سندھ کے ساحل پر واقع کراچی شہر کی تاریخ محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ دنیا بھر سے آنے والے مختلف عقائد، زبانوں اور تہذیبوں کے ملاپ کی ایک سحر انگیز داستان ہے۔
انیسویں صدی کے وسط میں، جب برطانوی راج کے تحت کراچی کے بندرگاہی شہر اور اولڈ ٹاؤن کی ایک مچھیروں کی بستی کو بین الاقوامی تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی تھی، تو یہ شہر برصغیر اور اس سے باہر کے کئی ہنرمند اور کاروباری طبقات کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرا۔
کراچی کی اس شاندار تعمیر و ترقی میں جہاں پارسیوں کی تجارتی بصیرت، گوانز کی سماجی خدمات اور ہندو تاجروں کی معاشی قوت کا ذکر عام ملتا ہے، وہاں تاریخ کا ایک ایسا باب بھی ہے جو وقت کی دھول اور سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو کر عوامی حافظے سے مٹ چکا ہے۔
یہ باب ہے کراچی میں آباد ہونے والی "بنی اسرائیل” یہودی برادری کا۔ یہ وہ ہنرمند، تعلیم یافتہ اور محنتی طبقہ تھا جس نے کراچی کی بندرگاہ کو سنبھالا، یہاں کی عدلیہ اور بلدیہ میں اہم کردار ادا کیا، اور شہر کو ایسی لازوال عمارتیں دیں جو آج بھی کراچی کی پہچان اور اس کا فخر ہیں۔
موجودہ دور میں، جہاں مسلم اور یہودی تعلقات کو محض مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی تناظر اور جغرافیائی کھنچاؤ کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے، وہاں کراچی کی تاریخ ہمیں ایک بالکل مختلف اور حیرت انگیز حقیقت سے شناسائی کراتی ہے۔
یہ ایک ایسے دور کی کہانی ہے جب کراچی کی سڑکوں پر گجراتی اور کچھی بولنے والے یہودی، سندھی تاجروں اور مسلم مچھیروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کاروبار کرتے تھے اور سڑکوں پر داؤدی ستارہ اور چاند تارا (ہلال) مل کر شہر کی کثیرالثقافتی اور روادار پہچان کی گواہی دیتے تھے۔

بنی اسرائیل برادری کا پس منظر اور کراچی آمد
کراچی میں آباد ہونے والے یہودیوں کا تعلق کسی یورپی یا مشرقِ وسطیٰ کے خطے سے نہیں تھا، سوائے چند عراقی یہودی خاندانوں کے، بلکہ ان کی اکثریت "بنی اسرائیل” برادری سے تعلق رکھتی تھی۔
تاریخی اور بشریاتی ریکارڈ کے مطابق، بنی اسرائیل برادری کے اسلاف صدیوں پہلے، بعض روایات کے مطابق دو ہزار سال قبل، ایک بحری حادثے کے نتیجے میں ہندوستان کے مغربی ساحلوں، خاص طور پر مہاراشٹر کے خطہ کونکن اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں آ کر آباد ہوئے تھے۔
صدیاں گزرنے کے ساتھ یہ لوگ مقامی ہندوستانی ثقافت، زبان اور رہن سہن میں اس طرح رچ بس گئے کہ ان کے ناموں کے ساتھ مہاراشٹرین لاحقے لگ گئے اور ان کی مادری زبان بھی مقامی ہو گئی۔ جب 1839 میں انگریزوں نے کراچی کے تزویراتی مقام منوڑا پر قبضہ کیا اور 1843 میں سر چارلس نیپئر نے سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا، تو بمبئی اور گجرات سے ہجرت کی ایک لہر شروع ہو گئی۔
بمبئی سے آنے والے ان مہاجرین میں بنی اسرائیل برادری کے وہ لوگ شامل تھے جو نئے مواقع، روزگار اور ایک ابھرتے ہوئے شہر کا حصہ بننے کے لیے کراچی منتقل ہو رہے تھے۔ انہوں نے کراچی پہنچ کر پرانے شہر کے علاقوں میں ڈیرے جمائے اور بہت جلد شہر کے معاشی اور تکنیکی ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ بن گئے۔

زبان، ثقافت اور سماجی رچاؤ
کراچی کے یہودیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کا مقامی ثقافتی رچاؤ تھا۔ وہ کوئی بیرونی یا اجنبی طبقہ نہیں لگتے تھے، بلکہ ان کی روزمرہ کی زبان گجراتی اور کچھی (سندھی) تھی۔ وہ آپس میں اور مقامی تاجروں کے ساتھ اسی زبان میں گفتگو کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے مابین معاشی اور سماجی روابط انتہائی گہرے اور مضبوط ہو گئے۔
ان کی ثقافتی شناخت کا مرکز پرانے کراچی کا علاقہ رنچھوڑ لائن تھا، جہاں ان کی مرکزی اور واحد عبادت گاہ "مگین شالوم سینیگاگ” واقع تھی۔ یہ عبادت گاہ محض ایک مذہبی مرکز نہیں تھی، بلکہ اس دور کی لسانی اور حقیقی رواداری کی ایک بڑی مثال تھی۔ اس سینیگاگ کے باہر جو سائن بورڈ لگے تھے، ان پر صرف عبرانی زبان ہی نہیں لکھی ہوتی تھی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اردو اور گجراتی زبان میں بھی عبارت درج تھی تاکہ مقامی آبادی اور وہاں سے گزرنے والے لوگ اسے آسانی سے پڑھ سکیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ برادری نے خود کو کبھی ایک الگ تھلگ جزیرہ بنانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہ شہر کے لسانی دھارے کے ساتھ ساتھ بہتی رہی۔

شپ انجینئرنگ اور کارپوریٹ شعبے میں مہارت
برطانوی راج کے دوران کراچی پورٹ ٹرسٹ کی تشکیل اور کیماڑی بندرگاہ کی جدید بنیادوں پر توسیع ایک بہت بڑا چیلنج تھی۔ اس منصوبے کے لیے نہ صرف بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت تھی بلکہ ایسے لوہے کے کام کے ماہرین اور انجینئرز مطلوب تھے جو سمندر کے ماحول اور جہاز رانی کے تکنیکی معاملات کو سمجھتے ہوں۔ یہودی برادری کے نوجوانوں اور ماہرین نے اس خلا کو پُر کیا۔
انہوں نے کیماڑی بندرگاہ کے کارخانوں میں بطور تکنیکی ماہر ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ بحری جہازوں کی مرمت، بوائلروں کی دیکھ بھال اور لوہے کے پیچیدہ کاموں میں اپنی غیر معمولی مہارت ثابت ک اور بندرگاہ پر کارگو کی لادائی اور اتارائی کے لیے جدید انتظامی نظام وضع کیے۔
ان کی یہ مہارت محض نجی شعبے یا بندرگاہ تک محدود نہ رہی۔ ان کی اعلیٰ تعلیم، انگریزی زبان پر عبور اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے باعث برطانوی حکومت نے انہیں اہم سرکاری محکموں میں ذمہ داریاں سونپیں۔ یہودی برادری کے افراد برطانوی کسٹمز، نارتھ ویسٹرن ریلوے، ڈاک و تار کے محکمے اور برطانوی فوج کے انتظامی شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور شہر کے نظم و نسق کو چلانے میں برطانوی افسران کے قابلِ بھروسا ساتھی بنے۔
موسیٰ سومیک: کراچی کا معمارِ اعظم
جب ہم کراچی کی نوکلاسیکی اور وکٹورین طرزِ تعمیر کی تاریخی عمارتوں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمارا سامنا ایک ایسے نام سے ہوتا ہے جس نے کراچی کے افق کو اپنے فن سے امر کر دیا۔ یہ نام موسیٰ سومیک کا ہے۔ سومیک کا تعلق عراقی یہودی نسل سے تھا، جس کا خاندان بغداد سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا تھا۔ وہ ایک غیر معمولی ذہین اور تخلیقی معمار تھے، جنہوں نے کراچی کے مقامی گیزری پتھر کو اس مہارت سے تراشا کہ عمارتیں گویا بول اٹھیں۔

فلیگ اسٹاف ہاؤس (قائداعظم ہاؤس میوزیم)
صدر کے علاقے میں واقع یہ عمارت کراچی کی سب سے خوبصورت اور پروقار رہائشی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ موسیٰ سومیک نے اسے گیزری پتھر سے نوگوتھک طرزِ تعمیر میں ڈیزائن کیا، جس میں شاندار محرابیں، لکڑی کی بالکونیاں اور ڈھلوانی چھتیں بنائی گئیں۔ یہ عمارت اپنی خوبصورتی کی وجہ سے اتنی مقبول ہوئی کہ بعد میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے اسے اپنی ذاتی رہائش گاہ کے طور پر خرید لیا۔ آج یہ عمارت ایک عجائب گھر کی صورت میں شہر کے مرکز میں اس یہودی معمار کے فن کی گواہی دے رہی ہے۔
مولز مینشن
کیماڑی بندرگاہ کے قریب واقع یہ تاریخی اور طویل عمارت برطانوی دور میں بندرگاہ کے انتظامی امور، دفاتر اور افسران کی رہائش کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا نام کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ایک مشہور چیئرمین ہنری چارلس مولز کے نام پر رکھا گیا تھا۔ موسیٰ سومیک نے اس عمارت کو اس انداز سے ڈیزائن کیا کہ یہ سمندر کی تیز ہواؤں کا دباؤ برداشت کر سکے اور دور سے دیکھنے پر ایک قلعے کا منظر پیش کرے۔
ایڈورڈ ہاؤس
صدر کے مشہور علاقے میں عبداللہ ہارون روڈ پر واقع ایڈورڈ ہاؤس اپنے دور کی جدید ترین رہائشی اور تجارتی عمارت تھی۔ اس کی نچلی منزل پر دکانیں اور کیفے تھے، جبکہ بالائی منزل پر پرتعیش رہائشی فلیٹ تعمیر کیے گئے تھے۔ اس کی بالکونیوں کا ڈیزائن اور کھڑکیوں کی بناوٹ موسیٰ سومیک کے منفرد یورپی اور ہندوستانی مشترکہ طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔

بی وی ایس پارسی ہائی اسکول اور کے جی اے ہال
موسیٰ سومیک کی رواداری اور فن کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صرف اپنی برادری کے لیے کام نہیں کیا، بلکہ دیگر اقلیتوں کے تعلیمی اور سماجی منصوبوں کو بھی ڈیزائن کیا۔ کراچی کے مشہور بائی ویربائی سپاری والا پارسی بوائز اسکول کی مرکزی تاریخی عمارت اور صدر میں واقع کراچی گوان ایسوسی ایشن ہال، جو گوان عیسائی برادری کا مرکز تھا، بھی موسیٰ سومیک ہی کے فن کا شاہکار ہیں۔
میری ویدر کلاک ٹاور کی تاریخی حقیقت
کراچی کے تجارتی مرکز آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع میری ویدر کلاک ٹاور کی بیرونی دیواروں کا اگر باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو اس پر وکٹورین نقش و نگار کے درمیان واضح طور پر چھ کونوں والا داؤدی ستارہ کھدا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ کلاک ٹاور سر ولیم میری ویدر کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا، اور اس پر اس نشان کی موجودگی اس دور کے کراچی میں یہودی برادری کے اثرات اور شہر کی کشادہ دلی کا اہم ثبوت سمجھی جاتی ہے۔
بلدیاتی سیاست اور سماجی اثر و رسوخ
کراچی کے یہودیوں نے شہر کو محض عمارتیں اور ٹیکس ہی نہیں دیے، بلکہ انہوں نے بلدیاتی سیاست اور عوامی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سلسلے میں سب سے معتبر اور تاریخی نام ابراہیم روبن کا ہے۔
ابراہیم روبن بنی اسرائیل برادری کے ایک مخلص اور متحرک رہنما تھے۔ وہ اپنی عوامی خدمات اور دیانت داری کی وجہ سے کراچی کے عوام میں اس قدر مقبول تھے کہ 1919، 1936 اور پھر 1939 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے کونسلر منتخب ہوئے۔ وہ کراچی کی تاریخ کے پہلے یہودی کونسلر تھے جنہیں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ووٹ دے کر بلدیہ میں اپنا نمائندہ منتخب کیا۔
ابراہیم روبن نے کونسلر کی حیثیت سے لیاری کے پسماندہ اور غریب مچھیروں کے بچوں کے لیے ایک اسکول بھی قائم کیا، جس نے کئی دہائیوں تک وہاں کے بچوں کو تعلیم فراہم کی۔
ان کے علاوہ بلدیہ کراچی میں ایک طویل عرصے تک بطور سینیٹری سپروائزر اور سرویئر خدمات انجام دینے والے ایک یہودی سولومن ڈیوڈ تھے۔ ان کی عوامی خدمات کے اعتراف میں پرانے شہر کے علاقے رنچھوڑ لائن میں ایک سڑک کا نام "سولومن ڈیوڈ اسٹریٹ” رکھا گیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اس کا نام تبدیل کر دیا گیا، لیکن یہ مقام آج بھی اپنے پرانے نام سے جانا جاتا ہے اور اس برادری کے سماجی اثر و رسوخ کی یاد دلاتا ہے۔
رہائشی جغرافیہ: پرانے کراچی کے مراکز
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، اگرچہ کچھ خوش حال اور تاجر یہودی صدر، سول لائنز اور کیماڑی کے علاقوں میں رہتے تھے، لیکن برادری کی اکثریت اور ان کی سماجی زندگی کا اصل مرکز پرانے کراچی کے گنجان آباد علاقے تھے۔

رنچھوڑ لائن اور رام سوامی
یہ علاقے یہودی آبادی کا دھڑکتا ہوا دل تھے۔ یہاں غریب اور متوسط طبقے کے یہودی خاندان رہتے تھے، جن کے مسلم اور ہندو پڑوسیوں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ ان کی دکانیں اور چھوٹے کارخانے بھی اسی علاقے کے آس پاس تھے۔
لارنس روڈ (موجودہ نسیم الٰہی روڈ) اور سولجر بازار
ان علاقوں میں برادری کے وہ لوگ مقیم تھے جو سرکاری ملازمتوں یا بڑے تجارتی اداروں سے وابستہ تھے۔ ان کی شامیں لارنس روڈ کے پارکوں اور برادری کے ہالوں میں گزرتی تھیں۔
آخری آرام گاہیں: تاریخ کے خاموش گواہ
کسی بھی برادری کی مٹی سے تعلق کا سب سے بڑا ثبوت اس کے قبرستان ہوتے ہیں۔ کراچی میں بنی اسرائیل برادری کی دو اہم آخری آرام گاہیں موجود ہیں، جو آج تاریخ کے خاموش اور دردناک گواہ بن چکی ہیں۔
کچھی میمن قبرستان کا یہودی گوشہ (لیاری، رنچھوڑ لائن)
یہ جگہ کراچی کی تاریخ میں بلدیاتی اور مذہبی رواداری کی ایک منفرد مثال ہے۔ لیاری کے علاقے میں موجودہ چیل چوک کے قریب واقع کچھی میمن قبرستان بنیادی طور پر مسلمانوں کا قبرستان ہے، لیکن اس کے ایک حصے میں یہودی برادری کی قبریں بھی موجود ہیں۔
تاریخی شواہد کے مطابق، چونکہ یہودی آبادی رنچھوڑ لائن اور لیاری کے آس پاس بڑی تعداد میں رہتی تھی اور ان کے مسلم کچھی میمن برادری کے ساتھ نہایت گہرے دوستانہ اور کاروباری تعلقات تھے، اس لیے باہمی رضامندی سے اس مسلم قبرستان کا ایک حصہ ان کی تدفین کے لیے مختص کیا گیا۔ محققین کے مطابق یہاں تقریباً 25 سے 50 یہودی قبریں موجود ہیں، جن میں سب سے قدیم قبر 1851 کی بتائی جاتی ہے۔ ان قبروں کی دیکھ بھال آج بھی مقامی مسلم گورکن اور انتظامیہ کرتے ہیں، جو اس شہر کے بچھڑے ہوئے حسن کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
میوہ شاہ قبرستان میں بنی اسرائیل کمپاؤنڈ
لیاری ندی کے کنارے واقع میوہ شاہ قبرستان کراچی کا سب سے بڑا اور قدیم ترین قبرستان ہے۔ اسی قبرستان کے اندر ایک الگ، چاردیواری سے گھرا ہوا ڈھائی ایکڑ پر مشتمل احاطہ ہے، جسے باقاعدہ طور پر "بنی اسرائیل قبرستان” کہا جاتا ہے۔
اس کا کل رقبہ تقریباً ڈھائی ایکڑ ہے، جو آٹھ سے 10 فٹ بلند چاردیواری سے گھرا ہوا ہے۔ یہاں تقریباً 250 سے 400 تاریخی قبریں موجود ہیں، جو سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کی گئی ہیں۔ ان پر سندھ کے روایتی چوکنڈی طرزِ تعمیر کے اثرات اور گنبد نما سائبان دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کتبوں پر عبرانی اور انگریزی زبان میں دعائیں اور معلومات درج ہیں۔ یہاں آخری تدفین 1980 کی دہائی کے وسط، یعنی 1983 یا 1987 میں ہوئی تھی۔
اس قبرستان کے کتبوں پر درج نام بھی انتہائی دلچسپ ہیں۔ یہاں ایلیزر جیکب بھورپکر اور جیکب سلیمان کامرلکر جیسے نام ملتے ہیں۔ ان ناموں کے آخر میں آنے والا لاحقہ "کر” واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ لوگ مہاراشٹر کے کونکن اور مالابار ساحل سے تعلق رکھنے والے بنی اسرائیل یہودیوں کی نسل سے تھے، جنہوں نے سندھ کی دھرتی کو اپنا مسکن بنایا۔ اس قبرستان کی نگہبانی گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک مقامی بلوچ خاندان کر رہا ہے، جو اس کی حفاظت کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

