Tag: حیدرآباد

  • حیدرآباد ضلع کے 90 فیصد سرکاری اسکولوں کو اسکول اسپیسیفک بجٹ جاری، ‘اسکول یکسر تبدیل ہوگئے ہیں’

    حیدرآباد ضلع کے 90 فیصد سرکاری اسکولوں کو اسکول اسپیسیفک بجٹ جاری، ‘اسکول یکسر تبدیل ہوگئے ہیں’

    حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معمولی نوعیت کے ترقیاتی کام اسکول اسپیسیفک بجٹ کے تحت جاری ہیں، جبکہ ضلع کے تقریباً 90 فیصد اسکولوں کو مالی سال 2025-26 کے لیے یہ بجٹ جاری کیا جاچکا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلیمنٹری، سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری حیدرآباد عزیز الرحمٰن ڈہوٹ کے مطابق ضلع میں کُل 227 اسکول ہیں، جن میں سے 90 فیصد کو اسکول اسپیسیفک بجٹ مل چکا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ حاصل کرنے والے اسکولوں میں سے 80 سے 90 فیصد میں مختلف کام جاری ہیں۔

    اسکولوں میں بجٹ سے واش رومز کی تعمیر و مرمت، فرنیچر کی خریداری اور پرانے فرنیچر کی مرمت سمیت رنگ و روغن اور دیگر ضروری نوعیت کے کام کیے جا رہے ہیں۔ بعض اسکولوں میں کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق ضروریات اور کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال بھی اسی بجٹ سے کی جاسکتی ہے۔

    اسکول اسپیسیفک بجٹ کا مقصد اسکولوں کی روزمرہ اور فوری ضروریات کے لیے مالی اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، تاکہ معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے ہر بار ضلعی یا اعلیٰ سطح سے بجٹ اور منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

    مالی سال 2025-26 میں اسکول اسپیسیفک بجٹ کے لیے 18 ارب 67 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جسے مالی سال 2026-27 میں بڑھا کر 22 ارب 64 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

    اس بجٹ سے اسٹیشنری، فرنیچر کی خریداری و مرمت، معمولی مرمت، واش رومز، کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں، کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال اور دیگر منظور شدہ اسکولی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔

    تاہم اسکول سربراہان کو بجٹ استعمال کرنے کا اختیار ملنے کا مطلب رقم کو کسی بھی مقصد کے لیے خرچ کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ بجٹ کا استعمال سرکاری مالی قواعد، منظور شدہ مدات اور متعلقہ ضوابط کے تحت کرنا ہوتا ہے۔

    حیدرآباد میں بجٹ کے اجرا کے بعد متعدد اسکولوں میں بنیادی نوعیت کے کام مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر تعمیر، مرمت اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی ابتدائی تصویر پیش کرتی ہے کہ اسکول اسپیسیفک بجٹ کے ذریعے فیصلے اور اخراجات کو اسکول کی سطح تک منتقل کرنے سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کس حد تک براہ راست متاثر ہوسکتی ہے۔

  • حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

    حیدرآباد میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز (ایس آئی او وی ایس) آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ بن چکا ہے، جہاں عام معائنے سے لے کر پیچیدہ اور جدید سرجریوں تک تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہیں۔

    اس ادارے میں سالانہ 15 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    حیدرآباد کی جرنلسٹس کالونی میں سینٹرل جیل سے متصل واقع یہ ادارہ آنکھوں کے معمولی معائنے سے لے کر پیچیدہ سرجری تک مختلف طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

    اس ادارے کی بنیاد 1963 میں آئی اسپتال حیدرآباد کے نام سے رکھی گئی تھی۔ 1967 میں اسے لیاقت میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم سے منسلک کیا گیا، جس کے بعد مریضوں کے علاج کے ساتھ میڈیکل طلبہ اور آنکھوں کے ڈاکٹروں کی تربیت کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 1990 میں اسپتال کی گنجائش بڑھا کر 100 بستروں تک کردی گئی۔

    ادارے کی حیثیت میں بڑی تبدیلی 2013 میں آئی، جب سندھ اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے لیاقت یونیورسٹی آئی اسپتال کو اپ گریڈ کرکے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز قائم کیا گیا۔

    حالیہ برسوں میں سندھ حکومت کی جانب سے مزید اپ گریڈیشن کے بعد ادارے میں علاج کے ساتھ تعلیم، تربیت اور تحقیق کی سہولیات بھی وسعت اختیار کرچکی ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس میں آنکھوں کے مختلف امراض کے لیے خصوصی شعبے قائم ہیں۔ قرنیہ کے شعبے میں پیچیدہ بیماریوں کا علاج، قرنیہ کی پیوند کاری اور مختلف اقسام کی کیراٹوپلاسٹی کی سہولت موجود ہے۔

    گلوکوما کے مریضوں کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کے ساتھ لیزر اور جراحی علاج کیا جاتا ہے۔ ادارے میں ہمفری وژول فیلڈ، او سی ٹی اور الٹراساؤنڈ بایومائیکروسکوپی سمیت مختلف جدید تشخیصی ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں، جبکہ پیچیدہ مریضوں کے لیے جدید گلوکوما سرجری بھی کی جاتی ہے۔

    مائیکرو ان ویسیو گلوکوما سرجری، ایم آئی جی ایس، کی تربیت اور عملی سرجیکل ڈیمونسٹریشن بھی یہاں ہوچکی ہے۔

    ریٹینا کے مریضوں کے لیے بھی خصوصی شعبہ موجود ہے، جہاں ذیابیطس سے ہونے والی ریٹینوپیتھی، میکیولا کو پہنچنے والا نقصان، ریٹینل ڈیٹیچمنٹ اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان مریضوں کے لیے لیزر ٹریٹمنٹ، اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز اور وٹریکٹومی جیسی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔

    ادارے کی ایک نمایاں خصوصیت بچوں کی آنکھوں کے علاج کا شعبہ ہے، جہاں پیدائشی موتیا، گلوکوما، بھینگا پن، سست آنکھ، ریٹینا کی بیماریوں اور دیگر پیچیدہ پیدائشی مسائل کا علاج کیا جاتا ہے۔

    ریٹینوبلاسٹوما، بچوں میں ہونے والے خطرناک آنکھ کے سرطان، کے مریض بھی یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایس آئی او وی ایس سندھ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی، یعنی آر او پی، کی اسکریننگ میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

    ادارے میں کانٹیکٹ لینز اور مختلف خصوصی لینز کی سہولت کے علاوہ آنکھوں کی تشخیص کے لیے متعدد جدید مشینیں بھی موجود ہیں۔

    ایس آئی او وی ایس کا آپریشن تھیٹر کمپلیکس بھی اس کی اہم سہولیات میں شامل ہے، جہاں 4 آپریٹنگ رومز میں جنرل آفتھلمولوجی، پیڈیاٹرک آفتھلمولوجی، وٹریکو ریٹینا اور آکولوپالسٹک سرجریز کی جاتی ہیں۔

    ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد اقبال تالپور کے مطابق ایس آئی او وی ایس پاکستان کا آنکھوں کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے، جہاں ہر سال مختلف شہروں سے آنے والے تقریباً 250,000 مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 15,000 آپریشن کیے جاتے ہیں۔

  • حیدرآباد کی وہ لائبریری جہاں ایک نشست کے لیے بھی نوجوانوں کی لمبی قطار لگتی ہے

    حیدرآباد کی وہ لائبریری جہاں ایک نشست کے لیے بھی نوجوانوں کی لمبی قطار لگتی ہے

    حیدرآباد کے قاسم آباد میں شمس العلماء داؤد پوٹہ پبلک لائبریری کے باہر ہر صبح ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کتابیں اور بیگ اٹھائے نوجوان تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اندر جا کر مطالعے کے لیے ایک نشست حاصل کرسکیں۔

    لڑکوں کے ساتھ بڑی تعداد میں نوجوان لڑکیاں بھی روزانہ پہنچتی ہیں۔ ان میں بعض ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو دوسرے شہروں سے حیدرآباد آکر تعلیم یا مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔

    یہ سرکاری لائبریری اب محض کتابیں پڑھنے کی جگہ نہیں رہی بلکہ یونیورسٹی طلبہ، محققین اور خاص طور پر سی ایس ایس اور پی سی ایس کے امیدواروں کے لیے مطالعے کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے اس کی سب سے بڑی کشش ایک پرسکون اور مفت مطالعاتی ماحول ہے۔

    لائبریری میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود ہیں، جن میں سندھی، اردو، انگریزی، عربی اور فارسی کا ذخیرہ شامل ہے۔ بچوں کے لیے بھی تقریباً 5 ہزار کتابوں کا الگ ذخیرہ موجود ہے، جبکہ مختلف زبانوں کے اخبارات اور رسائل بھی دستیاب ہیں۔

    لائبریری میں تقریباً 2,500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، لیکن روزانہ آنے والے طلبہ کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ امتحانات کے دنوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے اور صبح ہی سے نشست کے حصول کے لیے لائبریری کے باہر قطاریں لگ جاتی ہیں۔

    شمس العلماء داؤد پوٹہ لائبریری سندھ کی قدیم اور اہم عوامی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔ جولائی 1971 میں معروف سندھی عالم، ادیب اور محقق ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوٹہ کے ورثا نے ان کی ذاتی کتابوں کا ذخیرہ لائبریری کو عطیہ کیا، جس کے بعد اس کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ سندھ میں محکمہ ثقافت کے قیام کے بعد 1986 سے یہ لائبریری اسی محکمے کے انتظامی دائرے میں کام کر رہی ہے۔

    یہاں خواتین کے لیے بھی مطالعے کی سہولت موجود ہے، جبکہ امریکی حکومت کے تعاون سے لنکن کارنر بھی قائم کیا گیا تھا۔ لائبریری کے ڈائریکٹر بشارت علی کے مطابق یہ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کھلی رہتی ہے اور متبادل بجلی کا انتظام بھی موجود ہے۔

    حیدرآباد میں حسرت موہانی سنٹرل لائبریری، کے بی عظیم خان سندھ گورنمنٹ لائبریری اور لطیف آباد یونٹ 11 کی پبلک لائبریری سمیت دیگر عوامی کتب خانے بھی موجود ہیں، جہاں نوجوان تعلیم اور مسابقتی امتحانات کے ذریعے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لیکن شمس العلماء داؤد پوٹہ لائبریری کے باہر روزانہ نظر آنے والی لمبی قطار ایک بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے: جب نوجوان مفت میں دستیاب کتابوں اور پرسکون مطالعاتی جگہ کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں تو کیا ایسی سرکاری لائبریریوں میں مزید نشستوں، سہولیات اور مطالعاتی مراکز کی ضرورت نہیں؟

    یہ قطار دراصل صرف ایک نشست کے انتظار میں کھڑے نوجوانوں کی قطار نہیں، بلکہ تعلیم کے ذریعے بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والی ایک پوری نسل کی تصویر ہے۔

  • آٹو بھان روڈ کی نئی شکل، حیدرآباد کی اہم شاہراہ کی تعمیر نو اور توسیع

    آٹو بھان روڈ کی نئی شکل، حیدرآباد کی اہم شاہراہ کی تعمیر نو اور توسیع

    حیدرآباد کی اہم شاہراہ آٹو بھان روڈ کو سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبے کے تحت 2025 میں تزئین و آرائش، تعمیر نو اور کشادگی کے بعد نئی شکل دی گئی ہے۔ منصوبے کا مقصد شاہراہ کو کشادہ اور بہتر بنانے کے ساتھ نکاسی آب کے نظام کو بہتر کرنا اور شہریوں کے لیے سڑک کو زیادہ محفوظ اور خوبصورت بنانا ہے۔

    آٹو بھان روڈ کے ترقیاتی منصوبے میں آٹو بھان روڈ سے ہالا ناکہ تک تقریباً 13 کلومیٹر طویل راستہ شامل ہے، جبکہ منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت 5 ارب 87 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ منصوبے کے تحت سڑک کی تعمیر نو، کشادگی، نکاسی آب کے نظام میں بہتری اور شاہراہ کی تزئین و آرائش پر کام کیا جا رہا ہے۔

    منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں آٹو بھان روڈ کے تقریباً 2.2 کلومیٹر حصے کی تعمیر نو اور کشادگی مکمل کی گئی۔ تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد اگست 2025 میں اس حصے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ حصہ حسین آباد کے گدو چوک سے آگے لطیف آباد کی سمت اہم شہری علاقوں کو آپس میں ملاتا ہے۔

    نئی تعمیر شدہ سڑک کے درمیان گرین بیلٹ قائم کی گئی ہے، جس کے ساتھ اسٹریٹ لائٹس بھی نصب کی گئی ہیں۔ مرکزی گرین بیلٹ میں نصب روشنیوں نے رات کے وقت شاہراہ کی ظاہری شکل کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ اسی حصے میں ایل ای ڈی اسکرینیں بھی نصب کی گئی ہیں، جس سے شاہراہ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔

    آٹو بھان روڈ کی اہمیت صرف اس کی کشادگی اور تزئین و آرائش تک محدود نہیں۔ یہ شاہراہ حیدرآباد کے حسین آباد، لطیف آباد اور شہر کے دیگر اہم علاقوں کو آپس میں ملانے والی اہم سڑکوں میں شامل ہے۔ وسیع تر ترقیاتی منصوبے کے تحت اس راستے کا تعلق ہالا ناکہ، نئی سبزی منڈی، ٹنڈو جام اور شہر کے صنعتی علاقوں تک رسائی سے بھی ہے۔

    منصوبے کے اگلے مراحل میں لطیف آباد یونٹ نمبر 7 سے فتح چوک تک سڑک کی بہتری اور مزید تعمیراتی کام شامل ہیں۔ اس سے شاہراہ کے مختلف حصوں کو بہتر معیار کے ساتھ مربوط کرنے اور شہری ٹریفک کی روانی میں بہتری لانے کا مقصد حاصل کیا جائے گا۔

    آٹو بھان روڈ منصوبے میں نکاسی آب کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ شاہراہ کے ساتھ پبلک اسکول سے دریائے خان پمپنگ اسٹیشن تک مرکزی ڈرین پر بھی کام کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں بارش کے دوران مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونا ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، اس لیے سڑک کی تعمیر کے ساتھ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا بھی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔

    شاہراہ کے مختلف چوراہوں اور مقامات پر ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یوٹرنز، چوراہوں کے انتظام اور ٹریفک کی روانی میں بہتری کے لیے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ گدو چوک سمیت اہم مقامات پر ٹریفک پولیس کی تعیناتی بڑھانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

    آٹو بھان روڈ سے منسلک وسیع رنگ روڈ منصوبہ بھی حیدرآباد کے مستقبل کے ٹریفک نظام کا اہم حصہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کی مختلف اہم شاہراہوں اور فلائی اوورز کو باہم مربوط کرکے شہری علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور مختلف علاقوں کے درمیان آمد و رفت کو زیادہ آسان بنانا ہے۔

    آٹو بھان روڈ کی تعمیر نو اور کشادگی کو حیدرآباد کے شہری انفراسٹرکچر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ منصوبے میں صرف سڑک کی تعمیر پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ نکاسی آب، روشنی، گرین بیلٹ، ٹریفک مینجمنٹ اور شاہراہ کی مجموعی خوبصورتی کو بھی ترقیاتی کام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

  • حیدرآباد میں ڈی پارک سے خان بہادر حسن علی آفندی پیپلز پارک تک کا سفر شہریوں کے لیے کتنا کارگر؟

    حیدرآباد میں ڈی پارک سے خان بہادر حسن علی آفندی پیپلز پارک تک کا سفر شہریوں کے لیے کتنا کارگر؟

    حیدرآباد میں کبھی ڈی پارک کے نام سے مشہور تفریحی مقام اب خان بہادر حسن علی آفندی پیپلز پارک کے نام سے ایک نئے روپ میں شہریوں کے لیے دستیاب ہے۔

    یہ پارک جامشورو روڈ کے قریب واقع ہے اور 12 اگست 2025 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی اور حیدرآباد کے میئر کاشف شورو سمیت دیگر حکام موجود تھے۔

    14 ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ پارک شہری جنگل کے تصور کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہاں 5 ہزار سے زیادہ درخت اور 10 ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔ پارک میں دو واکنگ ٹریکس اور تین اوپن لائبریریاں بھی قائم کی گئی ہیں، جس سے اسے محض تفریحی مقام کے بجائے واک، مطالعے اور کھلی فضا میں وقت گزارنے کی جگہ کے طور پر بھی ترتیب دیا گیا ہے۔

    حیدرآباد جیسے بڑے اور گرم شہر میں شہری سبز مقامات کی اہمیت صرف تفریح تک محدود نہیں۔ درختوں اور پودوں سے بھرپور عوامی مقامات شہریوں کو کھلی فضا میں وقت گزارنے، چہل قدمی اور جسمانی سرگرمی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے حسن علی آفندی پیپلز پارک شہر میں ایک نمایاں عوامی تفریحی سہولت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    پارک کا نام خان بہادر حسن علی آفندی کے نام پر رکھا گیا ہے، جو سندھ میں جدید تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم تاریخی شخصیت تھے۔ حسن علی آفندی سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی تھے، جہاں بعد میں قائداعظم محمد علی جناح نے بھی تعلیم حاصل کی۔

    ڈی پارک سے حسن علی آفندی پیپلز پارک تک کی تبدیلی حیدرآباد میں ایک موجودہ عوامی مقام کو نئے انداز میں ترقی دینے کی کوشش ہے۔ تاہم کسی بھی عوامی پارک کی کامیابی صرف افتتاح یا شجرکاری کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کی مستقل دیکھ بھال، صفائی، درختوں اور پودوں کی حفاظت، لائبریریوں اور دیگر سہولیات کے مؤثر استعمال اور شہریوں کے لیے محفوظ ماحول برقرار رکھنے سے بھی طے ہوتی ہے۔

    اگر یہ سہولیات مستقل بنیادوں پر برقرار رہیں تو خان بہادر حسن علی آفندی پیپلز پارک حیدرآباد کے شہریوں، خصوصاً خاندانوں، بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے لیے ایک اہم عوامی سبز مقام بن سکتا ہے۔

  • حیدرآباد کی پہچان دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مچھلی کو 27 سال کا تجربہ رکھنے والے استاد گل کیسے پکاتے ہیں؟

    حیدرآباد کی پہچان دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مچھلی کو 27 سال کا تجربہ رکھنے والے استاد گل کیسے پکاتے ہیں؟

    حیدرآباد کے آٹو بھان روڈ پر واقع بریز فش پوائنٹ پر مچھلی پکانے کا 27 سالہ تجربہ رکھنے والے استاد گل کے مطابق دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مچھلی کو مخصوص مصالحوں اور تیل میں پکانے سے اس کا ذائقہ منفرد ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دور سے یہاں مچھلی کھانے آتے ہیں۔

    ویسے تو دریائے سندھ کی پلہ مچھلی حیدرآباد کی خاص پہچان سمجھی جاتی ہے، تاہم یہ مخصوص موسم میں دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رہو مچھلی بھی خاصی مقبول ہے اور حیدرآباد میں میٹھے پانی کی مختلف اقسام کی مچھلیاں مقامی کھانوں کا حصہ ہیں۔

    استاد گل کے مطابق کراچی سمیت دیگر شہروں سے بھی لوگ حیدرآباد آکر دریائے سندھ کی مچھلی کھانا پسند کرتے ہیں۔ ان کے بقول بعض گاہک خاص طور پر میٹھے پانی کی مچھلی کے ذائقے کے لیے حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ سمندری اور دریائی مچھلی کے ذائقے میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ دریائے سندھ کی مچھلی میں کانٹے نسبتاً زیادہ ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کا مخصوص ذائقہ لوگوں کو پسند آتا ہے۔

    ’ہماری مچھلی کے ذائقے کا اصل راز ہمارے مخصوص مصالحے اور پکانے کا طریقہ ہے۔ ہم مچھلی کو مناسب طریقے سے تیار کرکے تیل میں پکاتے ہیں، جس سے اس کا ذائقہ مزید بہتر ہوجاتا ہے اور لوگ شوق سے کھاتے ہیں۔‘

    استاد گل کے مطابق 27 سال کے تجربے کے دوران انہوں نے مچھلی پکانے کے طریقے میں کئی چیزیں اپنے تجربے سے سیکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مچھلی کا تازہ ہونا، اسے صاف کرنے کا درست طریقہ، مصالحوں کی مقدار اور پکانے کا وقت، سب اس کے حتمی ذائقے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    حیدرآباد میں دریائے سندھ کی مچھلی صرف ایک کھانے کی چیز نہیں بلکہ شہر کی خوراک اور دریائی ثقافت کا بھی حصہ ہے۔ پلہ اپنی موسمی دستیابی کے باعث خاص اہمیت رکھتی ہے، جبکہ رہو اور میٹھے پانی کی دوسری مچھلیاں سال کے مختلف اوقات میں اس ذائقے کی روایت کو زندہ رکھتی ہیں۔

    اور آٹو بھان روڈ پر استاد گل جیسے ماہر باورچی اس روایت کو اپنے 27 سالہ تجربے کے ساتھ آج بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • حیدرآباد: سات محرم کی تاریخی مہندی: عقیدت، منت اور صدیوں پرانی روایت کا زندہ استعارہ

    حیدرآباد: سات محرم کی تاریخی مہندی: عقیدت، منت اور صدیوں پرانی روایت کا زندہ استعارہ

