Tag: حیدرآباد

  • حیدرآباد: خواجہ سراؤں کو اپنے ہی محکمے کے خلاف اکسانے پر ماریہ ساریو گرفتار، مقدمہ درج

    حیدرآباد: خواجہ سراؤں کو اپنے ہی محکمے کے خلاف اکسانے پر ماریہ ساریو گرفتار، مقدمہ درج

    وومن پولیس نے ایس ایس پی آفس میں تعینات خاتون جونیئر کلرک ماریہ ساریو کو گرفتار کر لیا، جبکہ ان سمیت 15 خواجہ سراؤں کے خلاف سرکاری دفتر میں ہنگامہ آرائی، اہلکاروں کو ہراساں کرنے، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق جونیئر کلرک ماریہ ساریو کو حال ہی میں ایس ایس پی آفس کی جینڈر بیسڈ وائلنس برانچ سے ہٹا کر دوسرے شعبے میں تعینات کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے متعدد خواجہ سراؤں کو اکسا کر ایس ایس پی آفس پہنچایا، جہاں سرکاری دفتر میں ہنگامہ آرائی کی گئی اور افسران و عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق واقعہ تین جون 2026 کو پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوپہر کے وقت متعدد خواجہ سرا ایس ایس پی آفس پہنچے اور شور شرابا کرتے ہوئے مختلف دفاتر میں داخل ہو گئے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی، اہلکاروں کو دھمکیاں دیں اور دفتر کے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی ویڈیوز اور آڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر ماریہ ساریو کو خواجہ سراؤں سے رابطے اور انہیں دفتر آنے پر آمادہ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ انہی شواہد کی بنیاد پر مقدمے میں ماریہ ساریو کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    مقدمہ تھانہ کینٹ حیدرآباد میں پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں سرکاری ملازمین کے فرائض میں مداخلت، ہنگامہ آرائی، دھمکیاں دینے اور سرکاری املاک و دفاتر میں غیر قانونی مداخلت سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد دیگر خواجہ سراؤں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے فور سیٹر رکشے انتہائی منفرد ہیں۔ مقامی لوگ نہ تو انہیں رکشہ کے نام سے پکارتے ہیں اور نہ ہی چنگچی کہتے ہیں، بس سادہ نام فور سیٹر ہے۔

    مخصوص پیلے اور کالے رنگ والے ان فور سیٹروں کی ساخت منفرد ہے، یہ چھوٹی گاڑی کی طرح لگتے ہیں۔ اگلے حصے کے ایک کنارے پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر درج ہوتا ہے کہ ایک فور سیٹر کس علاقے سے کہاں تک چلتا ہے۔ جیسے آنکھوں کا ہسپتال سے بدین اسٹاپ، نواب شاہ اسٹاپ سے ہیرآباد مارکیٹ، نیا پل، بدین اسٹاپ۔

    ان فور سیٹروں کی تاریخ انتہائی منفرد ہے۔ شہر کی پہچان بننے والی یہ سواری کسی منصوبے کے تحت وجود میں نہیں آئی بلکہ یہ دراصل ایک حادثاتی ایجاد ہے جس نے بعد میں شہر کی ثقافت کا حصہ بننے کی منزل طے کی۔

    فور سیٹر کی کہانی کا آغاز 1965 میں اس وقت ہوا جب جاپان کے سفیر نے حیدرآباد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے کوڑے کے مسئلے کو دیکھا، جس کے بعد انہوں نے سینکڑوں گاڑیاں صفائی کے کام کے لیے پاکستان بھیجیں۔

    یہ گاڑیاں میونسپلٹی کے حوالے کر دی گئیں اور کچھ عرصے تک انہیں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ یہ گاڑیاں وقت کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانا چھوڑ کر لوگوں کو ڈھونے لگیں۔

    آج یہ فور سیٹر رکشے حیدرآباد کی گلی محلوں کی رونق ہیں اور شہر کی ثقافت اور تہواروں کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ان کی چند خاص باتیں یہ ہیں:

    منفرد نشست: ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مسافروں کی نشستیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، جو دوسرے شہروں کی رکشوں سے بالکل مختلف ہے۔
    زیادہ گنجائش: یہ نام کے فور سیٹر ہیں، مگر ان میں کبھی پانچ، چھ، آٹھ اور کبھی کبھی دس لوگ بھی سوار ہوتے ہیں۔ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے مسافروں کی ٹانگیں آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

    صرف حیدرآباد کی پہچان: یہ رکشے صرف حیدرآباد کی خاص پہچان ہیں۔

    سستی سواری: یہ رکشے عام لوگوں کے لیے سستی اور آسان سواری کا ذریعہ ہیں، اور اسی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہیں۔

    حیدرآباد کا یہ فور سیٹر محض ایک گاڑی نہیں بلکہ اس شہر کی تہذیب، جدت اور عوام کی بے باک زندگی کی ایک زندہ علامت ہے۔

  • ملیے سرکنڈوں سے چٹائیاں اور سجاوٹی اشیا تیار کرنے والے حیدرآباد کے مرد و خواتین کاریگروں سے

    ملیے سرکنڈوں سے چٹائیاں اور سجاوٹی اشیا تیار کرنے والے حیدرآباد کے مرد و خواتین کاریگروں سے

    حیدرآباد کے ایک مصروف راستے پر، جہاں گاڑیاں تیزی سے گزرتی ہیں اور لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مگن رہتے ہیں، وہیں فٹ پاتھ کے کنارے ایک ایسی دنیا بھی آباد ہے جو وقت کے ساتھ بدل تو گئی ہے مگر اپنی جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ دنیا سرکنڈے سے جڑی ہے، ایک سادہ سا پودا، جسے ان ہاتھوں نے ہنر میں بدل دیا ہے۔

    سرکنڈے سے بنی چٹائیاں، کھڑکیوں و دروازوں کے پردے سندھ کے دیہی علاقوں میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ایک پرانا ہنر ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ مگر وقت نے اس ہنر کو بھی ایک نیا رخ دیا ہے۔ اب یہی سرکنڈا صرف ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ خوبصورتی اور آرائش کا حصہ بن چکا ہے۔

    حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان اور ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے قریب، جوگی قبیلے سے تعلق رکھنے والے کاریگر اسی سرکنڈے کو رنگ، کپڑے اور تخلیقی انداز کے ساتھ ایک نئی شکل دیتے ہیں۔ وہ اب صرف چٹائیاں نہیں بناتے بلکہ رنگ برنگے فریم، تصاویر اور آئینے بھی تیار کرتے ہیں، جو شہروں کے گھروں، خاص طور پر ڈرائنگ رومز کی زینت بن رہے ہیں۔

    یہ ہنر صرف مردوں تک محدود نہیں۔ یہاں خواتین اور بچے بھی اس کام میں برابر کے شریک ہیں۔ ایک خاتون کاریگر شانتی کے مطابق، یہ کام ان کے خاندان میں نسلوں سے جاری ہے، اور ان کے بزرگ قیام پاکستان سے پہلے ہی یہاں آباد تھے۔ آج بھی تقریباً پچاس کے قریب خاندان اسی علاقے میں رہتے ہیں، جہاں کچھ کے پاس چھوٹے گھر ہیں جبکہ باقی لوگ سڑک کے کنارے ہی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

    ان کاریگروں کے لیے سرکنڈا سانگھڑ سے آتا ہے، جبکہ فریموں اور آئینوں کی سجاوٹ کے لیے مخمل اور ریشم قصور سے منگوایا جاتا ہے۔ ان پر کی جانے والی کشیدہ کاری، موتیوں اور دیگر آرائشی اشیا سے مزین ہوتی ہے، جو مقامی مارکیٹ سے حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک سادہ چیز کو فن کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔

    ان کی بنائی ہوئی چٹائیاں نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ ٹھٹہ، بدین اور حیدرآباد کے اطراف میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ ایک بڑی چٹائی ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک فروخت ہوتی ہے، جبکہ چھوٹی چٹائی پانچ سے چھ سو روپے میں مل جاتی ہے۔ مگر اس محنت کے باوجود آمدنی محدود ہے، اور اکثر صرف گزارہ ہی ہو پاتا ہے۔

    تعلیم کی کمی اس کمیونٹی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ زیادہ تر لوگ ناخواندہ ہیں، اور بچوں کو بھی تعلیم کے بجائے اسی ہنر میں لگا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہنر تو زندہ ہے، مگر اس کے پیچھے زندگی اب بھی جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔

    گرمی، سردی اور بارش جیسے موسم ان کے کام کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کچھ کھلے آسمان تلے ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ان کے لیے معاشی مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔

    یہ کہانی صرف سرکنڈے کی نہیں، بلکہ ان ہاتھوں کی ہے جو اسے زندگی دیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو کم وسائل کے باوجود ایک ایسا فن زندہ رکھے ہوئے ہیں جو نہ صرف ماضی کی یاد ہے بلکہ آج کے شہروں کی خوبصورتی کا حصہ بھی بن چکا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی کہانیوں کو سامنے لاتا ہے، جہاں سادگی میں ہنر ہے اور ہنر میں زندگی کی مکمل داستان چھپی ہوئی ہے۔

  • حیدرآباد: 1962 سے اب تک تقریباً ساڑھے 10 لاکھ ہندو مت کی مذہبی کتابیں چھاپنے والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی، کوٹری‘

    حیدرآباد: 1962 سے اب تک تقریباً ساڑھے 10 لاکھ ہندو مت کی مذہبی کتابیں چھاپنے والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی، کوٹری‘

    سندھ کے شہر حیدرآباد سے متصل کوٹری شہر کا پرنٹنگ پریس والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی‘ گزشتہ چھ دہائیوں میں ہندو مت کی مذہبی کتابوں کی تقریباً ساڑھے 10 لاکھ کاپیاں چھاپ چکا ہے۔

    اس پرنٹنگ پریس پر چھپنے والی مذہبی کتابوں میں ہندو مت کی مقدس کتاب شریمت بھگوت گیتا، رامائن، ہندو مت کے مختلف دیوتاؤں کی کتھائیں، کیلنڈر اور جنتریاں سمیت کئی کتابیں شامل ہیں۔

    ہندو دھرم کی جنتری، جسے سندھی زبان میں ’ٹپنو‘ کہا جاتا ہے، اس میں ہندو دھرم میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کا مستقبل جاننے کے لیے بنائی جانے والی جنم کنڈلی سے لے کر نئے کاروبار کی شروعات، گھر کی منتقلی، چاند اور سورج گرہن اور موسموں کے احوال تک، اور شادی کے لیے موزوں وقت کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ’سندر شیوا منڈلی‘کے سربراہ سنتوش کمار خانوانی کے مطابق یہ ادارہ ان کے والد لیلا رام خانوانی نے 1962 میں کوٹری شہر سے شروع کیا۔

    1996 میں لیلا رام خانوانی کے انتقال کے بعد سنتوش کمار خانوانی نے ادارے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سنتوش کمار خانوانی نے کہا: ‘کچھ عرصہ قبل ہم نے ’سندر شیوا منڈلی‘ کو کوٹری سے حیدرآباد منتقل کیا۔ یہ ادارہ ہندو مذہب کی کتابیں شائع کرنے والا پاکستان کا منفرد اور بڑا ادارہ بن چکا ہے۔’

    سنتوش کمار خانوانی کے مطابق: ‘1962 سے اب تک تقریباً 10 ہزار کتابیں چھاپ چکے ہیں۔ ہر کتاب کے چھاپوں کو جمع کریں تو اب تک ساڑھے 10 لاکھ تک کتب چھپ چکی ہیں۔’

    انہوں نے مزید کہا کہ ہندو مذہب کی بیشتر مذہبی کتب ہندی زبان میں ہوتی ہیں، جنہیں ان کا ادارہ پہلے سندھی زبان میں ترجمہ کرتا ہے اور پھر کتابی شکل میں شائع کیا جاتا ہے۔ سندھی کے علاوہ اردو اور گُرمکھی زبان میں بھی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔

    ’سندر شیوا منڈلی‘ نہ صرف مذہبی ورثے کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کی ایک روشن مثال بھی ہے۔

  • حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    حیدرآباد: سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے لیے ہم آہنگ بنانے کے لیے عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کیسے کام کرتا ہے؟

    عبدالماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ میں سندھی زبان کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر امر فیاض برڑو نے بتایا کہ کمپیوٹنگ لینگویج دراصل وہ نظام ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر کسی زبان کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق کسی بھی زبان کو اے آئی فرینڈلی بنانے کے لیے اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ، معیاری رسم الخط، لغات، صوتی ڈیٹا اور گرائمر ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔ سندھی زبان کے لیے یہ عمل اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا رسم الخط اور صوتیات دیگر زبانوں سے مختلف ہیں۔

    امر فیاض برڑو نے بتایا کہ ادارہ سندھی زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ڈیجیٹل لغات اور خودکار ترجمے جیسے نظام تیار کر رہا ہے، تاکہ سندھی زبان جدید ٹیکنالوجی میں پیچھے نہ رہے۔

    انہوں نے بھٹا ڈاٹ اے آئی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کلاسیکی سندھی شاعری کو عالمی سطح پر قابل فہم بنانا اور اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زندہ رکھنا ہے۔

    ادارے کے مطابق شاہ لطیف کے کلام کو اے آئی کے ذریعے محفوظ اور قابلِ تلاش بنانا نہ صرف ادبی ورثے کا تحفظ ہے بلکہ سندھی زبان کو عالمی ڈیجیٹل مکالمے کا حصہ بنانے کی ایک عملی کوشش بھی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کاوشیں مستقبل میں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سندھی زبان کے استعمال کو وسیع کر سکتی ہیں اور نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

     

  • حیدرآباد: بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ، جہاں کے کھانوں  کے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی مداح

    حیدرآباد: بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ، جہاں کے کھانوں  کے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی مداح

    حیدرآباد میں واقع بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ اس وقت خبروں کی زینت بنا جب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دو ہفتے قبل یہاں کھانا کھانے پہنچے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے سادہ انداز میں ریسٹورینٹ کا دورہ کیا اور روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے۔

    ریسٹورینٹ کے بورچی کے مطابق اس موقع پر کھانا خود ان کے ہاتھوں سے تیار کیا گیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دم پک، باربی کیو اور کڑاہی سمیت دیگر پکوان پیش کیے گئے، جنہیں وزیر اعلیٰ سندھ نے پسند کیا۔ کھانوں کے ذائقے اور معیار کو سراہتے ہوئے انہوں نے ریسٹورینٹ کی انتظامیہ کو شاباش دی۔

    ہوٹل کے بورچی کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے روایتی اور خالص دیسی کھانوں میں خصوصی دلچسپی لی اور بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ کے ذائقے کو یادگار قرار دیا۔ اس دورے کے بعد شہریوں میں ریسٹورینٹ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ریسٹورینٹ کی انتظامیہ نے اس دورے کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد عوام اور معزز مہمانوں کو معیاری، صاف ستھرا اور خالص ذائقہ فراہم کرنا ہے، اور وہ اسی روایت کو برقرار رکھیں گے۔

    حیدرآباد کے فوڈ لوورز کے لیے بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ اپنے منفرد اور روایتی ذائقوں کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ریسٹورینٹ کی خاص پہچان بلوچستان کے روایتی کھانوں کو جدید انداز میں پیش کرنا ہے، جہاں دم پک، باربی کیو اور کڑاہی خصوصی مہارت کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں۔

    ریسٹورینٹ میں دم پک روایتی طریقے سے تیار کیا جاتا ہے، جس میں گوشت کو ہلکی آنچ پر مخصوص مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے تاکہ ذائقہ اور خوشبو برقرار رہے۔ باربی کیو میں سیخ کباب، تکہ بوٹی اور چکن ملائی بوٹی شامل ہیں، جبکہ دیسی مصالحوں میں تیار کی جانے والی چکن اور مٹن کڑاہی بھی گاہکوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق تمام کھانے تازہ اجزاء سے تیار کیے جاتے ہیں اور صفائی کے معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ریسٹورینٹ کا ماحول خاندانی ہے، جہاں دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ بروہی بلوچستان ریسٹورینٹ میں انہیں بلوچستان کے روایتی ذائقوں کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ حیدرآباد میں دم پک، باربی کیو اور کڑاہی کے شوقین افراد کے لیے یہ ریسٹورینٹ ایک نمایاں انتخاب کے طور پر سامنے آیا ہے۔

     

  • کوٹری:قومی شاہراہ پر کار اور ڈمپر میں تصادم میں دو بچوں اوردوخواتین سمیت 8 افراد جاں بحق

    کوٹری:قومی شاہراہ پر کار اور ڈمپر میں تصادم میں دو بچوں اوردوخواتین سمیت 8 افراد جاں بحق

    جمعہ کی شب حادثہ اس وقت پیش آیا جب حیدرآباد کی طرف جانے والی کارکوٹری کے قریب ڈمپر کے پیچھے سے ٹکراگئی،پولیس کے مطابق کار سواروں کا تعلق حیدرآباد سے ہے ،کار ٹھٹہ سے حیدرآباد جارہی تھی، پولیس نے تیز رفتاری اور اوور ٹیک کی کوشش کو حادثے کا سبب بتایا ہے ،حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ کار ٹکرانے کے بعدمکمل طور پر تباہ ہوگئی جس کی وجہ سے جاں بحق اور زخمی ہوجانے والوں کو کار کے مختلف حصوں کو کاٹ کرنکالا گیا، زخمیوں کو فوری طو پر سول اسپتال حیدرآباد منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

     

     

  • گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع ہو گیا ہے۔ دو روزہ ادبی میلے میں ادب، زبان، ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ملک کے مختلف حصوں سے لکھاری، شاعر، محقق، فنکار اور طلبہ شریک ہو رہے ہیں۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول 18 اور 19 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے، جبکہ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع تنوع میں حسن رکھا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت ادب، زبانوں اور لوک روایتوں کے باہمی رشتے کو اجاگر کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

    فیسٹیول کے پہلے روز افتتاحی تقریب کے ساتھ ثقافتی پرفارمنسز پیش کی گئیں، جن میں لوک موسیقی اور روایتی رقص شامل تھا۔ پروگرام میں ادب اور زبان کے موضوع پر مکالمے بھی رکھے گئے، جن میں تنوع، شناخت اور معاصر سماجی مسائل پر گفتگو کی گئی۔

    شیڈول کے مطابق فیسٹیول میں کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز اور میڈیا و ادب سے متعلق مکالمے شامل ہیں۔ نمایاں نشستوں میں ادب میں تنوع، زبان اور شناخت، صحافت کے بدلتے رجحانات، خواتین اور سماجی اظہار، اور نوجوانوں کے لیے تخلیقی اظہار پر سیشنز شامل کیے گئے ہیں۔ لوک ادب، موسیقی اور قوالی کی محفلیں بھی فیسٹیول کا حصہ ہیں۔

    منتظمین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کا مقصد صرف ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا اور نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنا ہے۔ اسی لیے فیسٹیول میں طلبہ کے لیے خصوصی سیشنز اور ورکشاپس بھی رکھی گئی ہیں۔

    اس سال حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کے میڈیا پارٹنر کے طور پر ساگا ڈیجیٹل اے آئی بھی شامل ہے، جو فیسٹیول کی سرگرمیوں، نشستوں اور مباحث کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر عوام تک پہنچا رہا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کی بنیاد ایک محدود ادبی اجتماع کے طور پر رکھی گئی تھی، جو وقت کے ساتھ سندھ کا ایک نمایاں ادبی اور ثقافتی میلہ بن چکا ہے۔ آج یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں اور فنکاروں کو قومی سطح کے ادیبوں کے ساتھ براہ راست مکالمے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول میں داخلہ مفت رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس ادبی اور ثقافتی سرگرمی کا حصہ بن سکیں۔ حیدرآباد میں منعقد ہونے والا یہ میلہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ادب اور ثقافت شہر کی اجتماعی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔

  • حیدرآباد: پی ایس ایل میں توسیع، آٹھ ٹیموں کا نیا مرحلہ اور سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کی قومی کرکٹ میں واپسی

    حیدرآباد: پی ایس ایل میں توسیع، آٹھ ٹیموں کا نیا مرحلہ اور سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کی قومی کرکٹ میں واپسی

    پاکستان سپر لیگ میں توسیع کے ساتھ قومی کرکٹ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی فرنچائز نیلامی کے بعد لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کر لی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں پی ایس ایل اب ہر سیزن میں آٹھ ٹیموں کے ساتھ کھیلی جائے گی۔

    یہ تبدیلی صرف ٹیموں کی تعداد بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات کرکٹ، معیشت اور علاقائی شناخت تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
    اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کے نام سے دو نئی فرنچائزز فروخت ہوئیں۔ اس سے قبل پی ایس ایل میں لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان کی ٹیمیں شامل تھیں۔

    سات سال بعد ہونے والی یہ توسیع پی ایس ایل کی پہلی بڑی تنظیم نو سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد لیگ کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانا بتایا جا رہا ہے۔
    حیدرآباد کے نام سے ٹیم ایف کے ایس گروپ نے خریدی، جس کے لیے 175 کروڑ روپے کی بولی دی گئی۔ اس فیصلے کے ساتھ سندھ کا یہ تاریخی شہر ایک بار پھر قومی سطح کی کرکٹ گفتگو کا حصہ بن گیا ہے۔

    اگرچہ حیدرآباد طویل عرصے سے بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی سے دور رہا، مگر ماضی میں یہ شہر فرسٹ کلاس اور علاقائی کرکٹ کا اہم مرکز رہا ہے۔ کئی نامور کھلاڑیوں کا تعلق بھی اسی خطے سے جوڑا جاتا رہا ہے، جس کے باعث یہاں کرکٹ کی جڑیں آج بھی گہری سمجھی جاتی ہیں۔

    ایف کے ایس گروپ کی قیادت فواد سرور کر رہے ہیں، جن کا آبائی تعلق حیدرآباد سے ہے۔ گروپ کا پس منظر جنوب مشرقی ایشیا اور امریکہ میں پھیلے کاروباری نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جہاں خوراک و زراعت، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور پراپرٹی جیسے شعبوں میں اس کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ چار دہائیوں پر محیط تجربے کے باعث گروپ خود کو طویل المدتی سرمایہ کاری اور انتظامی صلاحیت کے حوالے سے مستحکم قرار دیتا ہے۔

    حیدرآباد کے نام سے ٹیم رکھنے کا فیصلہ شہر کے ساتھ جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ مقامی شناخت کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    نیلامی کے عمل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اندرون اور بیرون ملک سے 12 بولیاں موصول ہوئیں، جن میں سے تفصیلی جانچ کے بعد 10 بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔ جائزے میں مالی استعداد، کارپوریٹ گورننس، قانونی و انتظامی صلاحیت اور طویل المدتی وژن جیسے پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔

    پی سی بی کے توسیعی فریم ورک کے تحت ممکنہ میزبان شہروں میں حیدرآباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، راولپنڈی، مظفرآباد اور گلگت شامل تھے۔

    سیالکوٹ کی ٹیم او زی گروپ نے 185 کروڑ روپے کی بولی کے ساتھ حاصل کی۔ یہ گروپ ٹریڈنگ، ٹیکنالوجی، رئیل اسٹیٹ اور فوڈ سروسز کے شعبوں میں سرگرم ہے اور پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی موجودگی رکھتا ہے۔

    سیالکوٹ کا انتخاب اس شہر کی مضبوط کرکٹ روایت، صنعتی شناخت اور شائقین کے جوش و جذبے کے باعث کیا گیا، جو طویل عرصے سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا مقام رکھتا ہے۔

