‘نامناسب زبان والے گانے سے سندھی زبان کی توہین’: گلوکار معشوق شر کو قانونی نوٹس جاری 

معشوق شر

سندھی گلوکار جام معشوق شر کو ان کے گانوں میں نامناسب زبان اور مواد استعمال کرنے کے الزام میں قانونی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ گلوکار کا تعلق ضلع سانگھڑ سے بتایا جاتا ہے۔

یہ قانونی نوٹس حیدرآباد کے علاقے خورشید ٹاؤن کی رہائشی خاتون غزالہ حسین پنہور کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ گلوکار کے بعض گانے، خاص طور پر حال ہی میں وائرل ہونے والا ایک گانا، سندھی زبان اور ثقافتی شناخت کے خلاف ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔

قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گانوں کے بول، انداز اور پیشکش قابل اعتراض ہیں، جن کی وجہ سے دنیا بھر میں سندھی عوام کے خلاف منفی تبصرے سامنے آئے ہیں۔ نوٹس میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس مواد سے سندھی قوم کے جذبات، عزت اور ثقافتی وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، خاص طور پر سندھی خواتین کو اس سے دکھ پہنچا ہے۔

نوٹس کے مطابق گلوکار خود کو سوشل میڈیا پر بطور پیشہ ور گلوکار ظاہر کرتے ہیں، تاہم درخواست گزار اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایسا مواد سندھی ثقافت کے لیے نقصان دہ اور نامناسب ہے۔

قانونی نوٹس کے ذریعے گلوکار کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر اس قسم کی گائیکی بند کریں۔ بصورت دیگر، نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف متعلقہ عدالت میں دیوانی، فوجداری اور آئینی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس کی تمام ذمہ داری گلوکار پر عائد ہوگی۔

یہ قانونی نوٹس حیدرآباد سے جاری کیا گیا اور اس پر تاریخ 30 دسمبر 2025 درج ہے۔

معشوق شر کی ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ فلم دھریندھر کے ایک مشہور عربی گانے کی پیروڈی گاتے نظر آتے ہیں۔ ان کی اس گائیکی پر اسی تقریب میں موجود معروف سندھی کامیڈین گاموں نے سخت تنقید کی، جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ معشوق شر نے گاموں کو قانونی نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب سندھ کے وزیرِ تعلیم نے بھی معشوق شر کی گائیکی پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ موسیقی کے شعبے میں معیار کی کمی اور ’خلا’ کی وجہ سے اس طرح کے فنکار سامنے آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں: