انوائس یا رسید کی تصویر اور خریدی گئی اشیاء کی واضح تصاویر بھی اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

    اس نظام میں ایک اور اہم عنصر مصنوعی ذہانت یعنی AI کا استعمال ہے۔ جب اسکول اپنی تفصیل جمع کرواتا ہے تو AI سسٹم خودکار طور پر فارم میں درج معلومات، انوائس اور تصاویر کا موازنہ کرتا ہے۔ اس تجزیے کے بعد درخواست کو Verified، Pending Review  یا مزید جانچ کے لیے نشان زد کیا جا سکتا ہے۔

    یہی طریقہ دیگر کیٹیگریز، جیسے Repair & Maintenance میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر اسکول کی عمارت میں مرمت یا دیکھ بھال کا کام کیا جائے تو اس کی تفصیلات، انوائس اور کام کی تصاویر بھی اسی ایپ کے ذریعے جمع کروائی جاتی ہیں۔

    اس طرح یہ ڈیجیٹل نظام نہ صرف اسکولوں کو فوری مالی اختیار فراہم کرتا ہے بلکہ شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بناتا ہے۔ اب ہر خرچ کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ رہتا ہے اور اس کی جانچ بھی آسان ہو جاتی ہے۔

    یوں سندھ کے سرکاری اسکولوں میں متعارف ہونے والا اسکول اسپیسفک بجٹ سسٹم ایک ایسا قدم ہے جو انتظامی آسانی، شفافیت اور بہتر تعلیمی سہولیات کی طرف پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • سندھ حکومت کا سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے پاکستان کے پہلے انٹرایکٹو سائنس مرکز، میگنیفائے سینٹر کا دورہ

    سندھ حکومت کا سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے پاکستان کے پہلے انٹرایکٹو سائنس مرکز، میگنیفائے سینٹر کا دورہ

    کراچی کی ایک روشن صبح میں جب سرکاری اسکولوں کے بچے اپنی کتابیں سنبھالے کلاس رومز میں بیٹھے ہوتے ہیں، تو اکثر ان کے لیے سائنس محض چند ابواب، چند تعریفیں اور چند سوالات تک محدود رہ جاتی ہے۔ مگر اب سندھ میں اس تصور کو بدلنے کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔

    سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو پاکستان کے پہلے انٹرایکٹو سائنس مرکز، میگنفی سائنس سینٹر، کے مطالعاتی دورے کروائے جائیں گے۔ یہ فیصلہ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سوچ کا اظہار ہے کہ سائنس کو کتابوں سے نکال کر تجربے اور مشاہدے کی دنیا میں لے جایا جائے۔

    صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ ڈویژنل سطح پر چھ جدید سائنس ایجوکیشن مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز کا مقصد یہ ہوگا کہ بچے سائنس کو صرف پڑھیں نہیں، اسے دیکھیں، چھوئیں، سمجھیں اور محسوس کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت سائنسی تعلیم کے فروغ کا عملی آغاز کر چکی ہے۔ STEAM مقابلوں کا انعقاد اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھا اور اب سائنس مراکز کے قیام کا فیصلہ اس سفر کا اگلا مرحلہ ہے۔

    اسی تناظر میں وزیر تعلیم نے کراچی میں دی داؤد فاؤنڈیشن کے قائم کردہ میگنفی سائنس سینٹر کا دورہ کیا، جہاں چیف ایگزیکٹو آفیسر فواد سومرو نے ان کا استقبال کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا جدید اور انٹرایکٹو سائنس سینٹر ہے، جہاں سائنس کو تفریحی اور عملی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ وزیر تعلیم نے مختلف گیلریز کا معائنہ کیا اور خاص طور پر مینگرووز ایکو سسٹم گیلری کو سراہا۔

    سید سردار علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں صرف نصابی تعلیم کافی نہیں۔ بچوں کو عملی تجربات اور مشاہداتی انداز میں سیکھنے کے مواقع دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے الفاظ میں، ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم اپنے بچوں کو کسی صورت پیچھے نہیں چھوڑ سکتے۔

    اس سلسلے میں سندھ حکومت اور دی داؤد فاؤنڈیشن کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ فروری کے اختتام تک مفاہمتی یادداشت طے کی جائے گی، جس کے تحت سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے مطالعاتی دوروں کا باقاعدہ نظام اور سالانہ کیلنڈر جاری کیا جائے گا۔ اس کیلنڈر میں ہیریٹیج سائٹس، ثقافتی مراکز اور قومی ورثے کے دیگر مقامات کے دورے بھی شامل ہوں گے تاکہ تعلیم کو ہمہ جہت بنایا جا سکے۔

    سندھ کابینہ اس منصوبے کے لیے گرانٹ کی منظوری دے چکی ہے۔ رواں مالی سال میں تیس ملین روپے اور آئندہ مالی سال میں ساٹھ ملین روپے تک گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ حکومت سالانہ بنیادوں پر ادائیگی کا باقاعدہ طریقہ کار بھی تشکیل دے گی تاکہ طلبہ بغیر کسی چارجز کے ان دوروں سے مستفید ہو سکیں۔

    یہ اقدام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک تعلیمی وژن ہے۔ ایک ایسا وژن جس میں سندھ کے بچے سائنس کو رٹنے کے بجائے سمجھنے لگیں، سوال کرنے لگیں، تجسس پیدا کریں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ اگر یہ سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری رہا تو شاید آنے والے برسوں میں انہی سرکاری اسکولوں سے ایسے ذہن ابھریں جو سائنس، ٹیکنالوجی اور ماحولیات کے میدان میں نئی راہیں متعین کریں۔

  • سندھ کے سرکاری اسکولوں کی نئی شناخت، رنگوں کے ذریعے ایک منظم تعلیمی برانڈنگ

    سندھ کے سرکاری اسکولوں کی نئی شناخت، رنگوں کے ذریعے ایک منظم تعلیمی برانڈنگ

    سندھ کے تمام سرکاری اسکولوں کے بیرونی اور اندورنی منظر بدلنے جا رہا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے لیے ایک باقاعدہ اور منظور شدہ رنگ اسکیم جاری کر دی ہے۔ یہ محض رنگ و روغن کا منصوبہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہے جس کا مقصد پورے صوبے میں سرکاری تعلیمی اداروں کو ایک منظم، مربوط اور واضح شناخت دینا ہے۔

    اس نئی اسکیم کے تحت ہر کیٹیگری کے اسکول کے لیے مخصوص رنگ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ دیکھتے ہی اندازہ ہو جائے کہ یہ کون سا ادارہ ہے اور کس سطح کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔

    پرائمری سطح پر گرلز اسکولوں کے لیے سفید بنیاد کے ساتھ نمایاں گلابی شیڈ رکھا گیا ہے۔ نچلے حصے میں پنک ٹون اور ستونوں پر ہلکی رنگین پٹیاں ایک نرم مگر واضح شناخت پیدا کرتی ہیں۔ بوائز پرائمری اسکولوں میں سفید بیس کے ساتھ نیلا اور ہلکا نیلا امتزاج رکھا گیا ہے، جو سادگی اور استحکام کی علامت ہے۔ جبکہ کو ایجوکیشن پرائمری اسکولوں میں سبز رنگ کو بنیادی شناخت بنایا گیا ہے، جو توازن اور شمولیت کی نمائندگی کرتا ہے۔

    ہائی اسکول سطح پر رنگوں کی شدت اور نمایاں پن مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ گرلز ہائی اسکولوں میں شوخ پنک اوپری حصہ اور ستونوں پر کثیر رنگی افقی پٹیاں ایک مضبوط اور پراعتماد تاثر دیتی ہیں۔ بوائز ہائی اسکولوں میں گہرا نیلا بالائی حصہ، سبز اور نیلے شیڈز کے امتزاج کے ساتھ، سنجیدگی اور ادارہ جاتی وقار کو ظاہر کرتا ہے۔ کو ایجوکیشن ہائی اسکولوں میں گہرا سبز اوپری حصہ اور اندرونی دیواروں میں سبز اور نیلے رنگ کا متوازن استعمال ایک ہم آہنگ تعلیمی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ اقدام صرف خوبصورتی کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ یہ برانڈنگ ہے۔ یہ ادارہ جاتی شناخت ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کے ذریعے سندھ کے ہر سرکاری اسکول کو ایک واضح اور سرکاری پہچان دی جا رہی ہے، تاکہ وہ صرف ایک عمارت نہ رہے بلکہ ایک منظم تعلیمی نظام کا نمایاں حصہ بنے۔

    اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی جاری کیا گیا ہے، جہاں ہر اسکول اپنی کیٹیگری کے مطابق منظور شدہ ڈیزائن دیکھ سکتا ہے۔ ویب سائٹ https://school-color.vercel.app/

