Tag: علاج

  • حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز (ایس آئی او وی ایس) آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ بن چکا ہے، جہاں عام معائنے سے لے کر پیچیدہ اور جدید سرجریوں تک تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہیں۔

    اس ادارے میں سالانہ 15 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    حیدرآباد کی جرنلسٹس کالونی میں سینٹرل جیل سے متصل واقع یہ ادارہ آنکھوں کے معمولی معائنے سے لے کر پیچیدہ سرجری تک مختلف طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

    اس ادارے کی بنیاد 1963 میں آئی اسپتال حیدرآباد کے نام سے رکھی گئی تھی۔ 1967 میں اسے لیاقت میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم سے منسلک کیا گیا، جس کے بعد مریضوں کے علاج کے ساتھ میڈیکل طلبہ اور آنکھوں کے ڈاکٹروں کی تربیت کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 1990 میں اسپتال کی گنجائش بڑھا کر 100 بستروں تک کردی گئی۔

    ادارے کی حیثیت میں بڑی تبدیلی 2013 میں آئی، جب سندھ اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے لیاقت یونیورسٹی آئی اسپتال کو اپ گریڈ کرکے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز قائم کیا گیا۔

    حالیہ برسوں میں سندھ حکومت کی جانب سے مزید اپ گریڈیشن کے بعد ادارے میں علاج کے ساتھ تعلیم، تربیت اور تحقیق کی سہولیات بھی وسعت اختیار کرچکی ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس میں آنکھوں کے مختلف امراض کے لیے خصوصی شعبے قائم ہیں۔ قرنیہ کے شعبے میں پیچیدہ بیماریوں کا علاج، قرنیہ کی پیوند کاری اور مختلف اقسام کی کیراٹوپلاسٹی کی سہولت موجود ہے۔

    گلوکوما کے مریضوں کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کے ساتھ لیزر اور جراحی علاج کیا جاتا ہے۔ ادارے میں ہمفری وژول فیلڈ، او سی ٹی اور الٹراساؤنڈ بایومائیکروسکوپی سمیت مختلف جدید تشخیصی ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں، جبکہ پیچیدہ مریضوں کے لیے جدید گلوکوما سرجری بھی کی جاتی ہے۔

    مائیکرو ان ویسیو گلوکوما سرجری، ایم آئی جی ایس، کی تربیت اور عملی سرجیکل ڈیمونسٹریشن بھی یہاں ہوچکی ہے۔

    ریٹینا کے مریضوں کے لیے بھی خصوصی شعبہ موجود ہے، جہاں ذیابیطس سے ہونے والی ریٹینوپیتھی، میکیولا کو پہنچنے والا نقصان، ریٹینل ڈیٹیچمنٹ اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان مریضوں کے لیے لیزر ٹریٹمنٹ، اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز اور وٹریکٹومی جیسی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔

    ادارے کی ایک نمایاں خصوصیت بچوں کی آنکھوں کے علاج کا شعبہ ہے، جہاں پیدائشی موتیا، گلوکوما، بھینگا پن، سست آنکھ، ریٹینا کی بیماریوں اور دیگر پیچیدہ پیدائشی مسائل کا علاج کیا جاتا ہے۔

    ریٹینوبلاسٹوما، بچوں میں ہونے والے خطرناک آنکھ کے سرطان، کے مریض بھی یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایس آئی او وی ایس سندھ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی، یعنی آر او پی، کی اسکریننگ میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

    ادارے میں کانٹیکٹ لینز اور مختلف خصوصی لینز کی سہولت کے علاوہ آنکھوں کی تشخیص کے لیے متعدد جدید مشینیں بھی موجود ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس کا آپریشن تھیٹر کمپلیکس بھی اس کی اہم سہولیات میں شامل ہے، جہاں 4 آپریٹنگ رومز میں جنرل آفتھلمولوجی، پیڈیاٹرک آفتھلمولوجی، وٹریکو ریٹینا اور آکولوپالسٹک سرجریز کی جاتی ہیں۔

    ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد اقبال تالپور کے مطابق ایس آئی او وی ایس پاکستان کا آنکھوں کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے، جہاں ہر سال مختلف شہروں سے آنے والے تقریباً 250,000 مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 15,000 آپریشن کیے جاتے ہیں۔

  • سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سکھر میں دل کی دھڑکن سے متعلق پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز کے سکھر مرکز میں اب دل کے برقی نظام سے متعلق پیچیدہ مسائل کی تشخیص اور مخصوص طریقہ علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

    کارڈیک الیکٹروفزیالوجی دل کے برقی سگنلز اور دھڑکن کے نظام کا جائزہ لینے سے متعلق شعبہ ہے۔ سکھر مرکز میں الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی کے ذریعے مریض کے دل کے برقی سگنلز کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے، جبکہ مخصوص مریضوں میں کیتھیٹر ایبلیشن اور جدید کارڈیک ڈیوائسز کی تنصیب جیسی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

    سندھ حکومت نے سکھر سمیت مختلف مراکز میں جدید الیکٹروفزیالوجی لیبارٹریز کے قیام اور توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔ سکھر میں ان جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا باقاعدہ افتتاح 12 اگست 2026 کو کیا گیا۔

    ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں الیکٹروفزیالوجی کو اب موجودہ کارڈیک سروسز کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے اور اس شعبے کے ماہر ڈاکٹر بھی دستیاب ہیں۔ اس سے دل کی دھڑکن کی پیچیدہ خرابیوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تشخیص سے لے کر مخصوص علاج تک ایک ہی مرکز پر جدید سہولت حاصل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

    سکھر میں اس سہولت کی اہمیت شمالی سندھ کے مریضوں کے لیے خاص طور پر نمایاں ہے۔ پیچیدہ کارڈیک الیکٹروفزیالوجی کے علاج کے لیے ایسے مریضوں کو پہلے کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑ سکتا تھا، لیکن سکھر میں یہ سہولت دستیاب ہونے سے مقامی سطح پر جدید علاج تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

    سکھر کے علاوہ خیرپور، گھوٹکی اور شمالی سندھ کے دیگر علاقوں کے مریض بھی اس سروس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سکھر کا مرکز جغرافیائی اعتبار سے ایسا مقام بھی ہے جہاں پنجاب اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی اس جدید طبی سہولت تک رسائی ممکن ہے۔

    ایس آئی سی وی ڈی کا موجودہ نیٹ ورک سندھ میں دل کے علاج کی سہولیات کو مختلف علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ادارے کا قیام 2017 میں سندھ بھر کے مریضوں کو جدید اور مکمل طور پر مفت دل کے علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اس نیٹ ورک میں سندھ کے مختلف شہروں میں 10 کارڈیک ہسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس شامل ہیں، جبکہ اس نظام کو سندھ حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے۔

    سکھر میں کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کی توسیع اسی وسیع تر نظام میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ دل کی پیچیدہ دھڑکن سے متعلق بیماریوں کے لیے جدید تشخیص اور علاج اب شمالی سندھ کے مریضوں کے نسبتاً قریب دستیاب ہے۔

    یہ پیش رفت اس تصور کی عملی شکل بھی ہے کہ پیچیدہ دل کے علاج کے لیے مریض کو صرف فاصلے یا مالی مشکلات کی وجہ سے بڑے شہری مراکز پر انحصار نہ کرنا پڑے اور جدید طبی سہولیات علاقائی سطح پر بھی دستیاب ہوں۔

  • کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جہاں پیچیدہ قلبی سرجری سمیت امراض قلب کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔

    کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جہاں پیچیدہ قلبی سرجری سمیت امراض قلب کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جسے عام طور پر این آئی سی وی ڈی یا دل کے اسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے، کی بنیاد 1963 میں رکھی گئی۔ اس وقت دل کے امراض کے علاج کے لیے مخصوص یہ ادارہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا۔

    یہ ادارہ وقت کے ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا اور 1980 میں اس کی موجودہ عمارت مکمل ہوئی۔ ابتدائی طور پر 450 بستروں کے لیے قائم کیے گئے اس اسپتال میں مختلف شعبوں اور طبی سہولیات کے اضافے کے بعد بستروں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔

    سندھ حکومت کے تعاون سے این آئی سی وی ڈی میں دل کے مریضوں کو علاج کی سہولیات بالمعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں، یہاں دل کے دورے کی ہنگامی صورتحال سے لے کر پیچیدہ قلبی سرجری اور دیگر جدید طریقۂ علاج تک، علاج کا نظام دن رات جاری رہتا ہے۔

    این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق یہ ادارہ 1963 میں قائم ہوا اور اس وقت جنوبی ایشیا میں امراض قلب کے علاج کے لیے مختص اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا۔

    اس اسپتال میں دل کے علاج سے متعلق متعدد بڑے شعبوں کی سہولیات موجود ہیں، جہاں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، دل کے والو کے پیچیدہ علاج، پیس میکر کی تنصیب، دل کی برقی سرگرمی سے متعلق علاج، زندگی بچانے والے جدید آلات کی تنصیب اور دیگر مداخلتی طریقۂ علاج کیے جاتے ہیں۔

    این آئی سی وی ڈی میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، اوپن ہارٹ سرجری، پیس میکر کی تنصیب، ادویات، داخلہ اور کئی پیچیدہ قلبی طریقۂ علاج بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔

    پروفیسر طاہر صدیق کے مطابق فالج کے ایسے مریض جن کے دماغ میں خون کا لوتھڑا موجود ہو اور فوری علاج کی ضرورت ہو، این آئی سی وی ڈی میں موقع پر ہی ضروری طبی عمل کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ایسے 400 سے زیادہ کیسز کیے جا چکے ہیں۔

    یہ ادارہ صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، طبی تربیت اور جدید قلبی طب کے لیے بھی ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔

    صرف 2025 میں این آئی سی وی ڈی کے پورے نظام میں 16 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اسی سال 15,871 قلبی انجیوپلاسٹیاں، 2,692 اوپن ہارٹ سرجریاں، 3,069 بچوں کے قلبی مداخلتی علاج اور 1,184 مستقل پیس میکر لگائے گئے۔

    یہ اعداد و شمار اس بڑے طبی نظام کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں دل کے پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل، پاکستان کی نئی نسل کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی صحافت ہے۔

  • چاروں صوبوں سے گمبٹ تک، علاج جہاں فاصلے نہیں دیکھتا

    چاروں صوبوں سے گمبٹ تک، علاج جہاں فاصلے نہیں دیکھتا

    پاکستان میں جدید اور مہنگے طبی علاج کا تصور عموماً کراچی، لاہور یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں سے جڑا ہوا ہے، لیکن سندھ کے ضلع خیرپور کا شہر گمبٹ اس تصور کو بدلتا دکھائی دیتا ہے۔

    یہ پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہے، جسے عام طور پر گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کہا جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج ٹرانسپلانٹ، دل، کینسر، گردوں اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے ایک اہم طبی مرکز بن چکا ہے۔

    گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں علاج کے لیے صرف سندھ ہی نہیں، بلکہ ملک کے دوسرے صوبوں سے بھی مریض آتے ہیں۔ بلوچستان کے کوئٹہ سے اپنی بہن کے علاج کے لیے گمبٹ آنے والے فضل الرحمٰن بھی انہی افراد میں شامل ہیں۔

    فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بہن کو یہاں نہ صرف بہتر طبی سہولیات مل رہی ہیں بلکہ طبی عملے نے ان کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آتے ہوئے بھرپور تعاون بھی کیا۔

    ان کے لیے گمبٹ صرف ایک ہسپتال نہیں، بلکہ ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں صوبے کی سرحدیں علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔

    یہی گمبٹ ماڈل کی ایک اہم طاقت ہے۔ ایک مریض سندھ سے آئے یا بلوچستان سے، پنجاب سے آئے یا خیبر پختونخوا سے، یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ مریض کہاں کا رہنے والا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے علاج کی ضرورت کتنی ہے۔

    جب پیچیدہ اور مہنگا علاج کسی مستحق مریض کو مفت یا قابل رسائی انداز میں دستیاب ہو، تو اس کی اہمیت صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔

    گمبٹ کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ عالمی معیار کی طبی سہولتیں صرف بڑے شہروں تک محدود رکھنا ضروری نہیں۔ اگر ادارہ مضبوط ہو، ڈاکٹرز اور طبی عملہ قابل ہو اور ریاست علاج کو اپنی ذمہ داری سمجھے، تو ایک نسبتاً چھوٹا شہر بھی پورے ملک کے مریضوں کے لیے امید کا مرکز بن سکتا ہے۔

