Tag: زبان

  • کچھی (سندھی) زبان، داؤدی ستارہ اور موسیٰ سومیک: کراچی کی بندرگاہ اور یہودیوں کا بھولا بسرا ورثہ

    کچھی (سندھی) زبان، داؤدی ستارہ اور موسیٰ سومیک: کراچی کی بندرگاہ اور یہودیوں کا بھولا بسرا ورثہ

    سندھ کے ساحل پر واقع کراچی شہر کی تاریخ محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ دنیا بھر سے آنے والے مختلف عقائد، زبانوں اور تہذیبوں کے ملاپ کی ایک سحر انگیز داستان ہے۔

    انیسویں صدی کے وسط میں، جب برطانوی راج کے تحت کراچی کے بندرگاہی شہر اور اولڈ ٹاؤن کی ایک مچھیروں کی بستی کو بین الاقوامی تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی تھی، تو یہ شہر برصغیر اور اس سے باہر کے کئی ہنرمند اور کاروباری طبقات کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرا۔

    کراچی کی اس شاندار تعمیر و ترقی میں جہاں پارسیوں کی تجارتی بصیرت، گوانز کی سماجی خدمات اور ہندو تاجروں کی معاشی قوت کا ذکر عام ملتا ہے، وہاں تاریخ کا ایک ایسا باب بھی ہے جو وقت کی دھول اور سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو کر عوامی حافظے سے مٹ چکا ہے۔

    یہ باب ہے کراچی میں آباد ہونے والی "بنی اسرائیل” یہودی برادری کا۔ یہ وہ ہنرمند، تعلیم یافتہ اور محنتی طبقہ تھا جس نے کراچی کی بندرگاہ کو سنبھالا، یہاں کی عدلیہ اور بلدیہ میں اہم کردار ادا کیا، اور شہر کو ایسی لازوال عمارتیں دیں جو آج بھی کراچی کی پہچان اور اس کا فخر ہیں۔

    موجودہ دور میں، جہاں مسلم اور یہودی تعلقات کو محض مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی تناظر اور جغرافیائی کھنچاؤ کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے، وہاں کراچی کی تاریخ ہمیں ایک بالکل مختلف اور حیرت انگیز حقیقت سے شناسائی کراتی ہے۔

    یہ ایک ایسے دور کی کہانی ہے جب کراچی کی سڑکوں پر گجراتی اور کچھی بولنے والے یہودی، سندھی تاجروں اور مسلم مچھیروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کاروبار کرتے تھے اور سڑکوں پر داؤدی ستارہ اور چاند تارا (ہلال) مل کر شہر کی کثیرالثقافتی اور روادار پہچان کی گواہی دیتے تھے۔

    بنی اسرائیل برادری کا پس منظر اور کراچی آمد

    کراچی میں آباد ہونے والے یہودیوں کا تعلق کسی یورپی یا مشرقِ وسطیٰ کے خطے سے نہیں تھا، سوائے چند عراقی یہودی خاندانوں کے، بلکہ ان کی اکثریت "بنی اسرائیل” برادری سے تعلق رکھتی تھی۔

    تاریخی اور بشریاتی ریکارڈ کے مطابق، بنی اسرائیل برادری کے اسلاف صدیوں پہلے، بعض روایات کے مطابق دو ہزار سال قبل، ایک بحری حادثے کے نتیجے میں ہندوستان کے مغربی ساحلوں، خاص طور پر مہاراشٹر کے خطہ کونکن اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں آ کر آباد ہوئے تھے۔

    صدیاں گزرنے کے ساتھ یہ لوگ مقامی ہندوستانی ثقافت، زبان اور رہن سہن میں اس طرح رچ بس گئے کہ ان کے ناموں کے ساتھ مہاراشٹرین لاحقے لگ گئے اور ان کی مادری زبان بھی مقامی ہو گئی۔ جب 1839 میں انگریزوں نے کراچی کے تزویراتی مقام منوڑا پر قبضہ کیا اور 1843 میں سر چارلس نیپئر نے سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا، تو بمبئی اور گجرات سے ہجرت کی ایک لہر شروع ہو گئی۔

    بمبئی سے آنے والے ان مہاجرین میں بنی اسرائیل برادری کے وہ لوگ شامل تھے جو نئے مواقع، روزگار اور ایک ابھرتے ہوئے شہر کا حصہ بننے کے لیے کراچی منتقل ہو رہے تھے۔ انہوں نے کراچی پہنچ کر پرانے شہر کے علاقوں میں ڈیرے جمائے اور بہت جلد شہر کے معاشی اور تکنیکی ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ بن گئے۔

    زبان، ثقافت اور سماجی رچاؤ

    کراچی کے یہودیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کا مقامی ثقافتی رچاؤ تھا۔ وہ کوئی بیرونی یا اجنبی طبقہ نہیں لگتے تھے، بلکہ ان کی روزمرہ کی زبان گجراتی اور کچھی (سندھی) تھی۔ وہ آپس میں اور مقامی تاجروں کے ساتھ اسی زبان میں گفتگو کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے مابین معاشی اور سماجی روابط انتہائی گہرے اور مضبوط ہو گئے۔

    ان کی ثقافتی شناخت کا مرکز پرانے کراچی کا علاقہ رنچھوڑ لائن تھا، جہاں ان کی مرکزی اور واحد عبادت گاہ "مگین شالوم سینیگاگ” واقع تھی۔ یہ عبادت گاہ محض ایک مذہبی مرکز نہیں تھی، بلکہ اس دور کی لسانی اور حقیقی رواداری کی ایک بڑی مثال تھی۔ اس سینیگاگ کے باہر جو سائن بورڈ لگے تھے، ان پر صرف عبرانی زبان ہی نہیں لکھی ہوتی تھی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اردو اور گجراتی زبان میں بھی عبارت درج تھی تاکہ مقامی آبادی اور وہاں سے گزرنے والے لوگ اسے آسانی سے پڑھ سکیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ برادری نے خود کو کبھی ایک الگ تھلگ جزیرہ بنانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہ شہر کے لسانی دھارے کے ساتھ ساتھ بہتی رہی۔

