دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر بیماریوں کی روک تھام، علاج، ویکسینیشن، ماں اور بچے کی صحت، اور ہنگامی طبی حالات میں امداد فراہم کرنے والا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے امریکہ جیسے بڑے اور بااثر ملک کا اس ادارے سے الگ ہونا کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت سے امریکہ علحیدگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا وبائی امراض، غذائی قلت، کمزور صحت کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث نئے امراض سے دوچار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدگی کا اعلان کیا، ایک سال کی قانونی مدت مکمل ہونے کے بعد 22 جنوری2026 کو امریکہ باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کے اس اہم ادارے سے الگ ہو چکا ہے۔
امریکہ کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ عالمی ادارہ صحت عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
امریکہ طویل عرصے تک عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون رہا ہے۔ اس کی فراہم کردہ مالی امداد سے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک میں پولیو، خسرہ، تپِ دق، ایچ آئی وی، ملیریا اور دیگر مہلک بیماریوں کے خلاف پروگرام جاری رہے۔
اگر امریکہ کی جانب سے مالی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے تو ان پروگراموں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان کروڑوں غریب افراد پر پڑنے کا امکان ہے، جو پہلے ہی کمزور اور محدود صحت کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔
غریب ممالک میں صحت کے مسائل محض بیماریوں تک محدود نہیں ہوتے۔ غربت، غذائی قلت، صاف پانی کی عدم دستیابی اور تعلیم کی کمی ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت ایسے ممالک کو صرف مالی امداد ہی نہیں دیتا بلکہ تکنیکی معاونت، تربیت یافتہ طبی عملہ، ادویات کی فراہمی اور تحقیق کے شعبے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کی علیحدگی کے نتیجے میں ادارے کی مجموعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے ہنگامی حالات میں بروقت امداد فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔
کووِڈ-19 کی عالمی وبا نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ بیماریاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ اگر کسی ایک خطے میں بیماری پھیلتی ہے تو وہ جلد یا بدیر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی ادارہ صحت جیسے ادارے کا مضبوط اور مؤثر ہونا تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔
امریکہ کا اس ادارے سے الگ ہونا عالمی تعاون کو کمزور کر سکتا ہے اور ممالک کے درمیان ہم آہنگی میں کمی کا سبب بن سکتا ہے، جس کے منفی اثرات امیر اور غریب دونوں ممالک کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے بھی عالمی ادارہ صحت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پولیو کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت، ویکسینیشن پروگرامز اور قدرتی آفات کے دوران طبی امداد کی فراہمی میں یہ ادارہ برسوں سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔
اگر ادارے کے وسائل میں کمی آتی ہے تو ان پروگراموں کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی صحت اور زندگی پر پڑے گا۔
امریکہ کے اس فیصلے کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو سائنسی اصولوں اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ اگر بڑی طاقتیں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایسے عالمی اداروں سے علیحدگی اختیار کرنے لگیں تو عالمی نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔
اس سے دنیا میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جہاں وسائل سے مالا مال ممالک اپنی صحت کا انتظام خود کر لیں گے جبکہ غریب ممالک مزید مشکلات میں گھِر جائیں گے۔
یہ امکان بھی موجود ہے کہ یورپ، چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اس مالی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جیسے بڑے عطیہ دہندہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس عمل میں وقت لگے گا اور اس دوران غریب ممالک کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی صحت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی ایک ملک کا الگ ہونا وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے منفی اثرات پوری دنیا کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
غریب ممالک کے لیے یہ فیصلہ خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ ان کی صحت کا انحصار عالمی تعاون پر زیادہ ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی صحت اور زندگی کو ترجیح دے، کیونکہ ایک صحت مند دنیا ہی ایک محفوظ دنیا کی ضمانت ہے۔

