عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ میں سندھی زبان کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر امر فیاض برڑو نے بتایا کہ کمپیوٹنگ لینگویج دراصل وہ نظام ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر کسی زبان کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
ان کے مطابق کسی بھی زبان کو اے آئی فرینڈلی بنانے کے لیے اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ، معیاری رسم الخط، لغات، صوتی ڈیٹا اور گرائمر ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔ سندھی زبان کے لیے یہ عمل اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا رسم الخط اور صوتیات دیگر زبانوں سے مختلف ہیں۔
امر فیاض برڑو نے بتایا کہ ادارہ سندھی زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ڈیجیٹل لغات اور خودکار ترجمے جیسے نظام تیار کر رہا ہے، تاکہ سندھی زبان جدید ٹیکنالوجی میں پیچھے نہ رہے۔
انہوں نے بھٹا ڈاٹ اے آئی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کلاسیکی سندھی شاعری کو عالمی سطح پر قابل فہم بنانا اور اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زندہ رکھنا ہے۔
ادارے کے مطابق شاہ لطیف کے کلام کو اے آئی کے ذریعے محفوظ اور قابلِ تلاش بنانا نہ صرف ادبی ورثے کا تحفظ ہے بلکہ سندھی زبان کو عالمی ڈیجیٹل مکالمے کا حصہ بنانے کی ایک عملی کوشش بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کاوشیں مستقبل میں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سندھی زبان کے استعمال کو وسیع کر سکتی ہیں اور نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی شہید بےنظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر پر ناخوش ہو گئے اور آئندہ اردو میں تقریر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
پشاور میں شہید بےنظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وائس چانسلر صاحبہ نے انگریزی میں تقریر کی جو انہیں پسند نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور تقریبات میں اردو کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگلی بار اگر انگریزی میں تقریر ہوئی تو انہیں غصہ آئے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل بھی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کو ہدایت دے چکے ہیں کہ سرکاری تقاریب میں اردو میں خطاب کیا جائے۔
سندھی گلوکار جام معشوق شر کو ان کے گانوں میں نامناسب زبان اور مواد استعمال کرنے کے الزام میں قانونی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ گلوکار کا تعلق ضلع سانگھڑ سے بتایا جاتا ہے۔
یہ قانونی نوٹس حیدرآباد کے علاقے خورشید ٹاؤن کی رہائشی خاتون غزالہ حسین پنہور کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ گلوکار کے بعض گانے، خاص طور پر حال ہی میں وائرل ہونے والا ایک گانا، سندھی زبان اور ثقافتی شناخت کے خلاف ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گانوں کے بول، انداز اور پیشکش قابل اعتراض ہیں، جن کی وجہ سے دنیا بھر میں سندھی عوام کے خلاف منفی تبصرے سامنے آئے ہیں۔ نوٹس میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس مواد سے سندھی قوم کے جذبات، عزت اور ثقافتی وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، خاص طور پر سندھی خواتین کو اس سے دکھ پہنچا ہے۔
نوٹس کے مطابق گلوکار خود کو سوشل میڈیا پر بطور پیشہ ور گلوکار ظاہر کرتے ہیں، تاہم درخواست گزار اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایسا مواد سندھی ثقافت کے لیے نقصان دہ اور نامناسب ہے۔