برادری کا زوال، ہجرت اور موجودہ صورتحال
1947 میں برصغیر کی تقسیم اور خصوصاً 1948 میں مشرقِ وسطیٰ میں ریاستِ اسرائیل کے قیام نے کراچی کی اس پرامن اور ہنرمند برادری کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ بین الاقوامی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی حالات، مسلم ممالک میں بڑھتے ہوئے جذبات اور پاکستان کی اندرونی معاشی و سیاسی تبدیلیوں کے باعث کراچی کے یہودیوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا۔
ان حالات کے پیشِ نظر، 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں کراچی کے یہودیوں کی ایک بڑی تعداد خاموشی سے بھارت، خصوصاً ممبئی، برطانیہ، کینیڈا اور اسرائیل ہجرت کر گئی۔
برادری کی شناخت کو سب سے بڑا اور آخری ثقافتی دھچکا 1988 میں لگا، جب رنچھوڑ لائن میں واقع ان کی تاریخی عبادت گاہ "مگین شالوم سینیگاگ” کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا اور اس کی جگہ مدیحہ اسکوائر تعمیر کر دیا گیا۔ اس عبادت گاہ کا خاتمہ دراصل کراچی کی کثیرالثقافتی اور روادار تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کی علامت تھا۔
شناخت کا بحران اور موجودہ صورتحال
ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک دستاویزی فلم اور مقامی محققین کی تحقیقات کے مطابق، آج بھی کراچی میں چند یہودی خاندان یا ان کے افراد موجود ہیں، لیکن وہ سماجی دباؤ، خوف اور امن و امان کی صورتحال کے باعث اپنی اصل شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رکھتے ہیں۔
میوہ شاہ قبرستان کے گورکن اور مختلف دستاویزی شواہد کے مطابق، یہ افراد اب اپنے اصل ناموں کے بجائے قریشی یا دیگر مسلم خاندانی نام استعمال کرتے ہیں تاکہ مقامی آبادی میں گھل مل جائیں اور کسی بھی ممکنہ انتقام یا سماجی بائیکاٹ سے محفوظ رہ سکیں۔ وہ اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی یا پھول رکھنے کے لیے بھی سال میں ایک یا دو مرتبہ خاموشی سے آتے ہیں اور بعض اوقات خود کو پارسی یا کچھی میمن ظاہر کرتے ہیں تاکہ ان کی اصل شناخت مخفی رہے۔
تاریخ کا قرض اور ہمارا فرض
ایک ماہرِ بشریات یا مورخ جب آج کے کراچی کی عمارتوں کو دیکھتا ہے، تو اسے میری ویدر کلاک ٹاور پر بنا داؤدی ستارہ، فلیگ اسٹاف ہاؤس کے گیزری پتھر اور میوہ شاہ کی خاموش قبریں اس شہر کے اس رنگین ماضی کی یاد دلاتی ہیں، جو وقت کے ساتھ دھندلا چکا ہے۔ کراچی کی بنی اسرائیل برادری محض ایک اقلیت نہیں تھی، بلکہ اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ شہر کبھی کتنا وسیع القلب، محفوظ اور متنوع تھا، جہاں ہنر اور قابلیت کو مذہب سے بالاتر ہو کر عزت اور مواقع ملتے تھے۔
موسیٰ سومیک کے تراشے ہوئے پتھر، ابراہیم روبن کے قائم کردہ تعلیمی ادارے اور رنچھوڑ لائن کی گلیاں آج بھی اس برادری کی خدمات کی خاموش گواہ ہیں۔ کراچی جتنا اپنے مسلم معماروں، پارسی مخیر حضرات اور ہندو تاجروں کا مقروض ہے، اتنا ہی وہ ان یہودی انجینئروں اور معماروں کا بھی احسان مند ہے جنہوں نے اس شہر کی بنیادوں میں اپنا علم، محنت اور صلاحیت شامل کی۔ جب تک ہم اپنے ماضی کے ان تمام رنگوں کو تسلیم نہیں کریں گے، ہم کراچی کی اصل روح اور اس کی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں کر سکیں گے۔ میوہ شاہ کی عبرانی قبریں آج بھی کراچی کے روادار اور کثیرالثقافتی ماضی کی ایک خاموش یادگار ہیں، جنہیں سمجھنے کے لیے تاریخی شعور اور وسیع النظر نگاہ کی ضرورت ہے۔









