Tag: ذوالفقار علی بھٹو

  • 20 دسمبر 1971: ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کا دن

    20 دسمبر 1971: ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کا دن

    16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان میں پاکستانی مسلح افواج کی ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ 
    بنگالیوں نے آزاد بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد مشتعل عوام نے غصے میں پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان کے پشاور والے گھر کو آگ لگا دی۔
    ملک کی فوجی چھاؤنیوں میں نوجوان فوجی افسران اپنے سینئر جرنیلوں کو گالیاں دینے لگے۔ پنجاب کے ہر دوسرے گھر میں اپنے فوجی اہلکاروں کے جنگی قیدی بننے پر کہرام مچا ہوا تھا۔ ایسی صورتِ حال میں بالآخر 20 دسمبر 1971 کو شکست خوردہ جرنیلوں نے یحییٰ خان سے اقتدار چھین کر مجبوری میں ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا۔
    ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ہی وقت میں پاکستان کے صدرِ مملکت، فوج کے کمانڈر اِن چیف اور پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ اگرچہ انہیں اقتدار سونپ دیا گیا، مگر اعلیٰ فوجی افسران کے دلوں میں بھٹو کے خلاف غصہ باقی رہا۔
    اقتدار سنبھالتے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالحمید خان، لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم ایم پیرزادہ، میجر جنرل غلام محمد، میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا، میجر جنرل خداداد خان، میجر جنرل حمید اصغر کیانی سمیت بری، بحری اور فضائی افواج کے کئی اعلیٰ افسران کو برطرف کر دیا۔
    اس کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو آرمی چیف اور ایئر مارشل رحیم خان کو فضائیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
    ان دنوں شیخ مجیب الرحمن میانوالی جیل میں قید تھے۔ انہیں 25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے آغاز پر ڈھاکہ سے گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا تھا۔ ایک فوجی ٹربیونل نے انہیں پاکستان سے غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔
    جب مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالے تو بعض جرنیل شیخ مجیب کو میانوالی جیل میں قتل کرنا چاہتے تھے، مگر ذوالفقار علی بھٹو کی مداخلت سے ایسا نہ ہو سکا، کیونکہ بھٹو جانتے تھے کہ اگر شیخ مجیب کے قتل کی خبر بنگالیوں تک پہنچی تو وہ مشرقی پاکستان میں قید پاکستانی فوجیوں کا قتلِ عام کر دیں گے۔
    اقتدار سنبھالنے کے بعد دسمبر 1971 اور جنوری 1972 میں بھٹو نے شیخ مجیب سے ملاقاتیں کیں۔ وہ خود میانوالی جیل گئے۔ شیخ مجیب انہیں دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھا: “بھٹو، تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟”
    بھٹو نے جواب دیا کہ ملک کی سیاسی صورتحال بدل چکی ہے اور وہ پاکستان کے صدر بن چکے ہیں۔ انہوں نے شیخ مجیب کو مشرقی پاکستان کی صورتحال سے آگاہ کیا اور مثبت کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔
    تین جنوری 1972 کو کراچی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ شیخ مجیب کو رہا کرنا چاہتے ہیں۔
    بالآخر آٹھ جنوری 1972 کو رات تین بجے شیخ مجیب کو میانوالی جیل سے سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا گیا، جہاں بھٹو نے ان سے طویل ملاقات کی اور رہائی کی اطلاع دی۔ بعد ازاں انہیں راولپنڈی کے چکلالہ ایئر بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے لندن روانہ کیا گیا۔
    لندن پہنچ کر شیخ مجیب نے پریس کانفرنس کی۔ پھر 10 جنوری 1972 کو وہ لندن سے دہلی کے راستے ڈھاکہ پہنچے، جہاں لاکھوں بنگالیوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ آخرکار 16 مارچ 1972 کو انہوں نے باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر کے اقتدار سنبھالا۔
    بھٹو کے اقتدار کو ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی پولیس نہ صرف ہڑتال پر چلی گئی بلکہ اس نے تھانوں، ہیڈکوارٹرز اور پولیس لائنز پر مسلح قبضہ بھی کر لیا۔ بھٹو حکومت نے فوج سے مدد مانگی، مگر آرمی چیف جنرل گل حسن اور ایئر چیف رحیم خان نے تعاون سے انکار کر دیا۔
    بالآخر گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر نے ریڈیو پر آ کر ہڑتالی پولیس کو وارننگ دی کہ اگر 24 گھنٹوں میں ڈیوٹی پر واپس نہ آئے تو سخت کارروائی ہو گی۔ حکمتِ عملی کامیاب ہوئی اور پولیس واپس ڈیوٹی پر آ گئی۔
    اس واقعے کے بعد بھٹو نے جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔
    2 مارچ 1972 کو ایک میٹنگ کے بہانے دونوں فوجی سربراہوں کو بلایا گیا اور زبردستی استعفے لیے گئے۔ بعد میں جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف مقرر کیا گیا اور گل حسن و رحیم خان کو یورپی ممالک میں سفیر بنا کر ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔
    اس وقت بھٹو کے سامنے ایک شکست خوردہ ملک تھا، ہزاروں جنگی قیدی بھارت میں تھے اور ہزاروں مربع میل علاقہ دشمن کے قبضے میں تھا۔
    بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا اور جون 1972ء میں شملہ گئے۔ روانگی سے پہلے انہوں نے کہا: “میں کوئی ایسا سودا نہیں کروں گا جس سے پاکستان کی عزت مجروح ہو۔”
    شملہ معاہدہ دو جولائی197
    ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان بھارت کے شہر شملہ میں دوطرفہ مذاکرات ہوئی اور آخری رات تنہائی میں ملاقات کے بعد ’شملہ معاہدہ‘ طے پایا۔
    اہم نکات:
    1.تمام تنازعات دوطرفہ بات چیت سے حل ہوں گے
    2.لائن آف کنٹرول کا قیام
    3.طاقت کے استعمال سے گریز
    4.بھارتی قبضے سے پاکستانی علاقے واپس
    5.93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی
    6.تقریباً 5 ہزار مربع میل زمین کی واپسی
    بھٹو دور کی کامیابیاں
    1971 کی جنگ کے نتیجے میں ملک کافی مشکلات کا شکار تھا، مگر اس کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی تعمیر نے کا آغاز کیا۔ ان کے دور میں پاکستان نے کئی کامیابیاں حاصل کیں:
    •جنگی قیدیوں کی رہائی
    •ایٹمی پروگرام کا آغاز
    •اسلامی سربراہی کانفرنس
    •عرب ممالک میں پاکستانیوں کے لیے روزگار
    •پاکستان اسٹیل مل، پورٹ قاسم
    •سندھ اور دیگر صوبوں کو وفاق میں نمائندگی
    •تعلیمی و طبی اداروں کا قیام
    •دیہی صحت مراکز اور سستی ادویات
    غلط فیصلے
    بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں کئی غلط فیصلے بھی کیے، جن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں کمی بھی ہوئی اور سیاسی طور پر ان کو نقصان بھی ہوا۔ ان فیصلوں میں:
    •نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی
    •بلوچستان حکومت کی برطرفی اور فوجی آپریشن
    •حیدرآباد ٹربیونل
    •سندھ کے قوم پرست رہنماؤں کی گرفتاریاں
    اختتامیہ
    یہ ایک عجیب تاریخ ہے کہ جس بھٹو نے ہزاروں فوجی جنگی قیدی آزاد کرائے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، اسی کو فوجی آمریت نے اقتدار سے محروم کیا اور پھانسی دے دی۔ اور جس شیخ مجیب نے بنگلہ دیش بنایا، وہ بھی اپنے ہی فوجی افسران کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
    یہ تاریخ کا وہ المیہ ہے جس نے برصغیر کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
  • ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریوں میں وزرا  کی جوابدہی سے ان کی جماعت کے حالیہ وزرا کی عوام کی تذلیل کی کہانی

    ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریوں میں وزرا کی جوابدہی سے ان کی جماعت کے حالیہ وزرا کی عوام کی تذلیل کی کہانی

    پاکستان میں سرکاری طور پر کھلی کچہری سے مراد وہ عوامی اجلاس ہوتا ہے جہاں حکومتی افسران براہ راست عام شہریوں کے مسائل سنتے ہیں اور موقع پر ہی ان کے حل کے احکامات جاری کرتے ہیں۔

    کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا، شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانا اور شفاف حکمرانی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔

    تاریخی طور پر برصغیر میں کھلی کچہری کا تصور مغل دور سے ملتا ہے، جب بادشاہ یا حاکم عوام کے درمیان بیٹھ کر ان کے مسائل سنتا تھا۔ پاکستان میں بطور سرکاری نظام کھلی کچہریوں کا باقاعدہ آغاز مختلف ادوار میں ہوا، تاہم دو ہزار کی دہائی کے بعد ضلعی انتظامیہ کے نظام کے تحت انہیں زیادہ منظم شکل دی گئی۔

    خصوصاً 2010 کے بعد صوبائی حکومتوں نے کھلی کچہریوں کو عوامی رابطے کا اہم ذریعہ بنایا۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں مختلف اوقات میں ضلعی اور تحصیل سطح پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کو سرکاری پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔

    بعض ادوار میں وزرائے اعلیٰ اور وزرا بھی کھلی کچہریوں میں براہ راست شرکت کرتے رہے ہیں۔

