Tag: حیدرآباد

  • حیدرآباد: سات محرم کی تاریخی مہندی: عقیدت، منت اور صدیوں پرانی روایت کا زندہ استعارہ

    حیدرآباد: سات محرم کی تاریخی مہندی: عقیدت، منت اور صدیوں پرانی روایت کا زندہ استعارہ

    حیدرآباد کی تنگ و پُررونق گلیوں میں محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ایک ایسی روایت بھی زندہ ہو جاتی ہے جو صرف مذہبی عقیدت ہی نہیں بلکہ شہر کی تہذیبی شناخت کا بھی اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ سات محرم کی تاریخی مہندی، ایک ایسی منفرد رسم ہے جس میں سینکڑوں خواتین اور بچیاں اپنی دعاؤں، امیدوں اور منتوں کے ساتھ شریک ہوتی ہیں۔

    یہ تاریخی مہندی کی سب سے معروف اور قدیم تقریب شہر کے قدیم علاقے پکا قلعہ کے نزدیک واقع گل شاہ بخاری امام بارگاہ میں منعقد ہوتی ہے۔

    یہ امام بارگاہ 1876 میں قائم ہوئی تھی اور حیدرآباد کی قدیم ترین امام بارگاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ 7 محرم کی رات یہاں خواتین اور بچیوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے، جبکہ فجر کے وقت مہندی، سہرے، چادریں اور دیگر متبرک اشیاء جلوس کی صورت میں قریبی تاریخی مقام قدم گاہ مولا علیؑ لے جائی جاتی ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد کی یہ روایت صرف ایک امام بارگاہ تک محدود نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ شہر کے مختلف شیعہ محلوں اور امام بارگاہوں میں بھی مہندی کی مجالس اور تقریبات منعقد ہونے لگیں، تاہم گل شاہ بخاری امام بارگاہ کی مہندی کو سب سے قدیم اور مرکزی تقریب سمجھا جاتا ہے۔

    گل شاہ بخاری امام بارگاہ کی متولی سیدہ کلثوم شاہ کے مطابق یہ روایت حضرت قاسمؑ کی یاد سے منسوب ہے، جو حضرت امام حسینؑ کے بھتیجے اور کربلا کے کم عمر شہداء میں شامل تھے۔

    سیدہ کلثوم شاہ بتاتی ہیں کہ سات محرم کی رات خواتین بڑی عقیدت کے ساتھ امام بارگاہ آتی ہیں، مہندی چڑھاتی ہیں، سہرے پیش کرتی ہیں اور اپنی منتیں مانگتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی خاندان نسل در نسل اس روایت سے وابستہ ہیں اور ہر سال اپنی مرادوں کی تکمیل کے بعد دوبارہ حاضری دیتے ہیں۔

    منتوں اور امیدوں کی روایت

    اس تقریب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر خواتین سے جڑی ہوئی روایت ہے۔ معاشی مشکلات، اولاد کی خواہش، بیماریوں سے شفا، قرضوں سے نجات اور گھریلو مسائل کے حل کے لیے خواتین یہاں دعائیں مانگتی ہیں۔

    تقریب کے دوران امام بارگاہ کے اندر رنگ برنگے سہرے، مہندی، پھول، چادریں، دوپٹے، مٹھائیاں اور علموں کی شبیہیں رکھی جاتی ہیں۔ عقیدت مند خواتین ان اشیاء کو تبرک سمجھتے ہوئے اپنی نذریں پیش کرتی ہیں۔

    حیدرآباد کی منفرد مذہبی ثقافت

    حیدرآباد کو سندھ میں عزاداری کی قدیم روایات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق شہر میں محرم کی متعدد رسومات دو سو سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں اور ان میں سات محرم کی مہندی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد کی یہ روایت سندھ کے دیگر شہروں سے مختلف انداز میں منائی جاتی ہے۔ یہاں مہندی کی تقریب صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ خواتین کے سماجی میل جول، روحانی وابستگی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم اظہار سمجھی جاتی ہے۔

    تاریخی پس منظر

    مقامی روایات کے مطابق حضرت امام حسینؑ نے اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسنؑ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کے لیے حضرت قاسمؑ کی شادی کا ارادہ کیا تھا۔ تاہم واقعۂ کربلا کے دوران حضرت قاسمؑ شہید ہوگئے۔ اسی نسبت سے برصغیر کے بعض علاقوں میں حضرت قاسمؑ کی یاد میں مہندی کی روایت وجود میں آئی، جو وقت کے ساتھ سندھ خصوصاً حیدرآباد کی ایک نمایاں مذہبی روایت بن گئی۔

    فجر تک جاری رہنے والی تقریب

    سات  محرم کی شب شروع ہونے والی یہ تقریب فجر تک جاری رہتی ہے۔ فجر کے وقت مرد حضرات امام بارگاہ میں رکھی گئی متبرک اشیاء کو جلوس کی صورت میں حیدرآباد کے تاریخی مقام قدم گاہ تک لے جاتے ہیں، جہاں عقیدت مند بڑی تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔

    حیدرآباد کی تاریخی سات محرم کی مہندی آج بھی اس شہر کی ان زندہ روایات میں شامل ہے جو وقت کے ساتھ بدلتی دنیا میں اپنی اصل شکل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف عقیدت کی علامت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ سندھ کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ آج بھی عوامی زندگی میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔

  • بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ: حیدرآباد میں منفرد ذائقوں کی پہچان

    بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ: حیدرآباد میں منفرد ذائقوں کی پہچان

    حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ چھ میں واقع بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ سندھ کے ان چند کھانے کے مراکز میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے بلوچستان کے روایتی گوشت پر مبنی پکوانوں کو مقامی سطح پر غیرمعمولی مقبولیت دلائی۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران یہ ریسٹورنٹ نہ صرف حیدرآباد بلکہ کراچی، میرپورخاص، نواب شاہ اور دیگر شہروں سے آنے والے کھانے کے شوقین افراد کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    ریسٹورنٹ کے نام میں شامل ‘بروہی’ دراصل بلوچستان کی قدیم براہوی قوم اور ان کی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ براہوی قوم بلوچستان کی اہم نسلی برادریوں میں شمار ہوتی ہے اور اپنی الگ زبان، روایات اور مہمان نوازی کے لیے جانی جاتی ہے۔ اسی ثقافتی شناخت کو ریسٹورنٹ کے ماحول اور کھانوں میں نمایاں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ کی شہرت کا سب سے بڑا سبب اس کے مٹن سے تیار ہونے والے روایتی پکوان ہیں۔ یہاں پیش کیے جانے والے مٹن دم پخت، نمکین گوشت، مٹن کڑاہی، روسٹ اور باربی کیو کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بلوچستان کے روایتی کھانوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ گوشت میں مصالحوں کا استعمال نسبتاً کم رکھا جاتا ہے تاکہ گوشت کا اصل ذائقہ برقرار رہے۔ یہی انداز اس ریسٹورنٹ کی پہچان بھی بن چکا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں نمکین گوشت اور دم پخت کی روایت صدیوں پرانی سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل گوشت کو سادہ مصالحوں کے ساتھ آہستہ آہستہ پکاتے تھے، جس سے گوشت نرم اور خوش ذائقہ بن جاتا تھا۔ آج بھی یہی روایت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں برقرار ہے اور بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ اسی طرز کو شہری ماحول میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    ریسٹورنٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں کھانے کے ساتھ ایک ثقافتی تجربہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ جدید فاسٹ فوڈ مراکز کے برعکس یہاں روایتی انداز اور سادہ ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جو بہت سے گاہکوں کو بلوچستان کی دیہی ثقافت کی یاد دلاتا ہے۔

    فوڈ بلاگرز اور سیاحتی وی لاگرز کی متعدد رپورٹس میں اس ریسٹورنٹ کو سندھ کے معروف گوشت مراکز میں شامل کیا گیا ہے۔ خاص طور پر مٹن دم پخت کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے والے گاہک اس کی مقبولیت کا ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تعطیلات اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران یہاں طویل انتظار بھی دیکھنے میں آتا ہے۔

    حیدرآباد تاریخی طور پر سندھی، میمنی، کچھی اور دکنی کھانوں کے لیے مشہور رہا ہے، تاہم بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ نے شہر کے فوڈ کلچر میں بلوچستان کے روایتی ذائقوں کو متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ ریسٹورنٹ صرف ایک کھانے کی جگہ نہیں بلکہ حیدرآباد کی متنوع ثقافتی اور غذائی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔

    شہر کے کئی معروف سیاسی، سماجی اور سرکاری شخصیات بھی یہاں آ چکی ہیں، جبکہ گوشت کے روایتی پکوانوں کے شوقین افراد کے لیے یہ مقام حیدرآباد کی نمایاں فوڈ منزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بروہی بلوچستان ریسٹورنٹ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ کس طرح ایک صوبے کے مقامی ذائقے دوسرے صوبے کے شہری ماحول میں مقبول ہو کر ایک نئی شناخت حاصل کر سکتے ہیں۔

  • حیدرآباد: خواجہ سراؤں کو اپنے ہی محکمے کے خلاف اکسانے پر ماریہ ساریو گرفتار، مقدمہ درج

    حیدرآباد: خواجہ سراؤں کو اپنے ہی محکمے کے خلاف اکسانے پر ماریہ ساریو گرفتار، مقدمہ درج

    وومن پولیس نے ایس ایس پی آفس میں تعینات خاتون جونیئر کلرک ماریہ ساریو کو گرفتار کر لیا، جبکہ ان سمیت 15 خواجہ سراؤں کے خلاف سرکاری دفتر میں ہنگامہ آرائی، اہلکاروں کو ہراساں کرنے، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق جونیئر کلرک ماریہ ساریو کو حال ہی میں ایس ایس پی آفس کی جینڈر بیسڈ وائلنس برانچ سے ہٹا کر دوسرے شعبے میں تعینات کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے متعدد خواجہ سراؤں کو اکسا کر ایس ایس پی آفس پہنچایا، جہاں سرکاری دفتر میں ہنگامہ آرائی کی گئی اور افسران و عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق واقعہ تین جون 2026 کو پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوپہر کے وقت متعدد خواجہ سرا ایس ایس پی آفس پہنچے اور شور شرابا کرتے ہوئے مختلف دفاتر میں داخل ہو گئے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی، اہلکاروں کو دھمکیاں دیں اور دفتر کے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی ویڈیوز اور آڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر ماریہ ساریو کو خواجہ سراؤں سے رابطے اور انہیں دفتر آنے پر آمادہ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ انہی شواہد کی بنیاد پر مقدمے میں ماریہ ساریو کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    مقدمہ تھانہ کینٹ حیدرآباد میں پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں سرکاری ملازمین کے فرائض میں مداخلت، ہنگامہ آرائی، دھمکیاں دینے اور سرکاری املاک و دفاتر میں غیر قانونی مداخلت سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد دیگر خواجہ سراؤں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے فور سیٹر رکشے انتہائی منفرد ہیں۔ مقامی لوگ نہ تو انہیں رکشہ کے نام سے پکارتے ہیں اور نہ ہی چنگچی کہتے ہیں، بس سادہ نام فور سیٹر ہے۔

    مخصوص پیلے اور کالے رنگ والے ان فور سیٹروں کی ساخت منفرد ہے، یہ چھوٹی گاڑی کی طرح لگتے ہیں۔ اگلے حصے کے ایک کنارے پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر درج ہوتا ہے کہ ایک فور سیٹر کس علاقے سے کہاں تک چلتا ہے۔ جیسے آنکھوں کا ہسپتال سے بدین اسٹاپ، نواب شاہ اسٹاپ سے ہیرآباد مارکیٹ، نیا پل، بدین اسٹاپ۔

    ان فور سیٹروں کی تاریخ انتہائی منفرد ہے۔ شہر کی پہچان بننے والی یہ سواری کسی منصوبے کے تحت وجود میں نہیں آئی بلکہ یہ دراصل ایک حادثاتی ایجاد ہے جس نے بعد میں شہر کی ثقافت کا حصہ بننے کی منزل طے کی۔

    فور سیٹر کی کہانی کا آغاز 1965 میں اس وقت ہوا جب جاپان کے سفیر نے حیدرآباد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے کوڑے کے مسئلے کو دیکھا، جس کے بعد انہوں نے سینکڑوں گاڑیاں صفائی کے کام کے لیے پاکستان بھیجیں۔

