Tag: حیدرآباد

  • حیدرآباد کا یتیم بچہ جو سندھ کے مسلمانوں کا معمار بنا: حسن علی آفندی، سندھ مدرستہ الاسلام اور ایک عظیم تعلیمی سفر

    حیدرآباد کا یتیم بچہ جو سندھ کے مسلمانوں کا معمار بنا: حسن علی آفندی، سندھ مدرستہ الاسلام اور ایک عظیم تعلیمی سفر

    تخلیقِ تاریخ کا راز ان افراد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو حالات کی سنگلاخ چٹانوں کو اپنی محنت، علم کی روشنی اور غیر متزلزل عزم سے توڑ کر قوموں کی سمت بدل دیتے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط میں جب سندھ کے مسلمان تعلیم، معاشی ترقی اور فکری بیداری سے محروم ہو کر مایوسی اور سیاسی پسماندگی کا شکار تھے، تو حیدرآباد کے ایک غریب اور یتیم بچے نے اپنی انتھک محنت اور بصیرت سے ایسی تاریخ رقم کی جس نے آگے چل کر برصغیر کے مسلمانوں کو قائدِ اعظم محمد علی جناح جیسا عظیم قائد فراہم کیا۔

    یہ داستان ہے خان بہادر حسن علی آفندی اور ان کے شاہکار ادارے سندھ مدرستہ الاسلام کی، جس کی بنیاد کراچی کے دل میں رکھی گئی اور جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی اور سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    ایک یتیم بچے کا عزمِ مصمم اور جدوجہدِ حیات

    14 اگست 1830 کو حیدرآباد، سندھ کے آخوند خاندان میں آنکھ کھولنے والے حسن علی آفندی ابھی بچپن ہی میں تھے کہ ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کے بڑے بھائی نے ان کی پرورش کی اور خاندانی روایات کے مطابق انہیں مقامی مکتب میں عربی، فارسی اور قرآن کی تعلیم دلوائی۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں نوشہرو فیروز میں ڈپٹی کلکٹر کے دفتر میں ایک معمولی ملازمت مل گئی۔ لیکن یہیں سے ان کے سفر نے نیا موڑ لیا۔ ایک عیسائی دوست کے مشورے پر انہوں نے انگریزی زبان سیکھنا شروع کی۔ اس دور میں بہت سے مسلمان انگریزی کو غیر مسلموں کی زبان سمجھ کر اس سے اجتناب کرتے تھے، لیکن حسن علی آفندی کا نقطۂ نظر مختلف اور دور اندیشانہ تھا۔

    ان کے خیال میں زبان محض ابلاغ کا ذریعہ ہے اور اس کا تعلق اسے بولنے والوں کے مذہب سے نہیں۔ انگریزی زبان میں موجود علمی ذخیرے سے استفادہ مسلمانوں کی فکری اور مادی ترقی کے لیے ضروری تھا۔

    انہوں نے تیل کے چراغ کی مدھم روشنی میں راتوں کو جاگ جاگ کر انگریزی پڑھی۔ انڈس فلوٹیلا کے جھرک میں واقع بندرگاہی مرکز میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات برطانوی جج مسٹر مڈلٹن سے ہوئی۔ حسن علی کی انگریزی زبان پر مہارت اور علمی وسعت سے متاثر ہو کر جج صاحب انہیں کراچی کی صدر کورٹ لے آئے، جہاں ان کی قانونی قابلیت کی بنیاد پر انہیں رسمی ڈگری کے بغیر وکالت کرنے کی خصوصی اجازت ملی۔

    حسن علی آفندی سندھ کے ابتدائی مسلم وکلا میں شمار ہوتے تھے اور بعد میں مسلسل 14 سال تک پہلے غیر یورپی پبلک پراسیکیوٹر رہے۔ معاشی اور سماجی طور پر مستحکم ہونے کے بعد انہوں نے اپنی توانائیاں اور وسائل مسلمان برادری کی تعلیمی اور سماجی بیداری کے لیے وقف کر دیے۔

    سندھ مدرستہ الاسلام کا قیام: بولٹن مارکیٹ کے گودام سے شاندار عمارت تک

    سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک سے متاثر ہو کر اور ان سے ملاقاتوں کے بعد حسن علی آفندی نے سندھ کے مسلمانوں کے لیے ایک جدید تعلیمی ادارے کا خواب دیکھا۔

    انجمنِ اسلام اور تعلیمی سفر کا آغاز

    انہوں نے 1884 میں انجمنِ اسلام قائم کی اور یکم ستمبر 1885 کو سندھ مدرستہ الاسلام کا باقاعدہ آغاز کراچی میں بولٹن مارکیٹ کے قریب ایک چھوٹی سی کرائے کی دو منزلہ عمارت میں کیا، جو اس سے پہلے گودام کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

    سنگِ بنیاد اور تعمیراتی ارتقا

    چار نومبر 1887 کو وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن نے ادارے کی موجودہ شاندار عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔

    عمر بن محمد داؤد پوتا کا دورِ پرنسپل شپ

    دادو کے ایک کسان کے بیٹے اور شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا نے سندھ مدرستہ الاسلام سے میٹرک کیا، پھر کیمبرج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1930 میں اسی ادارے کے پرنسپل بنے۔ ان کے دور سے متعلق ایک روایت کے مطابق، رخصت ہوتے وقت طلبہ نے انہیں برقی کیتلی کا تحفہ پیش کیا تھا، جو اس زمانے میں جدت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔

    جیمز اسٹریچن کا تعمیراتی شاہکار

    سندھ مدرستہ الاسلام کی مرکزی عمارت محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ وکٹورین گوتھک اور نو ساراسینک طرزِ تعمیر کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔

    عظیم الشان معمار

    اس خوبصورت عمارت کا نقشہ برطانوی انجینئر جیمز اسٹریچن نے تیار کیا تھا، جو اس وقت کراچی میونسپلٹی کے ممتاز انجینئر تھے۔

    تعمیراتی خصوصیات

    عمارت کی تعمیر میں گِزری کے پیلے تراشیدہ پتھر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کی بلند قوسیں، محرابیں اور مرکزی گھڑیال کا مینار وکٹورین دور کی تعمیراتی خصوصیات کے ساتھ مقامی طرزِ تعمیر اور آرائشی عناصر کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔

    جامع تعلیمی کمپلیکس

    سندھ مدرستہ الاسلام کا کمپلیکس مختلف حصوں پر مشتمل تھا، جن میں ہندو اور مسلمان طلبہ کے لیے الگ الگ بورڈنگ ہاؤس، مرکزی ہال، مساجد اور پرنسپل کی وسیع رہائش گاہ شامل تھی۔ یہیں سے ادارے کے تعلیمی اور انتظامی امور چلائے جاتے تھے۔

    تاریخی دستاویزات اور قائدِ اعظم محمد علی جناح

    سندھ مدرستہ الاسلام کا سب سے بڑا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے یہاں تعلیم حاصل کی۔ ادارے کے آرکائیو میں محفوظ جنرل رجسٹر اس تعلق کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ ہے۔

    قائدِ اعظم کا داخلہ

    محمد علی جناح کا نام سندھ مدرستہ الاسلام کے جنرل رجسٹر میں داخلہ نمبر 114 کے تحت درج ہے۔ وہ 4 جولائی 1887 کو پہلی بار اس ادارے میں داخل ہوئے، جہاں ان کا نام ‘محمد علی جناح بھائی’ درج کیا گیا۔ بمبئی اور گوادر کے سفر کے بعد وہ 23 دسمبر 1892 کو دوبارہ داخل ہوئے اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔

    وصیت اور تاریخی وابستگی

    قائدِ اعظم کو اپنے مادرِ علمی سے گہری وابستگی تھی۔ انہوں نے 1939 میں اپنی وصیت میں اپنی ذاتی جائیداد کا ایک تہائی حصہ سندھ مدرستہ الاسلام کے لیے مختص کیا۔ 1943 میں جب یہ ادارہ ڈگری کالج بنا تو قائدِ اعظم اس کے افتتاح کے لیے کراچی آئے تھے۔

    نامور فارغ التحصیل شخصیات اور معمارانِ قوم

    سندھ مدرستہ الاسلام محض ایک اسکول نہیں تھا بلکہ ایسا ادارہ تھا جہاں سے برصغیر کی سیاست، علم، ادب اور دفاع کے متعدد نامور افراد نے تعلیم حاصل کی۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح، بانیِ پاکستان۔

    سر عبداللہ ہارون، تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما اور صنعت کار۔

    سر شاہنواز بھٹو، سندھ کے ممتاز رہنما اور بمبئی سے سندھ کی انتظامی علیحدگی کے حامی، جو ذوالفقار علی بھٹو کے والد تھے۔

    خان بہادر ایوب کھوڑو، سندھ کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور اہم سیاسی رہنما۔

    شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا، معروف ماہرِ تعلیم اور عربی و فارسی کے عالم۔

    سر غلام حسین ہدایت اللہ، تحریکِ پاکستان کے رہنما اور قیامِ پاکستان کے بعد سندھ کے پہلے گورنر۔

    علامہ آئی آئی قاضی، فلسفی، دانشور اور سندھ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر۔

    پیر الٰہی بخش، قیامِ پاکستان کے بعد سندھ کے پہلے وزیرِ تعلیم۔

    ایئر مارشل عظیم داؤد پوتا، پاکستان ایئر فورس کے نامور افسر اور سندھ کے سابق گورنر۔

    عبدالستار کوہاٹی، ماہرِ تعلیم اور منتظم

    عبدالستار کوہاٹی کا شمار سندھ مدرستہ الاسلام کے ممتاز منتظمین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اور ادارے کے کالج بننے سے پہلے انہوں نے اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور بعد ازاں پرنسپل کی حیثیت سے انتظامی اور تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

    ان کے دورِ انتظامیہ کی نمایاں خصوصیات میں تعلیمی نظم و ضبط، اساتذہ کی تربیت اور بورڈنگ ہاؤس کا نظام شامل تھے۔ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے طلبہ کی اخلاقی اور علمی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ وہ اس بات کے حامی تھے کہ سندھ مدرستہ الاسلام اپنی تاسیسی روایت برقرار رکھتے ہوئے طلبہ کو جدید علوم کے ساتھ اسلامی اقدار سے بھی جوڑے رکھے۔

    محمد ابراہیم جویو، طالب علم اور مدرس

    سندھ کے نامور روشن خیال دانشور، ادیب اور ماہرِ تعلیم محمد ابراہیم جویو کا بھی اس ادارے سے گہرا تعلق رہا۔ انہوں نے 1934 میں سندھ مدرستہ الاسلام سے میٹرک کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1941 میں اسی ادارے میں استاد کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔

    1947 میں انہوں نے جاگیردارانہ نظام اور تعلیمی پسماندگی کے خلاف اپنی معروف کتاب ‘Save Sindh, Save the Sub-Continent’ لکھی۔ اس دور کے صوبائی وزیرِ تعلیم پیر الٰہی بخش اور ادارے کی انتظامیہ نے ان کی سیاسی تحریروں کے باعث انہیں تدریسی ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ تاہم، آگے چل کر وہ سندھی ادب اور تعلیمی بیداری کی ایک نمایاں آواز بنے۔

    یہ دونوں شخصیات اس بات کی مثال ہیں کہ سندھ مدرستہ الاسلام نے صرف قائدِ اعظم جیسے سیاست دان ہی پیدا نہیں کیے بلکہ عبدالستار کوہاٹی اور محمد ابراہیم جویو جیسے قابل اساتذہ اور تعلیمی منتظمین بھی دیے۔

    تحریکِ پاکستان کا فکری مرکز اور ادارے کا ارتقائی سفر

    1930 اور 1940 کی دہائیوں میں سندھ مدرستہ الاسلام محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں رہا تھا بلکہ سندھ میں مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا ایک اہم فکری اور سیاسی مرکز بن گیا تھا۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کی تحریک، 1940 کی قراردادِ لاہور کی حمایت اور 1946 کے انتخابات کے سیاسی ماحول میں اہم کردار ادا کیا۔

    1885 میں بولٹن مارکیٹ کے قریب ایک گودام سے شروع ہونے والا یہ سفر 1943 میں کالج کے قیام تک پہنچا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ ادارہ قومی تعلیمی منظرنامے کا اہم حصہ رہا۔ بالآخر فروری 2012 میں اسے چارٹرڈ سرکاری جامعہ، سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی، کا درجہ دیا گیا۔ آج بھی یہ ادارہ اپنی تاریخی عمارت اور تعلیمی روایت کے ساتھ علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔

    حسن علی آفندی نے 20 اگست 1895 کو وفات پائی اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں حیدرآباد کے آفندی باغ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن بولٹن مارکیٹ کی اس چھوٹی سی عمارت سے روشن ہونے والی شمع نے سندھ اور برصغیر کی تعلیمی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    ایک یتیم بچے کی محنت، لگن اور تعلیمی وژن کا ثمر ہے کہ سندھ مدرستہ الاسلام آج بھی تاریخ کا ایک اہم مینار ہے، جس سے وابستہ شخصیات نے پاکستان کی سیاسی، علمی اور سماجی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔

  • مُکھی ہاؤس: ایک گھر جو بٹوارے کے بعد بھی حیدرآباد سے جدا نہ ہوا

    مُکھی ہاؤس: ایک گھر جو بٹوارے کے بعد بھی حیدرآباد سے جدا نہ ہوا

    حیدرآباد کی پرانی گلیوں میں کچھ عمارتیں صرف اینٹ، پتھر، لکڑی اور شیشے سے نہیں بنتیں، وہ اپنے اندر پورا ایک زمانہ آباد رکھتی ہیں۔ 

    مُکھی ہاؤس بھی ایسی ہی ایک عمارت ہے۔پکا قلعہ روڈ اور شاہی بازار کے پرہجوم ماحول کے درمیان کھڑی یہ عمارت بظاہر ایک تاریخی حویلی لگتی ہے، مگر اس کے دروازے سے اندر داخل ہوں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک سا گیا ہو۔ 

    لکڑی کی کاریگری، رنگین شیشے، ماربل کے فرش، محرابیں، برآمدے، سیڑھیاں اور بلند چھتیں ایک ایسے حیدرآباد کی تصویر سامنے لاتی ہیں جو آج کے شہر سے بہت مختلف تھا۔

    یہ صرف ایک گھر نہیں، ایک خاندان کی خوشحالی، تقسیمِ ہند، ہجرت، فسادات، زوال اور پھر بحالی کی داستان ہے۔

    مُکھی ہاؤس، جسے مُکھی محل بھی کہا جاتا ہے، بیسویں صدی کے آغاز میں مُکھی جیٹھانند نے تعمیر کرایا۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس کی تعمیر 1920 اور 1921کے درمیاں ہوئی۔ یہ تین منزلہ عمارت اپنے وقت میں صرف رہائش گاہ نہیں بلکہ مُکھی خاندان کے سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کی علامت تھی۔

    مُکھی خاندان حیدرآباد کے ان بااثر سندھی ہندو خاندانوں میں شمار ہوتا تھا جنہوں نے شہر کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔

    عمارت کے طرزِ تعمیر میں یورپی اور مقامی اثرات کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ بیرونی حصے میں کلاسیکی اور رینی ساں طرز کے ستون اور محرابیں نظر آتی ہیں، جبکہ اندرونی حصوں میں رنگین شیشے، لکڑی کا نفیس کام، ماربل اور آرائشی نقش و نگار اس دور کے ذوقِ جمال کی عکاسی کرتے ہیں۔

    جب حویلی میں نہرو آئے

    مُکھی ہاؤس کی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے بھی جڑتا ہے۔تاریخی حوالوں کے مطابق جواہر لال نہرو بھی مُکھی خاندان کے مہمان رہے۔ 1931 کی ایک تصویر، جس میں نہرو اور ان کی اہلیہ کو مُکھی ہاؤس میں دیکھا جا سکتا ہے، آج بھی اس عمارت کی تاریخی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

    یوں یہ حویلی محض ایک خاندان کی رہائش گاہ نہیں رہی بلکہ برصغیر کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے ایک دور کی خاموش گواہ بھی بن گئی۔

    1947 میں انڈیا تقسیم ہوا تو لاکھوں خاندانوں کی طرح مُکھی خاندان کو بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ خاندان کے افراد بھارت منتقل ہوگئے اور وہ گھر جس میں کبھی زندگی کی رونقیں تھیں، آہستہ آہستہ خاموش ہوگیا۔لیکن مُکھی ہاؤس کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔

    وقت کے ساتھ عمارت مختلف سرکاری اداروں کے استعمال میں رہی۔ اسے ایک عرصے تک اسکول کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ مختلف ادوار میں عمارت کو نظرانداز کیے جانے اور غلط استعمال کے باعث اس کی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔

    فسادات کی آگ اور بچ جانے والی عمارت

    1980 کی دہائی کے نسلی فسادات نے حیدرآباد کی کئی تاریخی عمارتوں کو متاثر کیا۔ مُکھی ہاؤس بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ تاریخی ورثے کے ریکارڈ کے مطابق عمارت کو آگ لگائی گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔ 

    بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعمال میں رہنے کی وجہ سے یہ عمارت غیر قانونی قبضے سے کسی حد تک محفوظ رہی۔یہ بات آج حیران کن محسوس ہوتی ہے کہ جس عمارت میں کبھی سیاسی رہنما، تاجر، خاندان اور شہر کے بااثر لوگ جمع ہوتے تھے، ایک وقت میں وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔

    حیدرآباد کی بہت سی پرانی حویلیاں اسی دوران یا تو منہدم ہوگئیں یا اپنی اصل شناخت کھو بیٹھیں۔ مُکھی ہاؤس کا باقی رہ جانا اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    مُکھی ہاؤس کی بحالی کی باقاعدہ کوششیں 2009 میں شروع ہوئیں۔ سندھ کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے عمارت کے اصل نقش و نگار اور تعمیراتی خصوصیات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ بحالی کے دوران پرانی تصاویر، عمارت کے باقی ماندہ حصوں اور مُکھی خاندان کی یادداشتوں سے بھی مدد لی گئی۔

    ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ کام آسان نہیں تھا؛ پرانی ٹائلوں سے مشابہ ٹائلیں تلاش کرنا، رنگین شیشوں کو دوبارہ تیار کرنا اور روایتی کاریگری کو بحال کرنا اس منصوبے کا حصہ تھا۔یہ محض دیواروں کی مرمت نہیں تھی۔یہ ماضی کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش تھی۔

    2013: جب مُکھی خاندان اپنے گھر واپس آیا

    بحالی کے سفر کا سب سے جذباتی لمحہ 29 جنوری 2013 کو آیا، جب مُکھی خاندان کے 11 افراد اپنے آبائی گھر میں دوبارہ جمع ہوئے۔ ان میں تین ایسے افراد بھی شامل تھے جو اسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔خاندان کے افراد نے عمارت کے مختلف حصوں سے جڑی اپنی یادیں بیان کیں۔ 

    ایک گھر جو کئی دہائیوں سے ان سے دور تھا، چند گھنٹوں کے لیے پھر ان کی یادوں کا مرکز بن گیا۔ یہ منظر شاید مُکھی ہاؤس کی پوری کہانی کا سب سے خوبصورت استعارہ ہے: گھر وہی تھا، لوگ بدل گئے تھے، لیکن یادیں وہیں موجود تھیں۔

    میوزیم بنانے کی شرط 

    مُکھی ہاؤس کی کہانی کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ مُکھی خاندان نے اپنی آبائی عمارت کو ذاتی ملکیت یا نجی استعمال میں واپس لینے کے بجائے اسے عوامی ورثے کے طور پر محفوظ کرنے کی حمایت کی۔خاندان کی خواہش تھی کہ عمارت کو میوزیم بنایا جائے تاکہ یہ صرف مُکھی خاندان کی یادگار نہ رہے بلکہ حیدرآباد اور سندھ کے لوگوں کے لیے بھی تاریخ کا حصہ بن سکے۔

    یہ فیصلہ اس عمارت کی کہانی کو ایک نیا معنی دیتا ہے۔جن لوگوں نے یہ گھر چھوڑا تھا، انہوں نے آخرکار اسے اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کروایا۔

    آج مُکھی ہاؤس ایک میوزیم ہے جہاں عمارت خود سب سے بڑا تاریخی نمونہ ہے۔یہاں مُکھی خاندان کی تصاویر، فرنیچر اور دیگر اشیا کے ساتھ سندھ کے دستکاری کے نمونے اور حیدرآباد کی شہری تاریخ سے متعلق مواد بھی موجود ہے۔

