عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ میں سندھی زبان کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر امر فیاض برڑو نے بتایا کہ کمپیوٹنگ لینگویج دراصل وہ نظام ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر کسی زبان کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
ان کے مطابق کسی بھی زبان کو اے آئی فرینڈلی بنانے کے لیے اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ، معیاری رسم الخط، لغات، صوتی ڈیٹا اور گرائمر ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔ سندھی زبان کے لیے یہ عمل اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا رسم الخط اور صوتیات دیگر زبانوں سے مختلف ہیں۔
امر فیاض برڑو نے بتایا کہ ادارہ سندھی زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ڈیجیٹل لغات اور خودکار ترجمے جیسے نظام تیار کر رہا ہے، تاکہ سندھی زبان جدید ٹیکنالوجی میں پیچھے نہ رہے۔
انہوں نے بھٹا ڈاٹ اے آئی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کلاسیکی سندھی شاعری کو عالمی سطح پر قابل فہم بنانا اور اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زندہ رکھنا ہے۔
ادارے کے مطابق شاہ لطیف کے کلام کو اے آئی کے ذریعے محفوظ اور قابلِ تلاش بنانا نہ صرف ادبی ورثے کا تحفظ ہے بلکہ سندھی زبان کو عالمی ڈیجیٹل مکالمے کا حصہ بنانے کی ایک عملی کوشش بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کاوشیں مستقبل میں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سندھی زبان کے استعمال کو وسیع کر سکتی ہیں اور نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