    کوئٹہ سے گمبٹ تک آنے والی اس بہن اور اس کے بھائی کی کہانی اسی امید کی ایک مثال ہے، جہاں علاج فاصلے نہیں دیکھتا، صوبائی سرحدوں سے آگے بڑھتا ہے اور انسان کو سب سے پہلے رکھا جاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے ہی پاکستان کی کہانیاں آپ تک پہنچاتا ہے، جہاں فاصلے کم ہوتے ہیں، صوبائی سرحدیں مٹتی ہیں اور انسان سب سے پہلے آتا ہے۔

  • سول ہاسپیٹل کراچی کا آرتھوپیڈک شعبہ جدید سہولیات سے آراستہ، پیچیدہ ہڈیوں اور جوڑوں کے علاج کی نئی سہولتیں

    سول ہاسپیٹل کراچی کا آرتھوپیڈک شعبہ جدید سہولیات سے آراستہ، پیچیدہ ہڈیوں اور جوڑوں کے علاج کی نئی سہولتیں

    کراچی کے ڈاکٹر رتھ کے ایم پفاؤ سول ہاسپیٹل میں آرتھوپیڈک شعبے کے آپریشن تھیٹر کمپلیکس کو جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔

    اس اپ گریڈیشن کا مقصد ہڈیوں اور جوڑوں کے مریضوں کو بہتر اور جدید جراحی سہولیات فراہم کرنا اور آرتھوپیڈک سرجری کے لیے دستیاب طبی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔

    آرتھوپیڈک آپریشن تھیٹر کمپلیکس کی اپ گریڈیشن کے تحت دو نئے آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ان آپریشن تھیٹرز میں جدید آپریشن ٹیبلز، سی آرم فلورواسکوپی مشین، آرتھروسکوپی سسٹم، جدید اینستھیزیا ورک اسٹیشنز اور ایل ای ڈی سرجیکل لائٹس نصب کی گئی ہیں۔ اس اپ گریڈیشن کا افتتاح اکتوبر 2025 میں کیا گیا تھا۔

    نئے آپریشن تھیٹرز میں نصب سی آرم فلورواسکوپی مشین آرتھوپیڈک سرجری کے دوران ایک اہم سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ ایکس رے پر مبنی نظام ہے جو آپریشن کے دوران ہڈیوں اور جسم کے اندر موجود ساخت کی براہ راست تصویری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے سرجن مختلف مراحل میں ہڈی کی پوزیشن، فریکچر کی درستگی اور بعض جراحی آلات یا امپلانٹس کی جگہ کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

    اسی طرح آرتھروسکوپی سسٹم جوڑوں کے اندرونی حصے کے معائنے اور بعض پیچیدہ جراحی طریقہ کار میں استعمال ہوتا ہے۔ آرتھروسکوپی میں ایک باریک کیمرہ جوڑ کے اندر داخل کرکے اندرونی ساخت کو براہ راست دیکھا جاتا ہے، جس سے بعض صورتوں میں نسبتاً کم چیرا لگا کر تشخیص اور علاج ممکن ہوتا ہے۔ گھٹنے، کندھے اور دیگر جوڑوں کے مختلف مسائل کے علاج میں یہ طریقہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    آپریشن تھیٹرز میں جدید اینستھیزیا ورک اسٹیشنز کی تنصیب بھی اہم پیش رفت ہے۔ سرجری کے دوران مریض کو بے ہوشی دینے کے عمل میں اینستھیزیا کا نظام سانس، آکسیجن اور دیگر اہم طبی پیمانوں کی نگرانی اور انتظام میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ جدید ایل ای ڈی سرجیکل لائٹس سرجنوں کو آپریشن کے دوران بہتر روشنی فراہم کرتی ہیں۔

    آرتھوپیڈک شعبے کی اپ گریڈیشن صرف آپریشن تھیٹرز تک محدود نہیں۔ آرتھوپیڈک وارڈ کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ سرجری سے پہلے اور بعد میں مریضوں کو زیادہ مناسب ماحول اور طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔ ہڈیوں کے فریکچر، جوڑوں کے مسائل، حادثات کے نتیجے میں ہونے والی چوٹوں اور دیگر آرتھوپیڈک بیماریوں کے مریضوں کے لیے وارڈ اور آپریشن تھیٹر کی سہولیات ایک ہی علاجی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔

    سول ہاسپیٹل کراچی میں آرتھوپیڈک سہولیات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ کراچی کا ایک بڑا سرکاری تدریسی اور علاجی مرکز ہے جہاں مختلف علاقوں سے مریض علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال ہونے کی وجہ سے یہاں ایسے مریضوں کی بڑی تعداد بھی آتی ہے جو نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

    آرتھوپیڈک شعبے کی جدید کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سول ہاسپیٹل کراچی کی مجموعی جدید کاری کے لیے بھی ایک بڑے منصوبے پر کام جاری ہے۔ مارچ 2026 میں سندھ حکومت نے ہسپتال کی جامع جدید کاری کے لیے 100 ارب روپے کے مجموعی ماسٹر پلان کی اصولی منظوری دی، جس میں سندھ حکومت کی جانب سے 50 ارب روپے کی گرانٹ شامل ہے۔ منصوبے کے تحت ہسپتال میں موجود تقریباً 2,142 بستروں میں مزید 500 بستروں کا اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔

    ماسٹر پلان کے تحت ہسپتال میں نئے طبی اور جراحی ٹاورز، نئی بیرونی مریضوں کی عمارت، برنس وارڈ، جیل وارڈ، جدید مردہ خانہ، طبی فضلے کے انتظام کا نظام اور ڈاکٹرز و نرسز کے لیے رہائشی سہولیات بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں ہسپتال کے تاریخی

    ورثے کو محفوظ رکھنے اور اطراف کی سڑکوں کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ مریضوں اور ایمبولینسوں کی آمدورفت آسان ہو۔

    سول ہاسپیٹل کراچی کی تاریخ بھی ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ ہسپتال کی موجودہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ برطانوی دور سے تعلق رکھتا ہے اور ماسٹر پلان میں جدید طبی انفراسٹرکچر کے ساتھ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔ یوں مستقبل کی توسیع میں ایک طرف جدید طبی ٹیکنالوجی شامل کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ہسپتال کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

    آرتھوپیڈک آپریشن تھیٹرز کی اپ گریڈیشن اسی بڑے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ جدید مشینری، بہتر آپریشن تھیٹرز اور وارڈ کی سہولیات سے سرجری کے لیے طبی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ جدید تشخیصی اور جراحی آلات آرتھوپیڈک ماہرین کو پیچیدہ کیسز کے علاج میں زیادہ مؤثر سہولت فراہم کرتے ہیں۔

    کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ٹریفک حادثات، کام کے دوران چوٹیں، کھیلوں کی انجریز اور عمر کے ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کے مریض سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، آرتھوپیڈک خدمات کی مضبوطی براہ راست عوامی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔ خاص طور پر ایسے مریض جنہیں فریکچر یا کسی سنگین چوٹ کے بعد فوری جراحی مداخلت کی ضرورت ہو، ان کے لیے جدید آپریشن تھیٹر اور مناسب طبی آلات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    سول ہاسپیٹل کراچی کی مجموعی جدید کاری اور آرتھوپیڈک شعبے کی نئی سہولیات اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں صرف عمارتوں کی تعمیر ہی نہیں بلکہ علاج کے بنیادی ڈھانچے، جراحی ٹیکنالوجی اور مریضوں کی سہولیات کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    آرتھوپیڈک شعبے میں دو نئے آپریشن تھیٹرز اور جدید آلات کی تنصیب ایک مخصوص شعبے کی اپ گریڈیشن ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات ان مریضوں تک پہنچ سکتے ہیں جن کے لیے بروقت اور معیاری سرجری زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

  • علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کئی نجی بحالی مراکز اور بحالی کلینکس ذہنی مریضوں، خواتین، بچوں اور منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج گاہوں کے بجائے ’قید خانوں‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بن گئی ہیں۔

