مصنوعی ذہانت نے دنیا بھر میں معلومات تک رسائی کا انداز بدل دیا ہے، مگر سندھ میں ایک ایسا منفرد منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جو صرف ایک عظیم صوفی شاعر، ان کی شاعری، فکر اور ثقافتی ورثے کو سمجھنے اور عام کرنے کے لیے وقف ہے۔ اس منصوبے کا نام ‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’ ہے۔
‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’ سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات اور آرکائیوز کے تحت قائم ‘عبدالمجید بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ’ کے بڑے منصوبے ‘بھٹائی پیڈیا’ کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین شاہ عبداللطیف بھٹائی کی زندگی، ‘شاہ جو رسالو’ کے مختلف سُروں، اشعار کے مفہوم، صوفیانہ فلسفے، علامتوں، تاریخی پس منظر اور سندھی ثقافت سے متعلق سوالات پوچھ سکتے ہیں۔
یہ کوئی عام چیٹ بوٹ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسا پلیٹ فارم ہے جسے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی زندگی، شاعری، صوفیانہ فکر اور سندھی ثقافت کے بارے میں مستند معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شاہ لطیف کے پیغام کو نئی نسل، طلبہ، محققین اور دنیا بھر کے قارئین تک پہنچانا ہے۔
منصوبے کے مطابق اس پلیٹ فارم کی بنیاد غیر مصدقہ انٹرنیٹ مواد پر نہیں بلکہ مستند تحقیقی کتابوں، ‘شاہ جو رسالو’ کے مختلف نسخوں، علمی مضامین اور معتبر حوالوں پر رکھی گئی ہے، تاکہ صارفین کو زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جا سکیں۔
‘بھٹائی پیڈیا’ کے تحت شاہ جو رسالو کے متعدد تاریخی نسخے، مختلف اہلِ علم کی تشریحات، رومن سندھی اور دیوناگری رسم الخط میں متن، اردو، انگریزی، پنجابی اور دیگر زبانوں کے تراجم، تحقیقی مضامین، لغات اور متعدد اشعار کی تفصیلی تشریح بھی جمع کی جا رہی ہے، تاکہ شاہ لطیف کے فکری اور ادبی ورثے کو ایک جامع ڈیجیٹل شکل دی جا سکے۔
اس منصوبے میں ان تاریخی اور جغرافیائی مقامات کی معلومات بھی محفوظ کی جا رہی ہیں جن کا ذکر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں کیا ہے، جبکہ ‘شاہ جو رسالو’ کی مختلف اشاعتوں اور ان کی اشاعتی تاریخ کو بھی دستاویزی شکل دی جا رہی ہے۔
منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو دنیا کی متعدد زبانوں میں قابلِ فہم بنانے پر کام جاری ہے، تاکہ سندھ کے اس عظیم صوفی شاعر کا پیغام عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی بیشتر ایپلی کیشنز بڑی عالمی زبانوں پر مرکوز ہیں، مگر ‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’ اس حوالے سے ایک منفرد مثال ہے۔
یہ پاکستان کے ان چند سرکاری منصوبوں میں شامل ہے جہاں ایک علاقائی زبان، اس کے عظیم شاعر اور اس کے ادبی و فکری ورثے کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے محفوظ کرنے، تحقیق کے لیے منظم انداز میں پیش کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا پیغام صرف کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ ڈیجیٹل دور میں بھی زندہ، محفوظ اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے آسانی سے قابلِ رسائی ہو۔