    شپ انجینئرنگ اور کارپوریٹ شعبے میں مہارت

    برطانوی راج کے دوران کراچی پورٹ ٹرسٹ کی تشکیل اور کیماڑی بندرگاہ کی جدید بنیادوں پر توسیع ایک بہت بڑا چیلنج تھی۔ اس منصوبے کے لیے نہ صرف بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت تھی بلکہ ایسے لوہے کے کام کے ماہرین اور انجینئرز مطلوب تھے جو سمندر کے ماحول اور جہاز رانی کے تکنیکی معاملات کو سمجھتے ہوں۔ یہودی برادری کے نوجوانوں اور ماہرین نے اس خلا کو پُر کیا۔

    انہوں نے کیماڑی بندرگاہ کے کارخانوں میں بطور تکنیکی ماہر ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ بحری جہازوں کی مرمت، بوائلروں کی دیکھ بھال اور لوہے کے پیچیدہ کاموں میں اپنی غیر معمولی مہارت ثابت ک اور بندرگاہ پر کارگو کی لادائی اور اتارائی کے لیے جدید انتظامی نظام وضع کیے۔

    ان کی یہ مہارت محض نجی شعبے یا بندرگاہ تک محدود نہ رہی۔ ان کی اعلیٰ تعلیم، انگریزی زبان پر عبور اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے باعث برطانوی حکومت نے انہیں اہم سرکاری محکموں میں ذمہ داریاں سونپیں۔ یہودی برادری کے افراد برطانوی کسٹمز، نارتھ ویسٹرن ریلوے، ڈاک و تار کے محکمے اور برطانوی فوج کے انتظامی شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور شہر کے نظم و نسق کو چلانے میں برطانوی افسران کے قابلِ بھروسا ساتھی بنے۔

    موسیٰ سومیک: کراچی کا معمارِ اعظم

    جب ہم کراچی کی نوکلاسیکی اور وکٹورین طرزِ تعمیر کی تاریخی عمارتوں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمارا سامنا ایک ایسے نام سے ہوتا ہے جس نے کراچی کے افق کو اپنے فن سے امر کر دیا۔ یہ نام موسیٰ سومیک کا ہے۔ سومیک کا تعلق عراقی یہودی نسل سے تھا، جس کا خاندان بغداد سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا تھا۔ وہ ایک غیر معمولی ذہین اور تخلیقی معمار تھے، جنہوں نے کراچی کے مقامی گیزری پتھر کو اس مہارت سے تراشا کہ عمارتیں گویا بول اٹھیں۔

    فلیگ اسٹاف ہاؤس (قائداعظم ہاؤس میوزیم)

    صدر کے علاقے میں واقع یہ عمارت کراچی کی سب سے خوبصورت اور پروقار رہائشی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ موسیٰ سومیک نے اسے گیزری پتھر سے نوگوتھک طرزِ تعمیر میں ڈیزائن کیا، جس میں شاندار محرابیں، لکڑی کی بالکونیاں اور ڈھلوانی چھتیں بنائی گئیں۔ یہ عمارت اپنی خوبصورتی کی وجہ سے اتنی مقبول ہوئی کہ بعد میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے اسے اپنی ذاتی رہائش گاہ کے طور پر خرید لیا۔ آج یہ عمارت ایک عجائب گھر کی صورت میں شہر کے مرکز میں اس یہودی معمار کے فن کی گواہی دے رہی ہے۔

    مولز مینشن

    کیماڑی بندرگاہ کے قریب واقع یہ تاریخی اور طویل عمارت برطانوی دور میں بندرگاہ کے انتظامی امور، دفاتر اور افسران کی رہائش کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا نام کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ایک مشہور چیئرمین ہنری چارلس مولز کے نام پر رکھا گیا تھا۔ موسیٰ سومیک نے اس عمارت کو اس انداز سے ڈیزائن کیا کہ یہ سمندر کی تیز ہواؤں کا دباؤ برداشت کر سکے اور دور سے دیکھنے پر ایک قلعے کا منظر پیش کرے۔

    ایڈورڈ ہاؤس

    صدر کے مشہور علاقے میں عبداللہ ہارون روڈ پر واقع ایڈورڈ ہاؤس اپنے دور کی جدید ترین رہائشی اور تجارتی عمارت تھی۔ اس کی نچلی منزل پر دکانیں اور کیفے تھے، جبکہ بالائی منزل پر پرتعیش رہائشی فلیٹ تعمیر کیے گئے تھے۔ اس کی بالکونیوں کا ڈیزائن اور کھڑکیوں کی بناوٹ موسیٰ سومیک کے منفرد یورپی اور ہندوستانی مشترکہ طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔

    بی وی ایس پارسی ہائی اسکول اور کے جی اے ہال

    موسیٰ سومیک کی رواداری اور فن کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صرف اپنی برادری کے لیے کام نہیں کیا، بلکہ دیگر اقلیتوں کے تعلیمی اور سماجی منصوبوں کو بھی ڈیزائن کیا۔ کراچی کے مشہور بائی ویربائی سپاری والا پارسی بوائز اسکول کی مرکزی تاریخی عمارت اور صدر میں واقع کراچی گوان ایسوسی ایشن ہال، جو گوان عیسائی برادری کا مرکز تھا، بھی موسیٰ سومیک ہی کے فن کا شاہکار ہیں۔