    یہ گاڑیاں میونسپلٹی کے حوالے کر دی گئیں اور کچھ عرصے تک انہیں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ یہ گاڑیاں وقت کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانا چھوڑ کر لوگوں کو ڈھونے لگیں۔

    آج یہ فور سیٹر رکشے حیدرآباد کی گلی محلوں کی رونق ہیں اور شہر کی ثقافت اور تہواروں کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ان کی چند خاص باتیں یہ ہیں:

    منفرد نشست: ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مسافروں کی نشستیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، جو دوسرے شہروں کی رکشوں سے بالکل مختلف ہے۔
    زیادہ گنجائش: یہ نام کے فور سیٹر ہیں، مگر ان میں کبھی پانچ، چھ، آٹھ اور کبھی کبھی دس لوگ بھی سوار ہوتے ہیں۔ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے مسافروں کی ٹانگیں آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

    صرف حیدرآباد کی پہچان: یہ رکشے صرف حیدرآباد کی خاص پہچان ہیں۔

    سستی سواری: یہ رکشے عام لوگوں کے لیے سستی اور آسان سواری کا ذریعہ ہیں، اور اسی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہیں۔

    حیدرآباد کا یہ فور سیٹر محض ایک گاڑی نہیں بلکہ اس شہر کی تہذیب، جدت اور عوام کی بے باک زندگی کی ایک زندہ علامت ہے۔

  • ملیے سرکنڈوں سے چٹائیاں اور سجاوٹی اشیا تیار کرنے والے حیدرآباد کے مرد و خواتین کاریگروں سے

    ملیے سرکنڈوں سے چٹائیاں اور سجاوٹی اشیا تیار کرنے والے حیدرآباد کے مرد و خواتین کاریگروں سے

    حیدرآباد کے ایک مصروف راستے پر، جہاں گاڑیاں تیزی سے گزرتی ہیں اور لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مگن رہتے ہیں، وہیں فٹ پاتھ کے کنارے ایک ایسی دنیا بھی آباد ہے جو وقت کے ساتھ بدل تو گئی ہے مگر اپنی جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ دنیا سرکنڈے سے جڑی ہے، ایک سادہ سا پودا، جسے ان ہاتھوں نے ہنر میں بدل دیا ہے۔

    سرکنڈے سے بنی چٹائیاں، کھڑکیوں و دروازوں کے پردے سندھ کے دیہی علاقوں میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ایک پرانا ہنر ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ مگر وقت نے اس ہنر کو بھی ایک نیا رخ دیا ہے۔ اب یہی سرکنڈا صرف ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ خوبصورتی اور آرائش کا حصہ بن چکا ہے۔

    حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان اور ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے قریب، جوگی قبیلے سے تعلق رکھنے والے کاریگر اسی سرکنڈے کو رنگ، کپڑے اور تخلیقی انداز کے ساتھ ایک نئی شکل دیتے ہیں۔ وہ اب صرف چٹائیاں نہیں بناتے بلکہ رنگ برنگے فریم، تصاویر اور آئینے بھی تیار کرتے ہیں، جو شہروں کے گھروں، خاص طور پر ڈرائنگ رومز کی زینت بن رہے ہیں۔

    یہ ہنر صرف مردوں تک محدود نہیں۔ یہاں خواتین اور بچے بھی اس کام میں برابر کے شریک ہیں۔ ایک خاتون کاریگر شانتی کے مطابق، یہ کام ان کے خاندان میں نسلوں سے جاری ہے، اور ان کے بزرگ قیام پاکستان سے پہلے ہی یہاں آباد تھے۔ آج بھی تقریباً پچاس کے قریب خاندان اسی علاقے میں رہتے ہیں، جہاں کچھ کے پاس چھوٹے گھر ہیں جبکہ باقی لوگ سڑک کے کنارے ہی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

    ان کاریگروں کے لیے سرکنڈا سانگھڑ سے آتا ہے، جبکہ فریموں اور آئینوں کی سجاوٹ کے لیے مخمل اور ریشم قصور سے منگوایا جاتا ہے۔ ان پر کی جانے والی کشیدہ کاری، موتیوں اور دیگر آرائشی اشیا سے مزین ہوتی ہے، جو مقامی مارکیٹ سے حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک سادہ چیز کو فن کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔

    ان کی بنائی ہوئی چٹائیاں نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ ٹھٹہ، بدین اور حیدرآباد کے اطراف میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ ایک بڑی چٹائی ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک فروخت ہوتی ہے، جبکہ چھوٹی چٹائی پانچ سے چھ سو روپے میں مل جاتی ہے۔ مگر اس محنت کے باوجود آمدنی محدود ہے، اور اکثر صرف گزارہ ہی ہو پاتا ہے۔

    تعلیم کی کمی اس کمیونٹی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ زیادہ تر لوگ ناخواندہ ہیں، اور بچوں کو بھی تعلیم کے بجائے اسی ہنر میں لگا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہنر تو زندہ ہے، مگر اس کے پیچھے زندگی اب بھی جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔

    گرمی، سردی اور بارش جیسے موسم ان کے کام کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کچھ کھلے آسمان تلے ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ان کے لیے معاشی مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔

    یہ کہانی صرف سرکنڈے کی نہیں، بلکہ ان ہاتھوں کی ہے جو اسے زندگی دیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو کم وسائل کے باوجود ایک ایسا فن زندہ رکھے ہوئے ہیں جو نہ صرف ماضی کی یاد ہے بلکہ آج کے شہروں کی خوبصورتی کا حصہ بھی بن چکا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی کہانیوں کو سامنے لاتا ہے، جہاں سادگی میں ہنر ہے اور ہنر میں زندگی کی مکمل داستان چھپی ہوئی ہے۔

  • حیدرآباد: 1962 سے اب تک تقریباً ساڑھے 10 لاکھ ہندو مت کی مذہبی کتابیں چھاپنے والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی، کوٹری‘

    حیدرآباد: 1962 سے اب تک تقریباً ساڑھے 10 لاکھ ہندو مت کی مذہبی کتابیں چھاپنے والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی، کوٹری‘

    سندھ کے شہر حیدرآباد سے متصل کوٹری شہر کا پرنٹنگ پریس والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی‘ گزشتہ چھ دہائیوں میں ہندو مت کی مذہبی کتابوں کی تقریباً ساڑھے 10 لاکھ کاپیاں چھاپ چکا ہے۔

    اس پرنٹنگ پریس پر چھپنے والی مذہبی کتابوں میں ہندو مت کی مقدس کتاب شریمت بھگوت گیتا، رامائن، ہندو مت کے مختلف دیوتاؤں کی کتھائیں، کیلنڈر اور جنتریاں سمیت کئی کتابیں شامل ہیں۔

    ہندو دھرم کی جنتری، جسے سندھی زبان میں ’ٹپنو‘ کہا جاتا ہے، اس میں ہندو دھرم میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کا مستقبل جاننے کے لیے بنائی جانے والی جنم کنڈلی سے لے کر نئے کاروبار کی شروعات، گھر کی منتقلی، چاند اور سورج گرہن اور موسموں کے احوال تک، اور شادی کے لیے موزوں وقت کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ’سندر شیوا منڈلی‘کے سربراہ سنتوش کمار خانوانی کے مطابق یہ ادارہ ان کے والد لیلا رام خانوانی نے 1962 میں کوٹری شہر سے شروع کیا۔

    1996 میں لیلا رام خانوانی کے انتقال کے بعد سنتوش کمار خانوانی نے ادارے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سنتوش کمار خانوانی نے کہا: ‘کچھ عرصہ قبل ہم نے ’سندر شیوا منڈلی‘ کو کوٹری سے حیدرآباد منتقل کیا۔ یہ ادارہ ہندو مذہب کی کتابیں شائع کرنے والا پاکستان کا منفرد اور بڑا ادارہ بن چکا ہے۔’

    سنتوش کمار خانوانی کے مطابق: ‘1962 سے اب تک تقریباً 10 ہزار کتابیں چھاپ چکے ہیں۔ ہر کتاب کے چھاپوں کو جمع کریں تو اب تک ساڑھے 10 لاکھ تک کتب چھپ چکی ہیں۔’

    انہوں نے مزید کہا کہ ہندو مذہب کی بیشتر مذہبی کتب ہندی زبان میں ہوتی ہیں، جنہیں ان کا ادارہ پہلے سندھی زبان میں ترجمہ کرتا ہے اور پھر کتابی شکل میں شائع کیا جاتا ہے۔ سندھی کے علاوہ اردو اور گُرمکھی زبان میں بھی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔

    ’سندر شیوا منڈلی‘ نہ صرف مذہبی ورثے کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کی ایک روشن مثال بھی ہے۔

  • حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ میں سندھی زبان کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر امر فیاض برڑو نے بتایا کہ کمپیوٹنگ لینگویج دراصل وہ نظام ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر کسی زبان کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق کسی بھی زبان کو اے آئی فرینڈلی بنانے کے لیے اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ، معیاری رسم الخط، لغات، صوتی ڈیٹا اور گرائمر ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔ سندھی زبان کے لیے یہ عمل اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا رسم الخط اور صوتیات دیگر زبانوں سے مختلف ہیں۔

    امر فیاض برڑو نے بتایا کہ ادارہ سندھی زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ڈیجیٹل لغات اور خودکار ترجمے جیسے نظام تیار کر رہا ہے، تاکہ سندھی زبان جدید ٹیکنالوجی میں پیچھے نہ رہے۔

    انہوں نے بھٹا ڈاٹ اے آئی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کلاسیکی سندھی شاعری کو عالمی سطح پر قابل فہم بنانا اور اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زندہ رکھنا ہے۔

    ادارے کے مطابق شاہ لطیف کے کلام کو اے آئی کے ذریعے محفوظ اور قابلِ تلاش بنانا نہ صرف ادبی ورثے کا تحفظ ہے بلکہ سندھی زبان کو عالمی ڈیجیٹل مکالمے کا حصہ بنانے کی ایک عملی کوشش بھی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کاوشیں مستقبل میں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سندھی زبان کے استعمال کو وسیع کر سکتی ہیں اور نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

     

  • حیدرآباد: بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ، جہاں کے کھانوں  کے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی مداح

    حیدرآباد: بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ، جہاں کے کھانوں  کے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی مداح

    حیدرآباد میں واقع بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ اس وقت خبروں کی زینت بنا جب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دو ہفتے قبل یہاں کھانا کھانے پہنچے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے سادہ انداز میں ریسٹورینٹ کا دورہ کیا اور روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے۔

    ریسٹورینٹ کے بورچی کے مطابق اس موقع پر کھانا خود ان کے ہاتھوں سے تیار کیا گیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دم پک، باربی کیو اور کڑاہی سمیت دیگر پکوان پیش کیے گئے، جنہیں وزیر اعلیٰ سندھ نے پسند کیا۔ کھانوں کے ذائقے اور معیار کو سراہتے ہوئے انہوں نے ریسٹورینٹ کی انتظامیہ کو شاباش دی۔

    ہوٹل کے بورچی کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے روایتی اور خالص دیسی کھانوں میں خصوصی دلچسپی لی اور بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ کے ذائقے کو یادگار قرار دیا۔ اس دورے کے بعد شہریوں میں ریسٹورینٹ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ریسٹورینٹ کی انتظامیہ نے اس دورے کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد عوام اور معزز مہمانوں کو معیاری، صاف ستھرا اور خالص ذائقہ فراہم کرنا ہے، اور وہ اسی روایت کو برقرار رکھیں گے۔

    حیدرآباد کے فوڈ لوورز کے لیے بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ اپنے منفرد اور روایتی ذائقوں کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ریسٹورینٹ کی خاص پہچان بلوچستان کے روایتی کھانوں کو جدید انداز میں پیش کرنا ہے، جہاں دم پک، باربی کیو اور کڑاہی خصوصی مہارت کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں۔