قانونی نوٹس کے ذریعے گلوکار کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر اس قسم کی گائیکی بند کریں۔ بصورت دیگر، نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف متعلقہ عدالت میں دیوانی، فوجداری اور آئینی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس کی تمام ذمہ داری گلوکار پر عائد ہوگی۔
یہ قانونی نوٹس حیدرآباد سے جاری کیا گیا اور اس پر تاریخ 30 دسمبر 2025 درج ہے۔
معشوق شر کی ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ فلم دھریندھر کے ایک مشہور عربی گانے کی پیروڈی گاتے نظر آتے ہیں۔ ان کی اس گائیکی پر اسی تقریب میں موجود معروف سندھی کامیڈین گاموں نے سخت تنقید کی، جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ معشوق شر نے گاموں کو قانونی نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سندھ کے وزیرِ تعلیم نے بھی معشوق شر کی گائیکی پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ موسیقی کے شعبے میں معیار کی کمی اور ’خلا’ کی وجہ سے اس طرح کے فنکار سامنے آ رہے ہیں۔
سندھ کے ضلع تھرپارکر کے چیلہار شہر کے رہائشی اور ڈھاٹکی زبان کے شاعر اور متعدد کتابوں کے لکھاری، صحرا تھر کی زبان لوک ادب لوک دانائی اور ثقافت پر کام کرنے والے بھارو مل امرانی کے مطابق ڈھاٹکی زبان کو تھر کے ریگستان میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور اس خطے کی اکثریت آبادی ڈھاٹکی زبان بولتی ہے۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بھارومل امرانی نے کہا: ‘سندھ کے اس ریگستانی حصے کو مُردھر یا مروستھل بھی کہا جاتا ہے۔ ‘مُردھر’ یا ‘مروستھل’ کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔ مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔
‘مروگجر اور مروبھاشا کی طرح ریگستانی زبان کے لئے پنگل اور ڈنگل کا اصطلاح بھی 15ویں اور 16 ٓویں صدی میں مشہور ہوئی۔تھرپارکر درواڑی اور راجپوتی تھذیب کا سنگم ہے، تھرپارکر کی علاقائی تاریخ کی طرح زبان کی تاریخ بھی قدیم ہے۔
‘تھر کی زبان پے موھن جو دڑو کی امر مُھر لگی ہوئی ہے، دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے ماحول کا رنگ دے کر اپنے وجود میں شامل کرنے سے اس بولی کی وسعت بڑتی گئی، تھرپارکر کی علائقائی بولی میں جہاں پانچ ہزار سال پرانے سندھی اور دراوڑی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں وہاں جدید دور کے سائنسی ایجادات کے سائنسی نام جنم لے رہے ہیں۔’
بھارومل امرانی کے مطابق تھرپارکر علاقائی لحاظ سے سات حصوں ڈاٹ، ونگو، کنٹھو، کھاہوڑ،پارکر،سامروٹی اور وٹ پے مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حصوں میں ہر ایک حصے کا اپنا لہجا ہے۔ مگر مجموعی طور تھرپارکر میں بولی جانے والی زبان کے تیں لہجے ہیں۔ سندھی تھری، پارکری، ڈھاٹکی۔
‘ڈھاٹکی تھر کی اہم زبان ہے، جس کو سوڈکی بھی کہتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری سروے مطابق ضلع تھر میں 75 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 98 فیصد تھر کی آبادی ڈھاٹکی سمجھ اور بول سکتی ہے۔
‘دنیا کے لوک ادب کی طرح بادشاہوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی لوک کرداروں کی کہانیوں اور شعر و شاعری کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے،
‘موروں کے دلربا رقص اور حب الوطنی کے عظیم کردار مارئی کے داستان میں مھکتے ہوئے ڈھاٹکی کے گیتوں کو مقامی گلوکاروں مراد فقیر، مائی بھاگی، مائی ودھائی،موہن بھگت، استاد حسین فقیر، استاد شفیع فقیر، صادق فقیر، فوزیہ سومرو، عارب فقیر، حیدررند، بھگڑو ناچیز، انب فقیر،مصری ڈیپلائی، رجب فقیر، رفیق فقیر اور دیگر گلوکاروں نے دل و روح سے گایا ہے۔’