    میری ویدر کلاک ٹاور کی تاریخی حقیقت

    کراچی کے تجارتی مرکز آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع میری ویدر کلاک ٹاور کی بیرونی دیواروں کا اگر باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو اس پر وکٹورین نقش و نگار کے درمیان واضح طور پر چھ کونوں والا داؤدی ستارہ کھدا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ کلاک ٹاور سر ولیم میری ویدر کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا، اور اس پر اس نشان کی موجودگی اس دور کے کراچی میں یہودی برادری کے اثرات اور شہر کی کشادہ دلی کا اہم ثبوت سمجھی جاتی ہے۔

    بلدیاتی سیاست اور سماجی اثر و رسوخ

    کراچی کے یہودیوں نے شہر کو محض عمارتیں اور ٹیکس ہی نہیں دیے، بلکہ انہوں نے بلدیاتی سیاست اور عوامی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سلسلے میں سب سے معتبر اور تاریخی نام ابراہیم روبن کا ہے۔

    ابراہیم روبن بنی اسرائیل برادری کے ایک مخلص اور متحرک رہنما تھے۔ وہ اپنی عوامی خدمات اور دیانت داری کی وجہ سے کراچی کے عوام میں اس قدر مقبول تھے کہ 1919، 1936 اور پھر 1939 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے کونسلر منتخب ہوئے۔ وہ کراچی کی تاریخ کے پہلے یہودی کونسلر تھے جنہیں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ووٹ دے کر بلدیہ میں اپنا نمائندہ منتخب کیا۔

    ابراہیم روبن نے کونسلر کی حیثیت سے لیاری کے پسماندہ اور غریب مچھیروں کے بچوں کے لیے ایک اسکول بھی قائم کیا، جس نے کئی دہائیوں تک وہاں کے بچوں کو تعلیم فراہم کی۔

    ان کے علاوہ بلدیہ کراچی میں ایک طویل عرصے تک بطور سینیٹری سپروائزر اور سرویئر خدمات انجام دینے والے ایک یہودی سولومن ڈیوڈ تھے۔ ان کی عوامی خدمات کے اعتراف میں پرانے شہر کے علاقے رنچھوڑ لائن میں ایک سڑک کا نام "سولومن ڈیوڈ اسٹریٹ” رکھا گیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اس کا نام تبدیل کر دیا گیا، لیکن یہ مقام آج بھی اپنے پرانے نام سے جانا جاتا ہے اور اس برادری کے سماجی اثر و رسوخ کی یاد دلاتا ہے۔

    رہائشی جغرافیہ: پرانے کراچی کے مراکز

    جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، اگرچہ کچھ خوش حال اور تاجر یہودی صدر، سول لائنز اور کیماڑی کے علاقوں میں رہتے تھے، لیکن برادری کی اکثریت اور ان کی سماجی زندگی کا اصل مرکز پرانے کراچی کے گنجان آباد علاقے تھے۔

    رنچھوڑ لائن اور رام سوامی

    یہ علاقے یہودی آبادی کا دھڑکتا ہوا دل تھے۔ یہاں غریب اور متوسط طبقے کے یہودی خاندان رہتے تھے، جن کے مسلم اور ہندو پڑوسیوں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ ان کی دکانیں اور چھوٹے کارخانے بھی اسی علاقے کے آس پاس تھے۔

    لارنس روڈ (موجودہ نسیم الٰہی روڈ) اور سولجر بازار

    ان علاقوں میں برادری کے وہ لوگ مقیم تھے جو سرکاری ملازمتوں یا بڑے تجارتی اداروں سے وابستہ تھے۔ ان کی شامیں لارنس روڈ کے پارکوں اور برادری کے ہالوں میں گزرتی تھیں۔

    آخری آرام گاہیں: تاریخ کے خاموش گواہ

    کسی بھی برادری کی مٹی سے تعلق کا سب سے بڑا ثبوت اس کے قبرستان ہوتے ہیں۔ کراچی میں بنی اسرائیل برادری کی دو اہم آخری آرام گاہیں موجود ہیں، جو آج تاریخ کے خاموش اور دردناک گواہ بن چکی ہیں۔

    کچھی میمن قبرستان کا یہودی گوشہ (لیاری، رنچھوڑ لائن)

    یہ جگہ کراچی کی تاریخ میں بلدیاتی اور مذہبی رواداری کی ایک منفرد مثال ہے۔ لیاری کے علاقے میں موجودہ چیل چوک کے قریب واقع کچھی میمن قبرستان بنیادی طور پر مسلمانوں کا قبرستان ہے، لیکن اس کے ایک حصے میں یہودی برادری کی قبریں بھی موجود ہیں۔

    تاریخی شواہد کے مطابق، چونکہ یہودی آبادی رنچھوڑ لائن اور لیاری کے آس پاس بڑی تعداد میں رہتی تھی اور ان کے مسلم کچھی میمن برادری کے ساتھ نہایت گہرے دوستانہ اور کاروباری تعلقات تھے، اس لیے باہمی رضامندی سے اس مسلم قبرستان کا ایک حصہ ان کی تدفین کے لیے مختص کیا گیا۔ محققین کے مطابق یہاں تقریباً 25 سے 50 یہودی قبریں موجود ہیں، جن میں سب سے قدیم قبر 1851 کی بتائی جاتی ہے۔ ان قبروں کی دیکھ بھال آج بھی مقامی مسلم گورکن اور انتظامیہ کرتے ہیں، جو اس شہر کے بچھڑے ہوئے حسن کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