     پر جا کر انتظامیہ رنگوں کی تفصیل، بیرونی اور اندرونی ڈیزائن کی رہنمائی اور منظور شدہ اسکیم تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورے صوبے میں یکسانیت بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔

    اسکول اسپیسیفک بجٹ بھی جاری کیا جا چکا ہے اور رنگ کاری انہی منظور شدہ ڈیزائنز کے مطابق کی جائے گی۔ یعنی ہر اسکول اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ایک طے شدہ اور منظور شدہ معیار کے تحت رنگ کیا جائے گا۔

    یوں سندھ کے سرکاری اسکول صرف تعلیم کے مراکز نہیں رہیں گے، بلکہ ایک مربوط، منظم اور واضح شناخت کے حامل تعلیمی ادارے بن کر ابھریں گے۔ رنگوں کے ذریعے ایک نئی پہچان، ایک نئی سمت، اور ایک نئی تعلیمی صبح۔

  • سندھ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے والا اسکول اسپیسفک بجٹ جاری

    سندھ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے والا اسکول اسپیسفک بجٹ جاری

    سندھ حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں کو براہ راست مالی اختیار دینے کا اقدام کرتے ہوئے اسکول اسپیسفک بجٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق مجموعی طور پر 18 ارب 63 کروڑ روپے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے گئے ہیں، تاکہ اسکول انتظامیہ روزمرہ اور بنیادی امور خود انجام دے سکے۔

    یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس کا مقصد اسکولوں کو انتظامی طور پر بااختیار بنانا اور مرکزی نظام پر انحصار کم کرنا ہے۔ اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت سندھ بھر میں تقریباً 34 ہزار اسکول عمارتوں کو الگ الگ کاسٹ سینٹرز دیے گئے ہیں، تاکہ ہر اسکول کا بجٹ اس کی ضرورت، سطح، کمروں کی تعداد اور طلبہ کے اندراج کے مطابق طے ہو۔

    اعداد و شمار کے مطابق ایک چھوٹے، ایک کمرے پر مشتمل پرائمری اسکول کو کم از کم دو لاکھ 16 ہزار روپے دیے گئے ہیں، جبکہ بڑے اسکولوں کے لیے یہ رقم تین کروڑ 38 لاکھ روپے تک جا سکتی ہے۔ یہ بجٹ اسکول سربراہان کو مکمل انتظامی اختیار کے ساتھ دیا گیا ہے، جس کے تحت ہیڈماسٹر، ہیڈ مسٹریس اور پرنسپل مرمت، دیکھ بھال، فرنیچر کی خریداری، واش روم کی سہولیات، اسٹیشنری، شجرکاری اور ہم نصابی سرگرمیوں سے متعلق فیصلے خود کر سکیں گے۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق بجٹ کی مدات بھی واضح طور پر طے کی گئی ہیں۔ کل بجٹ کا 30 فیصد حصہ مرمت اور دیکھ بھال کے لیے، 21 فیصد اسٹیشنری اور تعلیمی مواد کے لیے، 20 فیصد فرنیچر اور فکسچر کے لیے، جبکہ 10 فیصد دیگر ضروری اشیا بشمول شجرکاری، سولر پلیٹس، عمارت کو رنگ کرانے، پینے کے پانی اور واش روم سے متعلق سامان کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 9 فیصد اضافی فرنیچر اور ساز و سامان، جبکہ 2 فیصد فوری اور ہنگامی ضروریات کے لیے رکھا گیا ہے۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق یہ تمام بجٹ مالی سال کے اختتام تک خرچ کرنا لازمی ہوگا۔ اس پورے نظام کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرائی گئی ہے۔ ایک موبائل ایپ اور ویب ڈیش بورڈ کے ذریعے اسکول سربراہان کو ہر خرچ کی تفصیل فراہم کرنا ہوگی، جس میں خرچ سے پہلے اور بعد کی تصاویر، رسیدیں اور کام کی مکمل تفصیل شامل ہوگی۔ یہ تصاویر براہ راست لی جائیں گی اور جیو ٹیگ ہوں گی، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ سامان کی فزیکل ویری فکیشن کا عمل بھی کیا جائے گا۔

    سندھ حکومت کے اس اقدام کو تعلیمی حلقوں میں ایک اہم اصلاح قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اسکول سطح پر فوری فیصلوں اور بہتری کی راہ ہموار ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آپ اس اقدام کو کس طرح دیکھتے ہیں، اپنی رائے ساگا کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