سندھی اور اردو کے عظیم شاعر شیخ ایاز کی آج برسی منائی جا رہی ہے۔ شیخ ایاز کا شمار سندھ ہی نہیں بلکہ برصغیر کے بڑے جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مزاحمت، محبت، انسان دوستی اور قومی شعور کو ایک نئی زبان دی۔ ان کی شاعری سندھ کی مٹی، دریائے سندھ، صحراؤں، پہاڑوں اور عام انسان کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔
شیخ ایاز 1923 میں ضلع شکارپور کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں وکالت اور تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے۔ وہ سندھ یونیورسٹی جامشورو کے وائس چانسلر بھی رہے۔ تاہم ان کی اصل پہچان ان کی شاعری بنی، جس نے انہیں عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
شیخ ایاز کی شاعری کا بنیادی موضوع آزادی، جبر کے خلاف آواز، اور انسان کی داخلی و خارجی آزادی ہے۔ وہ آمریت، استحصال اور طبقاتی ناانصافی کے خلاف کھل کر لکھتے رہے، جس کے باعث انہیں مختلف ادوار میں پابندیوں اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے قلم کی طاقت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
شیخ ایاز نے سندھی کے ساتھ اردو میں بھی شاعری کی اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا اردو منظوم ترجمہ بھی کیا، جو ادبی دنیا میں ایک اہم کام سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کتابوں میں نظمیں، غزلیں، ڈائریاں اور خود نوشت تحریریں شامل ہیں، جو ان کی فکری گہرائی کو واضح کرتی ہیں۔
آج ان کی برسی کے موقع پر سندھ بھر میں ادبی تنظیمیں، جامعات ان کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ سیمینارز، مشاعرے اور ویڈیوز کے ذریعے نئی نسل کو ان کے افکار سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔
شیخ ایاز نے اپنے شعر کی ابتدا اردو شاعری سے کی۔ ان کے اردو کلام میں ‘حلقہ میری زنجیر کا’، ‘نیل کنٹھ اور نیم کے پتے’ اور ‘بوئے گل نالہ دل’ کتابیں شامل ہیں۔ ان کی اردو شاعری پڑھنے پر بھی یہ گمان تک نہیں ہوتا کہ وہ سندھی کے بے مثال شاعر ہیں۔
شیخ ایاز کی اردو نظم ’میرے دیدہ ورو میرے دانشورو‘ پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کس پائے کے شاعر تھے۔
میرے دیدہ ورو، میرے دانشورو
پاؤں زخمی سہی، ڈگمگاتے چلو
راہ میں سنگ و آہن کے ٹکراؤ سے
اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو
رود کش نیک و بد کتنے کوتاہ قد
سر میں بادل لیے ﮨﯿں ﺗﮩﯿﮧ کیے
بارش زہر کا، اک نئے قہر کا
میرے دیدہ ورو، میرے دانشورو
اپنی تحریر سے، اپنی تقدیر سے
نقش کرتے چلو، تھام لو ایک دم
یہ عصائے قلم، ایک فرعون کیا
لاکھ فرعون ہوں، ڈوب ہی جائیں گے
ون یونٹ پاکستان کی تاریخ کا ایک متنازع انتظامی نظام تھا، جس کا باضابطہ آغاز 1955 میں کیا گیا جو 1970 تک جارہ رہا۔ اس دوران سابق فوجی آمر ایوب خان کی آمریت سندھ پر قہر بن کر ٹوٹی۔
ون یونٹ کے دوران سندھ کے کئی شعرا ابراہیم منشی، تنویر عباسی، سرویچ سجاولی، اور شیخ ایاز سمیت کئی اسے نام ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے ون یونٹ کے خلاف بغاوت کی۔ اس وقت خط پر بھی سندھ لفظ لکھنا ممنوع تھا، مگر شیخ ایاز نے اپنے مزاحمتی شاعری کے ذریعے آمریت کو للکارا۔
اس دور میں سندھ میں مزاحمتی شاعری عروج پر تھی۔ شیخ ایاز نے اس دور کے متعلق کہا کہ سندھ میں جو ترقی پسند ادب اس وقت لکھا جا رہا ہے وہ برصغیر کے تمام ادب سے جاندار ہے۔ شیخ ایاز کا ایک شعر ہے:
دھو دھڑام، اُف غلام
سیج پر غریب کی، آنکھ لگ گئی کہیں
آہ بد نصیب کو، کچھ خبر نہیں ہوئی
بادشاہ کا پلنگ، نرم نرم رنگ رنگ
چیخ کر گئی کنیز، پاندان، پاندان
نیند ہے عجیب چیز، خواب میں رہا جوان
چوبدار پل پڑا، تب کہیں غلام اٹھا
آسمان اور زمین، جیسے گھومنے لگے
کس طرح کرے یقین، خواب سا اسے لگے
ایک شور ہر طرف، نامراد یہ مجال
شاہ اس پلنگ پر، سو چکا ہے ماہ و سال
آہ نفس سگ مثال، لعنتیں کرے ضمیر
لات مارتا وزیر، دھو دھڑام، اُف غلام
شیخ ایاز نے سندھی زبان منظوم ڈرامے بھی لکھے، جن میں ‘رنی کوٹ جا دھاڑیل’، ‘بھگت سنگھ کھے پھاسی، اور ‘کی جو بیجل بولیو’ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