    پی ایس ایل کا گیارھواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک کھیلا جانا طے ہے۔ نئی فرنچائزز کی شمولیت سے نہ صرف میچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا بلکہ کھلاڑیوں، کوچز، براڈکاسٹ اور انتظامی عملے کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی معیشتوں کے فروغ اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت کے امکانات بھی بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    حیدرآباد کے لیے یہ پیش رفت محض ایک کرکٹ ٹیم کا اضافہ نہیں بلکہ اس شہر کی اس امید کی علامت ہے کہ وہ دوبارہ قومی کھیل کے نقشے پر نمایاں ہو سکے۔ اگر فرنچائز مقامی ٹیلنٹ کی نشاندہی، نچلی سطح پر کرکٹ کی بحالی اور شائقین کی شمولیت پر توجہ دیتی ہے تو حیدرآباد مستقبل میں پی ایس ایل کا ایک فعال اور پہچانا ہوا مرکز بن سکتا ہے۔

    پی ایس ایل کی توسیع اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ لیگ اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ کرکٹ کی جڑیں ان علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں کھیل کا شوق آج بھی زندہ ہے۔

  • حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کا مزار سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں واقع ہے۔ وہ کلہوڑا خاندان کے اہم حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1757 میں کلہوڑا قبائلی سرداروں نے انہیں سندھ کا تیسرا نواب منتخب کیا، جبکہ ان کے بھائی میاں مرادیاب کلہوڑو کو معزول کیا گیا۔ غلام شاہ کلہوڑو کو حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھنے والا حکمران بھی سمجھا جاتا ہے، جس نے اس خطے کو سیاسی اور انتظامی مرکز کی حیثیت دی۔

    ان کا مزار آج بھی سندھ کی تاریخ کا خاموش گواہ ہے۔ یہاں روزانہ مختلف علاقوں سے لوگ حاضری دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس مقام پر عقیدت کے انداز بدلتے گئے ہیں۔ اب مزار پر آنے والے بعض زائرین منت کے طور پر مچھلی لاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مچھلی چڑھانے سے ان کی خواہش پوری ہوگی، خاص طور پر روزگار، صحت اور گھریلو مسائل سے متعلق دعائیں بھی قبول ہوں گی۔

    لوگ عقیدت اور محبت سے ‘مچھلی والا بابا’ کہتے ہیں

    اسی طرح مزار کے احاطے میں اینٹوں سے بنے چھوٹے گھروں کی شکلیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ علامتی گھر وہ لوگ بناتے ہیں جو اپنے ذاتی مکان کی خواہش رکھتے ہیں۔ عقیدت مند اینٹیں رکھ کر دعا کرتے ہیں کہ ان کا اپنا گھر بن جائے اور بے گھری یا مالی تنگی کا مسئلہ حل ہو۔

    مقامی افراد کے مطابق یہ روایات پچھلے کچھ برسوں میں زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔ مزار صرف ایک تاریخی مقام نہیں رہا بلکہ عوامی عقیدت اور امیدوں کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں تاریخ، عقیدہ اور عوامی ثقافت ایک دوسرے میں گڈمڈ نظر آتی ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو کا یہ مزار آج بھی اس دور کی یاد دلاتا ہے جب سندھ پر مقامی تالپور حکمرانوں کی حکمرانی تھی، اور ساتھ ہی یہ مقام موجودہ دور میں عوام کے عقائد اور خواہشات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو نہ صرف ایک طاقتور حکمران تھے بلکہ عوام دوست، سادہ مزاج اور روحانی رجحان رکھنے والے انسان بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں مچھلی بہت پسند تھی اور ان کے دورِ حکومت میں دریائے سندھ کی مچھلی خاص مقام رکھتی تھی۔

    مزار پر خدمت گزار نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ عوام نے عقیدت کے طور پر ان کے مزار پر مچھلی چڑھانا شروع کر دی، اور یوں وہ “مچھلی والا بابا” کے نام سے مشہور ہو گئے، اس درگاہ کے بزرگ خود کلہوڑو دور کو بادشاہ تھے اور غلام شاہ کلہوڑو نے شاہ عبدالطیف کا مزار تعمیر کرایا ،اس مزار میں حیدر بخش جتوئی اور ان کی اہلیہ بھی دفن ہیں یہاں باہر قدیمی قبرستان موجود ہیں۔