Tag: حیدرآباد

  • حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ میں سندھی زبان کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر امر فیاض برڑو نے بتایا کہ کمپیوٹنگ لینگویج دراصل وہ نظام ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر کسی زبان کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق کسی بھی زبان کو اے آئی فرینڈلی بنانے کے لیے اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ، معیاری رسم الخط، لغات، صوتی ڈیٹا اور گرائمر ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔ سندھی زبان کے لیے یہ عمل اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا رسم الخط اور صوتیات دیگر زبانوں سے مختلف ہیں۔

    امر فیاض برڑو نے بتایا کہ ادارہ سندھی زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ڈیجیٹل لغات اور خودکار ترجمے جیسے نظام تیار کر رہا ہے، تاکہ سندھی زبان جدید ٹیکنالوجی میں پیچھے نہ رہے۔

    انہوں نے بھٹا ڈاٹ اے آئی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کلاسیکی سندھی شاعری کو عالمی سطح پر قابل فہم بنانا اور اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زندہ رکھنا ہے۔

    ادارے کے مطابق شاہ لطیف کے کلام کو اے آئی کے ذریعے محفوظ اور قابلِ تلاش بنانا نہ صرف ادبی ورثے کا تحفظ ہے بلکہ سندھی زبان کو عالمی ڈیجیٹل مکالمے کا حصہ بنانے کی ایک عملی کوشش بھی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کاوشیں مستقبل میں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سندھی زبان کے استعمال کو وسیع کر سکتی ہیں اور نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

     

  • حیدرآباد: بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ، جہاں کے کھانوں  کے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی مداح

    حیدرآباد: بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ، جہاں کے کھانوں  کے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی مداح

    حیدرآباد میں واقع بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ اس وقت خبروں کی زینت بنا جب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دو ہفتے قبل یہاں کھانا کھانے پہنچے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے سادہ انداز میں ریسٹورینٹ کا دورہ کیا اور روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے۔

    ریسٹورینٹ کے بورچی کے مطابق اس موقع پر کھانا خود ان کے ہاتھوں سے تیار کیا گیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دم پک، باربی کیو اور کڑاہی سمیت دیگر پکوان پیش کیے گئے، جنہیں وزیر اعلیٰ سندھ نے پسند کیا۔ کھانوں کے ذائقے اور معیار کو سراہتے ہوئے انہوں نے ریسٹورینٹ کی انتظامیہ کو شاباش دی۔

    ہوٹل کے بورچی کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے روایتی اور خالص دیسی کھانوں میں خصوصی دلچسپی لی اور بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ کے ذائقے کو یادگار قرار دیا۔ اس دورے کے بعد شہریوں میں ریسٹورینٹ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ریسٹورینٹ کی انتظامیہ نے اس دورے کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد عوام اور معزز مہمانوں کو معیاری، صاف ستھرا اور خالص ذائقہ فراہم کرنا ہے، اور وہ اسی روایت کو برقرار رکھیں گے۔

    حیدرآباد کے فوڈ لوورز کے لیے بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ اپنے منفرد اور روایتی ذائقوں کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ریسٹورینٹ کی خاص پہچان بلوچستان کے روایتی کھانوں کو جدید انداز میں پیش کرنا ہے، جہاں دم پک، باربی کیو اور کڑاہی خصوصی مہارت کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں۔

    ریسٹورینٹ میں دم پک روایتی طریقے سے تیار کیا جاتا ہے، جس میں گوشت کو ہلکی آنچ پر مخصوص مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے تاکہ ذائقہ اور خوشبو برقرار رہے۔ باربی کیو میں سیخ کباب، تکہ بوٹی اور چکن ملائی بوٹی شامل ہیں، جبکہ دیسی مصالحوں میں تیار کی جانے والی چکن اور مٹن کڑاہی بھی گاہکوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق تمام کھانے تازہ اجزاء سے تیار کیے جاتے ہیں اور صفائی کے معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ریسٹورینٹ کا ماحول خاندانی ہے، جہاں دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ میں انہیں بلوچستان کے روایتی ذائقوں کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ حیدرآباد میں دم پک، باربی کیو اور کڑاہی کے شوقین افراد کے لیے یہ ریسٹورینٹ ایک نمایاں انتخاب کے طور پر سامنے آیا ہے۔

     

  • کوٹری:قومی شاہراہ پر کار اور ڈمپر میں تصادم میں دو بچوں اوردوخواتین سمیت 8 افراد جاں بحق

    کوٹری:قومی شاہراہ پر کار اور ڈمپر میں تصادم میں دو بچوں اوردوخواتین سمیت 8 افراد جاں بحق

    جمعہ کی شب حادثہ اس وقت پیش آیا جب حیدرآباد کی طرف جانے والی کارکوٹری کے قریب ڈمپر کے پیچھے سے ٹکراگئی،پولیس کے مطابق کار سواروں کا تعلق حیدرآباد سے ہے ،کار ٹھٹہ سے حیدرآباد جارہی تھی، پولیس نے تیز رفتاری اور اوور ٹیک کی کوشش کو حادثے کا سبب بتایا ہے ،حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ کار ٹکرانے کے بعدمکمل طور پر تباہ ہوگئی جس کی وجہ سے جاں بحق اور زخمی ہوجانے والوں کو کار کے مختلف حصوں کو کاٹ کرنکالا گیا، زخمیوں کو فوری طو پر سول اسپتال حیدرآباد منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

     

     

  • گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع ہو گیا ہے۔ دو روزہ ادبی میلے میں ادب، زبان، ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ملک کے مختلف حصوں سے لکھاری، شاعر، محقق، فنکار اور طلبہ شریک ہو رہے ہیں۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول 18 اور 19 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے، جبکہ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع تنوع میں حسن رکھا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت ادب، زبانوں اور لوک روایتوں کے باہمی رشتے کو اجاگر کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

    فیسٹیول کے پہلے روز افتتاحی تقریب کے ساتھ ثقافتی پرفارمنسز پیش کی گئیں، جن میں لوک موسیقی اور روایتی رقص شامل تھا۔ پروگرام میں ادب اور زبان کے موضوع پر مکالمے بھی رکھے گئے، جن میں تنوع، شناخت اور معاصر سماجی مسائل پر گفتگو کی گئی۔

    شیڈول کے مطابق فیسٹیول میں کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز اور میڈیا و ادب سے متعلق مکالمے شامل ہیں۔ نمایاں نشستوں میں ادب میں تنوع، زبان اور شناخت، صحافت کے بدلتے رجحانات، خواتین اور سماجی اظہار، اور نوجوانوں کے لیے تخلیقی اظہار پر سیشنز شامل کیے گئے ہیں۔ لوک ادب، موسیقی اور قوالی کی محفلیں بھی فیسٹیول کا حصہ ہیں۔

    منتظمین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کا مقصد صرف ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا اور نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنا ہے۔ اسی لیے فیسٹیول میں طلبہ کے لیے خصوصی سیشنز اور ورکشاپس بھی رکھی گئی ہیں۔

    اس سال حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کے میڈیا پارٹنر کے طور پر ساگا ڈیجیٹل اے آئی بھی شامل ہے، جو فیسٹیول کی سرگرمیوں، نشستوں اور مباحث کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر عوام تک پہنچا رہا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کی بنیاد ایک محدود ادبی اجتماع کے طور پر رکھی گئی تھی، جو وقت کے ساتھ سندھ کا ایک نمایاں ادبی اور ثقافتی میلہ بن چکا ہے۔ آج یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں اور فنکاروں کو قومی سطح کے ادیبوں کے ساتھ براہ راست مکالمے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول میں داخلہ مفت رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس ادبی اور ثقافتی سرگرمی کا حصہ بن سکیں۔ حیدرآباد میں منعقد ہونے والا یہ میلہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ادب اور ثقافت شہر کی اجتماعی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔

  • حیدرآباد: پی ایس ایل میں توسیع، آٹھ ٹیموں کا نیا مرحلہ اور سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کی قومی کرکٹ میں واپسی

    حیدرآباد: پی ایس ایل میں توسیع، آٹھ ٹیموں کا نیا مرحلہ اور سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کی قومی کرکٹ میں واپسی

    پاکستان سپر لیگ میں توسیع کے ساتھ قومی کرکٹ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی فرنچائز نیلامی کے بعد لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کر لی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں پی ایس ایل اب ہر سیزن میں آٹھ ٹیموں کے ساتھ کھیلی جائے گی۔

