Tag: جنگ

  • برلن وال: تقسیم، خوف اور آزادی کا نشان

    برلن وال: تقسیم، خوف اور آزادی کا نشان

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کی شکست نے صرف ایک ملک کو نہیں بدلا، بلکہ پوری دنیا کے نقشے اور سیاست کی سمت تبدیل کردی۔ جنگ کے بعد دو طاقتیں سامنے آئیں۔ ایک طرف امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک تھے، دوسری طرف سوویت یونین۔ دونوں کے نظریے الگ تھے، دونوں کی سوچ مختلف تھی۔ یہی نظریاتی لڑائی سرد جنگ کہلائی۔ اس سرد جنگ نے یورپ کے دل یعنی جرمنی کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔

    اسی تقسیم کی سب سے بڑی، سب سے سخت اور سب سے تکلیف دہ علامت تھی برلن وال۔

    جنگ کے بعد جرمنی کے دو حصے ہوگئے۔ مغربی جرمنی کو امریکا اور یورپ کا تعاون حاصل تھا۔ یہاں جمہوریت تھی، کھلی معیشت تھی، روزگار کے مواقع بڑھ رہے تھے اور لوگوں کو بہتر زندگی مل رہی تھی۔

    دوسری طرف مشرقی جرمنی تھا جو کمیونسٹ سوویت یونین کے زیر اثر تھا۔ یہاں ریاست سخت تھی، نگرانی زیادہ تھی، اظہارِ رائے محدود۔ اور شہری اپنی مرضی سے زندگی نہیں گزار سکتے تھے۔

    برلن شہر سوویت حصے میں تھا، مگر اس کی اہمیت سب سے زیادہ تھی۔ ایک طرف آزادی کی تلاش تھی، دوسری طرف ریاستی گرفت۔ نقشے پر ایک ہی شہر، لیکن حقیقت میں دو دنیائیں۔ دونوں کے درمیان سوچ بھی الگ تھی، طرزِ زندگی بھی الگ اور خواب بھی الگ۔

    1949 سے 1961 تک تقریباً 30 لاکھ سے زائد شہری مشرقی جرمنی سے بھاگ کر مغربی علاقے میں پہنچے۔ وہ صرف بہتر روزگار یا اچھی زندگی نہیں چاہتے تھے۔ وہ آزاد بھی ہونا چاہتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے کھلی ہوا، کھلی سوچ اور محفوظ مستقبل چاہتے تھے۔ یہی فرار مشرقی جرمنی کے حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گیا۔

    پھر وہ رات آئی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ تیرہ اگست 1961 کی صبح برلن کے لوگ جاگے تو شہر کے درمیان خاردار تاریں تھیں، کنکریٹ کے بلاکس تھے، سڑکوں پر مسلح سپاہی کھڑے تھے۔ ایک رات میں راستے بند ہوگئے۔ ایک رات میں خاندان بچھڑ گئے۔ ایک رات میں شہر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ لوگ اپنے ہی گھروں، رشتوں اور گلیوں سے قید ہوگئے۔ یہ دیوار صرف اینٹوں کا ڈھیر نہیں تھی۔ یہ خوف کی علامت تھی۔ یہ جبر کی علامت تھی۔ یہ انسانی خواہش کے خلاف ایک دیوار تھی۔

    اگلے اٹھائیس سال تک دنیا نے دو مختلف منظر دیکھے۔ ایک طرف مشرقی حصے میں سخت نگرانی تھی، خفیہ پولیس تھی، ہر شخص پر شک تھا، بولنے کی آزادی نہیں تھی اور ریاستی جبر ہر جگہ تھا۔ دوسری طرف مغربی جرمنی میں خوشحالی تھی، سوچنے اور بولنے کی آزادی تھی، کاروبار اور روزگار بڑھ رہا تھا۔ دونوں دنیائیں ایک دیوار کے آرپار دکھتی تھیں، لیکن ان کی زندگیوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

    ہزاروں لوگوں نے دیوار عبور کرنے کی کوشش کی۔ کئی نے سرنگیں بنائیں، کئی نے دیوار پر چڑھ کر چھلانگ لگائی، کچھ نے گاڑیوں میں چھپ کر نکلنے کی کوشش کی۔ درجنوں لوگ مارے گئے۔ لیکن دیوار آزادی کی خواہش کو نہ روک سکی۔ یہ خواہش ہر دن مضبوط ہوتی گئی۔

    1980 کی دہائی کے آخر میں حالات پھر بدلنے لگے۔ سرد جنگ کمزور پڑ رہی تھی۔ سوویت طاقت کمزور ہو رہی تھی۔ مشرقی یورپ میں تبدیلی کی لہر اٹھ چکی تھی۔ مشرقی جرمنی کے شہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے نعرہ لگایا: ’ہم ہیں عوام‘۔ یہ نعرہ برسوں کے خوف کو توڑ گیا۔ لوگ کھلے عام آزادی مانگنے لگے۔ ریاست انہیں روک نہ سکی۔

    پھر آیا نو نومبر 1989۔ وہ رات جسے دنیا کبھی نہیں بھولے گی۔ برلن وال کے دروازے کھل گئے۔ دونوں طرف کے لوگ دوڑ کر دیوار تک پہنچے۔ نعرے لگے، تالیاں بجیں، لوگ دیوار پر چڑھ گئے۔ کسی نے خوشی سے قہقہہ لگایا، کوئی شدت جذبات سے رو پڑا۔ کچھ لوگوں نے ہتھوڑوں سے اینٹیں توڑیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم نے آزادی کی سانس لی۔ یہ وہ رات تھی جب دنیا کی سب سے سخت دیوار لوگوں کے قدموں میں گِر گئی۔

    ایک سال بعد تین اکتوبر 1990 کو جرمنی سرکاری طور پر دوبارہ ایک ملک بن گیا۔ اسے آج ’جرمن اتحاد کا دن‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک ملک کے ملنے کی کہانی نہیں، یہ انسانی ہمت، اتحاد اور آزادی کی جیت کی علامت ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے مضبوط دیوار بھی اس وقت گِر جاتی ہے جب عوام اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوجائیں۔

  • طیارے زمین پر: انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیاروں کے حادثات کی ستر سال کے دوران مسلسل تباہی کی کہانی

    طیارے زمین پر: انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیاروں کے حادثات کی ستر سال کے دوران مسلسل تباہی کی کہانی

    حال ہی میں دُبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

    یہ ویڈیو انڈین  فضائیہ کے سات دہائیوں کے دوران دو ہزار تین سو چوہتر طیارے تباہ ہونے کی کہانی ہے۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملے کے لوگ ہلاک ہوئے۔

    انڈین  فضائیہ نے گذشتہ سات دِہائیوں میں جتنے طیارے کھوئے ہیں، وہ دنیا کی کسی بھی بڑی ایئرفورس سے کہیں زیادہ ہیں۔ سرکاری بیانات بہت محدود ہیں، آزاد ذرائع، تحقیقی رپورٹس، پارلیمانی دستاویزات اور دفاعی ماخذ ایک ایسی تصویر دکھاتے ہیں جس میں حادثات معمول نہیں بلکہ ایک مستقل سانحہ بن چکے ہیں۔

    سب سے مُستَنَد اور قابلِ قبول تحقیق ریڈف کے دفاعی ماہر اَجے شُکلہ اور مُحقق دیوش کَپور نے کی۔ ان کے مطابق 1952 سے 2021 تک کل انڈین  فضائیہ کے 2304 طیارے تباہ ہوئے۔

    ان میں1126  جنگی طیارے، 1248 ٹرانسپورٹ اور دوسرے طیارے، 196ہیلی کاپٹر اور 229 تربیتی طیارے شامل تھے۔ ان حادثات میں 1305 پائلٹ ہلاک ہوئے۔ یہ واحد ڈیٹا ہے جس میں ستر سال کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔

    1950 سے 1990 تک کا عرصہ انڈین  فضائیہ کے لیے سب سے تباہ کن دور ثابت ہوا۔ انڈیا کے اپنے دفاعی ماخذ ‘بھارت رکھشک’ کے مطابق اس زمانے میں زیادہ تر حادثات کی وجوہات پائلٹ کی غلطی، فنی خرابی، ناقص دیکھ بھال اور پرانے جہاز تھے۔ انڈیا ٹوڈے کے دفاعی رپورٹر شِوَ اَروڑَ نے لکھا کہ اس دور میں انڈین  فضائیہ کا حفاظتی رکارڈ دنیا کی خطرناک ترین فضائی قوتوں میں شمار ہوتا تھا۔