    میوہ شاہ قبرستان میں بنی اسرائیل کمپاؤنڈ

    لیاری ندی کے کنارے واقع میوہ شاہ قبرستان کراچی کا سب سے بڑا اور قدیم ترین قبرستان ہے۔ اسی قبرستان کے اندر ایک الگ، چاردیواری سے گھرا ہوا ڈھائی ایکڑ پر مشتمل احاطہ ہے، جسے باقاعدہ طور پر "بنی اسرائیل قبرستان” کہا جاتا ہے۔

    اس کا کل رقبہ تقریباً ڈھائی ایکڑ ہے، جو آٹھ سے 10 فٹ بلند چاردیواری سے گھرا ہوا ہے۔ یہاں تقریباً 250 سے 400 تاریخی قبریں موجود ہیں، جو سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کی گئی ہیں۔ ان پر سندھ کے روایتی چوکنڈی طرزِ تعمیر کے اثرات اور گنبد نما سائبان دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کتبوں پر عبرانی اور انگریزی زبان میں دعائیں اور معلومات درج ہیں۔ یہاں آخری تدفین 1980 کی دہائی کے وسط، یعنی 1983 یا 1987 میں ہوئی تھی۔

    اس قبرستان کے کتبوں پر درج نام بھی انتہائی دلچسپ ہیں۔ یہاں ایلیزر جیکب بھورپکر اور جیکب سلیمان کامرلکر جیسے نام ملتے ہیں۔ ان ناموں کے آخر میں آنے والا لاحقہ "کر” واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ لوگ مہاراشٹر کے کونکن اور مالابار ساحل سے تعلق رکھنے والے بنی اسرائیل یہودیوں کی نسل سے تھے، جنہوں نے سندھ کی دھرتی کو اپنا مسکن بنایا۔ اس قبرستان کی نگہبانی گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک مقامی بلوچ خاندان کر رہا ہے، جو اس کی حفاظت کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

    برادری کا زوال، ہجرت اور موجودہ صورتحال

    1947 میں برصغیر کی تقسیم اور خصوصاً 1948 میں مشرقِ وسطیٰ میں ریاستِ اسرائیل کے قیام نے کراچی کی اس پرامن اور ہنرمند برادری کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ بین الاقوامی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی حالات، مسلم ممالک میں بڑھتے ہوئے جذبات اور پاکستان کی اندرونی معاشی و سیاسی تبدیلیوں کے باعث کراچی کے یہودیوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا۔

    ان حالات کے پیشِ نظر، 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں کراچی کے یہودیوں کی ایک بڑی تعداد خاموشی سے بھارت، خصوصاً ممبئی، برطانیہ، کینیڈا اور اسرائیل ہجرت کر گئی۔

    برادری کی شناخت کو سب سے بڑا اور آخری ثقافتی دھچکا 1988 میں لگا، جب رنچھوڑ لائن میں واقع ان کی تاریخی عبادت گاہ "مگین شالوم سینیگاگ” کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا اور اس کی جگہ مدیحہ اسکوائر تعمیر کر دیا گیا۔ اس عبادت گاہ کا خاتمہ دراصل کراچی کی کثیرالثقافتی اور روادار تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کی علامت تھا۔

    شناخت کا بحران اور موجودہ صورتحال

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک دستاویزی فلم اور مقامی محققین کی تحقیقات کے مطابق، آج بھی کراچی میں چند یہودی خاندان یا ان کے افراد موجود ہیں، لیکن وہ سماجی دباؤ، خوف اور امن و امان کی صورتحال کے باعث اپنی اصل شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رکھتے ہیں۔

    میوہ شاہ قبرستان کے گورکن اور مختلف دستاویزی شواہد کے مطابق، یہ افراد اب اپنے اصل ناموں کے بجائے قریشی یا دیگر مسلم خاندانی نام استعمال کرتے ہیں تاکہ مقامی آبادی میں گھل مل جائیں اور کسی بھی ممکنہ انتقام یا سماجی بائیکاٹ سے محفوظ رہ سکیں۔ وہ اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی یا پھول رکھنے کے لیے بھی سال میں ایک یا دو مرتبہ خاموشی سے آتے ہیں اور بعض اوقات خود کو پارسی یا کچھی میمن ظاہر کرتے ہیں تاکہ ان کی اصل شناخت مخفی رہے۔

    تاریخ کا قرض اور ہمارا فرض

    ایک ماہرِ بشریات یا مورخ جب آج کے کراچی کی عمارتوں کو دیکھتا ہے، تو اسے میری ویدر کلاک ٹاور پر بنا داؤدی ستارہ، فلیگ اسٹاف ہاؤس کے گیزری پتھر اور میوہ شاہ کی خاموش قبریں اس شہر کے اس رنگین ماضی کی یاد دلاتی ہیں، جو وقت کے ساتھ دھندلا چکا ہے۔ کراچی کی بنی اسرائیل برادری محض ایک اقلیت نہیں تھی، بلکہ اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ شہر کبھی کتنا وسیع القلب، محفوظ اور متنوع تھا، جہاں ہنر اور قابلیت کو مذہب سے بالاتر ہو کر عزت اور مواقع ملتے تھے۔

    موسیٰ سومیک کے تراشے ہوئے پتھر، ابراہیم روبن کے قائم کردہ تعلیمی ادارے اور رنچھوڑ لائن کی گلیاں آج بھی اس برادری کی خدمات کی خاموش گواہ ہیں۔ کراچی جتنا اپنے مسلم معماروں، پارسی مخیر حضرات اور ہندو تاجروں کا مقروض ہے، اتنا ہی وہ ان یہودی انجینئروں اور معماروں کا بھی احسان مند ہے جنہوں نے اس شہر کی بنیادوں میں اپنا علم، محنت اور صلاحیت شامل کی۔ جب تک ہم اپنے ماضی کے ان تمام رنگوں کو تسلیم نہیں کریں گے، ہم کراچی کی اصل روح اور اس کی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں کر سکیں گے۔ میوہ شاہ کی عبرانی قبریں آج بھی کراچی کے روادار اور کثیرالثقافتی ماضی کی ایک خاموش یادگار ہیں، جنہیں سمجھنے کے لیے تاریخی شعور اور وسیع النظر نگاہ کی ضرورت ہے۔

  • حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ میں سندھی زبان کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر امر فیاض برڑو نے بتایا کہ کمپیوٹنگ لینگویج دراصل وہ نظام ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر کسی زبان کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق کسی بھی زبان کو اے آئی فرینڈلی بنانے کے لیے اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ، معیاری رسم الخط، لغات، صوتی ڈیٹا اور گرائمر ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔ سندھی زبان کے لیے یہ عمل اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا رسم الخط اور صوتیات دیگر زبانوں سے مختلف ہیں۔

    امر فیاض برڑو نے بتایا کہ ادارہ سندھی زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ڈیجیٹل لغات اور خودکار ترجمے جیسے نظام تیار کر رہا ہے، تاکہ سندھی زبان جدید ٹیکنالوجی میں پیچھے نہ رہے۔

    انہوں نے بھٹا ڈاٹ اے آئی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کلاسیکی سندھی شاعری کو عالمی سطح پر قابل فہم بنانا اور اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زندہ رکھنا ہے۔

    ادارے کے مطابق شاہ لطیف کے کلام کو اے آئی کے ذریعے محفوظ اور قابلِ تلاش بنانا نہ صرف ادبی ورثے کا تحفظ ہے بلکہ سندھی زبان کو عالمی ڈیجیٹل مکالمے کا حصہ بنانے کی ایک عملی کوشش بھی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کاوشیں مستقبل میں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سندھی زبان کے استعمال کو وسیع کر سکتی ہیں اور نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

     

  • انگریزی تقریر پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی برہمی، آئندہ اردو کا حکم

    انگریزی تقریر پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی برہمی، آئندہ اردو کا حکم

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی شہید بےنظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر پر ناخوش ہو گئے اور آئندہ اردو میں تقریر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

    پشاور میں شہید بےنظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وائس چانسلر صاحبہ نے انگریزی میں تقریر کی جو انہیں پسند نہیں آئی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور تقریبات میں اردو کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگلی بار اگر انگریزی میں تقریر ہوئی تو انہیں غصہ آئے گا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل بھی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کو ہدایت دے چکے ہیں کہ سرکاری تقاریب میں اردو میں خطاب کیا جائے۔

  • ‘نامناسب زبان والے گانے سے سندھی زبان کی توہین’: گلوکار معشوق شر کو قانونی نوٹس جاری 

    ‘نامناسب زبان والے گانے سے سندھی زبان کی توہین’: گلوکار معشوق شر کو قانونی نوٹس جاری 

    سندھی گلوکار جام معشوق شر کو ان کے گانوں میں نامناسب زبان اور مواد استعمال کرنے کے الزام میں قانونی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ گلوکار کا تعلق ضلع سانگھڑ سے بتایا جاتا ہے۔

    یہ قانونی نوٹس حیدرآباد کے علاقے خورشید ٹاؤن کی رہائشی خاتون غزالہ حسین پنہور کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ گلوکار کے بعض گانے، خاص طور پر حال ہی میں وائرل ہونے والا ایک گانا، سندھی زبان اور ثقافتی شناخت کے خلاف ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔

    قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گانوں کے بول، انداز اور پیشکش قابل اعتراض ہیں، جن کی وجہ سے دنیا بھر میں سندھی عوام کے خلاف منفی تبصرے سامنے آئے ہیں۔ نوٹس میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس مواد سے سندھی قوم کے جذبات، عزت اور ثقافتی وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، خاص طور پر سندھی خواتین کو اس سے دکھ پہنچا ہے۔

    نوٹس کے مطابق گلوکار خود کو سوشل میڈیا پر بطور پیشہ ور گلوکار ظاہر کرتے ہیں، تاہم درخواست گزار اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایسا مواد سندھی ثقافت کے لیے نقصان دہ اور نامناسب ہے۔

    قانونی نوٹس کے ذریعے گلوکار کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر اس قسم کی گائیکی بند کریں۔ بصورت دیگر، نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف متعلقہ عدالت میں دیوانی، فوجداری اور آئینی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس کی تمام ذمہ داری گلوکار پر عائد ہوگی۔

    یہ قانونی نوٹس حیدرآباد سے جاری کیا گیا اور اس پر تاریخ 30 دسمبر 2025 درج ہے۔

    معشوق شر کی ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ فلم دھریندھر کے ایک مشہور عربی گانے کی پیروڈی گاتے نظر آتے ہیں۔ ان کی اس گائیکی پر اسی تقریب میں موجود معروف سندھی کامیڈین گاموں نے سخت تنقید کی، جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ معشوق شر نے گاموں کو قانونی نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی ہے۔

    دوسری جانب سندھ کے وزیرِ تعلیم نے بھی معشوق شر کی گائیکی پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ موسیقی کے شعبے میں معیار کی کمی اور ’خلا’ کی وجہ سے اس طرح کے فنکار سامنے آ رہے ہیں۔

  • منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے چیلہار شہر کے رہائشی اور ڈھاٹکی زبان کے شاعر اور متعدد کتابوں کے لکھاری،  صحرا  تھر کی  زبان لوک ادب لوک دانائی اور ثقافت پر کام کرنے والے بھارو مل امرانی کے مطابق ڈھاٹکی زبان کو تھر کے ریگستان میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور اس خطے کی اکثریت آبادی ڈھاٹکی زبان بولتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بھارومل امرانی نے کہا: ‘سندھ کے اس ریگستانی حصے کو مُردھر یا مروستھل بھی کہا جاتا ہے۔ ‘مُردھر’ یا ‘مروستھل’ کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔ مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔

    ‘مروگجر اور مروبھاشا کی طرح ریگستانی زبان کے لئے پنگل اور ڈنگل کا اصطلاح بھی 15ویں اور 16 ٓویں صدی میں مشہور ہوئی۔تھرپارکر درواڑی اور راجپوتی تھذیب کا سنگم ہے، تھرپارکر کی علاقائی تاریخ کی طرح زبان کی تاریخ بھی قدیم ہے۔

    ‘تھر کی زبان پے موھن جو دڑو کی امر مُھر لگی ہوئی ہے، دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے ماحول کا رنگ دے کر اپنے وجود میں شامل کرنے سے اس بولی کی  وسعت بڑتی گئی، تھرپارکر کی علائقائی بولی میں جہاں پانچ ہزار سال پرانے سندھی اور دراوڑی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں وہاں جدید دور کے سائنسی ایجادات کے سائنسی نام جنم لے رہے ہیں۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق  تھرپارکر علاقائی لحاظ سے سات حصوں ڈاٹ، ونگو، کنٹھو، کھاہوڑ،پارکر،سامروٹی اور وٹ پے مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حصوں میں ہر ایک حصے کا اپنا لہجا ہے۔ مگر مجموعی طور تھرپارکر میں بولی جانے والی زبان کے تیں لہجے ہیں۔ سندھی تھری، پارکری، ڈھاٹکی۔

    ‘ڈھاٹکی تھر کی اہم زبان ہے، جس کو سوڈکی بھی کہتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری سروے مطابق ضلع تھر میں 75 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 98 فیصد تھر کی آبادی ڈھاٹکی سمجھ اور بول سکتی ہے۔

    ‘دنیا کے لوک ادب کی طرح بادشاہوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی لوک کرداروں کی کہانیوں اور شعر و شاعری کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے،

    ‘موروں کے دلربا رقص اور حب الوطنی کے عظیم کردار مارئی کے داستان میں مھکتے ہوئے ڈھاٹکی کے گیتوں کو مقامی گلوکاروں مراد فقیر، مائی بھاگی، مائی ودھائی،موہن بھگت، استاد حسین فقیر، استاد شفیع فقیر، صادق فقیر، فوزیہ سومرو، عارب فقیر، حیدررند، بھگڑو ناچیز، انب فقیر،مصری ڈیپلائی، رجب فقیر، رفیق فقیر اور دیگر گلوکاروں نے دل و روح سے گایا ہے۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے تعاون سے ڈھاٹکی کی رسم الخط تیار کی گئی ہے۔ ڈھاٹکی زبان کے حروف تہجی کا تعداد 34 رکھا گیا ہے۔

    ڈھاٹکی پر سندھ میں ڈاکٹر پھلو سندر اور ہند میں ڈاکٹر مرلی بھوانانی نے پی ایچ ڈی کی ہے ۔ ڈھاٹکی سیکھنے کے کچھ کتاب شایع ہوئی ہیں۔ مگر اب تک ڈاٹکی کا کوئی جریدہ نہیں نکلتا۔ ریڈیو پاکستان مٹھی پے دو ڈھاٹکی کے پروگرام ڈھاٹی ماںجھا دھول اور تھر ری سرہان روزانہ نشر ہوتے ہیں۔ پیارو شوانی اور بھارومل امرانی نے شیخ ایاز کی شاعری کو ڈھاٹکی روپ دیا ہے۔ استاد لغاری نے شاھ جو رسالو کا ڈھاٹکی میں ترجمہ کیا ہے ۔

  • پاکستان کی آسکرز کے لیے نامزدگی مسترد: بروشسکی زبان کی فلم ‘ہن دن’ 98ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نااہل قرار

    پاکستان کی آسکرز کے لیے نامزدگی مسترد: بروشسکی زبان کی فلم ‘ہن دن’ 98ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نااہل قرار

    عالمی آسکرز ایوارڈ دینے والی مطابق اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) نے پاکستان کی جانب سے 98ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) میں بہترین بین الاقوامی فلم کے لیے بروشسکی زبان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم ‘ہن دن’ کی نامزگی کو ناہل قرار دے دیا۔

    اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) کی کمیٹی نے فلم کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے ‘تکنیکی خامیوں’ اور بعد ازاں ‘مقررہ وقت پر نامزدگی جمع نہ کرانے’ کو وجہ قرار دیا۔

    ‘ہن دن’ پاکستان میں بروشسکی زبان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم ہے۔ اقوام متحدہ نے بروشسکی کو دنیا کی معدوم ہوتی ہوئی زبانوں میں شامل کیا ہے۔
    یہ فلم کرامت علی کی ہدایت کاری میں بنائی گئی تھی اور پاکستانی آسکرز کمیٹی نے اسے ملک کی سرکاری نمائندگی کے لیے منتخب کیا تھا۔