    لیکن اس میوزیم کو دیکھنے والے کے لیے شاید سب سے دلچسپ چیز کسی ایک شیشے کے صندوق میں رکھی ہوئی چیز نہیں۔

    اصل نمائش خود مُکھی ہاؤس ہے۔

    اس کے برآمدے، صحن، سیڑھیاں، لکڑی کے دروازے، رنگین شیشے، ماربل کے فرش اور چھتوں کی آرائش اس زمانے کے طرزِ زندگی کی ایسی تصویر بناتے ہیں جسے کتاب پڑھ کر مکمل طور پر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔

    مُکھی ہاؤس کو صرف ایک ہندو خاندان کی حویلی سمجھنا اس کی تاریخ کو محدود کرنا ہوگا۔یہ تقسیم سے پہلے کے حیدرآباد کی کہانی ہے۔یہ سندھ کی مشترکہ شہری تہذیب کی کہانی ہے۔یہ ہجرت اور بچھڑنے کی کہانی ہے۔یہ ان خاندانوں کی کہانی ہے جو ایک دن اپنا گھر چھوڑ کر دوسری جانب چلے گئے۔یہ ان عمارتوں کی کہانی ہے جو فسادات، قبضوں، غفلت اور وقت کے ہاتھوں ختم ہوگئیں۔

    اور یہ اس امید کی کہانی بھی ہے کہ اگر معاشرہ اپنے ماضی کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کرے تو ایک بوسیدہ عمارت دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔

    مُکھی ہاؤس کی بحالی ایک کامیابی ضرور ہے، لیکن تاریخی ورثے کا تحفظ صرف دیواروں کو کھڑا رکھنے کا نام نہیں۔اس عمارت سے وابستہ کہانیاں، خاندان کی یادیں، پرانی تصاویر، دستاویزات، فرنیچر، فنِ تعمیر اور مقامی تاریخ بھی محفوظ رہنی چاہیے۔

    حالیہ برسوں میں اس عمارت کے حوالے سے یہ ضرورت بھی سامنے آئی ہے کہ تاریخی اشیا اور تصاویر کے بارے میں سندھی، اردو اور انگریزی میں معلومات فراہم کی جائیں اور لکڑی کے اہم حصوں کی بروقت مرمت کی جائے۔کیونکہ اگر عمارت محفوظ ہو لیکن اس کی کہانی لوگوں تک نہ پہنچے تو ورثے کا ایک بڑا حصہ پھر بھی ضائع ہوجاتا ہے۔

    حیدرآباد کے نام ایک خاموش پیغام

    آج جب پکا قلعہ روڈ پر ٹریفک رواں دواں ہے، شاہی بازار اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں گم ہے اور شہر مسلسل تبدیل ہورہا ہے، مُکھی ہاؤس خاموشی سے کھڑا ہے۔وہ شاید اپنے دروازے سے گزرنے والے ہر شخص سے صرف ایک سوال کرتا ہے:کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے شہر نے کیا کچھ دیکھا ہے؟ اس کے ستونوں نے ایک خاندان کی خوشحالی دیکھی۔

    اس کی دیواروں نے سیاسی ملاقاتیں دیکھیں۔اس نے تقسیم دیکھی۔اس نے ہجرت دیکھی۔اس نے فسادات اور تباہی دیکھی۔اور پھر اس نے بحالی بھی دیکھی۔

    شاید اسی لیے مُکھی ہاؤس محض ایک میوزیم نہیں۔

    یہ حیدرآباد کی اجتماعی یادداشت کا ایک زندہ باب ہے۔

    اور جب تک اس کے دروازے کھلے رہیں گے، شہر کی نئی نسلیں ماضی کو صرف کتابوں میں نہیں پڑھیں گی، بلکہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ بھی سکیں گی۔

  • حیدرآباد کا ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس، سندھ میں ثقافتی سیاحت کے فروغ کی کوشش

    حیدرآباد کا ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس، سندھ میں ثقافتی سیاحت کے فروغ کی کوشش

    حیدرآباد میں قائم دی ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت سیاحوں کے لیے رہائش کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اس کا مقصد حیدرآباد آنے والے سیاحوں کو قیام کی مناسب سہولت فراہم کرنے کے ساتھ شہر اور اس کے گردونواح میں موجود تاریخی اور ثقافتی مقامات کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

    حیدرآباد سندھ کی تاریخ اور ثقافت کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں سندھ میوزیم، شاہی بازار، پکا قلعہ، مکھی ہاؤس اور دیگر تاریخی مقامات موجود ہیں۔ شہر سے ہالا سمیت سندھ کے مختلف ثقافتی اور تاریخی مقامات تک بھی رسائی ممکن ہے۔

    ایسے میں سیاحوں کے لیے معیاری رہائش کی سہولت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے زائرین کو صرف چند گھنٹوں کے بجائے شہر میں زیادہ وقت گزارنے اور مختلف مقامات دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    دی ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس میں فیملی رومز، کچن، پارکنگ اور وائی فائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے آن لائن بکنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

    حکومت سندھ ثقافتی، تاریخی اور آثار قدیمہ کی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ایسے گیسٹ ہاؤسز اس سیاحتی انفراسٹرکچر کا حصہ بن سکتے ہیں، جہاں سیاح قیام کرکے حیدرآباد اور قریبی علاقوں کے تاریخی ورثے کو بہتر طور پر دیکھ سکیں۔

    اگر رہائش کے ساتھ تاریخی مقامات کے دورے، مقامی گائیڈز، روایتی دستکاری، ثقافتی بازاروں اور قریبی سیاحتی مقامات کو ایک مربوط سیاحتی پیکیج سے جوڑا جائے تو حیدرآباد کو سندھ میں ثقافتی سیاحت کے ایک اہم مرکز کے طور پر مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔

    اس سے نہ صرف سیاحوں کے لیے سفر آسان ہوگا بلکہ مقامی ہوٹلوں، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ، دستکاروں اور دیگر کاروباروں کے لیے بھی معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

    حیدرآباد کا ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس اسی بڑے مقصد کا ایک حصہ ہے کہ سندھ آنے والے سیاحوں کو تاریخ، ثقافت اور مقامی زندگی کو قریب سے دیکھنے کے لیے بہتر رہائش اور سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔

  • حیدرآباد کے سی او وی ایس میں آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کی تشخیص اور تحقیق کا مرکز کیسے کم کرتا ہے؟

    حیدرآباد کے سی او وی ایس میں آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کی تشخیص اور تحقیق کا مرکز کیسے کم کرتا ہے؟

    حیدرآباد میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز، سی او وی ایس، میں آنکھوں کی موروثی بیماریوں کی تشخیص اور تحقیق کے لیے مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس کا باقاعدہ شعبہ کام کر رہا ہے۔ 

    سی او وی ایس کو 2013 میں سندھ اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے سابق لیاقت یونیورسٹی آئی ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے قائم کیا گیا تھا۔