    ریسٹورینٹ میں دم پک روایتی طریقے سے تیار کیا جاتا ہے، جس میں گوشت کو ہلکی آنچ پر مخصوص مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے تاکہ ذائقہ اور خوشبو برقرار رہے۔ باربی کیو میں سیخ کباب، تکہ بوٹی اور چکن ملائی بوٹی شامل ہیں، جبکہ دیسی مصالحوں میں تیار کی جانے والی چکن اور مٹن کڑاہی بھی گاہکوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق تمام کھانے تازہ اجزاء سے تیار کیے جاتے ہیں اور صفائی کے معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ریسٹورینٹ کا ماحول خاندانی ہے، جہاں دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ میں انہیں بلوچستان کے روایتی ذائقوں کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ حیدرآباد میں دم پک، باربی کیو اور کڑاہی کے شوقین افراد کے لیے یہ ریسٹورینٹ ایک نمایاں انتخاب کے طور پر سامنے آیا ہے۔

     

  • کوٹری:قومی شاہراہ پر کار اور ڈمپر میں تصادم میں دو بچوں اوردوخواتین سمیت 8 افراد جاں بحق

    کوٹری:قومی شاہراہ پر کار اور ڈمپر میں تصادم میں دو بچوں اوردوخواتین سمیت 8 افراد جاں بحق

    جمعہ کی شب حادثہ اس وقت پیش آیا جب حیدرآباد کی طرف جانے والی کارکوٹری کے قریب ڈمپر کے پیچھے سے ٹکراگئی،پولیس کے مطابق کار سواروں کا تعلق حیدرآباد سے ہے ،کار ٹھٹہ سے حیدرآباد جارہی تھی، پولیس نے تیز رفتاری اور اوور ٹیک کی کوشش کو حادثے کا سبب بتایا ہے ،حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ کار ٹکرانے کے بعدمکمل طور پر تباہ ہوگئی جس کی وجہ سے جاں بحق اور زخمی ہوجانے والوں کو کار کے مختلف حصوں کو کاٹ کرنکالا گیا، زخمیوں کو فوری طو پر سول اسپتال حیدرآباد منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

     

     

  • گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع ہو گیا ہے۔ دو روزہ ادبی میلے میں ادب، زبان، ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ملک کے مختلف حصوں سے لکھاری، شاعر، محقق، فنکار اور طلبہ شریک ہو رہے ہیں۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول 18 اور 19 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے، جبکہ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع تنوع میں حسن رکھا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت ادب، زبانوں اور لوک روایتوں کے باہمی رشتے کو اجاگر کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

    فیسٹیول کے پہلے روز افتتاحی تقریب کے ساتھ ثقافتی پرفارمنسز پیش کی گئیں، جن میں لوک موسیقی اور روایتی رقص شامل تھا۔ پروگرام میں ادب اور زبان کے موضوع پر مکالمے بھی رکھے گئے، جن میں تنوع، شناخت اور معاصر سماجی مسائل پر گفتگو کی گئی۔

    شیڈول کے مطابق فیسٹیول میں کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز اور میڈیا و ادب سے متعلق مکالمے شامل ہیں۔ نمایاں نشستوں میں ادب میں تنوع، زبان اور شناخت، صحافت کے بدلتے رجحانات، خواتین اور سماجی اظہار، اور نوجوانوں کے لیے تخلیقی اظہار پر سیشنز شامل کیے گئے ہیں۔ لوک ادب، موسیقی اور قوالی کی محفلیں بھی فیسٹیول کا حصہ ہیں۔

    منتظمین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کا مقصد صرف ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا اور نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنا ہے۔ اسی لیے فیسٹیول میں طلبہ کے لیے خصوصی سیشنز اور ورکشاپس بھی رکھی گئی ہیں۔

    اس سال حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کے میڈیا پارٹنر کے طور پر ساگا ڈیجیٹل اے آئی بھی شامل ہے، جو فیسٹیول کی سرگرمیوں، نشستوں اور مباحث کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر عوام تک پہنچا رہا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کی بنیاد ایک محدود ادبی اجتماع کے طور پر رکھی گئی تھی، جو وقت کے ساتھ سندھ کا ایک نمایاں ادبی اور ثقافتی میلہ بن چکا ہے۔ آج یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں اور فنکاروں کو قومی سطح کے ادیبوں کے ساتھ براہ راست مکالمے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول میں داخلہ مفت رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس ادبی اور ثقافتی سرگرمی کا حصہ بن سکیں۔ حیدرآباد میں منعقد ہونے والا یہ میلہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ادب اور ثقافت شہر کی اجتماعی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