Tag: علاج

  • شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی: شدید زخمی مریضوں کے لیے جدید طبی مرکز

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی: شدید زخمی مریضوں کے لیے جدید طبی مرکز

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی میں شدید زخمی اور ہنگامی نوعیت کے مریضوں کے فوری علاج کے لیے ایک اہم طبی مرکز ہے۔ یہ ادارہ سندھ حکومت کے تحت کام کرتا ہے اور چوبیس گھنٹے ٹراما اور ایمرجنسی کیئر کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ کراچی کا یہ مرکز چند بی بی روڈ پر واقع ہے۔

    یہ ادارہ بنیادی طور پر ایسے مریضوں کے لیے قائم کیا گیا ہے جنہیں حادثات، شدید چوٹوں یا دیگر ہنگامی طبی حالات میں فوری اور خصوصی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ایمرجنسی، سرجری، انتہائی نگہداشت، تشخیصی خدمات اور بحالی سمیت مختلف طبی سہولیات ایک ہی نظام کے تحت فراہم کی جاتی ہیں۔

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 116 بستروں کی گنجائش ہے۔ ٹراما مریضوں کے لیے 10 وینٹی لیٹرز مختص ہیں، جبکہ ایمرجنسی میں تین مرکزی ٹراما رومز، 16 بستروں کا کریٹیکل کیئر بے اور 18 بستروں کا اسٹیبل مریض بے موجود ہے۔ اس کے علاوہ سرجیکل اسیسمنٹ یونٹ اور معمولی زخموں کے علاج کے لیے کمرہ بھی موجود ہے۔

    فوری تشخیص کے لیے ایمرجنسی میں الٹراساؤنڈ، ایکو، سی ٹی اسکین اور ایکسرے سمیت مختلف سہولیات موجود ہیں۔ ریڈیالوجی، لیبارٹری اور فارمیسی کی خدمات بھی چوبیس گھنٹے فراہم کی جاتی ہیں۔

    ادارے کا آپریشن تھیٹر کمپلیکس بھی اہم سہولت ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق یہاں 15 فعال آپریشن تھیٹرز، آٹھ بستروں پر مشتمل ہولڈنگ اور ریکوری ایریا اور چار بستروں کا کارڈیک آئی سی یو موجود ہے۔

    یہاں جنرل سرجری کے ساتھ نیورو سرجری، آرتھوپیڈک ٹراما، ویسکیولر سرجری، پلاسٹک سرجری، میکسیلوفیشل سرجری اور کارڈیو تھوریسک سرجری سمیت مختلف خصوصی شعبے کام کر رہے ہیں۔

    ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سی ٹی اسکین، ٹیسلا ایم آر آئی، ڈیجیٹل پورٹیبل ایکسرے، سی آرم اور ڈیجیٹل الٹراساؤنڈ سمیت جدید تشخیصی سہولیات موجود ہیں، جبکہ انٹرونشنل ریڈیالوجی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ ادارے کے مطابق ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سالانہ ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ طبی طریقۂ کار انجام دیے جاتے ہیں۔

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما میں کارڈیک سرجری کی سہولت بھی موجود ہے۔ کارڈیک آپریشن تھیٹر میں کارڈیو پلمونری بائی پاس، ایکمو اور دیگر جدید طبی آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔

    ادارے کے بنیادی مقاصد میں شدید زخمی مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ ٹراما کے مریضوں کے لیے تشخیص، سرجری اور دیگر ضروری طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

    یہ مرکز صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ طبی تعلیم اور تربیت بھی اس کے کام کا حصہ ہے۔ ڈاکٹرز، میڈیکل طلبہ، رہائشی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے تربیتی سرگرمیاں بھی کی جاتی ہیں۔

    کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ٹراما کیئر کا نیٹ ورک بڑھایا جا رہا ہے۔ لاڑکانہ کا ٹراما اینڈ ایمرجنسی رسپانس سینٹر 2023 میں فعال ہوا، جبکہ سکھر کا ٹراما سینٹر جولائی 2026 میں فعال کیا گیا۔

    یوں شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی میں شدید زخمی اور ہنگامی مریضوں کے لیے فوری تشخیص، ایمرجنسی علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرنے والا مخصوص مرکز ہے، جبکہ سندھ میں ٹراما کیئر کے نیٹ ورک کو بھی مرحلہ وار وسعت دی جا رہی ہے۔

  • کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) میں جدید او پی ڈی کی نئی عمارت مکمل

    کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) میں جدید او پی ڈی کی نئی عمارت مکمل

    کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز، این آئی سی وی ڈی، ملک بھر سے آنے والے دل کے مریضوں کو مفت اور خصوصی علاج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سندھ حکومت نے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے این آئی سی وی ڈی کراچی میں نئی، جدید اور وسیع او پی ڈی بلاک تعمیر کرایا ہے، جس کا حال ہی میں افتتاح کیا گیا۔

    نئی او پی ڈی کی تعمیر سے قبل این آئی سی وی ڈی کی موجودہ او پی ڈی میں روزانہ تقریباً 1,200 سے 1,400 مریضوں کے معائنے کی گنجائش تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور گنجائش سے زیادہ مریض آنے کے باعث علاج، معائنے اور مختلف ٹیسٹوں کے لیے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

    مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر زیادہ گنجائش، بہتر انتظام اور جدید طبی سہولیات سے مزین نئی او پی ڈی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی منصوبے کے تحت نئی او پی ڈی کو تین منزلوں، بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور، پر تعمیر کیا گیا ہے۔

    بیسمنٹ میں جنرل وارڈ کے مریضوں کے معائنے کی سہولت موجود ہے، جبکہ گراؤنڈ فلور پر پرائیویٹ مریضوں کے لیے انتظام کیا گیا ہے۔ فرسٹ فلور پر نان انویسیو امیجنگ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

    نئی او پی ڈی کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ مریضوں کے لیے ضروری ٹیسٹ، تشخیص اور دیگر طبی سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کی گئی ہیں۔ اس نئے بلاک میں روزانہ تقریباً 2,500 سے 3,000 مریضوں کو سہولت فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔

    این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق نئی او پی ڈی میں منتقلی کے وقت روزانہ تقریباً 2,100 سے 2,200 مریض آ رہے تھے، جنہیں نئی او پی ڈی میں باآسانی ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔

    نئی او پی ڈی میں مختلف اہم اسپیشلٹیز بھی موجود ہیں، جس کے باعث مریضوں کو ابتدائی معائنے، ضروری نگہداشت، تشخیص اور متعلقہ علاج کی سہولت ایک ہی جگہ پر فراہم کی جا رہی ہے۔ نئی عمارت سے مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالنے اور این آئی سی وی ڈی آنے والے مریضوں کو زیادہ منظم طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

  • کراچی میں دل کے دورے کے خلاف جنگ، شہر بھر میں قائم سینہ درد مراکز کیسے زندگی بچا رہے ہیں؟

    کراچی میں دل کے دورے کے خلاف جنگ، شہر بھر میں قائم سینہ درد مراکز کیسے زندگی بچا رہے ہیں؟

    کراچی میں دل کے دورے کے خلاف جنگ صرف نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، یعنی این آئی سی وی ڈی کی چار دیواری کے اندر نہیں لڑی جا رہی، بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم سینہ درد مراکز کے ذریعے دل کے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت ان کے گھروں کے زیادہ قریب پہنچائی گئی ہے۔

    اس نظام کے پیچھے ایک انتہائی اہم حقیقت ہے۔ اگر کوئی شخص این آئی سی وی ڈی سے 25 یا 30 کلومیٹر دور رہتا ہو اور اچانک اس کے سینے میں درد اٹھے تو وہ اکثر یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ درد دل کے دورے کی علامت ہے یا کوئی معمولی تکلیف۔ بہت سے لوگ سینے کے درد کو گیس یا بدہضمی سمجھ کر گھر میں انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ دل کے دورے کی صورت میں علاج میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

    اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے این آئی سی وی ڈی نے کراچی کے مختلف علاقوں میں تقریباً 20 سینہ درد مراکز قائم کیے ہیں، تاکہ مریض کو ہر صورت میں پہلے مرکزی ہسپتال پہنچنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

    ان مراکز کا بنیادی مقصد دل کے دورے کی ممکنہ علامات والے مریض کی فوری تشخیص کرنا اور ضرورت پڑنے پر اسے کم سے کم وقت میں ایسے مرکز تک پہنچانا ہے جہاں ہنگامی علاج کی سہولت موجود ہو۔

    ہر سینہ درد مرکز میں ماہر قلب، نرس اور طبی ٹیکنیشن موجود ہوتے ہیں۔ مریض کے مرکز پہنچتے ہی اس کی طبی جانچ اور تشخیص شروع کی جاتی ہے۔ اگر علامات دل کے دورے کی طرف اشارہ کریں تو مریض کو ایمبولینس کے ذریعے فوری طور پر این آئی سی وی ڈی منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ہنگامی انجیوپلاسٹی سمیت ضروری علاج کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب اگر تشخیص سے معلوم ہو کہ سینے کا درد دل کی بیماری کی وجہ سے نہیں تو مریض کو ضروری طبی رہنمائی اور علاج فراہم کرکے گھر بھیجا جاسکتا ہے۔

    این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق سینہ درد مراکز کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مریض سینے میں درد کے بعد گھر پر انتظار نہ کرے بلکہ فوری طور پر طبی تشخیص تک پہنچے۔

    پروفیسر طاہر صغیر کہتے ہیں، ‘اگر مریض این آئی سی وی ڈی سے 25، 30 کلومیٹر دور ہو اور سینے میں درد کے بعد گھر پر انتظار کرتا رہے تو اس کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ہم نے کراچی کے مختلف علاقوں میں سینہ درد مراکز قائم کیے۔’

    اب تک ان مراکز میں تقریباً 13 لاکھ مریضوں کا معائنہ کیا جاچکا ہے، جن میں تقریباً 32 ہزار ایسے مریض بھی شامل تھے جنہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔

    سینہ درد مراکز کا یہ تصور صرف کراچی تک محدود نہیں رہا۔ اس نظام کو عالمی سطح پر بھی توجہ ملی اور مختلف ممالک کے ماہرین نے این آئی سی وی ڈی سے اس ماڈل کے قیام اور انتظام کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی۔

    دراصل سینہ درد مرکز صرف ایک چھوٹا طبی مرکز نہیں، بلکہ یہ دل کے دورے کی علامات ظاہر ہونے اور مریض کے حتمی علاج تک پہنچنے کے درمیان موجود وقت کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

    دل کے دورے میں ہر گزرتا ہوا لمحہ اہم ہوسکتا ہے۔ اسی لیے بروقت تشخیص، فوری منتقلی اور ہنگامی علاج کا مربوط نظام مریض کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

  • جناح اسپتال کراچی میں مفت پیٹ سی ٹی اسکین کی سہولت، سالانہ چار ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے

    جناح اسپتال کراچی میں مفت پیٹ سی ٹی اسکین کی سہولت، سالانہ چار ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے

    کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں کینسر کی تشخیص اور علاج کی نگرانی کے لیے پیٹ سی ٹی اسکین کی سہولت 2017 میں شروع کی گئی۔ پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ سہولت سندھ حکومت کے تعاون سے قائم کی گئی اور مریضوں کو مفت پیٹ سی ٹی اسکین فراہم کیا جاتا ہے۔

    ابتدا میں اس سہولت کے ذریعے سالانہ تقریباً دو ہزار مریضوں کے پیٹ سی ٹی اسکین کیے جاتے تھے۔ بعد میں سندھ حکومت نے پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کو گرانٹ فراہم کی تاکہ سالانہ گنجائش بڑھا کر تقریباً چار ہزار مریضوں تک کی جا سکے۔

    پیٹ سی ٹی اسکین کینسر کی تشخیص اور علاج کے مختلف مراحل میں ایک اہم طبی سہولت ہے۔ اس کے ذریعے ڈاکٹر یہ جاننے میں مدد حاصل کرتے ہیں کہ جسم میں کینسر کہاں موجود ہے اور بیماری کس حد تک پھیلی ہوئی ہے۔

    علاج شروع کرنے سے پہلے پیٹ سی ٹی اسکین سے بیماری کی موجودگی اور پھیلاؤ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ کیموتھراپی کے دوران دوبارہ اسکین کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ مریض علاج کا کس حد تک جواب دے رہا ہے۔

    سرجری یا علاج کے بعد بھی پیٹ سی ٹی اسکین اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ جانچنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بیماری کے آثار باقی ہیں یا علاج کے بعد دوبارہ ظاہر ہوئے ہیں۔ بعد کے برسوں میں بھی مریضوں کا فالو اَپ کیا جا سکتا ہے۔

    جناح اسپتال میں یہ سہولت صرف کراچی کے مریضوں تک محدود نہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے کینسر کے مریض یہاں تشخیص کے لیے آتے ہیں۔ پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے مطابق پیٹ سی ٹی سمیت مختلف جدید تشخیصی سہولیات یہاں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

    پیٹ سی ٹی اسکین عام سی ٹی اسکین سے مختلف ہے۔ اس میں ریڈیو ایکٹو ٹریسر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ جناح اسپتال میں پیٹ اسکین کے لیے ضروری آئسوٹوپس کی تیاری کے لیے سائیکلوٹرون کی سہولت بھی موجود ہے۔

    یہ ایک مہنگا طبی ٹیسٹ ہے اور نجی شعبے میں اس کی لاگت عام مریض کے لیے خاصی زیادہ ہوسکتی ہے۔ جناح اسپتال میں حکومت سندھ اور پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے یہی سہولت مریضوں کو مفت فراہم کی جا رہی ہے۔

    مفت سہولت کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور پیٹ سی ٹی اسکین کے لیے انتظار کا وقت بھی بڑھا ہے۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اس سہولت کی گنجائش بڑھانے اور سائیکلوٹرون نظام کو جدید بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    2023-24 میں جناح اسپتال میں دو ہزار سے زائد پیٹ سی ٹی اسکین کیے گئے۔ پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے مطابق ریڈیالوجی کا پورا شعبہ روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں کو مفت تشخیصی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

    جناح اسپتال کی ریڈیالوجی سہولت میں پیٹ سی ٹی کے علاوہ ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ایکسرے، میموگرافی، الٹراساؤنڈ اور دیگر تشخیصی سہولیات بھی موجود ہیں۔

    جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں پیٹ سی ٹی اسکین کی سہولت اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں جدید کینسر تشخیص تک رسائی ہر مریض کے لیے آسان نہیں۔ یہاں حکومت سندھ اور پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے یہ سہولت مفت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریض فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

  • کراچی: قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، جہاں پنجاب سے مریض بہتر علاج کے لیے آتے ہیں

    کراچی: قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، جہاں پنجاب سے مریض بہتر علاج کے لیے آتے ہیں

    کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، جسے عام طور پر این آئی سی ایچ کہا جاتا ہے، بچوں کے علاج کے لیے سندھ حکومت کا ایک بڑا سرکاری اور خصوصی طبی ادارہ ہے۔

    این آئی سی ایچ 550 بستروں پر مشتمل بچوں کا سرکاری ہسپتال ہے، جہاں علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ ادارے کے مطابق یہاں سالانہ 10 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ روزانہ تقریباً ایک ہزار بچے او پی ڈی میں آتے ہیں۔

    این آئی سی ایچ کی اہمیت صرف کراچی یا سندھ تک محدود نہیں۔ ادارے کے مطابق بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے بچے علاج کے لیے یہاں لائے جاتے ہیں۔ این آئی سی ایچ کے مطابق تقریباً 50 فیصد مریض کراچی سے باہر کے علاقوں سے آتے ہیں۔

    طویل سفر کرکے کراچی پہنچنے والے خاندانوں کے لیے مفت علاج اس ہسپتال کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ ادارے کے مطابق بہت سے خاندان اس وقت یہاں پہنچتے ہیں جب وہ اپنے علاقوں میں علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

    ساگا ڈیجیٹل کی ٹیم کو ہسپتال کے دورے کے دوران پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے متعدد خاندان بھی ملے، جو اپنے بچوں کے بہتر اور مفت علاج کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

    این آئی سی ایچ میں بچوں کے لیے ایمرجنسی، سرجری، انتہائی نگہداشت، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت اور دیگر خصوصی طبی سہولیات موجود ہیں۔ ادارے کے مطابق یہاں 24 گھنٹے بچوں کی سرجیکل ایمرجنسی سروس دستیاب ہے، جبکہ نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے لیے بڑی تعداد میں انکیوبیٹرز بھی موجود ہیں۔

    ہسپتال میں میڈیکل آئی سی یو، کمپیوٹرائزڈ ریڈیالوجی، کمپیوٹرائزڈ لیبارٹری اور بچوں کے ذیابیطس وارڈ سمیت مختلف طبی سہولیات موجود ہیں۔

    کمپیوٹرائزڈ لیبارٹری کے ذریعے وارڈز سے لیبارٹری رپورٹس تک رسائی ممکن بنائی گئی ہے، جس سے رپورٹس کی تیاری اور مریضوں کی نگہداشت کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

    این آئی سی ایچ ایسے بچوں کے علاج کے لیے بھی اہم مرکز ہے جنہیں پیچیدہ اور طویل مدتی طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آنے والے خاندانوں کے لیے یہ ادارہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    دسمبر 2025 میں سندھ حکومت نے این آئی سی ایچ میں نئے میڈیکل ٹاور کی تعمیر کا اعلان بھی کیا تھا۔ منصوبے کی لاگت ایک کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی تھی۔

    کراچی میں قائم این آئی سی ایچ اب صرف سندھ کے بچوں کا ہسپتال نہیں رہا، بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے بچوں کے لیے مفت خصوصی علاج کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

  • حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز (ایس آئی او وی ایس) آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ بن چکا ہے، جہاں عام معائنے سے لے کر پیچیدہ اور جدید سرجریوں تک تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہیں۔

    اس ادارے میں سالانہ 15 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    حیدرآباد کی جرنلسٹس کالونی میں سینٹرل جیل سے متصل واقع یہ ادارہ آنکھوں کے معمولی معائنے سے لے کر پیچیدہ سرجری تک مختلف طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

    اس ادارے کی بنیاد 1963 میں آئی اسپتال حیدرآباد کے نام سے رکھی گئی تھی۔ 1967 میں اسے لیاقت میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم سے منسلک کیا گیا، جس کے بعد مریضوں کے علاج کے ساتھ میڈیکل طلبہ اور آنکھوں کے ڈاکٹروں کی تربیت کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 1990 میں اسپتال کی گنجائش بڑھا کر 100 بستروں تک کردی گئی۔

    ادارے کی حیثیت میں بڑی تبدیلی 2013 میں آئی، جب سندھ اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے لیاقت یونیورسٹی آئی اسپتال کو اپ گریڈ کرکے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز قائم کیا گیا۔

    حالیہ برسوں میں سندھ حکومت کی جانب سے مزید اپ گریڈیشن کے بعد ادارے میں علاج کے ساتھ تعلیم، تربیت اور تحقیق کی سہولیات بھی وسعت اختیار کرچکی ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس میں آنکھوں کے مختلف امراض کے لیے خصوصی شعبے قائم ہیں۔ قرنیہ کے شعبے میں پیچیدہ بیماریوں کا علاج، قرنیہ کی پیوند کاری اور مختلف اقسام کی کیراٹوپلاسٹی کی سہولت موجود ہے۔

    گلوکوما کے مریضوں کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کے ساتھ لیزر اور جراحی علاج کیا جاتا ہے۔ ادارے میں ہمفری وژول فیلڈ، او سی ٹی اور الٹراساؤنڈ بایومائیکروسکوپی سمیت مختلف جدید تشخیصی ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں، جبکہ پیچیدہ مریضوں کے لیے جدید گلوکوما سرجری بھی کی جاتی ہے۔

    مائیکرو ان ویسیو گلوکوما سرجری، ایم آئی جی ایس، کی تربیت اور عملی سرجیکل ڈیمونسٹریشن بھی یہاں ہوچکی ہے۔

    ریٹینا کے مریضوں کے لیے بھی خصوصی شعبہ موجود ہے، جہاں ذیابیطس سے ہونے والی ریٹینوپیتھی، میکیولا کو پہنچنے والا نقصان، ریٹینل ڈیٹیچمنٹ اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان مریضوں کے لیے لیزر ٹریٹمنٹ، اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز اور وٹریکٹومی جیسی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔

    ادارے کی ایک نمایاں خصوصیت بچوں کی آنکھوں کے علاج کا شعبہ ہے، جہاں پیدائشی موتیا، گلوکوما، بھینگا پن، سست آنکھ، ریٹینا کی بیماریوں اور دیگر پیچیدہ پیدائشی مسائل کا علاج کیا جاتا ہے۔

    ریٹینوبلاسٹوما، بچوں میں ہونے والے خطرناک آنکھ کے سرطان، کے مریض بھی یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایس آئی او وی ایس سندھ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی، یعنی آر او پی، کی اسکریننگ میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

    ادارے میں کانٹیکٹ لینز اور مختلف خصوصی لینز کی سہولت کے علاوہ آنکھوں کی تشخیص کے لیے متعدد جدید مشینیں بھی موجود ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس کا آپریشن تھیٹر کمپلیکس بھی اس کی اہم سہولیات میں شامل ہے، جہاں 4 آپریٹنگ رومز میں جنرل آفتھلمولوجی، پیڈیاٹرک آفتھلمولوجی، وٹریکو ریٹینا اور آکولوپالسٹک سرجریز کی جاتی ہیں۔

    ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد اقبال تالپور کے مطابق ایس آئی او وی ایس پاکستان کا آنکھوں کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے، جہاں ہر سال مختلف شہروں سے آنے والے تقریباً 250,000 مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 15,000 آپریشن کیے جاتے ہیں۔

  • سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سکھر میں دل کی دھڑکن سے متعلق پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز کے سکھر مرکز میں اب دل کے برقی نظام سے متعلق پیچیدہ مسائل کی تشخیص اور مخصوص طریقہ علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

    کارڈیک الیکٹروفزیالوجی دل کے برقی سگنلز اور دھڑکن کے نظام کا جائزہ لینے سے متعلق شعبہ ہے۔ سکھر مرکز میں الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی کے ذریعے مریض کے دل کے برقی سگنلز کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے، جبکہ مخصوص مریضوں میں کیتھیٹر ایبلیشن اور جدید کارڈیک ڈیوائسز کی تنصیب جیسی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

    سندھ حکومت نے سکھر سمیت مختلف مراکز میں جدید الیکٹروفزیالوجی لیبارٹریز کے قیام اور توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔ سکھر میں ان جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا باقاعدہ افتتاح 12 اگست 2026 کو کیا گیا۔

    ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں الیکٹروفزیالوجی کو اب موجودہ کارڈیک سروسز کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے اور اس شعبے کے ماہر ڈاکٹر بھی دستیاب ہیں۔ اس سے دل کی دھڑکن کی پیچیدہ خرابیوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تشخیص سے لے کر مخصوص علاج تک ایک ہی مرکز پر جدید سہولت حاصل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

    سکھر میں اس سہولت کی اہمیت شمالی سندھ کے مریضوں کے لیے خاص طور پر نمایاں ہے۔ پیچیدہ کارڈیک الیکٹروفزیالوجی کے علاج کے لیے ایسے مریضوں کو پہلے کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑ سکتا تھا، لیکن سکھر میں یہ سہولت دستیاب ہونے سے مقامی سطح پر جدید علاج تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

    سکھر کے علاوہ خیرپور، گھوٹکی اور شمالی سندھ کے دیگر علاقوں کے مریض بھی اس سروس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سکھر کا مرکز جغرافیائی اعتبار سے ایسا مقام بھی ہے جہاں پنجاب اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی اس جدید طبی سہولت تک رسائی ممکن ہے۔

    ایس آئی سی وی ڈی کا موجودہ نیٹ ورک سندھ میں دل کے علاج کی سہولیات کو مختلف علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ادارے کا قیام 2017 میں سندھ بھر کے مریضوں کو جدید اور مکمل طور پر مفت دل کے علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اس نیٹ ورک میں سندھ کے مختلف شہروں میں 10 کارڈیک ہسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس شامل ہیں، جبکہ اس نظام کو سندھ حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے۔

    سکھر میں کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کی توسیع اسی وسیع تر نظام میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ دل کی پیچیدہ دھڑکن سے متعلق بیماریوں کے لیے جدید تشخیص اور علاج اب شمالی سندھ کے مریضوں کے نسبتاً قریب دستیاب ہے۔

    یہ پیش رفت اس تصور کی عملی شکل بھی ہے کہ پیچیدہ دل کے علاج کے لیے مریض کو صرف فاصلے یا مالی مشکلات کی وجہ سے بڑے شہری مراکز پر انحصار نہ کرنا پڑے اور جدید طبی سہولیات علاقائی سطح پر بھی دستیاب ہوں۔

  • کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جہاں پیچیدہ قلبی سرجری سمیت امراض قلب کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔

    کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جہاں پیچیدہ قلبی سرجری سمیت امراض قلب کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جسے عام طور پر این آئی سی وی ڈی یا دل کے اسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے، کی بنیاد 1963 میں رکھی گئی۔ اس وقت دل کے امراض کے علاج کے لیے مخصوص یہ ادارہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا۔

    یہ ادارہ وقت کے ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا اور 1980 میں اس کی موجودہ عمارت مکمل ہوئی۔ ابتدائی طور پر 450 بستروں کے لیے قائم کیے گئے اس اسپتال میں مختلف شعبوں اور طبی سہولیات کے اضافے کے بعد بستروں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔

    سندھ حکومت کے تعاون سے این آئی سی وی ڈی میں دل کے مریضوں کو علاج کی سہولیات بالمعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں، یہاں دل کے دورے کی ہنگامی صورتحال سے لے کر پیچیدہ قلبی سرجری اور دیگر جدید طریقۂ علاج تک، علاج کا نظام دن رات جاری رہتا ہے۔

    این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق یہ ادارہ 1963 میں قائم ہوا اور اس وقت جنوبی ایشیا میں امراض قلب کے علاج کے لیے مختص اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا۔

    اس اسپتال میں دل کے علاج سے متعلق متعدد بڑے شعبوں کی سہولیات موجود ہیں، جہاں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، دل کے والو کے پیچیدہ علاج، پیس میکر کی تنصیب، دل کی برقی سرگرمی سے متعلق علاج، زندگی بچانے والے جدید آلات کی تنصیب اور دیگر مداخلتی طریقۂ علاج کیے جاتے ہیں۔

    این آئی سی وی ڈی میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، اوپن ہارٹ سرجری، پیس میکر کی تنصیب، ادویات، داخلہ اور کئی پیچیدہ قلبی طریقۂ علاج بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔

    پروفیسر طاہر صدیق کے مطابق فالج کے ایسے مریض جن کے دماغ میں خون کا لوتھڑا موجود ہو اور فوری علاج کی ضرورت ہو، این آئی سی وی ڈی میں موقع پر ہی ضروری طبی عمل کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ایسے 400 سے زیادہ کیسز کیے جا چکے ہیں۔

    یہ ادارہ صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، طبی تربیت اور جدید قلبی طب کے لیے بھی ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔

    صرف 2025 میں این آئی سی وی ڈی کے پورے نظام میں 16 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اسی سال 15,871 قلبی انجیوپلاسٹیاں، 2,692 اوپن ہارٹ سرجریاں، 3,069 بچوں کے قلبی مداخلتی علاج اور 1,184 مستقل پیس میکر لگائے گئے۔

    یہ اعداد و شمار اس بڑے طبی نظام کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں دل کے پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل، پاکستان کی نئی نسل کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی صحافت ہے۔

  • چاروں صوبوں سے گمبٹ تک، علاج جہاں فاصلے نہیں دیکھتا

    چاروں صوبوں سے گمبٹ تک، علاج جہاں فاصلے نہیں دیکھتا

    پاکستان میں جدید اور مہنگے طبی علاج کا تصور عموماً کراچی، لاہور یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں سے جڑا ہوا ہے، لیکن سندھ کے ضلع خیرپور کا شہر گمبٹ اس تصور کو بدلتا دکھائی دیتا ہے۔

    یہ پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہے، جسے عام طور پر گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کہا جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج ٹرانسپلانٹ، دل، کینسر، گردوں اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے ایک اہم طبی مرکز بن چکا ہے۔

    گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں علاج کے لیے صرف سندھ ہی نہیں، بلکہ ملک کے دوسرے صوبوں سے بھی مریض آتے ہیں۔ بلوچستان کے کوئٹہ سے اپنی بہن کے علاج کے لیے گمبٹ آنے والے فضل الرحمٰن بھی انہی افراد میں شامل ہیں۔

    فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بہن کو یہاں نہ صرف بہتر طبی سہولیات مل رہی ہیں بلکہ طبی عملے نے ان کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آتے ہوئے بھرپور تعاون بھی کیا۔

    ان کے لیے گمبٹ صرف ایک ہسپتال نہیں، بلکہ ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں صوبے کی سرحدیں علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔

    یہی گمبٹ ماڈل کی ایک اہم طاقت ہے۔ ایک مریض سندھ سے آئے یا بلوچستان سے، پنجاب سے آئے یا خیبر پختونخوا سے، یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ مریض کہاں کا رہنے والا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے علاج کی ضرورت کتنی ہے۔

    جب پیچیدہ اور مہنگا علاج کسی مستحق مریض کو مفت یا قابل رسائی انداز میں دستیاب ہو، تو اس کی اہمیت صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔

    گمبٹ کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ عالمی معیار کی طبی سہولتیں صرف بڑے شہروں تک محدود رکھنا ضروری نہیں۔ اگر ادارہ مضبوط ہو، ڈاکٹرز اور طبی عملہ قابل ہو اور ریاست علاج کو اپنی ذمہ داری سمجھے، تو ایک نسبتاً چھوٹا شہر بھی پورے ملک کے مریضوں کے لیے امید کا مرکز بن سکتا ہے۔

    کوئٹہ سے گمبٹ تک آنے والی اس بہن اور اس کے بھائی کی کہانی اسی امید کی ایک مثال ہے، جہاں علاج فاصلے نہیں دیکھتا، صوبائی سرحدوں سے آگے بڑھتا ہے اور انسان کو سب سے پہلے رکھا جاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے ہی پاکستان کی کہانیاں آپ تک پہنچاتا ہے، جہاں فاصلے کم ہوتے ہیں، صوبائی سرحدیں مٹتی ہیں اور انسان سب سے پہلے آتا ہے۔

  • سول ہاسپیٹل کراچی کا آرتھوپیڈک شعبہ جدید سہولیات سے آراستہ، پیچیدہ ہڈیوں اور جوڑوں کے علاج کی نئی سہولتیں

    سول ہاسپیٹل کراچی کا آرتھوپیڈک شعبہ جدید سہولیات سے آراستہ، پیچیدہ ہڈیوں اور جوڑوں کے علاج کی نئی سہولتیں

    کراچی کے ڈاکٹر رتھ کے ایم پفاؤ سول ہاسپیٹل میں آرتھوپیڈک شعبے کے آپریشن تھیٹر کمپلیکس کو جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔

    اس اپ گریڈیشن کا مقصد ہڈیوں اور جوڑوں کے مریضوں کو بہتر اور جدید جراحی سہولیات فراہم کرنا اور آرتھوپیڈک سرجری کے لیے دستیاب طبی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔

    آرتھوپیڈک آپریشن تھیٹر کمپلیکس کی اپ گریڈیشن کے تحت دو نئے آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ان آپریشن تھیٹرز میں جدید آپریشن ٹیبلز، سی آرم فلورواسکوپی مشین، آرتھروسکوپی سسٹم، جدید اینستھیزیا ورک اسٹیشنز اور ایل ای ڈی سرجیکل لائٹس نصب کی گئی ہیں۔ اس اپ گریڈیشن کا افتتاح اکتوبر 2025 میں کیا گیا تھا۔

    نئے آپریشن تھیٹرز میں نصب سی آرم فلورواسکوپی مشین آرتھوپیڈک سرجری کے دوران ایک اہم سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ ایکس رے پر مبنی نظام ہے جو آپریشن کے دوران ہڈیوں اور جسم کے اندر موجود ساخت کی براہ راست تصویری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے سرجن مختلف مراحل میں ہڈی کی پوزیشن، فریکچر کی درستگی اور بعض جراحی آلات یا امپلانٹس کی جگہ کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

    اسی طرح آرتھروسکوپی سسٹم جوڑوں کے اندرونی حصے کے معائنے اور بعض پیچیدہ جراحی طریقہ کار میں استعمال ہوتا ہے۔ آرتھروسکوپی میں ایک باریک کیمرہ جوڑ کے اندر داخل کرکے اندرونی ساخت کو براہ راست دیکھا جاتا ہے، جس سے بعض صورتوں میں نسبتاً کم چیرا لگا کر تشخیص اور علاج ممکن ہوتا ہے۔ گھٹنے، کندھے اور دیگر جوڑوں کے مختلف مسائل کے علاج میں یہ طریقہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    آپریشن تھیٹرز میں جدید اینستھیزیا ورک اسٹیشنز کی تنصیب بھی اہم پیش رفت ہے۔ سرجری کے دوران مریض کو بے ہوشی دینے کے عمل میں اینستھیزیا کا نظام سانس، آکسیجن اور دیگر اہم طبی پیمانوں کی نگرانی اور انتظام میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ جدید ایل ای ڈی سرجیکل لائٹس سرجنوں کو آپریشن کے دوران بہتر روشنی فراہم کرتی ہیں۔

    آرتھوپیڈک شعبے کی اپ گریڈیشن صرف آپریشن تھیٹرز تک محدود نہیں۔ آرتھوپیڈک وارڈ کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ سرجری سے پہلے اور بعد میں مریضوں کو زیادہ مناسب ماحول اور طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔ ہڈیوں کے فریکچر، جوڑوں کے مسائل، حادثات کے نتیجے میں ہونے والی چوٹوں اور دیگر آرتھوپیڈک بیماریوں کے مریضوں کے لیے وارڈ اور آپریشن تھیٹر کی سہولیات ایک ہی علاجی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔

    سول ہاسپیٹل کراچی میں آرتھوپیڈک سہولیات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ کراچی کا ایک بڑا سرکاری تدریسی اور علاجی مرکز ہے جہاں مختلف علاقوں سے مریض علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال ہونے کی وجہ سے یہاں ایسے مریضوں کی بڑی تعداد بھی آتی ہے جو نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

    آرتھوپیڈک شعبے کی جدید کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سول ہاسپیٹل کراچی کی مجموعی جدید کاری کے لیے بھی ایک بڑے منصوبے پر کام جاری ہے۔ مارچ 2026 میں سندھ حکومت نے ہسپتال کی جامع جدید کاری کے لیے 100 ارب روپے کے مجموعی ماسٹر پلان کی اصولی منظوری دی، جس میں سندھ حکومت کی جانب سے 50 ارب روپے کی گرانٹ شامل ہے۔ منصوبے کے تحت ہسپتال میں موجود تقریباً 2,142 بستروں میں مزید 500 بستروں کا اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔

    ماسٹر پلان کے تحت ہسپتال میں نئے طبی اور جراحی ٹاورز، نئی بیرونی مریضوں کی عمارت، برنس وارڈ، جیل وارڈ، جدید مردہ خانہ، طبی فضلے کے انتظام کا نظام اور ڈاکٹرز و نرسز کے لیے رہائشی سہولیات بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں ہسپتال کے تاریخی

    ورثے کو محفوظ رکھنے اور اطراف کی سڑکوں کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ مریضوں اور ایمبولینسوں کی آمدورفت آسان ہو۔

    سول ہاسپیٹل کراچی کی تاریخ بھی ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ ہسپتال کی موجودہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ برطانوی دور سے تعلق رکھتا ہے اور ماسٹر پلان میں جدید طبی انفراسٹرکچر کے ساتھ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔ یوں مستقبل کی توسیع میں ایک طرف جدید طبی ٹیکنالوجی شامل کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ہسپتال کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

    آرتھوپیڈک آپریشن تھیٹرز کی اپ گریڈیشن اسی بڑے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ جدید مشینری، بہتر آپریشن تھیٹرز اور وارڈ کی سہولیات سے سرجری کے لیے طبی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ جدید تشخیصی اور جراحی آلات آرتھوپیڈک ماہرین کو پیچیدہ کیسز کے علاج میں زیادہ مؤثر سہولت فراہم کرتے ہیں۔

    کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ٹریفک حادثات، کام کے دوران چوٹیں، کھیلوں کی انجریز اور عمر کے ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کے مریض سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، آرتھوپیڈک خدمات کی مضبوطی براہ راست عوامی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔ خاص طور پر ایسے مریض جنہیں فریکچر یا کسی سنگین چوٹ کے بعد فوری جراحی مداخلت کی ضرورت ہو، ان کے لیے جدید آپریشن تھیٹر اور مناسب طبی آلات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    سول ہاسپیٹل کراچی کی مجموعی جدید کاری اور آرتھوپیڈک شعبے کی نئی سہولیات اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں صرف عمارتوں کی تعمیر ہی نہیں بلکہ علاج کے بنیادی ڈھانچے، جراحی ٹیکنالوجی اور مریضوں کی سہولیات کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    آرتھوپیڈک شعبے میں دو نئے آپریشن تھیٹرز اور جدید آلات کی تنصیب ایک مخصوص شعبے کی اپ گریڈیشن ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات ان مریضوں تک پہنچ سکتے ہیں جن کے لیے بروقت اور معیاری سرجری زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