    انڈین  فضائیہ کے سب سے زیادہ حادثات مگ-21 سے جڑے ہیں، جسے دنیا بھر میں دی فلائنگ کافن یعنی ‘اُڑتا تابوت’ بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اے پی نیوز، انڈیا ٹوڈے اور ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مگ-21 نے سب سے زیادہ پائلٹ مارے۔

    انڈیا نے اسے ساٹھ برس بعد بھی ریٹائر نہیں کیا۔ 2000 کی دہائی میں ہر سال پانچ میں مگ-21 گرنے کی رپورٹس سامنے آتی رہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق سن 2015 سے 2024 کے درمیان 104 مگ-21 کے حادثات میں 73 پائلٹ ہلاک ہوئے۔

    بڑے اور نمایاں حادثات کی فہرست بھی طویل ہے۔ پاکستان کے ساتھ 1965 کی جنگ میں انڈیا کے 59 طیارے گرے۔ 1971 کی جنگ میں 45 طیارے تباہ ہوئے۔ 1982 سے 1990 تک مگ-21 کے حادثات نے ہولَناک سلسلہ قائم رکھا، اور اس دوران تقریباً 250 مگ-21 تباہ ہوئے۔ 2016 میں این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سمندر میں لاپتہ ہوا۔ اس میں 29 اہلکار سوار تھے۔ یہ انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر جنگی حادثہ تھا جس کا ملبہ آج تک نہیں ملا۔

    2019 میں بالاکوٹ کشیدگی کے دوران انڈین مگ مار گرایا گیا اور پائلٹ ابھی نندن کو پاکستان نے گرفتار کیا۔ یہ واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔

    جدید دور میں بھی انڈیا فضائی حادثات نہیں روک سکا۔ 2024 میں میراج-2000 گر کر تباہ ہوا۔2025 میں میں جیگوار تربیتی طیارہ گرنے سے دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے۔ 2025 ہی میں دبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

    انڈین پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع نے سن 2019 سے 2023 کی رپورٹس میں لکھا کہ حادثات کی بڑی وجوہات پرانے طیارے، ناقص تربیت، انسانی غلطیاں اور دیکھ بھال کے کمزور نظام ہیں۔

    عالمی میڈیا بھی یہی تصویر پیش کرتا ہے۔ بی بی سی لکھتا ہے کہ انڈیا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ حادثہ خیز پرانے طیارے ہیں۔ الجزیرہ کہتا ہے کہ انڈیا کے جدید کاری کے دعووں کے باوجود طیارے مسلسل گر رہے ہیں۔ اے پی نیوز نے لکھا کہ Mug  مگ-21 کے حادثات معمول بن چکے ہیں اور انڈیا پرانے جہازوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا۔

    اگر تمام ماخذ یکجا کریں تو سن 1952 سے 2021 تک انڈیا کے 2374 طیارے تباہ ہوئے۔ 2021 سے 2025 تک تک مزید 21 سے 25 حادثات ریکارڈ ہوئے۔ یوں 2025 تک تک مجموعی تباہی تقریباً 2400 سے 2420 طیاروں تک پہنچتی ہے۔

    یہ صرف مشینوں کا نقصان نہیں۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملہ ہلاک ہوا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا غیر جنگی فوجی فضائی نقصان ہے۔

    یہ ریکارڈ صرف حادثات کی فہرست نہیں۔ یہ ایک مسلسل نظامی ناکامی کی کہانی ہے۔ غلط طیاروں کی خریداری، ناقص تربیت، بوسیدہ نظام، پرانے جہازوں پر انحصار اور حفاظتی اصولوں کی کمزوری نے انڈین  فضائیہ کو ایسی تباہی تک پہنچایا ہے جس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔

    ستر برس میں انڈیا نے جتنے فوجی طیارے گرائے اور کھوئے ہیں، دنیا کے کئی ملکوں نے اپنی پوری عسکری تاریخ میں اتنے جہاز بنائے بھی نہیں۔ یہ نقصان صرف تعداد کا نہیں، بلکہ ایک ایسی ناکامی کا ثبوت ہے جو سات دہائیوں میں مسلسل دوہرائی جاتی رہی اور آج تک ختم نہیں ہوئی۔