    ’کیجڈ اِن کیئر: انویسٹیگیٹنگ ہیومن رائٹس وائیولیشنز اِن ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز‘کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں این سی ایچ آر نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں قائم نجی بحالی مراکز کی تحقیقات کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد مریضوں کو ان کی مرضی کے بغیر زبردستی مراکز میں داخل کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک بند رکھا گیا، طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ بعض خواتین کو تشدد، ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    ایمان یاسین ملک کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق کئی خاندانوں نے ذاتی تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں، گھریلو اختلافات یا ’نافرمانی‘ کے الزامات کی بنیاد پر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو بحالی مراکز بھجوا دیا۔ کمیشن نے کہا کہ کئی مریضوں کو کسی عدالتی حکم یا طبی بورڈ کی منظوری کے بغیر قید رکھا گیا، جو بنیادی انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    رپورٹ کے دیباچے میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے حکومتِ پاکستان سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ریگولیٹری اداروں کو دیانت داری سے کام کرنا ہوگا۔ قانون سازوں کو ایسے قوانین بنانا اور نافذ کرنا ہوں گے جو لوگوں کو تحفظ دیں، نہ کہ انہیں قید میں ڈالیں۔ علاج سے وابستہ افراد کو اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، جبکہ سول سوسائٹی کو شفافیت اور جوابدہی کے لیے آواز بلند کرتے رہنا ہوگا۔ حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ذہنی صحت کا حق، عزت اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    این سی ایچ آر کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ بعض مراکز میں مریضوں کے کمروں میں کیمرے نصب تھے، خواتین کی نگرانی کی جاتی تھی، فون استعمال کرنے یا خاندان سے رابطے کی اجازت نہیں تھی، جبکہ شکایت درج کرانے کا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی مریضوں کو طاقتور ادویات اور انجیکشن دیے گئے، لیکن انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ کون سی دوا دی جا رہی ہے۔

    تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے واقعات میں ایک وکیل خاتون ’سمان‘ کا کیس خاص طور پر نمایاں ہے، جنہیں ان کے بھائیوں نے زبردستی ایک بحالی مرکز میں داخل کرا دیا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو کئی ماہ تک بند رکھا گیا، ان پر دباؤ ڈالا گیا اور رہائی کے لیے خاندان کی اجازت ضروری قرار دی گئی۔ اسی طرح ایک اور خاتون ’شازیہ‘ کو مبینہ طور پر ’نافرمانی‘ اور خاندان کے خلاف آواز اٹھانے پر بحالی مرکز بھیجا گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کم عمر بچوں کو بھی بالغ افراد کے ساتھ رکھا گیا، جہاں وہ جسمانی اور جنسی استحصال کے خطرات سے دوچار رہے۔ بعض بچوں کو صرف ’بدتمیزی‘، گھر سے بھاگنے یا رویے کے مسائل کی بنیاد پر مراکز میں داخل کیا گیا۔ این سی ایچ آر نے اس عمل کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

    کمیشن کے مطابق کئی مراکز میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ مریضوں کو گندے کمروں، بدبودار غسل خانوں اور غیر معیاری خوراک کا سامنا تھا۔ بعض مراکز میں مریضوں کو دن بھر کمروں میں بند رکھا جاتا تھا، دھوپ تک میسر نہیں تھی اور علاج کے نام پر صرف مذہبی لیکچر یا دعائیں کروائی جاتی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کی نگرانی انتہائی کمزور ہے۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ کئی مراکز بغیر مناسب نگرانی، تربیت یافتہ عملے یا لائسنس کے کام کر رہے ہیں۔

    این سی ایچ آر نے سفارش کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذہنی صحت کے نظام میں فوری اصلاحات کریں، بحالی مراکز کی سخت نگرانی کی جائے، جبری داخلوں کو روکنے کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں، جبکہ مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد شکایتی نظام قائم کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ذہنی صحت کے شعبے کے لیے بجٹ بڑھایا جائے اور کمیونٹی سطح پر علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک سمجھی جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی تقریباً 24 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے، جبکہ خواتین میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، بے روزگاری، گھریلو تشدد، سماجی دباؤ اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے ذہنی بیماریوں میں اضافہ کیا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ماہرِ نفسیات کی تعداد ایک سے بھی کم ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ملک کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈ محدود ہیں اور نجی علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماری کو اب بھی معاشرے میں ’شرمندگی‘ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث کئی خاندان مریضوں کو علاج دلانے کے بجائے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ کے مطابق یہی سماجی رویے بعض بحالی مراکز کو طاقت دیتے ہیں کہ وہ علاج کے نام پر لوگوں کو قید رکھیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال کریں۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ سمجھا جائے۔ کمیشن کے مطابق اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو بحالی مراکز کمزور، بے سہارا اور ذہنی مسائل کا شکار افراد کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • امریکہ کی عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا غریب ممالک پر ممکنہ طور کیا اثرات ہوں گے؟

    امریکہ کی عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا غریب ممالک پر ممکنہ طور کیا اثرات ہوں گے؟

    دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر بیماریوں کی روک تھام، علاج، ویکسینیشن، ماں اور بچے کی صحت، اور ہنگامی طبی حالات میں امداد فراہم کرنے والا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے امریکہ جیسے بڑے اور بااثر ملک کا اس ادارے سے الگ ہونا کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت سے امریکہ علحیدگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا وبائی امراض، غذائی قلت، کمزور صحت کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث نئے امراض سے دوچار ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدگی کا اعلان کیا، ایک سال کی قانونی مدت مکمل ہونے کے بعد 22 جنوری2026 کو امریکہ باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کے اس اہم ادارے سے الگ ہو چکا ہے۔

    امریکہ کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ عالمی ادارہ صحت عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

    امریکہ طویل عرصے تک عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون رہا ہے۔ اس کی فراہم کردہ مالی امداد سے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک میں پولیو، خسرہ، تپِ دق، ایچ آئی وی، ملیریا اور دیگر مہلک بیماریوں کے خلاف پروگرام جاری رہے۔

    اگر امریکہ کی جانب سے مالی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے تو ان پروگراموں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان کروڑوں غریب افراد پر پڑنے کا امکان ہے، جو پہلے ہی کمزور اور محدود صحت کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔

    غریب ممالک میں صحت کے مسائل محض بیماریوں تک محدود نہیں ہوتے۔ غربت، غذائی قلت، صاف پانی کی عدم دستیابی اور تعلیم کی کمی ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت ایسے ممالک کو صرف مالی امداد ہی نہیں دیتا بلکہ تکنیکی معاونت، تربیت یافتہ طبی عملہ، ادویات کی فراہمی اور تحقیق کے شعبے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کی علیحدگی کے نتیجے میں ادارے کی مجموعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے ہنگامی حالات میں بروقت امداد فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    کووِڈ-19 کی عالمی وبا نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ بیماریاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ اگر کسی ایک خطے میں بیماری پھیلتی ہے تو وہ جلد یا بدیر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی ادارہ صحت جیسے ادارے کا مضبوط اور مؤثر ہونا تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

    امریکہ کا اس ادارے سے الگ ہونا عالمی تعاون کو کمزور کر سکتا ہے اور ممالک کے درمیان ہم آہنگی میں کمی کا سبب بن سکتا ہے، جس کے منفی اثرات امیر اور غریب دونوں ممالک کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے بھی عالمی ادارہ صحت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پولیو کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت، ویکسینیشن پروگرامز اور قدرتی آفات کے دوران طبی امداد کی فراہمی میں یہ ادارہ برسوں سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

    اگر ادارے کے وسائل میں کمی آتی ہے تو ان پروگراموں کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی صحت اور زندگی پر پڑے گا۔

    امریکہ کے اس فیصلے کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو سائنسی اصولوں اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ اگر بڑی طاقتیں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایسے عالمی اداروں سے علیحدگی اختیار کرنے لگیں تو عالمی نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔

    اس سے دنیا میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جہاں وسائل سے مالا مال ممالک اپنی صحت کا انتظام خود کر لیں گے جبکہ غریب ممالک مزید مشکلات میں گھِر جائیں گے۔

    یہ امکان بھی موجود ہے کہ یورپ، چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اس مالی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جیسے بڑے عطیہ دہندہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس عمل میں وقت لگے گا اور اس دوران غریب ممالک کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی صحت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی ایک ملک کا الگ ہونا وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے منفی اثرات پوری دنیا کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    غریب ممالک کے لیے یہ فیصلہ خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ ان کی صحت کا انحصار عالمی تعاون پر زیادہ ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی صحت اور زندگی کو ترجیح دے، کیونکہ ایک صحت مند دنیا ہی ایک محفوظ دنیا کی ضمانت ہے۔