بھارومل امرانی کے مطابق عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے تعاون سے ڈھاٹکی کی رسم الخط تیار کی گئی ہے۔ ڈھاٹکی زبان کے حروف تہجی کا تعداد 34 رکھا گیا ہے۔
ڈھاٹکی پر سندھ میں ڈاکٹر پھلو سندر اور ہند میں ڈاکٹر مرلی بھوانانی نے پی ایچ ڈی کی ہے ۔ ڈھاٹکی سیکھنے کے کچھ کتاب شایع ہوئی ہیں۔ مگر اب تک ڈاٹکی کا کوئی جریدہ نہیں نکلتا۔ ریڈیو پاکستان مٹھی پے دو ڈھاٹکی کے پروگرام ڈھاٹی ماںجھا دھول اور تھر ری سرہان روزانہ نشر ہوتے ہیں۔ پیارو شوانی اور بھارومل امرانی نے شیخ ایاز کی شاعری کو ڈھاٹکی روپ دیا ہے۔ استاد لغاری نے شاھ جو رسالو کا ڈھاٹکی میں ترجمہ کیا ہے ۔
عالمی آسکرز ایوارڈ دینے والی مطابق اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) نے پاکستان کی جانب سے 98ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) میں بہترین بین الاقوامی فلم کے لیے بروشسکی زبان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم ‘ہن دن’ کی نامزگی کو ناہل قرار دے دیا۔
اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) کی کمیٹی نے فلم کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے ‘تکنیکی خامیوں’ اور بعد ازاں ‘مقررہ وقت پر نامزدگی جمع نہ کرانے’ کو وجہ قرار دیا۔
‘ہن دن’ پاکستان میں بروشسکی زبان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم ہے۔ اقوام متحدہ نے بروشسکی کو دنیا کی معدوم ہوتی ہوئی زبانوں میں شامل کیا ہے۔
یہ فلم کرامت علی کی ہدایت کاری میں بنائی گئی تھی اور پاکستانی آسکرز کمیٹی نے اسے ملک کی سرکاری نمائندگی کے لیے منتخب کیا تھا۔
ہدایتکار کا ‘لیٹ سبمشن’ فیصلے کو چیلنج
فلم کے ٹیم نے اکیڈمی کے سخت قواعد کی پابندی کو یقینی بنانے کے باوجود نامزدگی کے مسترد ہونے کی کوششیں کیں۔ ہدایتکار کرامت علی نے تصدیق کی کہ ان کی ٹیم نے فلم اور ضروری ضمنی مواد، بشمول مکمل کاسٹ اور عملے کی فہرست اور انگریزی سب ٹائٹلز، بروقت جمع کرائے تھے، لیکن اکیڈمی نے بعد میں اس سبمیشن کو نااہل قرار دے دیا۔
علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی آسکرز کمیٹی کے چیئرمین محمد علی نقوی کے ساتھ مل کر بروقت جمع کرانے کا ثبوت ٹائم اسٹیمپ کے ساتھ اکیڈمی کو بھیجا، لیکن اپیل کو آخر کار مسترد کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا،’میں نے چیئرمین آسکرز کمیٹی محمد علی نقوی کی مدد سے ٹائم اسٹیمپ کے ساتھ جمع کرانے کا ثبوت آسکرز کو بھیجا، تاہم بعد میں یہ مسترد ہو گیا اور محمد علی نقوی نے ہدایتکار کو بتایا کہ اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔’
کمیٹی کے چیئرمین کا تبصرہ کرنے سے انکار
جب اس مستردگی اور اکیڈمی کی طرف سے دی گئی وجوہات کے بارے میں ساگا ڈیجیٹل کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو پاکستانی آسکرز کمیٹی کے چیئرمین محمد علی نقوی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
فلم ‘ہن دن’ کی کہانی بروشسکی خطے کے ثقافتی اور معاشرتی پہلوؤں پر مبنی ہے، اور اسے بین الاقوامی فلم میلوں میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس نامزدگی کی مستردگی پاکستان کے لیے عالمی سطح پر علاقائی سینما کی شناخت حاصل کرنے کی کوششوں میں ایک بڑا دھچکا ہے۔
آسکرز کے 98ویں ایوارڈز میں اسٹیج پر دنیا بھر کی بہترین بین الاقوامی فلموں کے درمیان مقابلہ ہوگا، جس میں ہر سال سینکڑوں ممالک کی فلمیں حصہ لیتی ہیں۔
آسکر ایوارڈ، جسے اکیڈمی ایوارڈز بھی کہا جاتا ہے، فلمی دنیا کا سب سے مشہور اور معیاری ایوارڈ ہے۔ یہ ایوارڈ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) کی طرف سے ہر سال دیے جاتے ہیں اور فلمی صنعت میں نمایاں کامیابی، ہنر اور بہترین کام کو سراہتے ہیں۔