    سی او وی ایس کے مطابق مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبے کا مقصد مالیکیولر بایولوجی اور جینیات کے میدان میں تعلیمی اور تحقیقی ماحول فراہم کرنا ہے۔ شعبہ گلوکوما اور دیگر آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کے مریضوں کے لیے اے آر ایم ایس ٹیکنالوجی پر مبنی پی سی آر ٹیسٹ بھی فراہم کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ تشخیصی خدمات مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

    اوکیولر جینیٹکس لیبارٹری میں مالیکیولر تشخیص اور تحقیق کے لیے بائیو ریڈ ٹی 100 پی سی آر اور بائیو ریڈ ریئل ٹائم پی سی آر سمیت مختلف آلات موجود ہیں۔ دستیاب آلات میں جیل ڈاکیومنٹیشن سسٹم، سیفٹی ہڈز، پی ایچ میٹر، ڈیجیٹل ویئنگ بیلنس، میگا فیوج 16 اور پیکو 17 سینٹری فیوجز، ہیٹ پلیٹر اور واٹر باتھ بھی شامل ہیں۔

    اوکیولر جینیٹکس لیبارٹری صرف تشخیصی خدمات تک محدود نہیں۔ سی او وی ایس کے مطابق شعبہ مختلف طبی اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، محققین کو لیبارٹری معاونت فراہم کرتا ہے اور جدید مالیکیولر بایولوجی تکنیکوں پر مبنی تحقیقی منصوبوں کی تیاری میں فیکلٹی کی معاونت بھی کرتا ہے۔

    سی او وی ایس کے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر یار محمد وریاہ مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبے کے انچارج اور اسسٹنٹ پروفیسر ریسرچ ہیں۔ وہ ادارے کی اکیڈمک کونسل کے کوآپٹڈ ممبر بھی ہیں۔

    اس شعبے سے وابستہ تحقیقی کام میں پاکستانی مریضوں میں آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کا مطالعہ بھی شامل ہے۔ شائع شدہ تحقیقی مطالعات میں پرائمری اوپن اینگل گلوکوما، پرائمری پیدائشی گلوکوما اور موروثی ریٹینل بیماریوں میں جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبہ کے ریسرچ  ونگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر یار محمد وریاہ  کے مطابق مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبہ آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کی تشخیص کے ساتھ ساتھ تحقیق، تربیت اور مالیکیولر تشخیصی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔

  • آم کے باغات، سرسبز کھیت اور رواں ٹریفک، حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے کی دلکش تصویر

    آم کے باغات، سرسبز کھیت اور رواں ٹریفک، حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے کی دلکش تصویر

    حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے سندھ کے ان اہم سڑک رابطوں میں شامل ہے جو حیدرآباد کو میرپورخاص سے ملانے کے ساتھ ساتھ ٹنڈو جام، ٹنڈو اللہیار اور آس پاس کے زرعی علاقوں کو بھی بڑے شہری مراکز سے جوڑتا ہے۔

    تقریباً 59 کلومیٹر طویل یہ شاہراہ شہری اور دیہی سندھ کے درمیان آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

    اس شاہراہ کی خاص بات صرف اس کا چار لین کا ڈھانچہ نہیں بلکہ اس کے اطراف کا بدلتا ہوا منظرنامہ بھی ہے۔ حیدرآباد سے میرپورخاص کی طرف سفر کیا جائے تو شہری آبادی کے بعد سڑک کے دونوں جانب کھیت، نہریں، دیہات، درخت اور باغات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ یہی امتزاج اس راستے کو سندھ کے نمایاں زرعی مناظر میں شامل کرتا ہے۔

    اس شاہراہ کی تعمیر سے پہلے حیدرآباد اور میرپورخاص کے درمیان موجود سڑک رابطہ دو لین پر مشتمل تھا۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک اور دونوں شہروں کے درمیان معاشی و سماجی رابطوں کے باعث بہتر اور وسیع سڑک کی ضرورت محسوس کی گئی۔ چنانچہ پرانے راستے کو جدید ڈوئل کیرج وے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔

    یہ منصوبہ سندھ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا گیا۔ نومبر 2009 میں اس منصوبے کا کنسیشن معاہدہ طے پایا اور تقریباً دو سال کی تعمیر کے بعد اگست 2012 میں شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

    منصوبے پر تقریباً چھہ ارب 70 کروڑ روپے لاگت آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ نئی شاہراہ نے حیدرآباد اور میرپورخاص کے درمیان آمدورفت کو بہتر بنانے کے ساتھ اس پورے خطے کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں کے درمیان رابطے کو بھی مضبوط کیا۔

    اس راستے کی معاشی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ حیدرآباد، ٹنڈو اللہیار اور میرپورخاص سندھ کے اہم زرعی علاقوں میں شامل ہیں۔ یہاں مختلف فصلوں کے ساتھ پھلوں کی پیداوار بھی ہوتی ہے اور میرپورخاص کا نام خصوصاً آم کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں ہے۔

    میرپورخاص اور اس کے گردونواح کے آم کے باغات اس شاہراہ کے سفر کو ایک الگ شناخت دیتے ہیں۔ آم کے موسم میں سڑک کے دونوں اطراف موجود باغات، گھنے درخت اور زرعی زمینیں مسافروں کو سندھ کے دیہی اور زرعی منظرنامے کے قریب لے آتی ہیں۔

    سندھڑی آم نے بھی میرپورخاص کو ایک نمایاں شناخت دی ہے۔ آم کے باغات صرف مقامی معیشت کا حصہ نہیں بلکہ کسانوں، باغبانوں، مزدوروں، تاجروں اور پھلوں کی ترسیل سے وابستہ افراد کے لیے روزگار اور کاروبار کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے بہتر سڑک رابطہ زرعی پیداوار کی نقل و حرکت کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

    حیدرآباد اس خطے کا ایک بڑا تجارتی اور شہری مرکز ہے، جبکہ میرپورخاص اور ٹنڈو اللہیار کے اطراف وسیع زرعی علاقے موجود ہیں۔ ڈوئل کیرج وے ان علاقوں کے درمیان مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ایک اہم رابطہ فراہم کرتی ہے۔

    شاہراہ کی تعمیر نے سفر کے دوران ٹریفک کے بہاؤ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم بنانے میں بھی مدد دی۔ دو طرفہ ٹریفک کے لیے علیحدہ کیرج ویز ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی نقل و حرکت پرانے دو لین راستے کے مقابلے میں مختلف انداز میں ہوتی ہے۔

    اس سڑک کی اہمیت صرف روزمرہ سفر تک محدود نہیں۔ زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے، کاروباری سرگرمیوں، روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات کے لیے حیدرآباد، میرپورخاص اور درمیان میں آنے والے علاقوں کے رہائشی اسی رابطے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    آج اس شاہراہ کو فضائی منظر سے دیکھا جائے تو اس کی ایک اور تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک طرف چار لین پر مشتمل سڑک پر رواں ٹریفک ہے اور دوسری طرف دور تک پھیلے کھیت، نہریں، دیہات اور آم کے باغات۔ جدید انفرااسٹرکچر اور سندھ کے روایتی زرعی منظرنامے کا یہ امتزاج حیدرآباد سے میرپورخاص کے سفر کو محض ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کا راستہ نہیں رہنے دیتا۔

    یہ شاہراہ دراصل سندھ کے ایک ایسے خطے کی تصویر بھی پیش کرتی ہے جہاں سڑک کے ایک طرف شہری اور تجارتی سرگرمیاں ہیں اور دوسری طرف کھیتوں اور باغات سے جڑی دیہی زندگی۔ اسی لیے حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے کو صرف ایک سڑک نہیں بلکہ اس پورے زرعی خطے کے معاشی اور سماجی رابطے کے اہم راستے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

  • حیدرآباد کی تقریباً سوا صدی قدیم عوامی لائبریری: ہومسٹیڈ ہال سے حسرت موہانی لائبریری تک کا سفر

    حیدرآباد کی تقریباً سوا صدی قدیم عوامی لائبریری: ہومسٹیڈ ہال سے حسرت موہانی لائبریری تک کا سفر

    حیدرآباد کے قدیم شہر میں ایک ایسی عمارت آج بھی موجود ہے جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصے میں شہر کی علمی، ادبی، سماجی اور نشریاتی تاریخ کے کئی ادوار دیکھے ہیں۔ یہ عمارت آج حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری کے نام سے جانی جاتی ہے، لیکن اس کی کہانی موجودہ نام سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔

    یہ عمارت 1905 میں برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھی اور ابتدا میں اسے ہومسٹیڈ ہال کہا جاتا تھا۔ یہ نام حیدرآباد میں خدمات انجام دینے والے سول سرجن ڈاکٹر ہومسٹیڈ کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ عمارت کا کردار بدلتا رہا، لیکن اس کی علمی اور عوامی اہمیت برقرار رہی۔

    پکا قلعہ کے قریب اور تاریخی مکھی ہاؤس کے سامنے واقع یہ عمارت حیدرآباد کے اس قدیم حصے میں موجود ہے جہاں شہر کی کئی اہم تاریخی عمارتیں اور یادگاریں آج بھی موجود ہیں۔ اس جغرافیائی محل وقوع نے بھی اسے حیدرآباد کے تاریخی ورثے کا حصہ بنا دیا ہے۔

    تقریباً 18 ہزار مربع فٹ رقبے پر قائم یہ دو منزلہ عمارت سرخ اینٹوں، بلند دیواروں اور وکٹورین طرز تعمیر کی خصوصیات کی وجہ سے نمایاں نظر آتی ہے۔ عمارت میں کئی کمرے اور ایک بڑا ریڈنگ ہال موجود ہے، جبکہ پورا احاطہ تقریباً ڈیڑھ ایکڑ پر پھیلا ہوا بتایا جاتا ہے۔

    لیکن اس عمارت کی اصل کہانی صرف اس کے طرز تعمیر میں نہیں، بلکہ ان سرگرمیوں میں پوشیدہ ہے جو مختلف ادوار میں یہاں جاری رہیں۔

    تقسیم ہند سے پہلے یہ عمارت مطالعے اور علمی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ یہاں ادبی اور سماجی سرگرمیاں بھی منعقد ہوتی تھیں، جبکہ بھائی وسیامل اور ہیرانند سے منسوب فری ریڈنگ روم بھی اسی عمارت سے وابستہ تھا۔ اس دور میں یہ جگہ حیدرآباد کے تعلیم یافتہ اور کتاب دوست طبقے کے لیے ایک اہم مقام سمجھی جاتی تھی۔

    قیام پاکستان کے بعد عمارت کی تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ یہاں ریڈیو پاکستان حیدرآباد کا دفتر قائم ہوا اور ایک عرصے تک عمارت نشریاتی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہی۔ ریڈیو پاکستان کی سرگرمیوں کے دوران لائبریری کا کام عمارت کے ایک محدود حصے تک محدود ہوگیا۔

    1967 میں عمارت کو مولانا حسرت موہانی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ حسرت موہانی اردو کے معروف شاعر، صحافی اور برصغیر کی آزادی کی تحریک سے وابستہ سیاسی رہنما تھے۔ ان کے نام سے منسوب کیے جانے کے بعد یہ عمارت حیدرآباد کی ادبی اور علمی شناخت کے ساتھ مزید مضبوطی سے جڑ گئی۔

    آج حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری سندھ حکومت کے زیر انتظام ہے اور یہاں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ عام قارئین کے علاوہ طلبہ، محققین اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوان بھی یہاں مطالعے کے لیے آتے ہیں۔

    لائبریری کی ایک اہم سہولت خواتین اور طالبات کے لیے مخصوص ریڈنگ ہال ہے، جہاں بڑی تعداد میں طالبات مطالعہ اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتی ہیں۔ بچوں کے لیے بھی ریڈنگ ہال موجود ہے، جس سے لائبریری کا دائرہ صرف نوجوانوں اور بالغ قارئین تک محدود نہیں رہتا۔

    حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری کی ڈپٹی ڈائریکٹر امبیہ واحد کے مطابق لائبریری میں قارئین کو انٹرنیٹ کی مفت سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی مطالعے کی الگ سہولت موجود ہے۔

    وقت کے ساتھ اس تاریخی عمارت کو بحال کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ 2008 میں عمارت کی تزئین و بحالی کی گئی اور اسے دوبارہ لائبریری کے طور پر فعال کیا گیا۔ 2024 میں سندھ حکومت کی جانب سے لائبریری کو مزید اپ گریڈ کیا گیا، جس کا مقصد اسے موجودہ دور کی مطالعاتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا تھا۔

    یوں یہ عمارت صرف کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں رہی، بلکہ اس نے حیدرآباد کی بدلتی ہوئی شہری تاریخ کے ساتھ خود کو بھی تبدیل کیا۔ ایک ہی عمارت نے برطانوی دور کا ہومسٹیڈ ہال دیکھا، آزادی سے پہلے کے فری ریڈنگ روم کی سرگرمیوں کا حصہ بنی، قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کی نشریاتی سرگرمیوں کا مرکز رہی اور پھر دوبارہ ایک عوامی لائبریری کی حیثیت سے شہر کے طلبہ اور قارئین کے لیے کھل گئی۔

    ایک صدی سے زیادہ پرانی اس عمارت کی اہمیت اس کے اندر موجود کتابوں سے بھی آگے ہے۔ اس کی دیواریں حیدرآباد کے ایک ایسے دور کی گواہ ہیں جب کتاب، اخبار، ریڈنگ روم اور علمی محفلیں شہری زندگی کا اہم حصہ ہوا کرتی تھیں۔

    آج جب نوجوان یہاں امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، بچے کتابیں پڑھتے ہیں، خواتین کے لیے مخصوص ریڈنگ ہال استعمال ہوتا ہے اور قارئین مفت انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو یہ تاریخی عمارت ماضی اور حال کے درمیان ایک زندہ رابطے کے طور پر سامنے آتی ہے۔

    حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری دراصل حیدرآباد کی صرف ایک لائبریری نہیں، بلکہ ایک ایسی تاریخی عمارت ہے جس نے 1905 سے آج تک شہر کے علمی، ادبی، سماجی اور نشریاتی سفر کے کئی باب اپنے اندر محفوظ کر رکھے ہیں۔

  • اسکول اسپیسفک بجٹ سے حیدرآباد کی لطیف آباد تحصیل کے 26 گرلز پرائمری اسکولوں میں نمایاں تبدیلی

    اسکول اسپیسفک بجٹ سے حیدرآباد کی لطیف آباد تحصیل کے 26 گرلز پرائمری اسکولوں میں نمایاں تبدیلی

    حیدرآباد کی تحصیل لطیف آباد نمبر دس میں ایک ہی چاردیواری کے اندر قائم دو گرلز پرائمری اسکولز اسکول اسپیسفک بجٹ کے بعد نئی شکل اختیار کرگئے ہیں۔

    گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول لطیف آباد نمبر دس اور جی جی پی ایس مہران میں اسکول اسپیسفک بجٹ کے ذریعے عمارتوں کی تزئین و آرائش، بیرونی حصوں، کلاس رومز اور کاریڈورز میں رنگ و روغن کا کام مکمل کیا گیا ہے۔

    محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے صوبے کے سرکاری اسکولوں کو بنیادی ضروریات اور مرمت کے کاموں کے لیے جاری کیے گئے اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت ان اسکولوں میں فرنیچر کی مرمت، واش رومز میں پانی کی فراہمی، خراب نلکوں کی تبدیلی، پرانے دروازوں اور کھڑکیوں کی مرمت و تبدیلی سمیت مختلف کام کیے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ کلاس رومز، دالانوں اور اسکول کی بیرونی دیواروں پر بھی رنگ و روغن کیا گیا ہے، جس سے اسکولوں کی مجموعی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول لطیف آباد نمبر دس کی ہیڈ مسٹریس رابیعہ کے مطابق اسکول کو پہلے پانی کی قلت کا سامنا تھا، تاہم اسکول اسپیسفک بجٹ سے مختلف مرمتی کاموں کے ساتھ بورنگ کراکے پانی کا بھی انتظام کرلیا گیا ہے۔

    محکمہ تعلیم سندھ کی تحصیل آفیسر فیمیل پرائمری اسکولز علینہ احمد کے مطابق لطیف آباد تحصیل کے 26 گرلز پرائمری اسکول اسکول اسپیسفک بجٹ کے ذریعے نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں۔

    اسکول اسپیسفک بجٹ کا مقصد سرکاری اسکولوں کو ان کی بنیادی ضروریات کے مطابق مقامی سطح پر مرمت اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے، تاکہ طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول پیدا کیا جاسکے۔

  • حیدرآباد: عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ، سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے تیار کرنے والا ادارہ

    حیدرآباد: عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ، سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے تیار کرنے والا ادارہ

    زبان صرف بولنے اور لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی معاشرے کی تاریخ، ثقافت، ادب، علم اور اجتماعی یادداشت کی محافظ بھی ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کسی زبان کی بقا کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کمپیوٹر اسے سمجھ سکتا ہے، اس کی آواز کو تحریر میں بدل سکتا ہے اور مصنوعی ذہانت اس میں سوال کا جواب دے سکتی ہے؟

    انہی سوالات کے تکنیکی جواب تلاش کرنے کے لیے حیدرآباد میں عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات اور آرکائیوز کے انتظامی دائرے میں کام کرتا ہے اور اس کا مقصد سندھی زبان کو جدید کمپیوٹنگ، قدرتی زبان کی پروسیسنگ، مصنوعی ذہانت، مشینی ترجمے، آواز کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا کے لیے تیار کرنا ہے۔

    لینگویج انجینئرنگ کا مطلب صرف زبان کی تعلیم یا لغت سازی نہیں بلکہ زبان کو کمپیوٹر کے قابل بنانا ہے، تاکہ مشین اس کے الفاظ، جملوں، معانی، آوازوں اور ساخت کو سمجھ کر مختلف ڈیجیٹل کام انجام دے سکے۔

    اس کے تحت پرانی سندھی کتابوں کو اسکین کرکے قابل تدوین متن میں تبدیل کرنا، سندھی الفاظ کے باہمی تعلقات کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں محفوظ کرنا، آواز کو تحریر میں تبدیل کرنا، تحریر کو آواز میں بدلنا اور سندھی سے دوسری زبانوں میں خودکار ترجمے جیسی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جاتا ہے۔

    ادارے کا نام عبدالماجد بھُرگڑی کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں سندھی کمپیوٹنگ کے ابتدائی اور اہم ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر پر سندھی لکھنے کے ابتدائی دور میں انہوں نے سندھی فونٹس اور کمپیوٹنگ کے شعبے میں بنیادی کام کیا۔

    ادارے کے قیام کا قانونی عمل 2021 میں مکمل ہوا، جس کے تحت اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دی گئی اور بورڈ، ڈائریکٹر سمیت انتظامی و مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔

    ادارہ سندھی آواز کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے۔ اسپیچ ٹو ٹیکسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے سندھی میں بولی گئی گفتگو کو تحریر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جبکہ ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ٹیکنالوجی لکھی ہوئی سندھی کو آواز میں بدل سکتی ہے۔

    اس کے لیے مختلف علاقوں، لہجوں، تلفظ اور بولنے کے انداز سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی مقدار میں معیاری صوتی معلومات درکار ہوتی ہے، تاکہ سندھی کے لیے زیادہ جامع آواز کی ٹیکنالوجی تیار کی جاسکے۔

    ادارے کا ایک نمایاں ثقافتی منصوبہ ‘بھٹائی پیڈیا’ بھی ہے، جس کا مقصد شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام، ‘شاہ جو رسالو’، لغوی معلومات، تراجم اور متعلقہ تحقیقی مواد کو ڈیجیٹل انداز میں منظم کرنا ہے۔

    سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین اور عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کے اضافی چارج رکھنے والے ڈاکٹر شیر مہرانی کے مطابق ادارے میں سندھی زبان کے ڈیجیٹل فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    یہ کوشش صرف سندھی زبان کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں بلکہ اسے ڈیجیٹل دنیا میں قابل استعمال بنانے کی سمت ایک قدم ہے۔ آنے والے برسوں میں شاید سوال یہ نہ ہو کہ کمپیوٹر پر سندھی لکھی جاسکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سندھی زبان کو کتنی بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔

  • حیدرآباد ضلع کے 90 فیصد سرکاری اسکولوں کو اسکول اسپیسیفک بجٹ جاری، ‘اسکول یکسر تبدیل ہوگئے ہیں’

    حیدرآباد ضلع کے 90 فیصد سرکاری اسکولوں کو اسکول اسپیسیفک بجٹ جاری، ‘اسکول یکسر تبدیل ہوگئے ہیں’

    حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معمولی نوعیت کے ترقیاتی کام اسکول اسپیسیفک بجٹ کے تحت جاری ہیں، جبکہ ضلع کے تقریباً 90 فیصد اسکولوں کو مالی سال 2025-26 کے لیے یہ بجٹ جاری کیا جاچکا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلیمنٹری، سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری حیدرآباد عزیز الرحمٰن ڈہوٹ کے مطابق ضلع میں کُل 227 اسکول ہیں، جن میں سے 90 فیصد کو اسکول اسپیسیفک بجٹ مل چکا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ حاصل کرنے والے اسکولوں میں سے 80 سے 90 فیصد میں مختلف کام جاری ہیں۔

    اسکولوں میں بجٹ سے واش رومز کی تعمیر و مرمت، فرنیچر کی خریداری اور پرانے فرنیچر کی مرمت سمیت رنگ و روغن اور دیگر ضروری نوعیت کے کام کیے جا رہے ہیں۔ بعض اسکولوں میں کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق ضروریات اور کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال بھی اسی بجٹ سے کی جاسکتی ہے۔

    اسکول اسپیسیفک بجٹ کا مقصد اسکولوں کی روزمرہ اور فوری ضروریات کے لیے مالی اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، تاکہ معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے ہر بار ضلعی یا اعلیٰ سطح سے بجٹ اور منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

    مالی سال 2025-26 میں اسکول اسپیسیفک بجٹ کے لیے 18 ارب 67 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جسے مالی سال 2026-27 میں بڑھا کر 22 ارب 64 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

    اس بجٹ سے اسٹیشنری، فرنیچر کی خریداری و مرمت، معمولی مرمت، واش رومز، کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں، کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال اور دیگر منظور شدہ اسکولی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔

    تاہم اسکول سربراہان کو بجٹ استعمال کرنے کا اختیار ملنے کا مطلب رقم کو کسی بھی مقصد کے لیے خرچ کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ بجٹ کا استعمال سرکاری مالی قواعد، منظور شدہ مدات اور متعلقہ ضوابط کے تحت کرنا ہوتا ہے۔

    حیدرآباد میں بجٹ کے اجرا کے بعد متعدد اسکولوں میں بنیادی نوعیت کے کام مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر تعمیر، مرمت اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی ابتدائی تصویر پیش کرتی ہے کہ اسکول اسپیسیفک بجٹ کے ذریعے فیصلے اور اخراجات کو اسکول کی سطح تک منتقل کرنے سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کس حد تک براہ راست متاثر ہوسکتی ہے۔

  • حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز (ایس آئی او وی ایس) آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ بن چکا ہے، جہاں عام معائنے سے لے کر پیچیدہ اور جدید سرجریوں تک تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہیں۔

    اس ادارے میں سالانہ 15 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    حیدرآباد کی جرنلسٹس کالونی میں سینٹرل جیل سے متصل واقع یہ ادارہ آنکھوں کے معمولی معائنے سے لے کر پیچیدہ سرجری تک مختلف طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

    اس ادارے کی بنیاد 1963 میں آئی اسپتال حیدرآباد کے نام سے رکھی گئی تھی۔ 1967 میں اسے لیاقت میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم سے منسلک کیا گیا، جس کے بعد مریضوں کے علاج کے ساتھ میڈیکل طلبہ اور آنکھوں کے ڈاکٹروں کی تربیت کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 1990 میں اسپتال کی گنجائش بڑھا کر 100 بستروں تک کردی گئی۔

    ادارے کی حیثیت میں بڑی تبدیلی 2013 میں آئی، جب سندھ اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے لیاقت یونیورسٹی آئی اسپتال کو اپ گریڈ کرکے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز قائم کیا گیا۔

    حالیہ برسوں میں سندھ حکومت کی جانب سے مزید اپ گریڈیشن کے بعد ادارے میں علاج کے ساتھ تعلیم، تربیت اور تحقیق کی سہولیات بھی وسعت اختیار کرچکی ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس میں آنکھوں کے مختلف امراض کے لیے خصوصی شعبے قائم ہیں۔ قرنیہ کے شعبے میں پیچیدہ بیماریوں کا علاج، قرنیہ کی پیوند کاری اور مختلف اقسام کی کیراٹوپلاسٹی کی سہولت موجود ہے۔

    گلوکوما کے مریضوں کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کے ساتھ لیزر اور جراحی علاج کیا جاتا ہے۔ ادارے میں ہمفری وژول فیلڈ، او سی ٹی اور الٹراساؤنڈ بایومائیکروسکوپی سمیت مختلف جدید تشخیصی ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں، جبکہ پیچیدہ مریضوں کے لیے جدید گلوکوما سرجری بھی کی جاتی ہے۔

    مائیکرو ان ویسیو گلوکوما سرجری، ایم آئی جی ایس، کی تربیت اور عملی سرجیکل ڈیمونسٹریشن بھی یہاں ہوچکی ہے۔

    ریٹینا کے مریضوں کے لیے بھی خصوصی شعبہ موجود ہے، جہاں ذیابیطس سے ہونے والی ریٹینوپیتھی، میکیولا کو پہنچنے والا نقصان، ریٹینل ڈیٹیچمنٹ اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان مریضوں کے لیے لیزر ٹریٹمنٹ، اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز اور وٹریکٹومی جیسی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔

    ادارے کی ایک نمایاں خصوصیت بچوں کی آنکھوں کے علاج کا شعبہ ہے، جہاں پیدائشی موتیا، گلوکوما، بھینگا پن، سست آنکھ، ریٹینا کی بیماریوں اور دیگر پیچیدہ پیدائشی مسائل کا علاج کیا جاتا ہے۔

    ریٹینوبلاسٹوما، بچوں میں ہونے والے خطرناک آنکھ کے سرطان، کے مریض بھی یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایس آئی او وی ایس سندھ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی، یعنی آر او پی، کی اسکریننگ میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

    ادارے میں کانٹیکٹ لینز اور مختلف خصوصی لینز کی سہولت کے علاوہ آنکھوں کی تشخیص کے لیے متعدد جدید مشینیں بھی موجود ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس کا آپریشن تھیٹر کمپلیکس بھی اس کی اہم سہولیات میں شامل ہے، جہاں 4 آپریٹنگ رومز میں جنرل آفتھلمولوجی، پیڈیاٹرک آفتھلمولوجی، وٹریکو ریٹینا اور آکولوپالسٹک سرجریز کی جاتی ہیں۔

    ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد اقبال تالپور کے مطابق ایس آئی او وی ایس پاکستان کا آنکھوں کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے، جہاں ہر سال مختلف شہروں سے آنے والے تقریباً 250,000 مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 15,000 آپریشن کیے جاتے ہیں۔