Tag: علاج

  • علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کئی نجی بحالی مراکز اور بحالی کلینکس ذہنی مریضوں، خواتین، بچوں اور منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج گاہوں کے بجائے ’قید خانوں‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بن گئی ہیں۔

    ’کیجڈ اِن کیئر: انویسٹیگیٹنگ ہیومن رائٹس وائیولیشنز اِن ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز‘کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں این سی ایچ آر نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں قائم نجی بحالی مراکز کی تحقیقات کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد مریضوں کو ان کی مرضی کے بغیر زبردستی مراکز میں داخل کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک بند رکھا گیا، طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ بعض خواتین کو تشدد، ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    ایمان یاسین ملک کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق کئی خاندانوں نے ذاتی تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں، گھریلو اختلافات یا ’نافرمانی‘ کے الزامات کی بنیاد پر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو بحالی مراکز بھجوا دیا۔ کمیشن نے کہا کہ کئی مریضوں کو کسی عدالتی حکم یا طبی بورڈ کی منظوری کے بغیر قید رکھا گیا، جو بنیادی انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    رپورٹ کے دیباچے میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے حکومتِ پاکستان سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ریگولیٹری اداروں کو دیانت داری سے کام کرنا ہوگا۔ قانون سازوں کو ایسے قوانین بنانا اور نافذ کرنا ہوں گے جو لوگوں کو تحفظ دیں، نہ کہ انہیں قید میں ڈالیں۔ علاج سے وابستہ افراد کو اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، جبکہ سول سوسائٹی کو شفافیت اور جوابدہی کے لیے آواز بلند کرتے رہنا ہوگا۔ حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ذہنی صحت کا حق، عزت اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    این سی ایچ آر کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ بعض مراکز میں مریضوں کے کمروں میں کیمرے نصب تھے، خواتین کی نگرانی کی جاتی تھی، فون استعمال کرنے یا خاندان سے رابطے کی اجازت نہیں تھی، جبکہ شکایت درج کرانے کا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی مریضوں کو طاقتور ادویات اور انجیکشن دیے گئے، لیکن انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ کون سی دوا دی جا رہی ہے۔

    تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے واقعات میں ایک وکیل خاتون ’سمان‘ کا کیس خاص طور پر نمایاں ہے، جنہیں ان کے بھائیوں نے زبردستی ایک بحالی مرکز میں داخل کرا دیا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو کئی ماہ تک بند رکھا گیا، ان پر دباؤ ڈالا گیا اور رہائی کے لیے خاندان کی اجازت ضروری قرار دی گئی۔ اسی طرح ایک اور خاتون ’شازیہ‘ کو مبینہ طور پر ’نافرمانی‘ اور خاندان کے خلاف آواز اٹھانے پر بحالی مرکز بھیجا گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کم عمر بچوں کو بھی بالغ افراد کے ساتھ رکھا گیا، جہاں وہ جسمانی اور جنسی استحصال کے خطرات سے دوچار رہے۔ بعض بچوں کو صرف ’بدتمیزی‘، گھر سے بھاگنے یا رویے کے مسائل کی بنیاد پر مراکز میں داخل کیا گیا۔ این سی ایچ آر نے اس عمل کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

    کمیشن کے مطابق کئی مراکز میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ مریضوں کو گندے کمروں، بدبودار غسل خانوں اور غیر معیاری خوراک کا سامنا تھا۔ بعض مراکز میں مریضوں کو دن بھر کمروں میں بند رکھا جاتا تھا، دھوپ تک میسر نہیں تھی اور علاج کے نام پر صرف مذہبی لیکچر یا دعائیں کروائی جاتی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کی نگرانی انتہائی کمزور ہے۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ کئی مراکز بغیر مناسب نگرانی، تربیت یافتہ عملے یا لائسنس کے کام کر رہے ہیں۔

    این سی ایچ آر نے سفارش کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذہنی صحت کے نظام میں فوری اصلاحات کریں، بحالی مراکز کی سخت نگرانی کی جائے، جبری داخلوں کو روکنے کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں، جبکہ مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد شکایتی نظام قائم کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ذہنی صحت کے شعبے کے لیے بجٹ بڑھایا جائے اور کمیونٹی سطح پر علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک سمجھی جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی تقریباً 24 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے، جبکہ خواتین میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، بے روزگاری، گھریلو تشدد، سماجی دباؤ اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے ذہنی بیماریوں میں اضافہ کیا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ماہرِ نفسیات کی تعداد ایک سے بھی کم ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ملک کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈ محدود ہیں اور نجی علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماری کو اب بھی معاشرے میں ’شرمندگی‘ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث کئی خاندان مریضوں کو علاج دلانے کے بجائے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ کے مطابق یہی سماجی رویے بعض بحالی مراکز کو طاقت دیتے ہیں کہ وہ علاج کے نام پر لوگوں کو قید رکھیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال کریں۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ سمجھا جائے۔ کمیشن کے مطابق اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو بحالی مراکز کمزور، بے سہارا اور ذہنی مسائل کا شکار افراد کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • امریکہ کی عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا غریب ممالک پر ممکنہ طور کیا اثرات ہوں گے؟

    امریکہ کی عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا غریب ممالک پر ممکنہ طور کیا اثرات ہوں گے؟

    دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر بیماریوں کی روک تھام، علاج، ویکسینیشن، ماں اور بچے کی صحت، اور ہنگامی طبی حالات میں امداد فراہم کرنے والا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے امریکہ جیسے بڑے اور بااثر ملک کا اس ادارے سے الگ ہونا کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت سے امریکہ علحیدگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا وبائی امراض، غذائی قلت، کمزور صحت کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث نئے امراض سے دوچار ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدگی کا اعلان کیا، ایک سال کی قانونی مدت مکمل ہونے کے بعد 22 جنوری2026 کو امریکہ باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کے اس اہم ادارے سے الگ ہو چکا ہے۔

    امریکہ کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ عالمی ادارہ صحت عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

    امریکہ طویل عرصے تک عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون رہا ہے۔ اس کی فراہم کردہ مالی امداد سے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک میں پولیو، خسرہ، تپِ دق، ایچ آئی وی، ملیریا اور دیگر مہلک بیماریوں کے خلاف پروگرام جاری رہے۔

    اگر امریکہ کی جانب سے مالی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے تو ان پروگراموں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان کروڑوں غریب افراد پر پڑنے کا امکان ہے، جو پہلے ہی کمزور اور محدود صحت کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔

    غریب ممالک میں صحت کے مسائل محض بیماریوں تک محدود نہیں ہوتے۔ غربت، غذائی قلت، صاف پانی کی عدم دستیابی اور تعلیم کی کمی ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت ایسے ممالک کو صرف مالی امداد ہی نہیں دیتا بلکہ تکنیکی معاونت، تربیت یافتہ طبی عملہ، ادویات کی فراہمی اور تحقیق کے شعبے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کی علیحدگی کے نتیجے میں ادارے کی مجموعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے ہنگامی حالات میں بروقت امداد فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    کووِڈ-19 کی عالمی وبا نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ بیماریاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ اگر کسی ایک خطے میں بیماری پھیلتی ہے تو وہ جلد یا بدیر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی ادارہ صحت جیسے ادارے کا مضبوط اور مؤثر ہونا تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

    امریکہ کا اس ادارے سے الگ ہونا عالمی تعاون کو کمزور کر سکتا ہے اور ممالک کے درمیان ہم آہنگی میں کمی کا سبب بن سکتا ہے، جس کے منفی اثرات امیر اور غریب دونوں ممالک کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے بھی عالمی ادارہ صحت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پولیو کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت، ویکسینیشن پروگرامز اور قدرتی آفات کے دوران طبی امداد کی فراہمی میں یہ ادارہ برسوں سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

    اگر ادارے کے وسائل میں کمی آتی ہے تو ان پروگراموں کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی صحت اور زندگی پر پڑے گا۔

    امریکہ کے اس فیصلے کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو سائنسی اصولوں اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ اگر بڑی طاقتیں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایسے عالمی اداروں سے علیحدگی اختیار کرنے لگیں تو عالمی نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔

    اس سے دنیا میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جہاں وسائل سے مالا مال ممالک اپنی صحت کا انتظام خود کر لیں گے جبکہ غریب ممالک مزید مشکلات میں گھِر جائیں گے۔

    یہ امکان بھی موجود ہے کہ یورپ، چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اس مالی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جیسے بڑے عطیہ دہندہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس عمل میں وقت لگے گا اور اس دوران غریب ممالک کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی صحت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی ایک ملک کا الگ ہونا وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے منفی اثرات پوری دنیا کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    غریب ممالک کے لیے یہ فیصلہ خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ ان کی صحت کا انحصار عالمی تعاون پر زیادہ ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی صحت اور زندگی کو ترجیح دے، کیونکہ ایک صحت مند دنیا ہی ایک محفوظ دنیا کی ضمانت ہے۔