    حیدرآباد کی تنگ و پُررونق گلیوں میں محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ایک ایسی روایت بھی زندہ ہو جاتی ہے جو صرف مذہبی عقیدت ہی نہیں بلکہ شہر کی تہذیبی شناخت کا بھی اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ سات محرم کی تاریخی مہندی، ایک ایسی منفرد رسم ہے جس میں سینکڑوں خواتین اور بچیاں اپنی دعاؤں، امیدوں اور منتوں کے ساتھ شریک ہوتی ہیں۔

    یہ تاریخی مہندی کی سب سے معروف اور قدیم تقریب شہر کے قدیم علاقے پکا قلعہ کے نزدیک واقع گل شاہ بخاری امام بارگاہ میں منعقد ہوتی ہے۔

    یہ امام بارگاہ 1876 میں قائم ہوئی تھی اور حیدرآباد کی قدیم ترین امام بارگاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ 7 محرم کی رات یہاں خواتین اور بچیوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے، جبکہ فجر کے وقت مہندی، سہرے، چادریں اور دیگر متبرک اشیاء جلوس کی صورت میں قریبی تاریخی مقام قدم گاہ مولا علیؑ لے جائی جاتی ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد کی یہ روایت صرف ایک امام بارگاہ تک محدود نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ شہر کے مختلف شیعہ محلوں اور امام بارگاہوں میں بھی مہندی کی مجالس اور تقریبات منعقد ہونے لگیں، تاہم گل شاہ بخاری امام بارگاہ کی مہندی کو سب سے قدیم اور مرکزی تقریب سمجھا جاتا ہے۔

    گل شاہ بخاری امام بارگاہ کی متولی سیدہ کلثوم شاہ کے مطابق یہ روایت حضرت قاسمؑ کی یاد سے منسوب ہے، جو حضرت امام حسینؑ کے بھتیجے اور کربلا کے کم عمر شہداء میں شامل تھے۔

    سیدہ کلثوم شاہ بتاتی ہیں کہ سات محرم کی رات خواتین بڑی عقیدت کے ساتھ امام بارگاہ آتی ہیں، مہندی چڑھاتی ہیں، سہرے پیش کرتی ہیں اور اپنی منتیں مانگتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی خاندان نسل در نسل اس روایت سے وابستہ ہیں اور ہر سال اپنی مرادوں کی تکمیل کے بعد دوبارہ حاضری دیتے ہیں۔

    منتوں اور امیدوں کی روایت

    اس تقریب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر خواتین سے جڑی ہوئی روایت ہے۔ معاشی مشکلات، اولاد کی خواہش، بیماریوں سے شفا، قرضوں سے نجات اور گھریلو مسائل کے حل کے لیے خواتین یہاں دعائیں مانگتی ہیں۔

    تقریب کے دوران امام بارگاہ کے اندر رنگ برنگے سہرے، مہندی، پھول، چادریں، دوپٹے، مٹھائیاں اور علموں کی شبیہیں رکھی جاتی ہیں۔ عقیدت مند خواتین ان اشیاء کو تبرک سمجھتے ہوئے اپنی نذریں پیش کرتی ہیں۔

    حیدرآباد کی منفرد مذہبی ثقافت

    حیدرآباد کو سندھ میں عزاداری کی قدیم روایات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق شہر میں محرم کی متعدد رسومات دو سو سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں اور ان میں سات محرم کی مہندی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد کی یہ روایت سندھ کے دیگر شہروں سے مختلف انداز میں منائی جاتی ہے۔ یہاں مہندی کی تقریب صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ خواتین کے سماجی میل جول، روحانی وابستگی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم اظہار سمجھی جاتی ہے۔

    تاریخی پس منظر

    مقامی روایات کے مطابق حضرت امام حسینؑ نے اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسنؑ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کے لیے حضرت قاسمؑ کی شادی کا ارادہ کیا تھا۔ تاہم واقعۂ کربلا کے دوران حضرت قاسمؑ شہید ہوگئے۔ اسی نسبت سے برصغیر کے بعض علاقوں میں حضرت قاسمؑ کی یاد میں مہندی کی روایت وجود میں آئی، جو وقت کے ساتھ سندھ خصوصاً حیدرآباد کی ایک نمایاں مذہبی روایت بن گئی۔

    فجر تک جاری رہنے والی تقریب

    سات  محرم کی شب شروع ہونے والی یہ تقریب فجر تک جاری رہتی ہے۔ فجر کے وقت مرد حضرات امام بارگاہ میں رکھی گئی متبرک اشیاء کو جلوس کی صورت میں حیدرآباد کے تاریخی مقام قدم گاہ تک لے جاتے ہیں، جہاں عقیدت مند بڑی تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔

    حیدرآباد کی تاریخی سات محرم کی مہندی آج بھی اس شہر کی ان زندہ روایات میں شامل ہے جو وقت کے ساتھ بدلتی دنیا میں اپنی اصل شکل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف عقیدت کی علامت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ سندھ کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ آج بھی عوامی زندگی میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔

  • بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ: حیدرآباد میں منفرد ذائقوں کی پہچان

    بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ: حیدرآباد میں منفرد ذائقوں کی پہچان

    حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ چھ میں واقع بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ سندھ کے ان چند کھانے کے مراکز میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے بلوچستان کے روایتی گوشت پر مبنی پکوانوں کو مقامی سطح پر غیرمعمولی مقبولیت دلائی۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران یہ ریسٹورنٹ نہ صرف حیدرآباد بلکہ کراچی، میرپورخاص، نواب شاہ اور دیگر شہروں سے آنے والے کھانے کے شوقین افراد کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    ریسٹورنٹ کے نام میں شامل ‘بروہی’ دراصل بلوچستان کی قدیم براہوی قوم اور ان کی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ براہوی قوم بلوچستان کی اہم نسلی برادریوں میں شمار ہوتی ہے اور اپنی الگ زبان، روایات اور مہمان نوازی کے لیے جانی جاتی ہے۔ اسی ثقافتی شناخت کو ریسٹورنٹ کے ماحول اور کھانوں میں نمایاں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ کی شہرت کا سب سے بڑا سبب اس کے مٹن سے تیار ہونے والے روایتی پکوان ہیں۔ یہاں پیش کیے جانے والے مٹن دم پخت، نمکین گوشت، مٹن کڑاہی، روسٹ اور باربی کیو کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بلوچستان کے روایتی کھانوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ گوشت میں مصالحوں کا استعمال نسبتاً کم رکھا جاتا ہے تاکہ گوشت کا اصل ذائقہ برقرار رہے۔ یہی انداز اس ریسٹورنٹ کی پہچان بھی بن چکا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں نمکین گوشت اور دم پخت کی روایت صدیوں پرانی سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل گوشت کو سادہ مصالحوں کے ساتھ آہستہ آہستہ پکاتے تھے، جس سے گوشت نرم اور خوش ذائقہ بن جاتا تھا۔ آج بھی یہی روایت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں برقرار ہے اور بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ اسی طرز کو شہری ماحول میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    ریسٹورنٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں کھانے کے ساتھ ایک ثقافتی تجربہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ جدید فاسٹ فوڈ مراکز کے برعکس یہاں روایتی انداز اور سادہ ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جو بہت سے گاہکوں کو بلوچستان کی دیہی ثقافت کی یاد دلاتا ہے۔

    فوڈ بلاگرز اور سیاحتی وی لاگرز کی متعدد رپورٹس میں اس ریسٹورنٹ کو سندھ کے معروف گوشت مراکز میں شامل کیا گیا ہے۔ خاص طور پر مٹن دم پخت کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے والے گاہک اس کی مقبولیت کا ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تعطیلات اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران یہاں طویل انتظار بھی دیکھنے میں آتا ہے۔

    حیدرآباد تاریخی طور پر سندھی، میمنی، کچھی اور دکنی کھانوں کے لیے مشہور رہا ہے، تاہم بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ نے شہر کے فوڈ کلچر میں بلوچستان کے روایتی ذائقوں کو متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ ریسٹورنٹ صرف ایک کھانے کی جگہ نہیں بلکہ حیدرآباد کی متنوع ثقافتی اور غذائی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔

    شہر کے کئی معروف سیاسی، سماجی اور سرکاری شخصیات بھی یہاں آ چکی ہیں، جبکہ گوشت کے روایتی پکوانوں کے شوقین افراد کے لیے یہ مقام حیدرآباد کی نمایاں فوڈ منزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ کس طرح ایک صوبے کے مقامی ذائقے دوسرے صوبے کے شہری ماحول میں مقبول ہو کر ایک نئی شناخت حاصل کر سکتے ہیں۔

  • حیدرآباد: خواجہ سراؤں کو اپنے ہی محکمے کے خلاف اکسانے پر ماریہ ساریو گرفتار، مقدمہ درج

    حیدرآباد: خواجہ سراؤں کو اپنے ہی محکمے کے خلاف اکسانے پر ماریہ ساریو گرفتار، مقدمہ درج

    وومن پولیس نے ایس ایس پی آفس میں تعینات خاتون جونیئر کلرک ماریہ ساریو کو گرفتار کر لیا، جبکہ ان سمیت 15 خواجہ سراؤں کے خلاف سرکاری دفتر میں ہنگامہ آرائی، اہلکاروں کو ہراساں کرنے، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق جونیئر کلرک ماریہ ساریو کو حال ہی میں ایس ایس پی آفس کی جینڈر بیسڈ وائلنس برانچ سے ہٹا کر دوسرے شعبے میں تعینات کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے متعدد خواجہ سراؤں کو اکسا کر ایس ایس پی آفس پہنچایا، جہاں سرکاری دفتر میں ہنگامہ آرائی کی گئی اور افسران و عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق واقعہ تین جون 2026 کو پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوپہر کے وقت متعدد خواجہ سرا ایس ایس پی آفس پہنچے اور شور شرابا کرتے ہوئے مختلف دفاتر میں داخل ہو گئے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی، اہلکاروں کو دھمکیاں دیں اور دفتر کے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی ویڈیوز اور آڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر ماریہ ساریو کو خواجہ سراؤں سے رابطے اور انہیں دفتر آنے پر آمادہ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ انہی شواہد کی بنیاد پر مقدمے میں ماریہ ساریو کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    مقدمہ تھانہ کینٹ حیدرآباد میں پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں سرکاری ملازمین کے فرائض میں مداخلت، ہنگامہ آرائی، دھمکیاں دینے اور سرکاری املاک و دفاتر میں غیر قانونی مداخلت سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد دیگر خواجہ سراؤں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے فور سیٹر رکشے انتہائی منفرد ہیں۔ مقامی لوگ نہ تو انہیں رکشہ کے نام سے پکارتے ہیں اور نہ ہی چنگچی کہتے ہیں، بس سادہ نام فور سیٹر ہے۔

    مخصوص پیلے اور کالے رنگ والے ان فور سیٹروں کی ساخت منفرد ہے، یہ چھوٹی گاڑی کی طرح لگتے ہیں۔ اگلے حصے کے ایک کنارے پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر درج ہوتا ہے کہ ایک فور سیٹر کس علاقے سے کہاں تک چلتا ہے۔ جیسے آنکھوں کا ہسپتال سے بدین اسٹاپ، نواب شاہ اسٹاپ سے ہیرآباد مارکیٹ، نیا پل، بدین اسٹاپ۔

    ان فور سیٹروں کی تاریخ انتہائی منفرد ہے۔ شہر کی پہچان بننے والی یہ سواری کسی منصوبے کے تحت وجود میں نہیں آئی بلکہ یہ دراصل ایک حادثاتی ایجاد ہے جس نے بعد میں شہر کی ثقافت کا حصہ بننے کی منزل طے کی۔

    فور سیٹر کی کہانی کا آغاز 1965 میں اس وقت ہوا جب جاپان کے سفیر نے حیدرآباد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے کوڑے کے مسئلے کو دیکھا، جس کے بعد انہوں نے سینکڑوں گاڑیاں صفائی کے کام کے لیے پاکستان بھیجیں۔

    یہ گاڑیاں میونسپلٹی کے حوالے کر دی گئیں اور کچھ عرصے تک انہیں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ یہ گاڑیاں وقت کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانا چھوڑ کر لوگوں کو ڈھونے لگیں۔

    آج یہ فور سیٹر رکشے حیدرآباد کی گلی محلوں کی رونق ہیں اور شہر کی ثقافت اور تہواروں کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ان کی چند خاص باتیں یہ ہیں:

    منفرد نشست: ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مسافروں کی نشستیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، جو دوسرے شہروں کی رکشوں سے بالکل مختلف ہے۔
    زیادہ گنجائش: یہ نام کے فور سیٹر ہیں، مگر ان میں کبھی پانچ، چھ، آٹھ اور کبھی کبھی دس لوگ بھی سوار ہوتے ہیں۔ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے مسافروں کی ٹانگیں آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

    صرف حیدرآباد کی پہچان: یہ رکشے صرف حیدرآباد کی خاص پہچان ہیں۔

    سستی سواری: یہ رکشے عام لوگوں کے لیے سستی اور آسان سواری کا ذریعہ ہیں، اور اسی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہیں۔

    حیدرآباد کا یہ فور سیٹر محض ایک گاڑی نہیں بلکہ اس شہر کی تہذیب، جدت اور عوام کی بے باک زندگی کی ایک زندہ علامت ہے۔