    یہ تبدیلی صرف ٹیموں کی تعداد بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات کرکٹ، معیشت اور علاقائی شناخت تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
    اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کے نام سے دو نئی فرنچائزز فروخت ہوئیں۔ اس سے قبل پی ایس ایل میں لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان کی ٹیمیں شامل تھیں۔

    سات سال بعد ہونے والی یہ توسیع پی ایس ایل کی پہلی بڑی تنظیم نو سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد لیگ کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانا بتایا جا رہا ہے۔
    حیدرآباد کے نام سے ٹیم ایف کے ایس گروپ نے خریدی، جس کے لیے 175 کروڑ روپے کی بولی دی گئی۔ اس فیصلے کے ساتھ سندھ کا یہ تاریخی شہر ایک بار پھر قومی سطح کی کرکٹ گفتگو کا حصہ بن گیا ہے۔

    اگرچہ حیدرآباد طویل عرصے سے بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی سے دور رہا، مگر ماضی میں یہ شہر فرسٹ کلاس اور علاقائی کرکٹ کا اہم مرکز رہا ہے۔ کئی نامور کھلاڑیوں کا تعلق بھی اسی خطے سے جوڑا جاتا رہا ہے، جس کے باعث یہاں کرکٹ کی جڑیں آج بھی گہری سمجھی جاتی ہیں۔

    ایف کے ایس گروپ کی قیادت فواد سرور کر رہے ہیں، جن کا آبائی تعلق حیدرآباد سے ہے۔ گروپ کا پس منظر جنوب مشرقی ایشیا اور امریکہ میں پھیلے کاروباری نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جہاں خوراک و زراعت، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور پراپرٹی جیسے شعبوں میں اس کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ چار دہائیوں پر محیط تجربے کے باعث گروپ خود کو طویل المدتی سرمایہ کاری اور انتظامی صلاحیت کے حوالے سے مستحکم قرار دیتا ہے۔

    حیدرآباد کے نام سے ٹیم رکھنے کا فیصلہ شہر کے ساتھ جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ مقامی شناخت کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    نیلامی کے عمل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اندرون اور بیرون ملک سے 12 بولیاں موصول ہوئیں، جن میں سے تفصیلی جانچ کے بعد 10 بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔ جائزے میں مالی استعداد، کارپوریٹ گورننس، قانونی و انتظامی صلاحیت اور طویل المدتی وژن جیسے پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔

    پی سی بی کے توسیعی فریم ورک کے تحت ممکنہ میزبان شہروں میں حیدرآباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، راولپنڈی، مظفرآباد اور گلگت شامل تھے۔

    سیالکوٹ کی ٹیم او زی گروپ نے 185 کروڑ روپے کی بولی کے ساتھ حاصل کی۔ یہ گروپ ٹریڈنگ، ٹیکنالوجی، رئیل اسٹیٹ اور فوڈ سروسز کے شعبوں میں سرگرم ہے اور پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی موجودگی رکھتا ہے۔

    سیالکوٹ کا انتخاب اس شہر کی مضبوط کرکٹ روایت، صنعتی شناخت اور شائقین کے جوش و جذبے کے باعث کیا گیا، جو طویل عرصے سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا مقام رکھتا ہے۔

    پی ایس ایل کا گیارھواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک کھیلا جانا طے ہے۔ نئی فرنچائزز کی شمولیت سے نہ صرف میچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا بلکہ کھلاڑیوں، کوچز، براڈکاسٹ اور انتظامی عملے کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی معیشتوں کے فروغ اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت کے امکانات بھی بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    حیدرآباد کے لیے یہ پیش رفت محض ایک کرکٹ ٹیم کا اضافہ نہیں بلکہ اس شہر کی اس امید کی علامت ہے کہ وہ دوبارہ قومی کھیل کے نقشے پر نمایاں ہو سکے۔ اگر فرنچائز مقامی ٹیلنٹ کی نشاندہی، نچلی سطح پر کرکٹ کی بحالی اور شائقین کی شمولیت پر توجہ دیتی ہے تو حیدرآباد مستقبل میں پی ایس ایل کا ایک فعال اور پہچانا ہوا مرکز بن سکتا ہے۔

    پی ایس ایل کی توسیع اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ لیگ اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ کرکٹ کی جڑیں ان علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں کھیل کا شوق آج بھی زندہ ہے۔

  • حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کا مزار سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں واقع ہے۔ وہ کلہوڑا خاندان کے اہم حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1757 میں کلہوڑا قبائلی سرداروں نے انہیں سندھ کا تیسرا نواب منتخب کیا، جبکہ ان کے بھائی میاں مرادیاب کلہوڑو کو معزول کیا گیا۔ غلام شاہ کلہوڑو کو حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھنے والا حکمران بھی سمجھا جاتا ہے، جس نے اس خطے کو سیاسی اور انتظامی مرکز کی حیثیت دی۔

    ان کا مزار آج بھی سندھ کی تاریخ کا خاموش گواہ ہے۔ یہاں روزانہ مختلف علاقوں سے لوگ حاضری دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس مقام پر عقیدت کے انداز بدلتے گئے ہیں۔ اب مزار پر آنے والے بعض زائرین منت کے طور پر مچھلی لاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مچھلی چڑھانے سے ان کی خواہش پوری ہوگی، خاص طور پر روزگار، صحت اور گھریلو مسائل سے متعلق دعائیں بھی قبول ہوں گی۔

    لوگ عقیدت اور محبت سے ‘مچھلی والا بابا’ کہتے ہیں

    اسی طرح مزار کے احاطے میں اینٹوں سے بنے چھوٹے گھروں کی شکلیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ علامتی گھر وہ لوگ بناتے ہیں جو اپنے ذاتی مکان کی خواہش رکھتے ہیں۔ عقیدت مند اینٹیں رکھ کر دعا کرتے ہیں کہ ان کا اپنا گھر بن جائے اور بے گھری یا مالی تنگی کا مسئلہ حل ہو۔

    مقامی افراد کے مطابق یہ روایات پچھلے کچھ برسوں میں زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔ مزار صرف ایک تاریخی مقام نہیں رہا بلکہ عوامی عقیدت اور امیدوں کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں تاریخ، عقیدہ اور عوامی ثقافت ایک دوسرے میں گڈمڈ نظر آتی ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو کا یہ مزار آج بھی اس دور کی یاد دلاتا ہے جب سندھ پر مقامی تالپور حکمرانوں کی حکمرانی تھی، اور ساتھ ہی یہ مقام موجودہ دور میں عوام کے عقائد اور خواہشات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو نہ صرف ایک طاقتور حکمران تھے بلکہ عوام دوست، سادہ مزاج اور روحانی رجحان رکھنے والے انسان بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں مچھلی بہت پسند تھی اور ان کے دورِ حکومت میں دریائے سندھ کی مچھلی خاص مقام رکھتی تھی۔

    مزار پر خدمت گزار نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ عوام نے عقیدت کے طور پر ان کے مزار پر مچھلی چڑھانا شروع کر دی، اور یوں وہ “مچھلی والا بابا” کے نام سے مشہور ہو گئے، اس درگاہ کے بزرگ خود کلہوڑو دور کو بادشاہ تھے اور غلام شاہ کلہوڑو نے شاہ عبدالطیف کا مزار تعمیر کرایا ،اس مزار میں حیدر بخش جتوئی اور ان کی اہلیہ بھی دفن ہیں یہاں باہر قدیمی قبرستان موجود ہیں۔

  • حیدرآباد کا کرکٹ اسٹیڈیم، جہاں پاکستان کوئی میچ نہیں ہارا، نیاز اسٹیڈیم میں بین الاقوامی میچز میں تاخیر کیوں؟

    حیدرآباد کا کرکٹ اسٹیڈیم، جہاں پاکستان کوئی میچ نہیں ہارا، نیاز اسٹیڈیم میں بین الاقوامی میچز میں تاخیر کیوں؟

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں واقع انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم نیا اسٹیڈیم میں پاکستان آج تک کوئی میچ نہیں ہارا مگر 18 سالوں میں ایک بھی بین القوامی میچ منعقد نہیں ہوا۔

    نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد سندھ پاکستان کے اہم کرکٹ مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ اسٹیڈیم 1960 کی دہائی کے شروع میں قائم کیا گیا اور جلد ہی مقامی اور قومی سطح پر مقبول ہو گیا۔ اسٹیڈیم کا نام اُس وقت کے حیدرآباد کے کمشنر نیاز احمد کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے اس میدان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔
    افتتاح کے بعد یہاں ابتدا میں مقامی اور ریجنل میچوں کا انعقاد ہوتا رہا، پھر اسے آہستہ آہستہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا۔