    ہدایتکار کا ‘لیٹ سبمشن’ فیصلے کو چیلنج

    فلم کے ٹیم نے اکیڈمی کے سخت قواعد کی پابندی کو یقینی بنانے کے باوجود نامزدگی کے مسترد ہونے کی کوششیں کیں۔ ہدایتکار کرامت علی نے تصدیق کی کہ ان کی ٹیم نے فلم اور ضروری ضمنی مواد، بشمول مکمل کاسٹ اور عملے کی فہرست اور انگریزی سب ٹائٹلز، بروقت جمع کرائے تھے، لیکن اکیڈمی نے بعد میں اس سبمیشن کو نااہل قرار دے دیا۔

    علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی آسکرز کمیٹی کے چیئرمین محمد علی نقوی کے ساتھ مل کر بروقت جمع کرانے کا ثبوت ٹائم اسٹیمپ کے ساتھ اکیڈمی کو بھیجا، لیکن اپیل کو آخر کار مسترد کر دیا گیا۔

    انہوں نے کہا،’میں نے چیئرمین آسکرز کمیٹی محمد علی نقوی کی مدد سے ٹائم اسٹیمپ کے ساتھ جمع کرانے کا ثبوت آسکرز کو بھیجا، تاہم بعد میں یہ مسترد ہو گیا اور محمد علی نقوی نے ہدایتکار کو بتایا کہ اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔’

    کمیٹی کے چیئرمین کا تبصرہ کرنے سے انکار

    جب اس مستردگی اور اکیڈمی کی طرف سے دی گئی وجوہات کے بارے میں ساگا ڈیجیٹل کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو پاکستانی آسکرز کمیٹی کے چیئرمین محمد علی نقوی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

    فلم ‘ہن دن’ کی کہانی بروشسکی خطے کے ثقافتی اور معاشرتی پہلوؤں پر مبنی ہے، اور اسے بین الاقوامی فلم میلوں میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس نامزدگی کی مستردگی پاکستان کے لیے عالمی سطح پر علاقائی سینما کی شناخت حاصل کرنے کی کوششوں میں ایک بڑا دھچکا ہے۔

    آسکرز کے 98ویں ایوارڈز میں اسٹیج پر دنیا بھر کی بہترین بین الاقوامی فلموں کے درمیان مقابلہ ہوگا، جس میں ہر سال سینکڑوں ممالک کی فلمیں حصہ لیتی ہیں۔

    آسکر ایوارڈ، جسے اکیڈمی ایوارڈز بھی کہا جاتا ہے، فلمی دنیا کا سب سے مشہور اور معیاری ایوارڈ ہے۔ یہ ایوارڈ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) کی طرف سے ہر سال دیے جاتے ہیں اور فلمی صنعت میں نمایاں کامیابی، ہنر اور بہترین کام کو سراہتے ہیں۔

    آسکر کے ایوارڈز مختلف زمروں میں دیے جاتے ہیں، جیسے کہ بہترین فلم، بہترین ہدایتکار، بہترین اداکار و اداکارہ، بہترین بین الاقوامی فل، بہترین دستاویزی فلم اور اینیمیشن وغیرہ

    یہ ایوارڈ فلمی صنعت میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ معترف اور معتبر سمجھا جاتا ہے، اور جیتنے والے کو عالمی شہرت ملتی ہے۔
    ہر سال دنیا بھر کی فلمیں آسکر کے لیے نامزد کی جاتی ہیں، اور مختلف کمیٹیوں کے جائزے اور ووٹنگ کے بعد فاتح کا اعلان ہوتا ہے۔

    پاکستان نے بھی ماضی میں آسکرز میں حصہ لینے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی فلمیں، خاص طور پر علاقائی زبانوں میں بنی فلمیں، اس زمرے میں نامزد کی گئی ہیں تاکہ پاکستان کی سینما کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا جا سکے۔ تاہم کئی بار تکنیکی وجوہات یا قواعد کی خلاف ورزی کی بنیاد پر نامزدگی مسترد ہو گئی۔

  • سندھی زبان ایکٹ کی منظوری کی روداد

    سندھی زبان ایکٹ کی منظوری کی روداد

    تقریباً 52 سال قبل، یعنی سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی سے سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال کا قانون، جسے سندھی زبان ایکٹ کہا جاتا ہے، منظور ہوا۔

    اس بات میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ انگریزوں نے سندھی زبان کو اس کا جائز مقام دیا۔ اس سے پہلے کلہوڑا اور تالپور دور میں سندھ کی درباری اور سرکاری زبان فارسی تھی، جبکہ عوام کی اکثریتی زبان سندھی تھی۔

    1853 میں سندھ کے کمشنر سر بارٹلمی فریئر نے سندھی الفابیٹ تیار کروایا اور جولائی 1853 میں اسے سرکاری طور پر اسکولوں، دفاتر، عدالتوں، پولیس، ریونیو محکمے سمیت تمام سرکاری امور میں نافذ کیا۔

    انگریز دور میں پہلی بار سندھی زبان میں بیرونی دنیا کا ادب ترجمہ ہوا اور پہلی مرتبہ سندھی کتابیں پریس میں شائع ہوئیں۔ انگریزوں کے جانے کے بعد 1948 میں کراچی کو سندھ سے الگ کیا گیا اور کراچی شہر سے سندھ یونیورسٹی اور سندھی زبان کو نکال دیا گیا۔
    چند سال بعد اکتوبر 1955 میں سندھ کو ون یونٹ کے شکنجے میں جکڑ کر اس کے وجود کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔

    ون یونٹ کے خلاف جدوجہد میں سیاست دانوں سے زیادہ کردار سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ نے ادا کیا۔ ون یونٹ کے دور میں سندھ میں شاندار ادبی اور سیاسی مواد تخلیق ہوا، جس کے نتیجے میں سندھ اور سندھی زبان کے خلاف کی گئی سازشیں ناکام ہوئیں اور یکم جولائی 1970 کو ون یونٹ کا باقاعدہ خاتمہ ہوا۔

    سندھی زبان کا ایکٹ سندھ اسمبلی سے منظور ہونے پر اُس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو کو کاندھے پر اٹھا کر لوگ جشن منایا۔

    جنرل یحییٰ خان کی جانب سے جاری ایل ایف او کے تحت 1970 کے انتخابات میں مرکز نے ووٹر لسٹیں اردو میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف ’ووٹر لسٹیں سندھی میں شائع کرو’ کی تحریک چلی اور بالآخر حکومت کو ووٹر لسٹیں سندھی زبانمیں شائع کرنا پڑیں۔

    انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کی علیحدگی کا سانحہ پیش آیا اور موجودہ پاکستان کی باگ ڈور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں آئی۔ انہوں نے 1972 میں عبوری آئین قومی اسمبلی سے منظور کرا کے مارشل لا کا خاتمہ کیا، اور اپریل 1972 میں صوبائی اسمبلیوں نے حلف اٹھایا۔

    چوں کہ سندھی زبان کے ساتھ ماضی میں شدید ناانصافیاں ہو چکی تھیں، اس لیے اسے اسکولوں اور دفاتر کی سرکاری زبان بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ عبوری آئین کی دفعہ 267 کے مطابق:
    ‘پاکستان کی قومی زبانیں بنگالی اور اردو ہوں گی، جبکہ انگریزی زبان سرکاری اور دیگر مقاصد کے لیے اس وقت تک استعمال کی جا سکے گی جب تک اس کا متبادل فراہم نہ ہو جائے۔

    ‘قومی زبانوں کی حیثیت کو نقصان پہنچائے بغیر، صوبائی اسمبلیاں قانون کے ذریعے صوبائی زبانوں کی تدریس، ترویج اور استعمال کے لیے اقدامات کر سکتی ہیں۔’

    دفعہ 267 کی ذیلی شق دو کے تحت سندھ اسمبلی کو یہ آئینی اختیار ملا کہ وہ سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور تدریس کے استعمال کے لیے قانون سازی کر سکے۔ اسی آئینی بنیاد پر 3 جولائی 1972 کو ‘سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال’ کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

    سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کا آڈر آف دی ڈے

    بل کے پیش ہوتے ہی تعصب پرست عناصر نے فسادات برپا کیے۔ جنگ اخبار نے ‘اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے’ کی سرخی لگا کر آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔

    بل پیش ہونے کے چار دن بعد، جمعہ 7 جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی میں اس بل پر بحث ہوئی اور اسی دن اسے منظور کر لیا گیا۔
    سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال ایکٹ 1972 کے اہم نکات

    الف: چوتھی سے بارہویں جماعت تک جہاں سندھی ذریعۂ تعلیم ہے، وہاں سندھی اور اردو کو لازمی مضامین قرار دیا جائے گا۔
    ب: لازمی مضمون کے طور پر سندھی کی تعلیم چوتھی جماعت سے شروع ہو کر مرحلہ وار بارہویں جماعت تک نافذ کی جائے گی۔
    ج: سندھی زبان کے فروغ اور ثقافتی ترقی کے لیے حکومت اکیڈمیاں اور بورڈ قائم کر سکتی ہے۔

    د: حکومت آئینی حدود میں رہتے ہوئے دفاتر، سرکاری محکموں، عدالتوں اور اسمبلی میں سندھی زبان کے مرحلہ وار استعمال کے انتظامات کر سکتی ہے۔

    سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی میں کیا ہوا؟
    سات جولائی 1972 بروز جمعہ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر خان صاحب غلام رسول خان کیہر کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں درج ذیل اراکین شریک تھے:
    اراکین کے نام جوں کے توں درج
    اس اجلاس میں سیکریٹری کے فرائض جمال ابڑو ادا کر رہے تھے۔ اجلاس کے آغاز میں قاری شاکر قاسمی نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔

    بعد ازاں وزیر قانون و پارلیمانی امور سید قائم علی شاہ نے تحریک پیش کی کہ سوال جواب کا وقفہ اور دیگر امور ملتوی کر کے ایجنڈا نمبر سات کے تحت سندھی زبان بل پر بحث کی اجازت دی جائے۔ اس تحریک کی مخالفت شاہ فرید الحق اور ظہور الحسن بھوپالی نے کی، مگر تحریک منظور ہو گئی۔

    وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی خان بھٹو نے کہا کہ چوں کہ یہ ایک اہم اور حساس مسئلہ ہے، اس لیے اس پر مکمل اور بھرپور بحث ہونی چاہیے تاکہ تمام غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔

    بل پیش ہونے کے بعد اسے اسی دن منظور کرنے کی تحریک لائی گئی، جس کی کچھ اراکین نے مخالفت کی، مگر یہ تحریک بھی منظور ہو گئی اور عمومی بحث شروع ہوئی۔

    بل کی حمایت اور مخالفت میں مختلف اراکین نے تقاریر کیں۔
    بعد ازاں بل کی شق وار منظوری شروع ہوئی۔ جب شق نمبر دو منظور ہو رہی تھی تو اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس موقع پر وزیر صحت عبدالوحید کٹپر نے مائیک پر کہا: ‘خس کم، جہاں پاک’

    اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود، رکن اسمبلی سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہو رہے مگر اس بل کی منظوری کے معاملے پر حکومت کے ساتھ ہیں، جس پر حکومتی بنچوں نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔
    آخرکار بل منظور ہونے کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