    کھلی کچہریوں کو عوامی سطح پر اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہاں شہریوں کو براہ راست بات کرنے کا موقع ملتا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق ان کی کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات مسائل سنے تو جاتے ہیں مگر حل نہیں ہو پاتے۔ اس کے باوجود کھلی کچہری کو پاکستان میں عوامی شکایات سننے کا ایک روایتی اور اہم سرکاری طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

    کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس افسران، بلدیاتی نمائندے اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران شریک ہوتے ہیں۔ شہری بغیر کسی رسمی درخواست کے اپنے مسائل پیش کرسکتے ہیں، جن میں زمین کے تنازعات، پولیس شکایات، بجلی، پانی، صحت، تعلیم اور سرکاری دفاتر سے متعلق امور شامل ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں وزیراعظم کی طرف سے عوام کے ساتھ کھلی کچہریوں کی روایت سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کی تھی۔ وہ اپنی کھلی کچہریوں میں وزیرِاعلیٰ سمیت تمام وزرا اور بیوروکریسی کے ساتھ آ کر بیٹھتے تھے، اور ہر ہاری، مزدور اور طالب علم کو کھل کر بات کرنے کی مکمل آزادی ہوتی تھی۔ نہ صرف بات کرنے کی اجازت ہوتی تھی بلکہ ذوالفقار علی بھٹو وہاں موجود وزیرِاعلیٰ ممتاز علی بھٹو اور غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے بڑے وڈیروں اور جاگیرداروں سے کہتے تھے کہ اسٹیج پر آ کر ان فریاد کرنے والوں کو جواب دیں۔

    کسی ننگے پاؤں غریب ہاری، مزدور یا طالب علم کی فریاد یا سخت سوال پر وزیرِاعلیٰ یا کوئی وزیر اسے ڈانٹ نہیں سکتا تھا۔ عام لوگ وزیروں کو پسینہ لا دیتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریاں محض دکھاوا نہیں ہوتیں تھیں؛ وہیں موقع پر احکامات جاری ہوتے تھے اور ان پر عمل بھی ہوتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو خود ان معاملات کی فالو اپ بھی لیتے تھے۔
    میرے اس کالم کو پڑھنے والے وہ بزرگ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریاں دیکھی ہیں، اور وہ ہزاروں نوجوان جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے نوکری کی درخواست کی، اس بات کی تصدیق ضرور کریں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو نوجوانوں سے تعلیم کے بارے میں پوچھتے اور کہتے تھے:

    ‘بیٹا کسٹمز، ایف آئی اے، پورٹ قاسم، بینکوں اور دیگر وفاقی اداروں میں جاؤ۔’
    کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان سٹیل مل، پورٹ قاسم، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، ایف آئی اے، نارکوٹکس کنٹرول فورس سمیت کئی نئے وفاقی ادارے قائم کیے۔ ان کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ سندھ کے نوجوان ان اداروں میں بھرتی ہوں۔
    میری یہ باتیں آج کے نوجوانوں کو شاید مذاق لگیں، لیکن جن لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی کھلی کچہریاں دیکھی ہیں وہ اس کی تصدیق کریں گے۔
    المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ میں ایک نوجوان نے ذوالفقار علی بھٹو سے نوکری کی درخواست کی۔ بھٹو صاحب نے اس سے پوچھا: ‘کتنی تعلیم ہے؟’
    نوجوان نے کہا: ‘سر، انٹر پاس ہوں۔’
    بھٹو صاحب نے پوچھا: ‘درخواست لائے ہو؟’
    کہا: ‘نہیں سر۔’
    ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر وہ اپنے وقت کا ایک منفرد کردار بھی تھے۔ جب نوجوان نے کہا کہ درخواست نہیں لایا، تو وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا: ‘ہاتھ دو۔’
    بھٹو صاحب نے نوجوان کے ہاتھ کی ہتھیلی پر قلم سے نیشنل بینک آف پاکستان کے سربراہ کے نام لکھا:
    ‘Do the needful’
    اور دستخط کر دیے۔ کہا: ‘خیال رکھنا، یہ لکھائی ہاتھ سے مٹنی نہیں چاہیے۔ یہ ہاتھ کراچی لے جا کر نیشنل بینک کے سربراہ کو دکھانا۔’
    وہ نوجوان اسی رات ٹرین میں بیٹھ کر کراچی پہنچا، نیشنل بینک کے سربراہ سے ملا۔ بینک کے سربراہ نے بھٹو صاحب کے دستخط پہچان لیے اور واقعی وہ نوجوان میرے بڑے بھائی شبیر حسین قادری کے ساتھ 1974 میں نیشنل بینک آف پاکستان میں بطور کلرک بھرتی ہو گیا۔
    یہ روایت محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی برقرار رکھی۔