    نیاز اسٹیڈیم میں پہلا ٹیسٹ میچ انیس سو تہتر میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ مجموعی طور پر اس میدان میں پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔
    ان ٹیسٹ میچوں میں پاکستان نے کبھی شکست نہیں کھائی، یا تو میچ جیتا یا برابر رہا۔ یہ بات اس اسٹیڈیم کی خاص پہچان بن گئی کہ یہاں پاکستان کا ریکارڈ ہمیشہ مضبوط رہا۔

    اس میدان میں کئی یادگار لمحات بھی ہوئے جن میں بڑے بیٹنگ کارنامے، نمایاں باؤلنگ اسپیلز اور شاندار ٹیم پرفارمنس شامل ہیں۔
    نیاز اسٹیڈیم میں ایک روزہ بین الاقوامی میچ یا او ڈی آئی سات بار منعقد ہوئے۔ ان میچوں میں بھی پاکستان کا ریکارڈ خاصا مثبت رہا اور قومی ٹیم نے اکثریت مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔

    پاکستان نے یہاں ہونے والے ایک روزہ میچوں میں بھی کبھی شکست کا سامنا نہیں کیا۔ اسی میدان میں پاکستان کے فاسٹ باؤلر جلال الدین نے دنیا کی ون ڈے کرکٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک بھی بنائی، جس نے اس اسٹیڈیم کو عالمی سطح پر تاریخی بنا دیا۔

    نیاز اسٹیڈیم میں مختلف ممالک کی ٹیموں نے دورہ کیا۔ ان میں انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور زمبابوے کی ٹیمیں شامل ہیں۔
    ہر دورے نے اس میدان کی شہرت میں اضافہ کیا اور حیدرآباد سندھ کو پاکستان کرکٹ کے نقشے پر مزید نمایاں کیا۔ یہاں ہونے والے میچ ہمیشہ تماشائیوں سے بھرپور رہے اور مقامی شائقین کے لیے یہ میدان خاص کشش رکھتا ہے۔

    اسٹیڈیم کی ایک اور تاریخی بات یہ ہے کہ یہاں ٹیسٹ کرکٹ کا ہزارواں میچ بھی کھیلا گیا، جو کرکٹ کی تاریخ کا ایک بڑا سنگِ میل ہے۔ اگرچہ گزشتہ 17 برسوں میں یہاں بین الاقوامی میچ نہیں ہوئے، مگر اسٹیڈیم اب بھی پاکستان کرکٹ میں خاص مقام رکھتا ہے۔

    مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور بحالی کے منصوبے بنتے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں یہاں دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ بحال ہو سکے۔
    نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد ایک ایسا کرکٹ میدان ہے جس کی تاریخ شاندار، ریکارڈ مضبوط اور یادگار لمحات سے بھرپور ہے۔ یہاں پاکستان نے ہمیشہ اچھا کھیل پیش کیا، مختلف عالمی ٹیموں نے یہاں دورے کیے، اور اسٹیڈیم نے کرکٹ کے کئی تاریخی لمحوں کی میزبانی کی۔

    یہ میدان آج بھی شائقین کرکٹ کے دلوں میں زندہ ہے اور اپنی آئندہ بحالی کا منتظر ہے۔

    اس وقت یہ اسٹیڈیم حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام ہے۔

    حال ہیمیں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) و وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد کو آئندہ مہینوں میں بین الاقوامی معیار کے مطابق اپگریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کہنا ہے اگر یہ اسٹیڈیم پی سی بی کے حوالے کیا جائے تو جلد ہی بین القوامی میچز منعقد کیے جائیں گے، جب کہ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ پی سی بی بین القوامی میچ منعقد کرائے تو اسٹیڈیم کا انتظام پی سی بی حوالے کیا جاسکتا ہے۔

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) و وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد امید ہوئی ہے کہ جلد ہی بین القوامی میچ اس اسٹیڈیم میں منعقد کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ نیا ز اسٹیڈیم حیدرآباد نے آخری بار 2008 میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ میچ کی میزبانی کی تھی۔ اس کے بعد سے یہ اسٹیڈیم فرسٹ کلاس ڈومیسٹک میچز کے انعقاد کے لیے بھی جدوجہد کرتا رہا ہے۔