آسکر کے ایوارڈز مختلف زمروں میں دیے جاتے ہیں، جیسے کہ بہترین فلم، بہترین ہدایتکار، بہترین اداکار و اداکارہ، بہترین بین الاقوامی فل، بہترین دستاویزی فلم اور اینیمیشن وغیرہ
یہ ایوارڈ فلمی صنعت میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ معترف اور معتبر سمجھا جاتا ہے، اور جیتنے والے کو عالمی شہرت ملتی ہے۔
ہر سال دنیا بھر کی فلمیں آسکر کے لیے نامزد کی جاتی ہیں، اور مختلف کمیٹیوں کے جائزے اور ووٹنگ کے بعد فاتح کا اعلان ہوتا ہے۔
پاکستان نے بھی ماضی میں آسکرز میں حصہ لینے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی فلمیں، خاص طور پر علاقائی زبانوں میں بنی فلمیں، اس زمرے میں نامزد کی گئی ہیں تاکہ پاکستان کی سینما کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا جا سکے۔ تاہم کئی بار تکنیکی وجوہات یا قواعد کی خلاف ورزی کی بنیاد پر نامزدگی مسترد ہو گئی۔
تقریباً 52 سال قبل، یعنی سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی سے سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال کا قانون، جسے سندھی زبان ایکٹ کہا جاتا ہے، منظور ہوا۔
اس بات میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ انگریزوں نے سندھی زبان کو اس کا جائز مقام دیا۔ اس سے پہلے کلہوڑا اور تالپور دور میں سندھ کی درباری اور سرکاری زبان فارسی تھی، جبکہ عوام کی اکثریتی زبان سندھی تھی۔
1853 میں سندھ کے کمشنر سر بارٹلمی فریئر نے سندھی الفابیٹ تیار کروایا اور جولائی 1853 میں اسے سرکاری طور پر اسکولوں، دفاتر، عدالتوں، پولیس، ریونیو محکمے سمیت تمام سرکاری امور میں نافذ کیا۔
انگریز دور میں پہلی بار سندھی زبان میں بیرونی دنیا کا ادب ترجمہ ہوا اور پہلی مرتبہ سندھی کتابیں پریس میں شائع ہوئیں۔ انگریزوں کے جانے کے بعد 1948 میں کراچی کو سندھ سے الگ کیا گیا اور کراچی شہر سے سندھ یونیورسٹی اور سندھی زبان کو نکال دیا گیا۔
چند سال بعد اکتوبر 1955 میں سندھ کو ون یونٹ کے شکنجے میں جکڑ کر اس کے وجود کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔
ون یونٹ کے خلاف جدوجہد میں سیاست دانوں سے زیادہ کردار سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ نے ادا کیا۔ ون یونٹ کے دور میں سندھ میں شاندار ادبی اور سیاسی مواد تخلیق ہوا، جس کے نتیجے میں سندھ اور سندھی زبان کے خلاف کی گئی سازشیں ناکام ہوئیں اور یکم جولائی 1970 کو ون یونٹ کا باقاعدہ خاتمہ ہوا۔
سندھی زبان کا ایکٹ سندھ اسمبلی سے منظور ہونے پر اُس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو کو کاندھے پر اٹھا کر لوگ جشن منایا۔
جنرل یحییٰ خان کی جانب سے جاری ایل ایف او کے تحت 1970 کے انتخابات میں مرکز نے ووٹر لسٹیں اردو میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف ’ووٹر لسٹیں سندھی میں شائع کرو’ کی تحریک چلی اور بالآخر حکومت کو ووٹر لسٹیں سندھی زبانمیں شائع کرنا پڑیں۔
انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کی علیحدگی کا سانحہ پیش آیا اور موجودہ پاکستان کی باگ ڈور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں آئی۔ انہوں نے 1972 میں عبوری آئین قومی اسمبلی سے منظور کرا کے مارشل لا کا خاتمہ کیا، اور اپریل 1972 میں صوبائی اسمبلیوں نے حلف اٹھایا۔
چوں کہ سندھی زبان کے ساتھ ماضی میں شدید ناانصافیاں ہو چکی تھیں، اس لیے اسے اسکولوں اور دفاتر کی سرکاری زبان بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ عبوری آئین کی دفعہ 267 کے مطابق:
‘پاکستان کی قومی زبانیں بنگالی اور اردو ہوں گی، جبکہ انگریزی زبان سرکاری اور دیگر مقاصد کے لیے اس وقت تک استعمال کی جا سکے گی جب تک اس کا متبادل فراہم نہ ہو جائے۔
‘قومی زبانوں کی حیثیت کو نقصان پہنچائے بغیر، صوبائی اسمبلیاں قانون کے ذریعے صوبائی زبانوں کی تدریس، ترویج اور استعمال کے لیے اقدامات کر سکتی ہیں۔’
دفعہ 267 کی ذیلی شق دو کے تحت سندھ اسمبلی کو یہ آئینی اختیار ملا کہ وہ سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور تدریس کے استعمال کے لیے قانون سازی کر سکے۔ اسی آئینی بنیاد پر 3 جولائی 1972 کو ‘سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال’ کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کا آڈر آف دی ڈے
بل کے پیش ہوتے ہی تعصب پرست عناصر نے فسادات برپا کیے۔ جنگ اخبار نے ‘اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے’ کی سرخی لگا کر آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔
بل پیش ہونے کے چار دن بعد، جمعہ 7 جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی میں اس بل پر بحث ہوئی اور اسی دن اسے منظور کر لیا گیا۔ سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال ایکٹ 1972 کے اہم نکات
الف: چوتھی سے بارہویں جماعت تک جہاں سندھی ذریعۂ تعلیم ہے، وہاں سندھی اور اردو کو لازمی مضامین قرار دیا جائے گا۔
ب: لازمی مضمون کے طور پر سندھی کی تعلیم چوتھی جماعت سے شروع ہو کر مرحلہ وار بارہویں جماعت تک نافذ کی جائے گی۔
ج: سندھی زبان کے فروغ اور ثقافتی ترقی کے لیے حکومت اکیڈمیاں اور بورڈ قائم کر سکتی ہے۔
د: حکومت آئینی حدود میں رہتے ہوئے دفاتر، سرکاری محکموں، عدالتوں اور اسمبلی میں سندھی زبان کے مرحلہ وار استعمال کے انتظامات کر سکتی ہے۔
سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی میں کیا ہوا؟
سات جولائی 1972 بروز جمعہ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر خان صاحب غلام رسول خان کیہر کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں درج ذیل اراکین شریک تھے:
اراکین کے نام جوں کے توں درج
اس اجلاس میں سیکریٹری کے فرائض جمال ابڑو ادا کر رہے تھے۔ اجلاس کے آغاز میں قاری شاکر قاسمی نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔
بعد ازاں وزیر قانون و پارلیمانی امور سید قائم علی شاہ نے تحریک پیش کی کہ سوال جواب کا وقفہ اور دیگر امور ملتوی کر کے ایجنڈا نمبر سات کے تحت سندھی زبان بل پر بحث کی اجازت دی جائے۔ اس تحریک کی مخالفت شاہ فرید الحق اور ظہور الحسن بھوپالی نے کی، مگر تحریک منظور ہو گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی خان بھٹو نے کہا کہ چوں کہ یہ ایک اہم اور حساس مسئلہ ہے، اس لیے اس پر مکمل اور بھرپور بحث ہونی چاہیے تاکہ تمام غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔
بل پیش ہونے کے بعد اسے اسی دن منظور کرنے کی تحریک لائی گئی، جس کی کچھ اراکین نے مخالفت کی، مگر یہ تحریک بھی منظور ہو گئی اور عمومی بحث شروع ہوئی۔
بل کی حمایت اور مخالفت میں مختلف اراکین نے تقاریر کیں۔
بعد ازاں بل کی شق وار منظوری شروع ہوئی۔ جب شق نمبر دو منظور ہو رہی تھی تو اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس موقع پر وزیر صحت عبدالوحید کٹپر نے مائیک پر کہا: ‘خس کم، جہاں پاک’
اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود، رکن اسمبلی سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہو رہے مگر اس بل کی منظوری کے معاملے پر حکومت کے ساتھ ہیں، جس پر حکومتی بنچوں نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔
آخرکار بل منظور ہونے کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