    حال ہی میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے سندھ کے صوبائی وزرا کو ہدایت دی کہ مختلف اضلاع میں کھلی کچہریاں منعقد کریں اور عوام کے مسائل سن کر حل کریں۔ مگر اس ڈرامے کے تحت سندھ کے مختلف اضلاع میں کھلی کچہریاں نہیں بلکہ عوام کی کھلی بے عزتیاں کی گئیں۔ پہلے تو صرف مخصوص افراد کو بولنے کی اجازت تھی جو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی تعریف کریں، اور اگر کسی نے حق، سچ یا تنقید کی کوشش کی تو غنڈوں کے ذریعے لوگوں کو زدوکوب اور بے عزت کیا گیا۔

    مجھے آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کی قمبر شہر میں منعقدہ کھلی کچہری یاد ہے۔ 1974 میں میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول قمبر میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمارے ڈرائنگ ماسٹر مرحوم مقبول احمد قادری محنتی مگر سخت استاد تھے۔ انہوں نے اپنے پیریڈ میں تمام طلبہ کے لیے جیومیٹری باکس لازمی قرار دیا۔ میں اور کچھ دوسرے طلبہ یہ نہ لا سکے۔
    ایک دن غصے میں آ کر استاد نے ہمیں پورا پیریڈ بینچوں پر کھڑا رکھا اور وارننگ دی کہ آئندہ جس کے پاس جیومیٹری باکس نہ ہوا اسے کلاس میں مرغہ بنایا جائے گا۔
    اتفاق سے اگلے دن وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو جناح باغ قمبر میں کھلی کچہری کے لیے آ رہے تھے۔ ہمیں اسکول کی طرف سے پاکستانی جھنڈے دے کر ان کے راستے میں کھڑا کیا گیا۔ بھٹو صاحب آئے، ہم نے تالیاں بجائیں۔

    کچہری میں اعلان ہوا کہ جسے بھی کوئی مسئلہ ہو، قطار میں آ کر وزیرِاعظم کے سامنے پیش کرے۔ مجھے استاد کی سزا یاد آئی اور میں بھی قطار میں جا کھڑا ہوا۔
    جب میری باری آئی تو اُس وقت کے ایس پی لاڑکانہ محمد پنجل جونیجو نے مجھے قطار سے ہٹا دیا۔ میں نے مزاحمت کی۔ یہ منظر بھٹو صاحب نے دیکھ لیا اور اشارے سے کہا: ‘بچے کو چھوڑ دو۔’
    میں اسٹیج پر گیا، بھٹو صاحب نے نام پوچھا۔ میں نے کہا:
    ‘ذوالفقار علی۔
    انہوں نے پیار سے گلے لگایا اور کہا: ‘میرا ہم نام بھائی ہے۔ کیا چاہیے؟’
    میں نے کہا: ‘سر، جیومیٹری باکس اور آپ کا آٹوگراف۔’
    بھٹو صاحب نے فوراً ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ خالد احمد خان کھرل کو حکم دیا کہ بچے کو اس کی جماعت کی تمام کتابیں، کاپیاں اور جیومیٹری باکس فراہم کیے جائیں۔ پھر وزیر صحت عبدالوحید کٹپر سے کہا کہ اس بچے کو میری ذاتی ذوالفقار علی بھٹو چیریٹیبل ٹرسٹ سے ماہانہ اسکالرشپ دی جائے۔
    یہ اسکالرشپ نومبر 1974 سے نومبر 1976 تک مجھے ملتی رہی۔
    دسمبر 1976 میں، لاڑکانہ کے رائل سنیما میں فلم لگی ہوئی تھی۔ ہم دوست لاڑکانہ آئے اور المرتضیٰ ہاؤس پہنچ گئے۔ وہاں بھٹو صاحب موجود تھے۔ انہوں نے مجھے فوراً پہچان لیا اور کہا: ‘تم وہی قمبر والے لڑکے ہو نہ؟’
    ان کی ایسی غیر معمولی یادداشت نے مجھے حیران کر دیا۔
    انہوں نے پوچھا: ‘پڑھتے ہو یا آوارہ پھرتے ہو؟’
    میں نے بتایا کہ اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہوں۔
    پوچھا: ‘اسکالرشپ مل رہی ہے؟’
    میں نے کہا: ‘دو سال تک ملی، اب بند ہو گئی ہے۔’
    فوراً حکم دیا کہ اسکالرشپ بحال کی جائے۔ یہ جولائی 1977 تک ملتی رہی، پھر مارشل لا کے بعد ٹرسٹ کے اکاؤنٹس سیل ہو گئے۔

    میں نے ذوالفقار علی بھٹو جیسی یادداشت والا انسان نہیں دیکھا۔ اتنے بڑے عالمی رہنما ہونے کے باوجود، ہزاروں لوگوں سے ملنے کے بعد بھی انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ یہ صلاحیت قدرت کی عطا ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتی۔