حیدرآباد کی تنگ و پُررونق گلیوں میں محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ایک ایسی روایت بھی زندہ ہو جاتی ہے جو صرف مذہبی عقیدت ہی نہیں بلکہ شہر کی تہذیبی شناخت کا بھی اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ سات محرم کی تاریخی مہندی، ایک ایسی منفرد رسم ہے جس میں سینکڑوں خواتین اور بچیاں اپنی دعاؤں، امیدوں اور منتوں کے ساتھ شریک ہوتی ہیں۔
یہ تاریخی مہندی کی سب سے معروف اور قدیم تقریب شہر کے قدیم علاقے پکا قلعہ کے نزدیک واقع گل شاہ بخاری امام بارگاہ میں منعقد ہوتی ہے۔
یہ امام بارگاہ 1876 میں قائم ہوئی تھی اور حیدرآباد کی قدیم ترین امام بارگاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ 7 محرم کی رات یہاں خواتین اور بچیوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے، جبکہ فجر کے وقت مہندی، سہرے، چادریں اور دیگر متبرک اشیاء جلوس کی صورت میں قریبی تاریخی مقام قدم گاہ مولا علیؑ لے جائی جاتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد کی یہ روایت صرف ایک امام بارگاہ تک محدود نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ شہر کے مختلف شیعہ محلوں اور امام بارگاہوں میں بھی مہندی کی مجالس اور تقریبات منعقد ہونے لگیں، تاہم گل شاہ بخاری امام بارگاہ کی مہندی کو سب سے قدیم اور مرکزی تقریب سمجھا جاتا ہے۔
گل شاہ بخاری امام بارگاہ کی متولی سیدہ کلثوم شاہ کے مطابق یہ روایت حضرت قاسمؑ کی یاد سے منسوب ہے، جو حضرت امام حسینؑ کے بھتیجے اور کربلا کے کم عمر شہداء میں شامل تھے۔
سیدہ کلثوم شاہ بتاتی ہیں کہ سات محرم کی رات خواتین بڑی عقیدت کے ساتھ امام بارگاہ آتی ہیں، مہندی چڑھاتی ہیں، سہرے پیش کرتی ہیں اور اپنی منتیں مانگتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی خاندان نسل در نسل اس روایت سے وابستہ ہیں اور ہر سال اپنی مرادوں کی تکمیل کے بعد دوبارہ حاضری دیتے ہیں۔
منتوں اور امیدوں کی روایت
اس تقریب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر خواتین سے جڑی ہوئی روایت ہے۔ معاشی مشکلات، اولاد کی خواہش، بیماریوں سے شفا، قرضوں سے نجات اور گھریلو مسائل کے حل کے لیے خواتین یہاں دعائیں مانگتی ہیں۔
تقریب کے دوران امام بارگاہ کے اندر رنگ برنگے سہرے، مہندی، پھول، چادریں، دوپٹے، مٹھائیاں اور علموں کی شبیہیں رکھی جاتی ہیں۔ عقیدت مند خواتین ان اشیاء کو تبرک سمجھتے ہوئے اپنی نذریں پیش کرتی ہیں۔
حیدرآباد کی منفرد مذہبی ثقافت
حیدرآباد کو سندھ میں عزاداری کی قدیم روایات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق شہر میں محرم کی متعدد رسومات دو سو سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں اور ان میں سات محرم کی مہندی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد کی یہ روایت سندھ کے دیگر شہروں سے مختلف انداز میں منائی جاتی ہے۔ یہاں مہندی کی تقریب صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ خواتین کے سماجی میل جول، روحانی وابستگی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم اظہار سمجھی جاتی ہے۔
تاریخی پس منظر
مقامی روایات کے مطابق حضرت امام حسینؑ نے اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسنؑ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کے لیے حضرت قاسمؑ کی شادی کا ارادہ کیا تھا۔ تاہم واقعۂ کربلا کے دوران حضرت قاسمؑ شہید ہوگئے۔ اسی نسبت سے برصغیر کے بعض علاقوں میں حضرت قاسمؑ کی یاد میں مہندی کی روایت وجود میں آئی، جو وقت کے ساتھ سندھ خصوصاً حیدرآباد کی ایک نمایاں مذہبی روایت بن گئی۔
فجر تک جاری رہنے والی تقریب
سات محرم کی شب شروع ہونے والی یہ تقریب فجر تک جاری رہتی ہے۔ فجر کے وقت مرد حضرات امام بارگاہ میں رکھی گئی متبرک اشیاء کو جلوس کی صورت میں حیدرآباد کے تاریخی مقام قدم گاہ تک لے جاتے ہیں، جہاں عقیدت مند بڑی تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔
حیدرآباد کی تاریخی سات محرم کی مہندی آج بھی اس شہر کی ان زندہ روایات میں شامل ہے جو وقت کے ساتھ بدلتی دنیا میں اپنی اصل شکل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف عقیدت کی علامت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ سندھ کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ آج بھی عوامی زندگی میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔










