[rank_math_breadcrumb]

ملیے سرکنڈوں سے چٹائیاں اور سجاوٹی اشیا تیار کرنے والے حیدرآباد کے مرد و خواتین کاریگروں سے

حیدرآباد کے ایک مصروف راستے پر، جہاں گاڑیاں تیزی سے گزرتی ہیں اور لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مگن رہتے ہیں، وہیں فٹ پاتھ کے کنارے ایک ایسی دنیا بھی آباد ہے جو وقت کے ساتھ بدل تو گئی ہے مگر اپنی جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ دنیا سرکنڈے سے جڑی ہے، ایک سادہ سا پودا، جسے ان ہاتھوں نے ہنر میں بدل دیا ہے۔

سرکنڈے سے بنی چٹائیاں، کھڑکیوں و دروازوں کے پردے سندھ کے دیہی علاقوں میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ایک پرانا ہنر ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ مگر وقت نے اس ہنر کو بھی ایک نیا رخ دیا ہے۔ اب یہی سرکنڈا صرف ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ خوبصورتی اور آرائش کا حصہ بن چکا ہے۔

حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان اور ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے قریب، جوگی قبیلے سے تعلق رکھنے والے کاریگر اسی سرکنڈے کو رنگ، کپڑے اور تخلیقی انداز کے ساتھ ایک نئی شکل دیتے ہیں۔ وہ اب صرف چٹائیاں نہیں بناتے بلکہ رنگ برنگے فریم، تصاویر اور آئینے بھی تیار کرتے ہیں، جو شہروں کے گھروں، خاص طور پر ڈرائنگ رومز کی زینت بن رہے ہیں۔

یہ ہنر صرف مردوں تک محدود نہیں۔ یہاں خواتین اور بچے بھی اس کام میں برابر کے شریک ہیں۔ ایک خاتون کاریگر شانتی کے مطابق، یہ کام ان کے خاندان میں نسلوں سے جاری ہے، اور ان کے بزرگ قیام پاکستان سے پہلے ہی یہاں آباد تھے۔ آج بھی تقریباً پچاس کے قریب خاندان اسی علاقے میں رہتے ہیں، جہاں کچھ کے پاس چھوٹے گھر ہیں جبکہ باقی لوگ سڑک کے کنارے ہی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

ان کاریگروں کے لیے سرکنڈا سانگھڑ سے آتا ہے، جبکہ فریموں اور آئینوں کی سجاوٹ کے لیے مخمل اور ریشم قصور سے منگوایا جاتا ہے۔ ان پر کی جانے والی کشیدہ کاری، موتیوں اور دیگر آرائشی اشیا سے مزین ہوتی ہے، جو مقامی مارکیٹ سے حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک سادہ چیز کو فن کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔

ان کی بنائی ہوئی چٹائیاں نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ ٹھٹہ، بدین اور حیدرآباد کے اطراف میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ ایک بڑی چٹائی ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک فروخت ہوتی ہے، جبکہ چھوٹی چٹائی پانچ سے چھ سو روپے میں مل جاتی ہے۔ مگر اس محنت کے باوجود آمدنی محدود ہے، اور اکثر صرف گزارہ ہی ہو پاتا ہے۔

تعلیم کی کمی اس کمیونٹی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ زیادہ تر لوگ ناخواندہ ہیں، اور بچوں کو بھی تعلیم کے بجائے اسی ہنر میں لگا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہنر تو زندہ ہے، مگر اس کے پیچھے زندگی اب بھی جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔

گرمی، سردی اور بارش جیسے موسم ان کے کام کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کچھ کھلے آسمان تلے ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ان کے لیے معاشی مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔

یہ کہانی صرف سرکنڈے کی نہیں، بلکہ ان ہاتھوں کی ہے جو اسے زندگی دیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو کم وسائل کے باوجود ایک ایسا فن زندہ رکھے ہوئے ہیں جو نہ صرف ماضی کی یاد ہے بلکہ آج کے شہروں کی خوبصورتی کا حصہ بھی بن چکا ہے۔

ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی کہانیوں کو سامنے لاتا ہے، جہاں سادگی میں ہنر ہے اور ہنر میں زندگی کی مکمل داستان چھپی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں: