انڈیا کے سائبر سکیورٹی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایسے خودکار نظام، جنہیں جانچ کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، انڈین کمپنیوں کے اصل کمپیوٹر نظاموں میں داخل ہوگئے اور وہاں موجود خفیہ کاروباری معلومات تک رسائی حاصل کرلی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ متاثرہ اداروں کو ان غیر مجاز سرگرمیوں کا خود پتا نہیں چل سکا اور مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں نے ہی ان واقعات کی نشاندہی کی۔
برطانوی عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، انڈیا کے سرکاری ادارے انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ اِن) نے جمعرات کی شب اس معاملے کی تفصیلات جاری کیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ انڈین حکومت نے سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے کہ جانچ کے دوران مصنوعی ذہانت کے نظام اپنے مقررہ کام کی حدود سے آگے بڑھ کر حقیقی کمپیوٹر نظاموں میں داخل ہوئے اور خفیہ معلومات تک پہنچ گئے۔
ادارے کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے متعلقہ نظاموں کو مخصوص کام انجام دینے اور ان کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، لیکن ان نظاموں نے اپنی اجازت سے تجاوز کیا اور انڈین کمپنیوں کے کاروباری ریکارڈ تک رسائی حاصل کرلی۔
تاہم، حکام نے نہ تو مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کے نام بتائے اور نہ ہی متاثرہ انڈین اداروں کی شناخت ظاہر کی۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور سائبر سکیورٹی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام اب صرف معلومات تلاش کرنے یا سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ کمپیوٹر نظاموں کی جانچ، سافٹ ویئر کے استعمال اور مختلف تکنیکی کاموں کو خود انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
اگر ان نظاموں کو مناسب پابندیوں کے بغیر کام کرنے دیا جائے تو وہ ایسے اقدامات بھی کرسکتے ہیں جن کی انہیں اجازت نہیں دی گئی ہوتی۔
رائٹرز کے مطابق، متاثرہ انڈین کمپنیوں میں سے کسی نے بھی ان واقعات کے دوران اپنے نظاموں میں غیر مجاز داخلے کا پتا نہیں لگایا۔ تمام واقعات میں مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں نے اپنی اندرونی جانچ کے دوران ان سرگرمیوں کی نشاندہی کی اور حکام کو آگاہ کیا۔
اس صورت حال نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ اگر جدید مصنوعی ذہانت کے نظام اپنی سرگرمیاں خود انجام دے سکتے ہیں تو ان پر نگرانی اور ان کے اختیارات محدود رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہییں۔
مصنوعی ذہانت سے سائبر حملوں میں اضافہ
انڈین سائبر سکیورٹی ادارے نے ایک دوسرے خطرے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ادارے کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بعض سائبر مجرم مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر مفت دستیاب مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرتے ہوئے انڈین اداروں کے کمپیوٹر نظاموں میں کمزوریاں تلاش کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے غیر مجاز رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق، ان آلات کے استعمال سے سائبر حملوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے کسی کمپیوٹر نظام میں داخل ہونے سے لے کر اسے نقصان پہنچانے تک کئی دن لگ سکتے تھے، لیکن اب یہ عمل چند گھنٹوں میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو ادارے سائبر حملے کے بعد اپنے نظاموں کی مکمل صفائی اور حفاظت یقینی نہیں بناتے، انہیں چند ہی دنوں میں دوبارہ حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حملوں میں مجرم پہلے سے زیادہ گہرائی تک نظاموں میں داخل ہونے اور مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
یہ خطرہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ مصنوعی ذہانت کے آلات بڑی تعداد میں کمپیوٹر نظاموں کی جانچ کرسکتے ہیں اور ایسی کمزوریاں تلاش کرسکتے ہیں جنہیں انسانی ماہرین کی مدد سے دریافت کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس طرح سائبر مجرم کم وقت میں زیادہ اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

انڈیا میں ہونے والے ان واقعات نے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی جانچ کے طریقوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے جولائی میں بتایا تھا کہ اس کے مصنوعی ذہانت کے نظاموں نے جانچ کے دوران اپنی مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایک نئی کمپنی کے نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔
اسی طرح، ایک اور امریکی کمپنی اینتھروپک نے رواں سال مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی جانب سے بیرونی کمپیوٹر نظاموں میں مداخلت کے کم از کم چار واقعات کی اطلاع دی ہے۔
آسٹریلیا میں بھی مصنوعی ذہانت کے ایک خودکار نظام کی جانب سے سرکاری ویب سائٹ تک غیر مجاز رسائی کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ اوپن اے آئی نے اس واقعے پر معذرت کی تھی۔ اس واقعے نے سرکاری اداروں کے حساس معلوماتی نظاموں کی حفاظت اور مصنوعی ذہانت کے آلات پر مؤثر نگرانی کی ضرورت کو نمایاں کیا۔
ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں جہاں مختلف شعبوں میں کام آسان بنا سکتی ہیں، وہیں مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی صورت میں ان سے نئے خطرات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
کمپیوٹر نظاموں کی حفاظت کے لیے اقدامات ضروری
ماہرین کے لیے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو جانچنے کے لیے استعمال ہونے والے ماحول اور حقیقی کمپیوٹر نظاموں کے درمیان واضح حد قائم کی جائے۔
اگر جانچ کے دوران کسی نظام کو غیر ضروری طور پر حقیقی معلومات، پاس ورڈ یا اہم کمپیوٹر نظاموں تک رسائی حاصل ہو تو خفیہ معلومات افشا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انڈین ادارے کی نشاندہی کردہ صورت حال اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ کمپنیوں کو اپنے کمپیوٹر نظاموں میں محفوظ معلومات، رسائی کی اجازتوں اور حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کو صرف اتنے اختیارات دیے جانے چاہییں جتنے ان کے مقررہ کام کے لیے ضروری ہوں۔
اسی طرح، مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے نظاموں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھیں اور کسی غیر مجاز سرگرمی کی نشاندہی ہونے پر فوری کارروائی کریں۔
انڈیا کے حالیہ انکشافات سے واضح ہوتا ہے کہ سائبر سکیورٹی کے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی درکار ہے۔
اگرچہ مصنوعی ذہانت کے آلات مختلف کاموں کی رفتار اور کارکردگی بڑھا سکتے ہیں، لیکن ان کے اختیارات پر قابو، مناسب نگرانی اور حساس معلومات کا تحفظ یقینی بنائے بغیر ان کا استعمال اداروں کے لیے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔









